وزیراعظم عمران خان: امیدیں اور مشکلات


عمران خان کے خواب کی تکمیل ہوئی۔ انہیں ملک کا بائیسواں وزیراعظم منتخب کرلیا گیا ہے۔ ملک کے اعلی ترین عہدے تک پہنچنے کا سفر سخت جد و جہد اور کامیابی کے یقین کا سفر ہے۔ اس مقصد کو پانے کے لئے انہوں نے ملک کے کروڑوں لوگوں کو نئے خواب دکھائے ہیں۔ تاہم وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عمران خان کو خبر ہونی چاہئے کہ اہل پاکستان زیادہ صبر کرنے کے عادی نہیں ہیں۔ انہیں جو بڑے بڑے خواب دکھائے گئے ہیں وہ اب ان خوابوں کی فوری تعبیر چاہیں گے۔ انہیں امید ہوگی کہ جو باتیں جس طرح کہی اور بتائی گئی ہیں انہیں ویسے ہی تکمیل تک پہنچایا جائے۔

یوں تو اس قوم سے ہمشہ سے ہی بلند بانگ وعدے کئے جاتے رہے ہیں۔ ایسے وعدے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جو ملک کی معیشت اور سیاسی حقیقت سے لگا نہیں کھاتے۔ لیکن پیپلز پارٹی کے بانی چئیرمین ذوالفقار علی بھٹو کے بعد عمران خان دوسرے لیڈر ہیں جنہوں نے عوام کو ایک نئی زندگی اور نئی شروعات کی نوید دی ہے۔ عمران خان کا توسلوگن نئے پاکستان کی تعمیرہے۔ البتہ بھٹو نے لاچار غریب لوگوں سے روٹی کپڑا مکان کا وعدہ کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی سیاست آج بھی اسی نعرے کی بنیاد پر استوار ہے۔ بھٹو کے شیدائیوں کی توقعات زیادہ نہیں تھیں۔ وہ سادہ باتوں پر بہل جاتے تھے۔ تاہم پاکستانی سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو کے اس کارنامے کو یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے ملک کے عام سے غریب فرد کو اپنے حقوق سے آگاہی دی۔ اپنے حق کے بارے میں شناسائی کے ذریعے ملک کے سیاسی کلچر میں ڈرامائی تبدیلی برپا کی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلز پارٹی اگر ملک کے کروڑوں عوام کو روٹی کپڑا مکان فراہم کرنے کا وعدہ پورا نہیں کرسکے تو انہوں نے سماجی انصاف کے لئے ایک رائے اور طاقت ور تحریک کا آغاز ضرور کیا۔ پاکستان جیسے جاگیرداری نظام میں جکڑے ملک میں یہ کامیابی معمولی نہیں ہے۔ بھٹو پاکستان میں متعدد معاشروں میں تجربہ شدہ سوشلسٹ نظام آزمانا چاہتے تھے۔ ان کے نعروں کی بنیاد ایک نظریہ اور فلسفہ تھا۔ لیکن ان کو اس منصوبے کی تکمیل کا موقع نہیں ملا۔

عمران خان کے وزیر اعظم بننے کا لمحہ خوشی کا موقع ہے۔ ایسے وقت میں ان عوامل کو دوہرانے کا محل نہیں جو بھٹو کو تختہ دار تک لے گئے تھے۔ گو کہ یہ بھی تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ جس روز یعنی 17 اگست کو عمران خان قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے رہے تھے ، اسی روز آج سے 30 برس پہلے ضیا الحق طیارہ کے ایک حادثہ میں ہلاک ہوئے تھے۔ ملک کی تاریخ کے اس بدترین فوجی آمر کی برسی کو بہت سے لوگ یوم نجات کے طور پر بھی مناتے ہیں۔ لیکن یہ دن دراصل ملک کی یہ افسوسناک سچائی یاد دلاتا ہے کہ فوج نے روز اول سے سیاسی معاملات کو اپنے زیرنگیں رکھنے کی کوشش کی ہے۔ خواہ اس کے لئے آئین کو مسترد کرنا پڑا یا سیاسی حکوتوں کو دباؤ میں رکھنا ضروری سمجھا گیا۔ ملک کے نئے وزیر اعظم کا انتخاب جس ماحول میں ہؤا ہے اور 25 جولائی کے انتخابات کے بارے میں جو رائے قومی اور بین الاقوامی سطح پر سامنے آئی ہے ، اس سے یہی تاثر قوی ہؤا ہے کہ انتخابی سرکس کے باوجود فیصلے کرنے کا اختیار پارلیمنٹ یا ووٹر کے پاس نہیں ہے بلکہ کسی اور کے پاس ہے۔

عمران خان نے آج نامزد وزیر اعظم کے طور پر اپنی تقریر میں یہ دعویٰ کرنا ضروری سمجھا ہے کہ وہ کسی آمر کے کندھوں پر سوار ہو کر نہیں آئے بلکہ 22 برس کی سیاسی محنت کے نتیجے میں اس عہدہ کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس بیان میں دو مغالطے ہیں۔ ایک یہ کہ اگر وہ عوام کی خدمت اور ملک کی اصلاح کا عزم رکھتے تھے اور اسی ارادے سے اقتدار تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اور وہ کسی درپردہ قوت کے سہارے اس مقام تک نہیں پہنچے تو آج ان کے دائیں بائیں کیوں وہی لوگ رونمائی دے رہے ہیں جو ہر آمریت کا حصہ رہے ہیں۔ ان کے وہ ساتھی کیا ہوئے جو 1996 میں تحریک انصاف کے سفر کی ابتدا میں ان کے دست و بازو تھے۔ اس حوالے سے دوسرا مغالطہ یہ ہے کہ عمران خان وزیر اعظم بننے کے لئے جدوجہد کرتے رہے ہیں یا ان کی کوشش نظام کی تبدیلی کے لئے تھی۔ وزیر اعظم بننے کا مقصد انہوں نے پورا کرلیا لیکن یہ دعویٰ ثابت نہیں ہو سکا کہ ان کا سفر اس مقصد سے ماورا ہے۔ اگر وہ جمہوری راستے سے اصلاح احوال کے لئے کوشاں رہنا چاہتے تھے تو گزشتہ پانچ برس کے دوران قومی اسمبلی کے حاضری رجسٹر میں اپنے نام کا اندراج دیکھ کر اندازہ کرلیں کہ یہ سفر کتنا بامقصد تھا۔ عمران خان کے چہرے کی بشاشت ان کی کامیابی کا اعلان کررہی ہے لیکن جمہوری انتخاب کرکٹ کا ورلڈکپ نہیں ہے کہ جیتنے کے بعد سرخروئی ہمیشہ ہم سفر رہے گی بلکہ اس کامیابی کے بعد اصل امتحان شروع ہو تا ہے۔ اب عمران خان کو ہر لمحہ بتانا ہوگا کہ کامیابی اور تبدیلی کے سفر میں کتنا فاصلہ طے کیا گیا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے برعکس عمران خان نے ملک کے ان پڑھ اور افلاس زدہ طبقہ کو متاثر نہیں کیا بلکہ انہوں نے ملک کے پڑھے لکھےاور باشعور نوجوان طبقہ کو ایک خواب دکھایا ہے۔ یہ خواب مکمل نہ ہونے پر نوجوانواں کی پوری نسل ہی مایوسی کا شکار نہیں ہوگی بلکہ اس کا رد عمل بھی شدید ہوگا۔ عمران خان نے سیاسی بلندی کو پانے کے لئے اپنے ہم عصر سیاست دانوں کی پگڑیاں اچھال کر ان کے سیاسی لاشوں پر اپنی وزارت عظمی کی بنیاد رکھی ہے۔ جب تحریک انصاف کی حکومت حالات کا سامنا کرے گی اور ان کے سامنے بے بس ہوگی تو عمران خان کی صورت میں خضر راہ تلاش کرنے والے الزام اور دشنام طرازی کا وہی ملبہ ان پر بھی پھینکیں گے جو انہوں نے نوجوانوں کو نعرے بازی پر لگا کر گزشتہ پانچ برس میں اپنے مخالفین کی طرف اچھالا تھا۔

