سیتل اوڈ، ہمت علی اور کچرے میں رکھا رزق


akhter hafeezاس کا نام سیما ہے، اس کے کندھوں پہ نہ صرف اس بوری کا بوجھ ہے جو وہ اٹھاتی ہے، جس میں کچرا بھرا ہوتا ہے بلکہ اس کے نازک سے کندھوں پہ اس کے حالات نے اتنا بوجھ ڈال دیا کہ کبھی کبھار کچرے سے بھری بوری کا وزن اسے شاید ہی محسوس ہوتا ہو۔ سیما بھی انہیں بچوں میں سے ایک ہے جو ہماری شہروں میں کوڑے کے ڈھیروں میں رزق تلاش کرتے ہیں۔ جس عمر بمشکل آٹھ برس ہوگی۔ ٹوٹی پھوٹی پلاسٹک کی اشیاء، گتے، اور پلاسٹک کا دیگر سامان اس کی بوری میں پڑتا جاتا ہے اور اسے آسرا ہونے لگتا ہے کہ 20 روپے کلو کے حساب سے اسے جب بیچے گی تو وہ روپے گھر میں کام آئیں گے۔

دن چڑھتے ہی اس کے قدم اس بوسیدہ سی بستی سے اٹھنے لگتے ہیں اور اس کے چھوٹے سے ہاتھ گند کے ڈھیر کو ٹٹولتے ہیں۔ سڑک، گلی، اور محلے میں جمع کیا ہوا کوڑا اس کی بوری میں آجاتا ہے۔ سورج غروب ہوتے ہی اس کے پاؤں گھر کا رخ کرتے ہیں۔ یہ بستی حیدرآباد کے علاقے قاسم آباد کے ایک روڈ کے بیچ سے گزرنے والی نہر جسے وادھو واہ کہتے ہیں، وہاں آباد ہے۔

وادھو واہ 8 کلومیٹر طویل ہے اور یہ پھلیلی کنال سے نکلتا ہے۔ جبکہ قاسم آباد میں اس کی لمبائی 3 کلومیٹر تک ہے۔ جب سے قاسم آباد میں پلازہ کھمبھیوں (مشروم) کی طرح پھوٹنے لگے ہیں اس کے بعد اب اس علاقے کا ہزاروں گیلن گندا پانی اس نہر میں جا رہا ہے۔ جبکہ چند سال قبل یہ نہر بہتے پانی والی صاف نہر تھی مگر پانی کا بہاؤ بند ہونے کے بعد اب یہ نہر ایک گٹر نالا بن چکی ہے۔ جس میں پلاسٹک کی تھیلیاں پانی کی سطح پہ اس طرح دکھائی دیتی ہیں جیسے کوئی پلاسٹک کی تھیلیوں کی فصل اگ آئی ہو۔ اس نہر کی نگرانی سندھ اریریگیشن ائنڈ ڈرینیج اتھارٹی (سیڈا) کرتی ہے، مگر سیڈا کو شاید اب یہ یاد بھی نہیں رہا ہے کوئی وادھو واہ نامی نہر بھی حیدرآباد شہر میں ہے۔ جوکہ اب مچھروں کے لیے کسی جنت سے کم نہیں ہے۔

?????????????

سیما اور دیگر بچے اسی نہر کے بائیں جانب ایک گندی، بدبودار اور کچرے سے بھری بستی میں رہتے ہیں۔ زندگی کی ایک صورت یہ بھی ہے۔ اور زندگی کے مختلف رنگ روپ ہمیں تب ہی نظر آتے ہیں جب ہم اپنے آرام دہ کمرے کی کھڑی کھول کر باہر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تب ہی اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی صرف وہ نہیں ہے جو گھروں کی چار دیواری میں گزرتی ہے بلکہ اس کے روپ ہمیں فٹ پاتھ، سڑکوں کے کنارے، کسی نہر کنارے یا پھر کسی صحرا میں نظر آتے ہیں۔ جس کے لیے مشہور انگریزی ڈرامہ نویس اور شاعر نے کہا تھا “زندگی کسی احمق کی سنائی ہوئی داستان ہے”۔

جس سڑک کنارے ان بچوں کی جھوپڑیاں ہیں اس پر صبح سے رات گئے تک گاڑیاں چیختی چلاتی رہتی ہیں، لوگ گزرتے رہتے ہیں مگر سینکڑوں آنکھیں اس بستی کی جانب نہیں اٹھتیں، رات 2 بجے کے بعد یہ شور تھم جاتا ہے۔ اور ان کے جھوپڑوں پہ لٹکے پردے اٹھنے شروع ہو جاتے ہیں تاکہ ہوا اندر آ سکے۔ مگر غربت کے مارے لوگوں کے گھر سردیوں میں سرد اور گرمیوں میں گرم ہی رہتے ہیں۔ میں جب اس بستی کی جانب گیا تو سب سے پہلی ملاقات ہمت علی سے ہوئی۔ ہمت علی کو دیکھ کر لگا کہ اس پر جوانی سے پہلے ہی بڑہاپا آنے لگا ہے۔ ایک کمزور جسامت والا دبلا پتلا شخص جس کے دانت گٹکے کے کثیر استعمال کی وجہ سے لال ہو چکے ہیں اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ابھر آئے ہیں۔ وہ مجھے اپنی جھوپڑی میں لے گیا، وہی ان کا ڈارئنگ روم، ڈائینگ ہال اور بیڈ روم ہے۔

“سائیں ہم ٹنڈوباگو کے ہیں، جب سے اسلام قبول کیا ہے بس یہاں پر آکر آباد ہو گئے ہیں۔ ہم سب بھیل قبیلے سے ہیں۔ تین برس ہو گئے ہیں ہم مسلمان ہوئے ہیں۔ ایک مولوی صاحب کے پاس جاکر میرے بڑے بیٹے نے اسلام قبول کیا اس کے بعد سارے گھر کو مسلمان ہونا پڑا اور اس طرح باقی رشتے دار بھی مسلمان ہو گئے”۔ وہ مجھے اپنا قصہ سنانے لگا۔

garbindus01 “مگر اپنے قبیلے سے بچھڑنے کی ایسی کیا ضرورت پیش آ گئی۔ اور پھر سندھ میں تو ہندو مسلم کا کوئی اتنا بھید بھاؤ نہیں ہے”۔ میں نے پوچھا

“بس ایک مولوی صاحب نے بیٹے کو مسلمان کیا پھر ہم بھی اس کے پیچھے ہولیے، اب یہاں ہمارے بچے کچرا چن رہے ہیں اور میں ہوں گدھا گاڑی چلا رہا ہوں، بھیل تھا تب مچھلی کا کاروبار کیا کرتا تھا۔ اب یہی گھر ہے اور یہی زندگی ہے اپنی”۔ اس نے کہا

“یہاں پر بھی آپ تو عارضی طور پہ بیھٹے ہوں گے، اور ویسے بھی جہاں آپ لوگ رہتے ہیں وہ تو کسی اور کا پلاٹ ہے کسی دن اگر آپ کو یہاں سے اٹھ جانے کا حکم مل گیا تو پھر کیا کریں گے”۔ میں نے پوچھا

“ کیا کریں گے؟ اٹھ جائیں گے اب ہمارا تو کوئی ٹھکانہ رہا ہی نہیں ہے، گھر چھوٹ گیا، رشتے دار کھو دیئے اب یہ زمین جس کی ہے اس کی مرضی ہے، جب تک یہاں دانا پانی لکھا ہے تب تک یہاں ہی رہیں گے پھر کہیں اور چلے جائیں گے۔ آپ یقین کرنے بہت مشکل وقت کاٹ رہے ہیں۔ نہ روزگار ہے نہ بچوں کے لیے کوئی خوشیاں، کبھی نہیں سوچتا تھا کہ وقت ہمیں سڑک کنارے لے آئے گا”۔ اس نے اپنی گردن جھکا دی۔

میں ان بچوں کی جانب دیکھنے لگا جو دن کا کھانا کھانے کے لیے اور دھوپ کی وجہ سے چند لمحوں کے لیے آرام کرنے اپنے گھروں کو لوٹے تھے۔ انہوں نے اپنے کندھوں سے کوڑے سے بھری بوریاں اتاریں اور جو کوڑا بھی جمع ہوا تھا اسے اسے ڈھیر میں اتار دیا جہاں وہ روز اسے رکھتے ہیں۔ جہاں سے ہر ہفتے ایک گاڑی اس جمع شدہ کوڑے کو لے جاتی ہے۔ ان بچوں کے چہرے پسینے سے شرابور تھے، آنکھوں کی تھکن بیان کر رہی تھی انہوں نے ٹھیک طرح سے آرام بھی نہیں کیا ہے۔ مگر کھانے میں کیا تھا۔ وہی روکھے ابلے ہوئے چاول جو سب مل کر کھا رہے تھے۔ بدبودار ماحول میں رہنے کے عادی ان بچوں کو شاید اب یہ بھی احساس نہ رہا ہو کہ یہاں بدبو مستقل رہتی ہے۔

Garbage Collectors-2(1)ہمت علی نے مجھے اپنی ساری بستی دکھائی، وہاں نہ صرف وہ خاندان رہتے ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا ہے بلکہ وہاں پر بھیل قبیلے کے خاندان بھی آباد ہیں۔ بیروزگاری کی دیمک ان تمام نوجوانوں کو کھا رہی ہے جن کے شب و روز انہی جھونپڑیوں میں آرام کرتے، تاش کھیلتے، کوئی نشہ کرتے اور ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہوئے گذر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی بستی ہے جہاں پانی کے سہولت بھی نہیں۔ ہمت علی کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی پانی کی لائین کاٹ دی گئی ہے۔ اب انہیں پانی کا بندوبست کہیں نہ کہیں سے کرنا پڑتا ہے۔ وقت اور حالات نے ان ننھے وجودوں کے ہاتھوں میں اسکول کے بستوں کے جگہ کوڑے کی بوریاں تھما دی ہیں۔ کیا یہ سزا نہیں ہے ان بچوں کے لیے؟ جو ہماری گلیوں میں پھیلی ہوئی گندگی اٹھانے کے لیے نہیں پیدا ہوئے ہیں۔ بلکہ انہیں بھی وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو ہر شہری کو حاصل ہیں۔ ان بچوں کے لیے اس سے بڑا عذاب کیا ہوگا کہ ایک نہ جینے جیسی زندگی وہ اب تک جی رہے ہیں۔ جہاں پہنچنے پر ہر زبان ایک ہی سوال کرتی کرتی ہے کہ “آپ ہمارے لیے کیا لائے ہیں”؟

ہمت علی اب کبھی بھی ٹنڈوباگو اپنے سابقہ رشیداروں کے پاس نہں جا سکے گا، کیونکہ اس نے خود ایک ایسی زندگی کا انتخاب کیا ہے جس میں بھوک ہے، غربت ہے، بے بسی اور لاچاری ہے۔ اگر وہاں کسی کی شادی ہو جائے تو ایک اور جھوپڑی کا اضافہ ہو جاتا ہے، جہاں سے کچھ عرصے بعد کوئی نئی زندگی جنم لیتی ہے تو گندگی کا ڈھیر اس کا منتظر رہتا ہے کیونکہ اس کے نصیب میں بھی وہی کوڑا اٹھانے والی بوری ہی ہے جس کا وزن آج کل ان بچوں نے اٹھایا ہوا ہے جنہیں ان کے ماں باپ پیدا کرتے تھیلا تھماتے جاتے ہیں۔ جبکہ یہ سارا کام ان میونسپل اداروں کا ہے۔ جن کے ملازم اب گھر بیٹھے تنخواہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ میونسپل اداروں کی ہی ناکامی ہے جو آج شہر میں بکھرے ہوئے کوڑے کو بچے اٹھا رہے ہیں، جن کا مستقبل تاریک سے تاریک تر ہوتا جا رہا ہے۔ جنہیں لگتا ہے کہ یہ کچرا اور کوڑا ہی ان کی زندگی ہے۔

میں بس اتنا جان پایا کہ ان کے لیے خوشیاں بہت مہنگی ہیں اور دکھ بلا ناغہ ان کے گھروں میں کہیں سے بھی داخل ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں نہ کوئی دروازہ ہے اور نہ کوئی کھڑکی۔ کسی زمانے میں سندھی زبان کے نامور افسانہ نگار نسیم کھرل ایک افسانہ “کافر” لکھا تھا۔ جس میں سیتل اوڈ اپنی بیوی ٹلی اور بچوں سمیت مسلمان ہوتا ہے۔ مگر سماج میں انہیں وہ رتبہ نہیں مل سکتا۔ کیا نسیم کھرل کو یہ پتہ تھا کہ مستقبل میں سیتل ہمت علی کے روپ میں نمودار ہو گا جس کے بچے سڑکوں کی خاک چھانتے پھریں گے؟


Comments

FB Login Required - comments

اختر حفیظ

اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر رہے ہیں۔

akhter-hafeez has 12 posts and counting.See all posts by akhter-hafeez