ساقی فاروقی کی پاپ بیتی


ھٹیوں میں تمکوہی، نان پارہ یا سیتا پور سے یعنی جہاں جہاں بھی ابا کا ملازمت کے سلسلے میں تقرر ہوتا وہاں وہاں سے، گاؤں آتا۔ پھوپھی بہرائچ سے بچوں سمیت پہنچ جاتیں (احمد ہمیش کا تعلق اس شو گر مل والے قصبے سے بھی ہے )۔ آنگن میں پلنگ اور چارپائیاں ڈال دی جاتیں۔ ایک طرف دادی، اماں، چچی اور پھوپھی کے پلنگ، دوسری طرف گاؤں کی کنواریوں اور نئی بیاہتا عورتوں کی چارپائیاں۔ باڑ کے طور پر ہم بچوں کی چھوٹی چھوٹی مسہریاں۔ میں پانچ سال کی عمر سے سات سال کی عمر تک اپنی متجسس انگلیوں کو لذت کی ٹریننگ دیتا رہا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جب دادی، اماں، چچی اور پھوپھی نیند کے خرابے میں اتر جاتیں تب میں بستر کے نشیب سے ابھر کے رات کی معزز مہمانوں کی چارپائیوں کی طرف چلا جاتا۔ جانگیا اور انگیا سے ان سخی بدنوں کی صاحب سلامت نہیں تھی، اس لیے صرف چولیوں اور ساریوں اور ان کے نیچے چھپے ہوئے خزانوں سے ملاقات ہوتی۔ سیر دستی ہو جاتی اور اگر آنگن میں چاندنی چھٹکی ہوتی تو سیر چشمی بھی۔ میں عمر کی ساتویں منزل پر پہنچا تو مجھے مردانے میں بھیج دیا گیا۔ مگر ان تین چار برسوں نے ، سن بلوغ سے پہلے ہی، شہوانی جذبات کی پرورش کی ہو گی اور میری جنسی شخصیت کی تعمیر میں حصہ لیا ہو گا…

…یہاں ایک واقعے کا ذکر ضروری ہے۔ 1951 میں ہمارا ہوسٹل ایک بہت وسیع بلڈنگ میں منتقل ہو گیا تھا۔ اس میں ایک بہت بڑا ہال، 15 کمرے، دو غسل خانے، ایک باورچی خانہ، ایک پانچ لمبی لمبی چوکیوں، چٹائیوں اور دریوں والا طعام خانہ اور دو سنڈاس تھے۔ حالی نے مسدس میں چوماچاٹی والی غزلیہ شاعری کے لیے “سنڈاس” کا لفظ پہلی بار استعمال کیا تھا، خدا کا شکر ہے کہ انتقال فرما گئے ، نہ جانے وہ شمس الرحمن کی کلاسیکی الہٰ آبادی اور وزیر آغا کی جدید وزیر کوٹی غزل کی لیپاپوتی کو کیا نام دیتے۔ بیچ بیچ میں بھٹکنے اور ڈیم فول شاعری کو ذلیل کرنے کی عادت سے پڑگئی ہے ورنہ کہنا صرف یہ چاہتا تھا کہ مکان سے باہر بھی ایک سنڈاس تھا جو اس مکان کے ہندو مالکان نے اپنے نوکروں کے لیے بنایا ہو گا۔ سینئر طلبا باری باری دن کا کم از کم ایک گھنٹہ وہیں ضائع کرتے۔ اس لیے کہ چہار دیواری سے ادھر ایک بنگالی خاندان کا گھر تھا، جس میں سولہ سترہ سال کی دولڑکیاں بھی رہتی تھیں۔ وہ ادھ رسے پستانوں اور گدر سرین کی مالک تھیں۔ ان کے گھر کے باغ کے بیچ ایک کنواں تھا جہاں وہ روزانہ یا ہر دوسرے روز غسل کی مرتکب ہوتیں۔ ہم سب روزن شکستہ سے ان کے “کم بخت دل آویز خطوط” (شکریہ، فیض صاحب) کا مطالعہ کرتے اور “خود وصلی ” کرتے۔

ہاتھ سے آنکھوں کے آنسو تو نہیں پونچھے تھے (میراجی)

اس وقت مجھے چھاتیوں سے زیادہ کولھوں سے رغبت تھی۔ انھی کی یاد میں پینتیس سال بعد میں نے اپنا مزے دارمضمون نما، “ایک پشت کی مدافعت میں ” لکھا تھا جس کی داد میرے معزز دوست اور آج کے سب سے بڑے نثّار مشتاق احمد یوسفی نے یوں دی تھی:

ساقی صبح کی ڈاک سے تمھارا مضمونچہ ملا، ہم دونوں (یعنی ادریس بھابھی اور یوسفی صاحب) دو تین بار پڑھ چکے ہیں۔ عجب قیامت کی نثر لکھی ہے، قیامت تک خوش رہو مگر یاد رکھو کہ اس قسم کی داد وہی دے سکتا ہے جس نے نثر اور کولھے دونوں برتے ہوں۔

(پیارے یوسفی صاحب، کیا خوب قیامت کا تھا گویا کوئی دن اور)۔ چونکہ اس تعریف سے میری انا پھول کر کپا ہو گئی تھی، اس لیے اس مضمونچے کو revisit کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ شاید اس لیے بھی کہ میری یہ تحریر میری کسی اور کتاب میں موجود نہیں۔ نقل بمطابق اصل:

ایک پشت کی مدافعت میں

… وہ اس کی طرف پشت کیے، سنک میں صبح کے جھوٹے برتن دھو رہی تھی…”عورت اور مرد کی پشت یکساں ہوتی ہے۔ ” پتہ نہیں سلطان حیدر جوش نے یہ فقرہ کیسے لکھ دیا، اس نے وائن کی بوتل کھولتے ہوئے سوچا۔ یہ غلط فہمی پشت ہا پشت سے ہے۔ دراصل یہ بڑی بھٹکانے والی بات ہے ورنہ مرد کی پشت خاصی سپاٹ ہوتی ہے، شانوں سے لے کر کمر تک تو ٹھیک ہے کہ اس میں چیتے کی پشت کا سا طنطنہ اور کس بل ہوتا ہے مگر کولھے غیر مسطح اور ناتراشیدہ ہوتے ہیں اور کسی عمر رسیدہ کولھو کے بیل کے پچھلے دھڑسے مشابہت رکھتے ہیں یعنی وہ حصہ جو ‘قلب’ سے جدا ‘میمنہ میسرہ’ کرتا رہتا ہے …ان کے مقابلے میں عورت کے کولھے، کمر کے لوچ کا جھٹکا کھا کر ایک وحشت کے انداز میں دو آدھے آدھے چاند بناتے ہوئے فراز سے نشیب کی طرف ہجرت کرتے ہیں، جلالی دریاو ¿ں کی طرح، اور پراسرار رانوں کی سنگلاخ چٹانوں سے ٹکرا کر ٹھہر جاتے ہیں۔ مرد کے کولھوں کی زمین قحط زدہ اور پتھریلی ہوتی ہے۔ عورت کے کولھوں کا خمیر زر خیز مٹی سے اٹھا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ ان کا ایک اپنا مزاج، ایک اپنی شخصیت ہوتی ہے۔ یہ خیال غلط ہے کہ آدمی نے پتھروں کے رگڑنے سے آگ پیدا کی۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ پہلا شعلہ اسی چقماق سے نکلا ہو گا۔ پھر ہر وصال کے بعد مرد کے کولھے اندر کی طرف دھنستے جاتے ہیں مگر عورت کے کولھوں میں رس بھرتا جاتا ہے اور گولائیوں میں ایک ساحرانہ دلکشی آتی جاتی ہے۔ ایک عورت کی پشت دیکھ کر آسانی سے قیاس آرائی کی جاسکتی ہے کہ اس کے پیچھے کتنے وصالوں کا عمل دخل رہا ہو گا…وہ اس کی طرف پشت کیے، سنک میں صبح کے جھوٹے برتن دھو رہی تھی…

(تمت بالخیر۔ مطبوعہ”شب خون”، الہٰ آباد)

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں