’بیمارستان‘ سے ’ گرین زون تھیرپی ‘ تک۔


ڈاکٹر خالد سہیل سے میرا پہلی بار ٹیلی فون سے رابطہ 2009ء میں اس وقت ہوا جب ان کی ویب سائٹ کی چھان پھٹک نے مجھے قائل ہی نہیں بلکہ مجبور کر دیا کہ شمالی امریکہ میں بسنے والے جنوبی ایشیائی مہاجرین کی ذہنی صحت کے حوالے سے ان سے گفتگو کی جائے۔ واضح رہے کہ ان کا نام نفسیاتی امراض کے ماہر معالج کے طور پر معتبر گردانا جاتا ہے۔ گو ڈاکٹر خالد سہیل سے براہِ راست فون پر رابطہ کی میری پہلی کوشش کامیاب نہ ہو سکی تاہم فون پر ان کے شعری پیغام ( میسیجMessage ) سے محظوط ہونے کا موقع ضرور ملا‘ جو خود ان کی ہی زبانی ہے
جب کبھی آتے ہیں میرے پاس آپ
میں نکل جاتا ہوں خود کو ڈھونڈنے
عارفؔ عبدالمتین

یہ حقیقت ہے کہ خود اپنی ذات کی تلاش اور علمی جستجو کے سفر کے بے تھکان مسافر ڈاکٹر خالد سہیل برسوں سے علم و ہنر کے موتی چننے کے عمل میں مصروف ہیں۔ عمر کی چھٹی دہائی میں داخل ہونے کے باوجود ان کا ذہن کسی پرتجسس نوجوان تخلیق کار کی مانند تروتازہ اور زرخیز ہے۔وہ تواتر سے اپنے ادبی اور علمی تجربات کو کتابی ذخیرہ کی شکل دیتے رہے ہیں۔ان کے تخلیقی سرمائے کی تعداد کثیر ہے۔ اب یہ بات اور ہے کہ کبھی ان کتابوں کی کل تعداد پوچھی جائے تو کچھ خجل سے ہو کے بات ٹال دیتے ہیں۔ جیسے بے ادبوں کی دنیا میں ان کے علم و ادب سے عشق کا اقرار ناقابلِ معافی جرم قرار دیا جائے گا۔ میں اس ادا کو انکی انکساری پر معمور کرتی ہوں۔ اس موقع پر مجھے ان کا ایک جملہ یاد آ رہا ہے جو انہوں نے اپنے انٹرویو میں فرمایا تھا ’ میں مذہبی آدمی نہیں ہوں لیکن تخلیقی کام عبادت کی طرح انجام دیتا ہوں‘۔

مہاجروں کی ذہنی صحت کے حوالے سے ڈاکٹر خالد سہیل سے گفتگو ہماری تخلیقی دوستی کا پہلا قدم تھی۔ یہ انٹرویو میں نے اپنے اخبار ’اردو ٹائمز‘ کے لیے لیا تھا۔ اس زمانے میں اخبار میں لکھنے کے علاوہ میں سوشل ورکSocial Work میں ماسٹرزMasters کی ڈگری حاصل کرنے کے اختتامی مراحل میں تھی۔اپنی گفتگو میں نہ صرف انہوں نے مجھے اپنی فکری اپج اور گہری علمیت سے متاثر کیا بلکہ اس بات سے بھی کہ وہ بڑے دقیق موضوع اور مشکل بات کو آسان اور عام فہم انداز میں کہنے کے عادی ہی نہیں قائل بھی ہیں۔ یہ خصوصیت انہیں بہت سے نام نہاد عالموں سے جدا اور ممتاز کرتی ہے کہ جو پیچیدہ خیالات اور ثقیل الفاظ کے ہتھوڑے برسا کے قاری کو اپنی علمیت سے مجروح کر دیتے ہیں۔ خالد سہیل کسی خود ساختہ ’یوٹوپیاUtopia ‘ میں بسنے کے بجائے عام انسانوں کے ذہنوں تک رسائل حاصل کرنے کے قائل ہیں۔

بحیثیت سوشل ورکر میں نفسیاتی امراض سے متعلق کم آگہی کو سماجی ترقی میں حائل رکاوٹ سمجھتی ہوں۔ میری نظر میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ ذہنی امراض اور نفسیاتی و سماجی مسائل سے متعلق موضوعات کے بارے میں علم اور تحقیق کو سادہ اور عام فہم زبان میں قاری تک پہنچانا چاہیے۔ مجھے اندازہ ہوا کہ میرے خیالات ڈاکٹرخالد سہیل کے خیالات سے خاصی حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں نے کئی مضامین ذہنی امراض کے حوالے سے لکھے ہیں اور خواہش ظاہر کی کہ کیوں نہ ہم مل کر کتاب شائع کریں۔ ان کا بے ساختہ جواب تھا ’ میری نانی اماں کہا کرتی تھیں کہ ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں‘۔مجھ جیسی نوآموز لکھنے والی کے ساتھ خوش دلی سے کتاب لکھنے کی رضامندی خاصی حوصلہ افزا تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ڈاکٹر خالد سہیل نفسیات سے متعلق موضوعات پہ اب صرف انگریزی میں ہی لکھ رہے تھے۔ میں نے بہرحال انہیں اس بات پر قائل کر لیا کہ یہ کتاب اردو میں چھپنا ضروری ہے۔ ذہنی امراض اور نفسیات جیسے اہم موضوعات پہ انگریزی میں تو ڈھیروں مواد موجود ہے لیکن اردو میں ایسی کتابیں کمیاب ہیں۔ ہمارے باہمی شتراک سے ایک سال سے کم عرصے میں کتاب ’نفسیاتی مسائل اور ان کا علاج‘ شائع ہوئی۔کتاب کو پڑھنے والوں کی پسندیدگی سے اس بات کو تقویت ملی کہ کتاب کو اردو میں لکھنے کا فیصلہ درست ہی نہیں ضروری بھی تھا۔
اس کتاب کے بعد ہماری دوسری مشترکہ کتاب ’ ہجرت کے دکھ سکھ‘ پچھلے سال شائع ہوئی جو شمالی امریکہ میں بسنے والے ایشیائی مہاجروں کے ذہنی‘ سماجی و معاشرتی مسائل پر مبنی ہے۔ میری محدود معلومات کے مطابق غالباٌ یہ اردو میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے جسے پڑھنے والے ناقدین نے اہم قرار دیا۔


چند ماہ قبل ڈاکٹر خالد سہیل نے مجھ سے سائیکو تھیریپی ( گفتگو کے ذریعے نفسیاتی مریضوں کا علاج) کے موضوع پہ ایک کتاب لکھنے کا تذکرہ کیا جو وہ امریکہ کے نفسیات کے پروفیسر ڈاکٹر رضوان علی کے ساتھ مل کرنرسنگ‘ سوشل ورک ‘سائیکالوجی اور میڈیکل اسکول کے طلباء و طالبات کے لیے لکھ رہے تھے۔ظاہر ہے یہ بہت خوشی کی بات تھی۔ ایک ایسے سماج میں کہ جہاں ذہنی امراض معاشرتی تہمت قرار دیے جاتے رہے ہوں اور ذہنی امراض میں مبتلا افراد اور ان کے گھر والے شرمندگی اور خجالت میں زندگی بسر کرتے ہوں وہاں اس اہم موضوع پہ کتاب سوچ کی تبدیلی اور سماجی ترقی میں پیش رفت ہی تو ہے۔ میں نے ایک بار پھر اس کتاب کے ترجمہ کی افادیت پر زور دیا۔ مجھے خوشی ہے کہ ڈاکٹر خالد سہیل نے میری خواہش کا حترام کرتے ہوئے جلد ہی اس کے ترجمے کا اہتمام کیا اور کتاب میرے مطالعہ کے لیے بھیج دی۔
میں نے اس کتاب کو حرف بہ حرف پڑھا اور بلا مبالغہ اس سے اتنی ہی محظوظ ہوئی جتنی کسی بھی ادبی چاشنی لیے ہوئے ناول سے۔ اس کی ایک وجہ تو میری اس موضوع سے دلچسپی ہے(میں ان دنوں منشیات کے عادی افراد کی انفرادی اور گروپ تھیریپی کرتی ہوں) لیکن دوسری اہم وجہ ڈاکٹر خالد سہیل کا سہل اور رواں ترجمہ ہے۔ وہ بقراطی ٹوپی لگائے بغیر اپنے علم کو بغیر کسی کنجوسی کے سہل انداز میں عام قاری تک پہنچانے کے قائل ہیں اور ان کی یہی عاجزی ہی انہیں صحیح معنوں میں عالم کے درجہ پر فائز کرتی ہے۔

اس سے پہلے کہ کتاب پہ بات ہو مختصراٌ ان عوامل کا ذکر مناسب ہے کہ جو ڈاکٹر خالد سہیل کے کامیاب معالج اور ماہرِ نفسیات بننے میں محرک تھے۔ اس کتاب کے علاوہ بھی خود انہوں نے اپنی سوانح عمری ’اپنا اپنا سچ‘ میں اس کا ذکر کیا ہے کہ یہ خواب ان کی والدہ کا تھا کہ وہ ڈاکٹر بنیں اور پھر دس سال کی عمر میں انہوں نے اپنے والد کو ذہنی بیماری سے نبرد آزما ہوتے دیکھا۔اس حساس عمر میں جانے ان کا ننھا سا ذہن کیا سوچتا ہوگا لیکن کچھ بڑے ہونے پہ کتابوں کے شوق اور سگمنڈ فرائڈ کے عشق میں مبتلا خالد سہیل کے نفسیات کے شعبہ کو چننے کا فیصلہ حادثاتی نہیں بلکہ شوق اور سمجھ بوجھ کا نتیجہ تھا۔
ڈاکٹر خالد سہیل گزشتہ تین دہائیوں سے بطور سائیکوتھیریپسٹ ’کرئیٹیو سائیکو تھیریپی کلینکCreative Psychotherapy Clinic‘ چلا رہے ہیں اور بطور دردمند اور حساس دل معالج اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ذہنی امراض میں مبتلا انسان ایک جزیرے کی مانند سب سے الگ تھلگ رہتے ہیں اور مرض میں مبتلا ہونے کی شرمندگی اور خجالت کی وجہ سے تنہا اور اداس زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔حالانکہ خو ش رہنا تو ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ لیکن’ یہ بات اکثر ان لوگوں کے لیے دردِ سر بن جاتی ہے کہ جن کے پاس اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں ہوتی ہیں اور وہ اعلیٰ کمپیوٹر اور بہترین پل تو تعمیر کر سکتے ہیں مگر اپنے غصہ‘ اختلاج‘ بے چینی اور ڈیپریشن سے نہیں نبٹ پاتے۔‘

سائیکوتھیریپی نفسیاتی مسائل سے وابستہ ذہنی کیفیات سے نبٹنے کا عمل ہے جس میں معالج مریض سے گفتگو کے ذریعہ علاج کرتا ہے۔(چاہے وہ دوا کا استعمال کرے یا نہ کرے)۔چونکہ یہ سست رفتار عمل ہے لہذاٰٰ صحت یابی کے لیے وقت درکار ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل نے اس عمل کے مدارج کو ترتیب وار ابتدا سے انتہا یعنی صحت یابی تک بہت ہی احسن طریقہ سے مفصل لکھا ہے۔ تھیریپی کے سلسلے میں پہلی ملاقات کا وقت لینے سے (جو ٹیلی فون پر لیا جاتا ہے) لے کر مکمل علاج تک کی تفصیل نہ صرف نفسیاتی مریضوں‘ ان کے اقارب اور سماج میں بسنے والے ان تمام افراد کے لیے اہم ہے کہ جو معاشرے کو نفسیاتی طور پہ صحتمند دیکھنے کے متمنی ہیں۔ بلا شبہ سائیکو تھیریپی مریض کو سماج سے بہتر انداز میں جوڑنے اور خوشیوں سے ہم رشتگی کا خوبصورت اور مضبوط پل ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ آج کے دور میں دوائیوں کے بہتر معیار اور سائیکوتھیریپی سے علاج کے بعد ذہنی امراض میں مبتلا افراد خود مختار اور باعزت زندگی گزارنے کے قابل ہو رہے ہیں۔ یہ بہتری اسی وقت ممکن ہوئی کہ جب سماج میں ذہنی امراض کو گناہوں کی سزا تصور کرنے کا نظریہ مٹنے لگا۔بدقسمتی سے مشرقی ممالک میں جہالت اور توہم پرستی ابھی بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور اس دور کی یاد دلاتے ہیں کہ جب ذہنی مریضوں کو خطرناک اور پاگل سمجھ کر ان کے ہاتھوں اور پیروں میں زنجیریں ڈالی جاتی تھیں۔ ترقی کا یہ سفر کٹھن تھا جو انسان دوست نفسیاتی معالج اور تحقیق دانوں کی بانہ روز محنتوں کے بغیر ممکن نہ تھا۔
اس کتاب کے اہم اور دلچسپ ابواب میں شامل نفسیاتی علاج کی ترقی کے حوالے سے تاریخی سفر ہے جس کی مدد سے ہمیں نہ صرف ماضی کی جدوجہد کو جاننے کا موقع ملتا ہے بلکہ مستقبل کے امکانات کی نوید بھی ملتی ہے۔ بقراط سے شروع ہونے والے سفر میں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے طب کو مذہب سے علیحدہ کیا اور کہا کہ طبیب کو قوانینِ فطرت کا احترام کرنا چاہیے۔ یونانی طبیب جالینوس کے خیال میں انسانی نفسیات کے تین حصے ہیں۔منطقی حصے کا تعلق دماغ سے‘ روحانی کا دل اور سفلی حصے کا جگر سے ہے۔ ۹۸۰؁ء میں بخارا میں پیدا ہونے والے بو علی سینا کی طب اور فلسفہ سے دلچسپی نے ان کے کام کو اس سطح تک پہنچایا کہ ان کی کتابThe Cannon of Medicine (طب کی کسوٹی) کئی سو سال تک دنیا کی مشہور درسگاہوں میں پڑھائی گئی۔اس کتاب کا ایک باب مالیخولیا (ڈیپریشنDepression) پر بھی ہے۔
بغداد میں ۷۰۵؁ء میں اور مصر میں ۸۰۰؁ء میں ذہنی امراض کے مریضوں کے لیے جو ہسپتال بنائے گئے وہ بیمارستان کہلائے جاتے تھے۔ وہاں ذہنی مریضوں کا علاج بڑی عزت اور احترام سے کیا جاتا تھا اور موسیقی کی مدد سے ان کے ذہن کو سکون پہنچانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اس دور میں مغرب میں ذہنی مریضوں کو ان کی رہائش سے دور جن جگہوں میں رکھا جاتا تھا وہ فولز ٹاورFool’s Tower ‘ پاگل خانےMad Houses یا لیونٹک اسالمLunatic Asylum کہلاتے تھے۔ ۱۷۹۷؁ء میں ذہنی مریضوں کو زنجیروں سے آزاد کروانے میں برطانوی ماہرِ نفسیات ولیم ٹیوک William Tukeاور فرانسیسی ڈاکٹر فلپ پینیلPhillipe Pinel نے اہم کردار ادا کیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سائنس اور دوسرے شعبوں میں اتنی ترقی کے باوجود آج مشرق جہالت کے مہیب اندھیروں میں کیوں ہے؟ یقینا اس کی تفصیل کے لیے ایک اور کتاب لکھنی ہوگی۔
