عمران خان سے وابستہ امیدیں


ہم کہ مایوس نہیں ہیں انہیں پا ہی لیں گے
لوگ کہتے ہیں کہ ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے

عرش صدیقی نے شاید یہ شعر عمران خان کے لئے ہی کہا تھا۔ کبھی نہ جھکنے کبھی نہ رکنے والے کپتان نے بائیس سال کی طویل جدوجہد کے بعد ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ پہلے الیکشن میں شکست سے شروع ہونے والا سلسلہ بالآخر اس الیکشن کی جیت تک آپہنچا اور عمران خان وزیراعظم بن گئے۔

امید کی شمع اپنے خون پسینے سے روشن رکھنے والے عمران خان سے اس قوم نے انگنت امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ عمران خان ان امیدوں پر کتنا پورا اتریں گے۔ اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا لیکن عمران کی تقاریر کا خلاصہ نکالیں تو ایک ہی بات سامنے آئے گی اور وہ ہے، پاکستان میں تبدیلی، لیکن سیاست کے تالاب میں آزمائے ہوئے مگر مچھوں کے کے ساتھ عمران تبدیلی کیسے لائیں گے اور اس گندے تالاب کو شفاف جھیل میں کیسے بدل پائیں گے اس کا جواب تو کپتان ہی خود دے سکتے ہیں۔

بلاشبہ عمران کی زندگی تنازعات سے بھرپور رہی ہیں۔ سیاسی اننگز کی ابتدا سے پہلے وہ کرکٹ کے ہیروں رہے ہیں۔ جو لوگ عمران کی نفسیات کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں خان پیسے زیادہ طاقت کا دیوانہ رہا ہے۔ کرکٹ کیرئیر پر نظر ڈالیں تو عمران نے بہت سے ایسے فیصلےکیے جو دنیا نے پسند نہیںکیے۔ لیکن عمران کے ان ہی فیصلوں نے پاکستان کو کرکٹ کا حکمران بنایا۔

عمران شاید آج توکل الہی ٰ کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ شوکت خانم کی بات کی تو پہلے پہل لوگوں نے اس پروجیکٹ کو ناممکن قرار دیا لیکن عمران کا یقین اور اس کیماں سے محبت ہی تھی جس نے نا ممکن پروجیکٹ کو مکمل کر دکھایا۔ کہنے والے کہتے ہیں عمران خان کی منازل ہمیشہ ناممکن ہی دکھائی دیتی ہیں لیکن عمران بہت وقت سے راہ سلوک کا سالک ہے۔ عمران نے علامہ اقبال، رومی اور بہت سے بزرگان دین کو پڑھ کر انسان کی طاقت کو سمجھا اور یہی فلسفہ عمران کو اللہ کے نزدیک لے گیا شاید یہی وجہ ہے عمران اللہ پر توکل کرنا سیکھ گیا جس کی وجہ سے عمران نے بہت سے ناممکن کام کر دکھائے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

شاید عمران علامہ اقبال کے اس شعر کا مطلب سمجھ گئے تھے جس کی وجہ سے پاکستان کی سیاست میں کودے۔ عمران نے پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے اور اس مقصد کے حصول کے لئے پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ تقریباً بائیس سال کی جدوجہد کے بعد دوہزار تیرہ میں عمران پاکستان کی سیاست میں تیسری قوت کے طور پر سامنے آئے۔

خان کی ناقابل یقین کامیابی کو دیکھتے ہوئے موقع پرستوں کا ٹولہ کپتان کے گرد جمع ہو گیا۔ سفارشی اور خوشامدی ٹولے کے ساتھ عمران اپنے مقاصد حاصل کر پائیں گے یا نہیں یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر عمران کے ناقدین نے طوفان کھڑا کر رکھا ہے۔ عمران خان سے بڑی امیدیں وابستہ کرنے والے کچھ کم گو دانشور ہیں جو معاملات کو سطح سے نہیں بلکہ بڑی گہرائی سے دیکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ Loud Thinking عمران خان کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ وہ گہر ا غور و خوض کرنے سے پہلے ہی کوئی اعلان کر دیتے او ر پھر اس پر سوچتے ہیں۔

عمران خان مشکلات اور ناخوشگوار حالات سے گزر کر آج جس منزل پر پہنچے ہیں وہ اپنی جگہ ہے لیکن اس قوم خاص طور پر نوجوانوں نے جس امید پر دیوانہ وار ان کا ساتھ دیا ان امیدوں پر پورا اترنے کے لئے وسائل او ر دیگر معاملات کی کٹھنائیوں سے ہر کوئی واقف ہے۔ بہر حال عمران خان نے نئے پاکستان کے لئے نئے وعدےکیے ہیں جس میں حکومت اداروں کو مضبوط کرے گی۔ تمام لوگوں کے لیے مساوی قانون بنایا جائے گا۔ صرف اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کا احتساب نہیں ہوگا، بلکہ پی ٹی آئی اپنے لوگوں کا بھی احتساب کر کے مثال قائم کرے گی۔ یہ ابھی ساری باتیں ہیں، بے جان جملے ہیں ان میں روح کب پھونکی جائے گی اور یہ حقیقت کا روپ کب دھاریں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

سابق فاسٹ باؤلر اور ریورس سونگ کے موجد سرفراز نواز جو عمران کے سب سے بڑے ناقد ہیں کہتے ہیں کہ انہوں نے عمران خان کے ساتھ جتنی کرکٹ کھیلی اور جس قدر انہیں جانا انہیں کامل امید ہے کہ جس طرح انہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں پاکستان کی کرکٹ کو سنبھالا اور ورلڈ چیمپئن بنایا اس طرح وہ وزیراعظم بن کر پاکستان کو بھی ایک کامیاب کپتان کی طرح ترقی کی بلندیوں تک پہنچانے کی کوشش کریں گے سرفراز نواز کو امید ہے کہ عمران خان ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ وہ دروغ گو نہیں اور دھن کے پکے ہیں۔

اپنے ارد گرد کے لوگوں کی جب باتیں سنتا ہو تو ان کو عمران سے بہت سی امیدیں ہیں سب سوچتے ہیں نئی حکومت بننے کے بعد پینے کا صاف پانی، ملاوٹ سے پاک خالص دودھ، کھانے پینے کی تمام د و نمبر اشیاء مارکیٹ سے اٹھا کر تلف کر دی جائیں گی اور حکومتی جماعت میں شامل پرانے اور دیگر سیاسی جماعتوں کو خیر باد کہہ کر شامل ہونے والے تمام فرشتہ سیرت، سیاستدان آج کے بعد بہترین، با اخلاق اور انسان دوست سیاست کریں گے ان کے قول و فعل میں نہ کوئی تضاد ہو گا اس حکومت کے وزرا مشیروں اور ارکان اسمبلی نہ تو رشوت لیں گے اور نہ ہی ٹھیکوں میں سے کمیشن کے خواہشمند ہوں گے، یہ سیاست و حکومت کو کمائی کا ذریعہ نہیں خدمت انسانی کا موقع سمجھیں گے اور عوام کی عدالت کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔ کیا کر یں سب سمجھتے ہیں عمران خود نہیں کھاتا تو دوسروں کو بھی نہیں کھانے دیگا۔ لیکن لو گ یہ نہیں جانتے اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔

تقریباً ہر نظر عمران خان پر لگی ہوئی ہے۔ دل تو یہ چاہتا ہے کہ یہ نظریں کبھی نہ ہٹیں۔ مگر کیا کیجئے کہ معاملہ سیاست کا ہے۔ اور سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، بلکہ یہ وہ وادی ہے جہاں وقت کی سنگلاخ حقیقتیں قدم قدم پر آپ کے پاؤں سے الجھتیں ہیں۔ اب ان سب سے بچ کر خان لوگوں کی
امیدوں پر کیسے پورا اتر تا ہے یہ ایک آرٹ ہے جو عمران ہی بہتر جانتا ہے۔ کہتے ہیں امید پر دنیا قائم ہے ہم بھی عمران سے اچھے کی امید رکھے ہوئے اور یہ ہی بول سکتے ہے اللہ عمران کو کامیاب کرے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں