دارالامان جہاں عزتیں محفوظ نہیں


دارالامان امن کی جگہ ایسی جگہ جہاں آپ امان پا سکیں یا امن سے رہ سکیں۔ مگر کیا واقعی ایسا ہی ہے دارالامان مظلوم، بے بس خواتین کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ جہاں بے گھر خواتین کو سر چھپانے کی جگہ دی جاتی ہے۔ کیا ان خواتین سے کبھی کسی نے پوچھا آپ امن کی اس جگہ میں کتنی بران ہیں کتنی پر سکون ہیں۔ دارالامان میں پناہ لینی والی عورتیں کچھ تو گھر والوں کی ستائی ہوئی ہوتی ہیں مرد حضرات اپنی جھوٹی انا کی خاطر زدکوب کرنا، ذہنی اور جسمانی تشدد کرنا شاید اپنا ایک عظیم کارنامہ سمجھتے ہیں۔

گالی گلوچ مار پیٹ، کردار کشی بہتان تراشی جو کر سکتے ہیں کرتے ہیں جس کی بدولت گھر بچوں کی نفسیات پر بہت برا اثر پڑ رہا ہوتا ہے گھر سے ستائی ہوئی خواتین دارالامان میں پناہ لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف ان لڑکیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو گھر سے بھاگ کر شادی کا جھانسہ میں آئی ہوئی ہوتی ہیں اپنا گھر بار تو چھوڑ چکی ہوتی ہیں گھر سے بھاگی ہوئی لڑکیاں ان مردوں کے رحم کرم پر ہوتی ہیں چاہیے تو وہ اپنی عزت بنا لے یا جسم فروشی کے اڈے پر جا کر فروخت کر دیں۔ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے لڑکیاں کو بازار حسن میں جا کر فروخت کر دیا جاتا ہے جہاں وہ اپنی پوری زندگی گناہوں کی دلدل میں گزارتی ہیں۔ جو وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں وہ دارالامان میں امن تو لے لیتی ہیں لیکن یہاں بازار حسن سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔

چند دن پہلے پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان میں صبح نو بجے کے قریب دستی پل خیابان سرور میں کچھ غنڈا صفت درندے ایک مظلوم لڑکی کو زبردستی گھیسٹ پر اپنے ساتھ لے کر جانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں اور وہاں موجود ہجوم سے رو رو کر التجا کر رہی ہوتی ہے کہ مجھے ان درندوں کے حوالے نا کیا جائے میرے ساتھ ظلم ہوا ہے مجھے واپس اس دارالامان نہیں جانا جہاں سے وہ بھاگ کر نکل آئی ہے وہاں اس کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔

جب امن کے رکھوالے ہی اپنی امان میں رہنے والی ماؤں، بیٹیوں کی عزت کا سواد صرف چند روپوں کی عوض کر رہے ہوں۔ امن کی جگہ کو بے ضمیر لوگوں نے جسم فروشی کے اڈے بنا لیے ہیں بھولی لڑکیوں کو جو پہلے کی ظلم کی ماری ہوتی ہیں دارالامان سے جلدی آزادی کا لالچ دے کر رات بھر کے حوس کے بچاریوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے جہاں وہ رات بھر مجبور بے کس لڑکیوں کو بھوکے کتوں کی طرح نوچتے رہتے ہیں۔ دارالامان کی زندگی کسی جیل سے زیادہ مشکل اور تکلیف دہ ہے جہاں خواتین سے مشقت کا کام لیا جاتا ہے، کھانے کو بھی مناسب خوارک انتظام بھی نہیں، رہنے کے لیے بھی کوئی خاص انتظامات نہیں کیے گے۔

میر ی ان ماؤں، بہنوں سے بھی گزارش ہے اپنا گھر جنت ہوتا ہے جہاں آپ اپنی زندگی اپنی مرضی سے جی رہی ہوتیں ہیں مسئلے مسائل تو زندگی کا حصہ ہیں ان کو خوش اسلوبی سے حل کریں اپنی جنت چھوڑ کر باہر نکلیں گی تو باہر بھوکے بھیڑے انسان کی شکل میں پھرتے ہوئے ملیں گے، باہر نا آپ کی عزت محفوظ رہے گی نا ہی زندگی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں