امن کا سورج کب روشن ہوگا؟


محمد جمیل اختر


jamil akhtar میری، آپ کی اور شاید ہم سب کی یہ خواہش ہو کہ ایک دن ایسا بھی ہو زندگی میں کہ جب اس زمین پر مکمل امن کا دن ہو۔ کوئی ایسا دن کوئی ایسا لمحہ کہ جس میں کوئی کسی کے ساتھ برسرِ پیکار نہ ہو۔ یہ خواب کہ اس ایک دن آگ اگلتی بندوقیں اور توپیں، رحم کا سانس لینے کے لیے ذرا دیر خاموش ہوں اور چاہے ایک دن ہی سہی بدلے کی بجائے رحم کا جذبہ لوگوں کے دلوں میں جاگ اٹھے۔لوگ پہلے سے لڑائی جھگڑوں میں ہونے والے زخمیوں کو اٹھائیں اُن کی مرہم پٹی کریں اور انہیں گلے سے لگائیں اور کم ازکم ایک دن کے لیے وہ ایک دوسرے کو معاف کردیں۔ پوری تاریخ انسانی جو نہ جانے کتنے ہزار برس پر محیط ہے، اب تک کتنی نسلیں گزر چکی ہیں مگر کہتے ہیں کہ صرف 236 سال ایسے پوری تاریخ میں نظر آتے ہیں کہ جن میں کسی جنگ کی اور قتل و غارت کی کوئی خبر نہیں ملتی، ورنہ ہر سال، ہر دن ایسا ہے کہ انسان، انسان کے مدِمقابل ہے، قابلِ افسوس، لیکن یہ حقیقت ہے۔

یہ وہ دور ہے کہ جس میں تمام انسان اس بات پر متفق ہیں کہ انہوں نے کسی بات پر متفق نہیں ہونا۔ پوری دنیا کے حالات بتا رہے ہیں کہ انسان کو بقا کا خطرہ لاحق ہے اور حیرت ہے کہ انسان کو انسان ہی سے خطرہ ہے۔ اخبار اٹھائیے، یا ٹی وی پر خبریں سن لیں ہر طرف مار دھاڑ اور تشدد ہی تشدد کی خبریں ہیں۔ ملکوں ملکوں، شہروں شہروں، قصبوں قصبوں، حالات چاہے مختلف ہیں لیکن واقعات ایک سے ہیں۔ کہیں لوگ گھتم گھتا ہیں تو کہیں بندوقوق اور ٹینکوں کی زد میں ہیں اور کہیں جہازوں سے بم گرا کے انسانوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔ یہ مرنے والے کوئی کیڑے مکوڑے نہیں ہیں، بے جان نہیں ہیں بلکہ یہ انسان ہیں، جیتے جاگتے، ہنستے بولتے انسان۔ تباہی صرف بڑے شہروں میں نہیں آتی کہ بم دھماکے ہوگئے، جنگیں چھڑ گئیں، انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح کی دشمنیاں ہیں۔ گاوں دیہات کی خبریں ہی سن لیں، فلاں نے فلاں پر تیزاب پھینک دیا، کسی غریب کے گھر کو کسی با اثر جاگیردار نے آگ لگادی، ڈاکوں نے کسی کی عمر بھر کے جمع پونجی لوٹ کر اُسے قتل کردیا وغیرہ وغیرہ ہر روز اخبار بھرے پڑے ہیں تو امن کا سورج کب طلوع ہوگا۔

انسان اگرچہ کائنات کا سب سے بڑا راز ہے مگر وقعت یہ ہے کہ کوئی وقعت ہی نہیں۔ ماضی گواہ ہے اور حال چیخ رہا ہے کہ مستقبل میں بھی انسان کسی بھی بات پر متفق نہ ہوں گے۔ ایسے میں امن ہماری خواہش تو ہو سکتی ہے ہمارا خواب تو ہوسکتا ہے لیکن تعبیر شاید کہ کوئی دیکھے۔

ملکی سطح کے فیصلے تو وہ لوگ کریں کہ جن کو ملکوں کی باگ ڈور دی گئی ہے۔ ہم انفرادی طور پر تو ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ساتھ دیں، ایک پڑوسی بھی اگر اپنے پڑوسی کے حقوق ادا کرنے لگ جائے تو کم از کم دو گھروں میں تو سکون آسکتا ہے۔ انفرادی تبدیلیاں ہی اجتماعی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہوتی ہیں، بڑے خواب اور ان کی تعبیر ممکن نہیں تو آئیں ہم چھوٹے چھوٹے خواب اور چھوٹی چھوٹی تعبیریں دیکھتے ہیں۔ امن کا سورج طلوع ہونے میں دیر ہے تو ہم امن کے دِیے روشن کر لیتے ہیں کہ مکمل تاریکی سے یہ ذرا سی روشنی بہتر ہے۔


Comments

FB Login Required - comments