ملک کی سیاست طویل عرصہ سے عسکری اداروں کی مرضی کی پابند ہے۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کی راہ بھی اسی وقت ہموار ہو سکی تھی جب انہوں نے اس راز کو پالیا تھا کہ موجودہ نظام میں اصل طاقت کے حامل اداروں کے ساتھ ہاتھ ملانا ضروری ہے۔ یہ دست تعاون تھامتے ہوئے البتہ انہوں نے نظام کو اس کی موجودہ شکل میں قبول کیا تھا۔ انہوں نے سیاست پر فوج کی بالادستی کے اصول کو مان کر سیاسی میکینزم میں اپنے لئے جگہ بنائی ہے۔ تاہم وہ وزارت عظمی کی کرسی تک پہنچنے کے لئے یہ سچ بھول گئے کہ ان سے پہلے یہ راستہ اختیار کرنے والوں کا کیا حشر ہؤا تھا۔ ان میں سے نواز شریف کو انجام تک پہنچانے کے لئے تو عمران خان کو ہی استعمال کیا گیا اور وہ بخوشی استعمال ہوئے۔ ان کے اس طرز عمل میں دو قباحتیں سامنے آئیں۔ ایک یہ کہ عمران خان نظام کو بدل کر آگے بڑھنے کا وعدہ پورا نہیں کرسکے۔ پرانے رفیقوں کا ساتھ چھوٹا اور وہ لوگ ہمسفر ہوئے جو لیڈر اور پارٹی بدلتے دیر نہیں کرتے۔ دوسرا پہلو وہ تصویر ہے جو آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں اتاری گئی۔ عمران خان اپنے مد مقابل شہباز شریف سے مصافحہ کررہے ہیں۔ اس تصویر کا اصل سچ تو یہ ہے کہ ملک کا سیاسی جمہوری نظام ایک دوسرے کا احترام کرنے اور مل جل کر چلنے کی صورت میں ہی کامیاب ہو سکتا ہے۔ باہمی احترام اور سیاسی نمائیندگی کے اصول کو مان ہی کوئی حکومت یا لیڈر اپنے وعدوں کے مطابق پالیسی بنا سکتا ہے۔ عمران خان نے گزشتہ پانچ برس میں دھرنا اور احتجاج کی سیاست میں اس تصویر کا حلیہ بگاڑا ہے۔ اب ان کے گرمجوش نوجوان حامی اس تصویر کو ملک کی مسلمہ سیاسی حقیقت کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے، ان نعروں کی گونج میں دیکھیں گے جو شریف خاندان یا دوسروں لیڈروں کو مطعون کرنے کے لئے تسلسل سے بلند کئے جاتے رہے ہیں۔

ان سیاسی نعروں اور ہتھکنڈوں سے گزرتے ہوئے وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد عمران خان کو ایک لمحہ کا توقف کرتے ہوئے یہ غور کرنا ہوگا کہ وہ خواب اور حقیقت کا تال میل کیسے کرتے ہیں۔ وزیر اعظم بننے کے بعد عمران خان کا دیرینہ خواب پورا ہؤا لیکن ان کے ذریعے نیا پاکستان بنتے دیکھنے والے نہ اس تصویر کو قبول کریں گے اور نہ ہی آسانی سے بہلائے جا سکیں گے۔ انتخابی نعروں کے تسلسل سے کچھ فاصلہ تو طے کیا جا سکتا ہے لیکن پھر لیڈر کا سانس پھولنے لگتا ہے اور امیدیں ٹوٹنے سے اٹھنے والی احتجاج اور مایوسی کی لہر کا سامنا آسان نہیں رہتا۔ عمران خان کی بطور منتخب قائد ایوان قومی اسمبلی میں پہلی تقریر ان کے انتخابی نعروں اور سیاسی حکمت عملی کا تسلسل تھی۔ وہ مدمقابل سیاسی لیڈروں کے احتساب کے نعروں سے لوگوں کو روزگار نہیں دے سکتے، ہسپتال تعمیر نہیں کرسکتے اور نہ ہی تعلیم عام کرسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہیں مخالفین کا ہاتھ تھامنے اور ان کے مینڈیٹ کا احترام کرنے کی کی عادت ڈالنا ہوگی۔

پیپلز پارٹی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری نے آج قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں عمران خان کو جو مشورہ دیا ہے، انہیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ ’میں منتخب وزیراعظم کو مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ یہ یاد دلانا چاہوں گا کہ وہ کسی مخصوص جماعت کے وزیراعظم نہیں۔ وہ پورے پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔ ہر پاکستانی کے وزیراعظم ہیں۔ وہ ان کے بھی وزیراعظم ہیں جنہیں وہ زندہ لاشیں کہتے ہیں اور ان کے بھی جنہیں گدھا، بکری اور بھیڑ کہتے رہے ہیں‘۔ عمران خان نے اس مشورہ کو ماننے سے انکار کیا تو ان کا سفر مسدود اور پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 959 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali