ایک سیلفی کا بناؤ سنگھار


daud-zafar-nadeemمیں نے اپنی تعریف اور خبط عظمت میں متبلا بے شمار لوگ دیکھے ہیں مگر دوست یہ ماننا پڑتا ہے کہ تیرے جیسا نہیں دیکھا، بات اپنے بڑے کانوں سے شروع کی اور اس کا تعلق اپنی ذہانت سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی۔ اور اس کے بعد اپنی آنکھوں اور حسن کی تعریف، پھر اس کے بعد اپنے پتلے ہونٹوں کی توضیح جاپان کے معیار حسن سے پیش کی اور اس کے ساتھ اپنی قاتل مسکراہٹ کا معنی خیز ذکر کیا۔ اس کے بعد جس طریقے سے اپنا ناک نقشہ بیان کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موصوف کو اپنے بارے میں خاصی غلط فہمیاں ہیں اور اپنے سحر کی تاثیر پر مان کتنا ہے۔ جانے کن لوگوں کا حوالہ دیا ہے جو ان کو چیکو سلاویہ کے رومانوی شہرت رکھنے والے خانہ بدوشوں سے جوڑتے ہیں۔، اور اس کے ساتھ ہی اپنے آپ کو عمران خاں سے جوڑ کر یہ دکھلانا چاہا کہ عمران کی انقلابیت پر شک ہے سیاست سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر اس کی رومانیت پر کوئی انگل نہیں اٹھا سکتا۔

اپنے نام سے ہجوں سے بھی اپنی برتری کا ثبوت تلاش کرنے کی کوشش کی، عجیب احساس برتری کے مارے لوگ ہیں۔ اور ماضی سے تعلق توڑنے کی خواہش کو چھپا نہیں پائے کہ زندگی کا اکثر حصہ اپنے ماضی کو چھپانے میں گزرا ہے۔ بڑے ڈھنگ سے اپنے آپ کو تمثیل نگار کے طور پر پیش کیا، مگر یہ نہیں بتلایا کہ یہ تمثیل ہے کون، بے چارے خود کو ماہر لسانیات خیال کرتے ہیں جعلی ہی سہی، مگر اپنی زبان درازی پر مان بھی کرتے ہیں حضور اپنی طنز کی ماہرِ لسان، اور اصلی قسم کے زبان دراز ہیں۔ کوئی ‘حقہ۔ لکھ دے، تو اس کے مغر ہو جاتے ہیں، کہ ‘ح’ اور ‘ق’ بتاتے ہیں، ‘حقہ’ عربی الاصل ہے، لیکن ‘حقہ’ عربی کا نہیں ہندی کا لفظ ہے، لہاذا ‘ہکا’ لکھا جاے۔۔۔ بندہ ہکا بکا رہ جاتا ہے، کہ ‘صلاحیت کو اور دوسرے کو حیران پریشان کرنے کے ہنر کا بھی کمال ہنر مندی سے ذکر کیا ہے۔ مخالفین کا حوالہ دے کر یہ دعوی کیا ہے کہ ان کا تعلق برصغیر کی سب سے حاضر جواب اور اپنے آپ پر ہنسنے والی قوم سے ہے، یہ ایک خواہش ہو سکتی ہے مگر حقیقت نہیں، بڑی حسرت سے لکھا ہے کہ صرف ایک بیوی ہے۔ مگر اصل رولا تب پڑتا ہے جب اپنی بھاگ بھری کا ذکر کرتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے عیش کرتےہیں اور جس نے آپ کو اپنی شخصیت کے اظہار کا وہ موقع فراہم کیا ہے جو آپ کے بڑے نہیں دے سکتے تھے اس کا ذکر اس طرح کرنا کہ اپنے آپ کو مظلوم ثابت کیا جا سکے قابل مذمت ہے۔ بڑے سلیقے سے بتلایا کہ نوعمری سے ہی لکھنے کی تخلیقی صلاحیتیں تھیں اور پہلے شعر گوئی کی کوشش کی بعد میں اپنی نثر نگاری کا دھڑلے سے ذکر کیا، بھئی گڑ کی بات نہ کرو کہ تمہاری نثر پر گڑ ویسے ہی مل رہا ہے۔ چلو یہ تو تسلیم کیا کہ ذہین اور عقلمندوں سے دور رہتے ہیں کہ آئینہ دکھا دیتے ہیں۔ اور یہ مانتے ہیں کہ دوستوں کے بارے جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں مگر میرے بھائی اپنی ملامت لکھنے کے لئے سچا ملامتی ہونا پڑتا ہے، میری ایک درخواست ہے کہ زندگی میں جتنے بھی روپ بدلو کوئی اعتراض نہیں، مگر ملامتی ہونے کا دعوی مت کرو، کہ یہ کوئی روپ بہروپ والی بات نہیں، یہ جیون کی ایک حقیقت ہے


Comments

FB Login Required - comments