جذباتی معاشرے اور وراثتی سیاست


salim javedرہتے جذباتی معاشروں میں ہیں اور تمنا یہ کہ مغرب جیسا میرٹ پہ مبنی سسٹم عطاہو۔ بھائ، جن مشرقی معاشروں میں، رشتوں کے بندھن ابھی قائم ہیں، وہاں لگے بندھے نظام، چلے ہیں نہ چل سکتے ہیں۔ مغرب کی نفسا نفسی سوسائٹی میں نہ کوئ کسی کے جگر کا ٹکڑا نہ آنکھ کا کانٹا۔ وہاں غبن کیوں ہو جہاں اپنی ذات کے خول میں بند، اپنے مستقبل سے بےیقین آدمی، پھونک پھونک کر نوکری کرتا ہے کہ غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ یہاں تو بچوں اور بیوہ بہن کو پالنے والا، اگر رشوت نہ بھی لے پر بیٹی کے سسرال کا کام آ پڑے تو کیا کرے؟ مغربی معاشرے نے جذباتیت سے آزاد ہوکر، کھویا کم ہے، پایا زیادہ ہے۔ مشرقی معاشرہ، بالخصوص پاک وہ ہند کا معاشرہ، روایات اور جذبات پر قائم ہے۔ (اس لئے بالی ووڈ کی ہر فلم کا خلاصہ، یا رونا ہے یا گانا ہے)۔

ایسے معاشروں میں عقل اور منطق کی باتیں کرناہی بے عقلی ہے۔ یہاں، منہ بند رکھ کر، چھپ چھپا کر ووٹ تو شاید دے لو پر ساس کو عقل سکھانے والی یا داماد کو منطق سمجھانے والا، پھر نیند کی گولیاں ہی لیا کرتا ہے بھائ۔ خود کو پہچان کر جیوتو چل پاؤ گے ورنہ کلوریکس کے ڈرم میں نہا کر بھی گوروں جیسے نہیں بن سکتے۔

اس جذباتی معاشرہ پرجب  مذہب کا تڑکہ بھی لگ جائے تو کیا کہنے! ۔

آپ کی ساری تعلیم، تجربہ، سائنس اور منطق، ایک مولوی کی جوتی کی نوک پرہے۔ فقہ میں ایک اصطلاح ہے “استنباط” یعنی میز پر پڑے شیشے کےگلاس کو اگر حضرت والا نے فلاں روایت سے استنباط کرکے بھینس ثابت کردیا تو کیا کہوگے؟ آپ کا انکار ہی نہیں، تردّد بھی، آپ کو آپ کے منطقی انجام تک پہنچا سکتا ہے۔

اب عرض یہ ہے کہ ایسے معاشروں میں موروثی سیاست، نہ ختم کی جاسکتی ہے نہ ہی کرنا چاہیئے کہ یہ اس سوسائٹی کا بنیادی عنصر ہوتا ہے۔ تاریخ کا جبر، ایک خاندان کو اکھاڑتا ضرور ہے پر صرف اس لئے کہ کہ دوسرے خاندان کو جگہ دی جائے۔ موروثی سیاست کے جذباتی مخالفین، بعض اوقات بڑی دورتک جا کر، بڑے محترم ناموں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈال آتے ہیں۔ گستاخی معاف! امیر معاویہ نے یزید کو جانشین مقررکرکے وراثتی سیاست کی۔ لیکن یہ توبعد میں ہوا۔ امیر معاویہ نے حسن بن علی سے معاہدہ کیا تھا تو حسن کو کس نے نامزد کیا تھا؟ حضرت علی نے نہیں کیا مگر خاندان بنی ہاشم نے کیا– کیوں؟ اس لئے کہ وہ، اپنے گروپ کے لئے اسی طرح وحدت کا سمبل تھے جس طرح، بنو امیہ کے لئے یزید۔ میں بوجوہ، نازک وادیوں میں قدم نہیں رکھنا چاہتا ورنہ موروثی سیاست کے نقادوں سے پوچھتا کہ اگر موروثیت اتنا ہی بڑا جرم تھا تو سرکارؑ کے وصال کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں، بنی ہاشم کے بزرگان کس عنوان پہ جمع ہوئے تھے؟

بات یہ ہے کہ مشرقی خاندانوں کی بنیاد ہی اپنے  بڑوں کا احترام کرنا ہے جس بنا پر ان کا امن اور وحدت قائم رہتی ہے ۔ اس تناظر میں، بڑوں کے وارث کو مریدین طبعی طور پر اپنا بڑا قبول کر لیتے ہیں اور یوں، اس گروہ کی وحدت قائم رہتی ہے۔ (بعض لوگ تو موروثیت کے لفظ سے ہی چڑتے ہیں حالانکہ  انبیاء نے اپنی تحریک کے وارث خود مانگے ہیں)۔

ہمارے ہاں کی موجودہ سیاسی پارٹیاں  بھی ایک قبیلہ کی طرح ہوتی ہیں جو یہاں کے کلچر کی مجبوری ہے۔ (اس لئے کہ مغرب میں کسی سیاسی مخالف کو بھینس چوری کے مقدمے میں گرفتار کرا کر، لتّر پڑوانے کا رواج نہیں ہے)۔ یہاں اگر کسی پارٹی میں موروثیت ہے تو بھائ، یہ پارٹی کارکنوں کا اندرونی مسئلہ ہے، ہمیں تمہیں کیا دخل؟

پھر یہاں کی سیاست میں کارکن نہیں ہوا کرتے بلکہ جیالے، متوالے، دیوانے، چیتے، جانثار(اور وہ بھی بے شمار)، وغیرہ ہوتے ہیں۔

جناب من! کارکن دفتروں اور کمپنیوں میں ہوا کرتے ہیں۔ جذباتی معاشرے میں مرید اور پجاری بستے ہیں جہاں ممدوح کے پیالے اور پاجامے تک سے پیار کیا جاتا ہے تو اس کی آل اولاد تو بدرجہ اولی، مریدوں کے لئے وحدت کا محور ہوتی ہے۔

اورپھریہ سنئے! سیاسی جماعتوں میں میرٹ پر تقرری اور ترقی؟ یہ سیاسی جماعت ہے یا سول سروس؟

بھائ، کئی قبیلے ایسے تھے کہ ان کا سردار، اپنے قبیلے کے لوگوں کے بعد مسلمان ہوا لیکن نبی نے پھر اسی کو سرداری عطا کر دی۔ جو رسول نے کیا، وہی تو میرٹ ہوتا ہے۔ آپ عمرفاروق کی مثال دیتے ہوکہ وہ بنوامیہ کےسرداروں کے سامنے، بلال حبشی کو مقدم رکھتا تھا۔ جناب! ذاتی عزت افزائی کرنا، پرانے اور نظریاتی کارکن کا حق ہے پر شام کا ملک چلانے کے لئے، عمر جیسا فقیہہ بھی امیر معاویہ کو بھیجتا ہے نہ کہ بلال کو۔

محترم! معاف کرنا، وراثتی سیاست کے مرثیے و نوحے کانوں کو بھلے لگتے ہیں پر ہیں بچگانہ باتیں۔

میں جانتا ہوں، آپ کواس ظلم کے ماحول کے بدلنے کی اشد تمنا ہے۔ اس معاشرے کو مغربی رنگ نہ تو دیا جاسکتا ہے نہ دینا چاہیئے پر ایسے معاشروں کی چند اپنی منفرد خصوصیات ہوا کرتی ہیں جیسے باہمی ایثار، وفاداری اور وضع داری۔ ان کو زندہ کرو۔ چاہے دعوت والی جانی قربانی سے یا کسی علمی و فکری تحریک سے۔ معاشرے کے ہر فرد کو یہ فکری محنت کرنا پڑے گی تاوقتیکہ ایک معتدبہ تعداد، مطلوبہ سوسائٹی کا چہرہ بن کر دکھا دے۔

ایک مخصوص سطح تک، اس محنت کے کرنے بعد تمہیں، خدا کی طرف سے بہترین  لیڈر انعام میں دیئے جائیں گے، چاہے وہ اورنگزیب جیسے متقی یا اکبر جیسے لبرل ہو کر 50 سال تک حکومت کر جائیں یا شیر شاہ سوری کی طرح 5 سال یا عمر بن عبدالعزیز کی طرح ڈھائی سال۔ مگر ہر صورت تمہارا امن و معیشت سدھار جائیں گے۔

ہاں اگر یہ بنیادی محنت تم نہیں کرنا چاہتے تو پھر لگے رہو منّا بھائ، فوٹوشاپ سے کلاچی کو مری بنا سکتے ہو، حقیقت میں نہیں!

 


Comments

FB Login Required - comments