دلچسپ تاریخی سفر کی تفصیل کے علاوہ ڈاکٹر خالد سہیل نے بیسویں صدی کے دس اہم مکاتبِ فکر کا مختصر مگر اہم جائزہ لیا ہے۔ یہ وہ محسنِ انسانیت ہیں کہ جنہوں نے اپنی مسلسل محنت اور تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ تھیوریاں اور مفروضات وضع کیے کہ جو آج بھی انفرادی‘ خاندانی اور سماجی سطح پر نفسیاتی علاج میں مستعمل ہیں۔ ان کے مطابق انسان ایک اکائی ضرور ہے مگر وہ کسی خاندان اور معاشرہ کا حصہ بھی تو ہے۔ لہذاٰ نفسیاتی علاج اور سائیکو تھیریپی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ مریض کی حالت کو اس کی زندگی کے مختلف عوامل کے تناظر میں سمجھا اور پرکھا جائے۔ہمارے ان محسنوں میں جن کے فکری نظریات نے نفسیاتی علاج کے طریقہِ کار کو نئی جہت دی ان میں سگمنڈ فرائڈ‘ کارل ینگ‘ الفریڈ ایڈلر‘ مرے بوون‘ ایلبرٹ ایلس‘ ایرک فرام‘ ایرک ایرکسن‘ کارل روجرز اور ابراہم میسلو جیسے اہم تحقیق دان شامل ہیں۔ تاہم ذاتی طور پر میں نے ان ناموں میں جین پیاجےJean Piaget‘ جون بولبی John Bowlbyاور مارگریٹ مہلر Margaret Mahlerکے علاوہ بھی کچھ ناموں کی کمی کو محسوس کیا جن کا کام بالخصوص انسانوں کے بچپن کے تجربات اور نفسیات کے حوالے سے بہت اہم ہے۔
ہر دور اپنے ساتھ نئے امکانات لے کر آتا ہے۔ یہ خو ش کن بات ہے کہ ڈاکٹر خالد سہیل نے کہ جو فطرتاٌ تخلیق کار ہیں‘ اپنے کرئیٹیو سائیکو تھیریپی کلینکCreative Psychotherapy Clinic میں گرین زون تھیریپیGreen Zone Therapy کے نام سے جس طریقہِ علاج کو کئی سال قبل متعارف کروایا تھا اس کی جڑیں اب پھل پھول رہی ہیں۔ان کا نظریہ ٹریگک سگنلزTraffic Signals سے مستعار ہے۔گرین زونGreen Zone مزاج کا وہ رنگ ہے کہ جس میں سکون و آشتی ہے۔ جب کہ اس کے برعکس ریڈ زونRed Zone منفی موڈ مثلاٌ غصہ‘ یاسیت یا بے چینی جیسی کیفیات کی نمائندگی کرتا ہے۔ ییلو زونYellow Zone ان دونوں انتہائی مزاجوں کی درمیانی کیفیت ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل اپنی تھیریپی کے ذریعے مریض کو ڈائری اور خطوط کی مدد سے زندگی کے منفی اثرات اور عوامل سے آگہی‘ سمجھنا اور نبٹنا سکھاتے ہیں۔ اس طرح بتدریج خود اپنے مزاج کو سمجھنے اور زیادہ تر گرین زون میں رہنے کے گر کو جان کر مریض خود اپنے معالج (تھیریپسٹ) بن سکتے ہیں اور اپنی مدد آپ کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر خالد سہیل کے مطابق تھیریپی کا عمل اندرونی نفسیاتی زخم اور گہرے جذباتی راز کی پرتیں کھولنے کے مترادف ہے جو دکھوں کا بیان اور ان کے زخموں کو مندمل کرنے کے عمل میں معاونت کرتا ہے۔ اعتماد کی بحالی‘ عزتِ نفس اور شخصیت کی بالیدگی‘ ہمیں شفا اور کامیابی کی شاہراہ پر لے جاتی ہے۔
میں ڈاکٹر خالد سہیل کو ان کی اس کتاب کی اشاعت پہ دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ جو مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب نہ صرف مریضوں بلکہ ان کے اہلِ خانہ کے لیے ایسی کنجی ثابت ہوگی کہ جس کا باب خوشیوں کے باغ میں کھلے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں