آخری سبق


AlphonseDaudet (1)فرانسیسی ادیب الفونس دودے (Alphonse Daudet) جس کا زمانۂ حیات 1897-1840 ہے، شہر نیم (Nîmes)  میں ایک متمول خاندان میں پیدا ہوا۔ لیکن اس کی پیدائش کے چند سال بعد ہی اس کے باپ کا کاروبار نقصان کی وجہ سے بند ہوگیا، اس لیے دودے کے بچپن اور اوائلِ جوانی کا زمانہ انتہائی عسرت میں گزرا، حتّیٰ کہ وہ اسکول کی تعلیم بھی مکمل نہ کر پایا۔ لیکن اس نے کم عمری ہی سے فکشن لکھنا شروع کردیا تھا۔ اس کی زندگی آزاد منش اور بے حد غیر روایتی تھی۔ لا ابالی طورِ زندگی اور غربت کی وجہ سے اس کی صحت ہمیشہ کمزور رہی اور وہ صرف 57 سال کی عمر میں پیرس میں فوت ہو گیا۔ اتنی مختصر عمر کے باوجود اس کی تخلیقات بہت ہیں، جن میں نو ناول، کہانیوں کے گیارہ مجموعے اور دس ڈرامے شامل ہیں۔ اس کے بہت سارے کردار اس کی اپنی اور اپنے شناساؤں کی زندگی پر مبنی ہیں۔ اس کو ادب میں فطرت پسند (Naturalist)  تحریک کا نمائندہ گنا جاتا ہے، مگر تخئیلی عناصر، نفسیاتی کشمکش، اور انسانی دکھ درد پر زور دینے کی وجہ سے اس کی تخلیقات عام فطرت پسندوں سے مختلف ہوتی ہیں۔

زیرِ مطالعہ کہانی کا اصلی عنوان ہے: La dernière classe  اور یہ کہانیوں کے مجموعے سوموار  کی کہانیاں (Contes du lundi) میں سے لی گئی ہے،  جو پہلی دفعہ 1873 میں شائع ہوا تھا۔ الزاس (Alsace) کا علاقہ آج کل فرانس کا حصہ ہے لیکن یہ ماضی میں فرانس اور جرمنی کے مابین متنازعہ علاقہ رہا ہے، اور ان میں سے ایک سے دوسرے کے قبضے میں آتا جاتا رہا ہے۔ کہانی کے واقعات اس زمانے کے ہیں جب الزاس پر تازہ تازہ جرمنی کا قبضہ ہوا تھا۔ کہانی کا موضوع کسی قوم کی شکست سے منتج انفرادی اور قومی المیے ہیں جن میں تہذیبی ورثے کی تباہی بھی شامل ہے، مگر اس پیچیدہ موضوع کو مصنف نے ایک بچے کے مشاہدات اور احساسات کے ذریعے بہت سادہ بنا کر پیش کیا ہے۔

                          ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   ۔۔۔۔۔

اس دن مجھے اسکول جانے میں بڑی دیر ہوگئی تھی۔ وہاں جو ڈانٹ ڈپٹ ہونے والی تھی اس کے ڈر سے میرا برا حال تھا،  بالخصوص اس لیے کہ ماسٹر ہامیل صاحب کہہ چکے تھے کہ وہ مضارع کے صیغے پر ہمارا امتحان لیں گے۔ اس صیغے کا مجھے ایک لفظ بھی نہیں یاد تھا۔ ایک لمحے کے لیے میرے ذہن میں یہ آیا کہ میں اسکول ناغہ کرکے باہر کھیتوں کا چکّر لگاؤں۔ دھوپ سے روشن، گرم دن نکلا ہوا تھا! پیڑوں کے جھنڈ کے پرے سے چڑیوں کے چہچہانے کی آواز آرہی تھی۔ آرے کی مِل کے پیچھے کے کھلے میدان میں پروشیائی سپاہی مشقی مارچ میں مصروف تھے۔ مضارع کی مصیبتوں کے مقابلے میں یہ نظارے کہیں زیادہ دلچسپ تھے۔ لیکن بڑی مشکل سے اپنے جی کو قابو میں لا کر میں تیزی سے اسکول کی طرف دوڑنے لگا۔

Screen shot 2014.22 AMبلدیہ کی عمارت کے پاس سے گزرتے ہوے مجھے وہاں کے نوٹس بورڈ کے ارد گرد بڑا سا مجمع نظر آیا۔ پچھلے دو برسوں سے ساری بری خبریں ہمیں اسی بورڈ پر نظر آتی تھیں۔ ہاری ہوئی جنگیں۔ جبری بھرتی کے اعلانات۔ نئے حاکموں کے حکم نامے۔ وہاں رکے بغیر میں نے دل ہی دل میں سوچا: ’’اب بچا ہی کیا ہے ہونے کے لیے؟‘‘

مجھے قریب سے سرپٹ بھاگتا دیکھ کر واختر لوہار نے، جو اپنے زیرِ تربیت ملازم کے ساتھ وہیں کھڑا اعلان پڑھنے میں مصروف تھا، پکار کر مجھ سے کہا، ’’ارے ننھے، تجھے اتنا تیز تیز دوڑنے کی کیا پڑی ہے۔ تُو تو ویسے ہی خاصا سویرے اسکول پہنچ جائے گا۔‘‘ مجھے ایسا لگا کہ وہ میرا مذاق اڑا رہا ہے، اس لیے میں نے دوڑنا جاری رکھا۔ جب میں ہامیل صاحب کے چھوٹے سے بغیچے تک پہنچا تو میرا سانس پھولا ہوا تھا۔

عام دنوں میں اسکول شروع ہوتے وقت خاصا شور غل ہوا کرتا تھا جو سڑک سے ہی سنائی دینے لگتا تھا: ڈیسکوں کا کھُل بند، بچوں کا آواز ملا کر چیخ چیخ کر آموختہ دہرانا جِس کے دوران اپنا کہا سمجھنے کے لیے وہ اپنے کانوں پر ہاتھ دھر لیتے تھے، ماسٹر صاحب کے بھاری بھرکم رُولر کی میزوں پر ٹھَک ٹھَک۔

میں ہنگامے کا فائدہ اٹھا کر کلاس کے سامنے تماشا بنے بغیر اپنی بنچ تک پہنچنا چاہتا تھا۔ مگر اس دن ایسا سکون تھا جیسے وہ اتوار کا دن ہو۔ کھلی ہوئی کھڑکی سے مجھے نظر آیا کہ میرے سارے ہم جماعت اپنی اپنی نشستوں پر موجود تھے اور ہامیل صاحب اپنا لوہے کا خوفناک رُولر ہاتھ میں اٹھائے ہوے کلاس کے کمرے میں آگے پیچھے چکّر لگا رہے تھے۔ مجھے دروازہ کھول کر اس غیر معمولی خاموشی میں سب کے سامنے سے گزرنا تھا۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میں شرم سے کتنا لال ہو چکا تھا اور ڈر کے مارے میرا کتنا برا حال تھا!

مگر میری پریشانی بے وجہ ثابت ہوئی۔ ہامیل صاحب نے کسی ناراضی کا اظہار کیے بغیر میری طرف دیکھا، اور پھر بڑے نرم لہجے میں بولے، ’’فرانز بیٹے، جلدی سے اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ۔ ہم تو تمھارے بغیر ہی کلاس شروع کرنے والے تھے۔‘‘

بنچ پھلانگ کر میں کھٹ سے اپنی ڈیسک پر جا بیٹھا۔ میرا ڈر جب ذرا ہلکا ہوا تب جا کر مجھے اس کا احساس ہوا کہ ہمارے ماسٹر صاحب اپنے خوبصورت سبز کوٹ، پِلیٹوں بھری قمیص، اور سیاہ کامدانی والی ریشمی ٹوپی زیب تن کر کے آئے تھے۔ ایسا لباس وہ صرف معائنے کے دن اور انعام تقسیم ہونے والے دن پہنتے تھے۔ ساری کلاس پر ایک عجیب بوجھل فضا طاری تھی۔ پھر اور بھی حیرت کی بات یہ تھی کہ کمرے کی پچھلی بنچوں پر، جو ہمیشہ خالی رہتی تھیں، گاؤں کے لوگ بالکل خاموشی کے ساتھ بیٹھے ہوے تھے۔ ان میں بڈھا ہاؤزر اپنی تکونی ٹوپی پہنے، سابق صدرِ بلدیہ، پنشن یافتہ بوڑھا ڈاکیہ، اور کئی اور لوگ شامل تھے۔ یہ سب بڑے اداس نظر آرہے تھے۔ ہاؤزر اپنے ساتھ ایک مُڑے تُڑے ورقوں والا پرانا سا قاعدہ لے کر آیا تھاجو اس کے گھٹنوں پر پھیلا ہوا تھا اور جس کے کھلے صفحے پر اس کی بڑے شیشوں والی عینک رکھی ہوئی تھی۔

imagesاپنے ارد گرد کی چیزوں پر میری حیرت باقی ہی تھی کہ ہامیل صاحب اپنی کرسی پر کھڑے ہو گئے اور اسی سنجیدہ اور باوقار لہجے میں جس کے ساتھ ذرا پہلے وہ مجھ سے مخاطب ہوے تھے، بولے، ’’میرے بچّو، میں آج جس کلاس میں تمھارے ساتھ ہوں، یہ میری آخری کلاس ہے۔ برلن سے حکم آیا ہے کہ اب الزاس اور لورین کے اسکولوں میں صرف جرمن پڑھائی جائے گی۔ تمھارے نئے استاد کل یہاں آئیں گے۔ تمھارے لیے یہ فرانسیسی کا آخری سبق ہے۔ میں تم سے اب پوری توجہ چاہتا  ہوں۔‘‘

ان چند الفاظ سے مجھے دنیا درہم برہم ہوتی محسوس ہوئی۔ تو گویا بلدیہ کے نوٹس بورڈ پر نئے اعلان کی صورت میں یہی بدبختی ٹنگی ہوئی تھی!

میرا فرانسیسی کا آخری سبق! مجھے تو ابھی ٹھیک سے لکھنا بھی نہیں آیا تھا، اور میری تعلیم اب یہیں پر رک رہی تھی! اس وقت مجھے بےحد افسوس کے ساتھ احساس ہو رہا تھا کہ میں اب تک کس طرح وقت ضائع کرتا رہا تھا۔ کلاس چھوڑ کر چڑیوں کے انڈوں کی کھوج، دریاے سار کے کنارے پھسلنے کا کھیل۔ وہی کتابیں جن سے میں اب تک بیزار رہتا تھااور جن کا بوجھ اٹھانا مجھے ناگوار گزرتا تھا، وہی گرامر، وہی ولیوں کے قصّے، یہی سب کچھ اس وقت مجھے اتنے پیارے، پرانے دوست لگ رہے تھے، جن سے بچھڑنا اب دوبھر تھا۔ یہی بات ہامیل صاحب کے بارے میں بھی کہہ سکتے تھے! یہ خیال، کہ وہ ہمیں چھوڑ جائیں گےاور ہم ان کو پھر کبھی نہ دیکھ پائیں گے، ایسا تھا کہ میں ان کی ساری بدمزاجی اور ان کے رُولر سے مار کھانے کی سب سزائیں بھولنے کو تیار تھا۔

لو، تو اسی آخری کلاس کی خاطر وہ اپنا سب سے اچھا، تہوار کے دن کا لباس پہن کر آئے تھے۔ اب جاکر میری سمجھ میں آیا کہ گاؤں کے اتنے سارے بوڑھے لوگ کلاس میں پچھلی نشستوں پر بیٹھنے کے لیے کیوں آئے تھے۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ بھی پچھتارہے تھے کہ جب ان کے پاس موقع تھا اس وقت انھوں نے پابندی سے اسکول میں حاضری کیوں نہ دی۔ جس استاد نے اپنے چالیس سال ان سب کی بے لوث خدمت میں تج دیے تھے، یہ لوگ اب اپنے اپنے طریقے سے اس استاد کی قدر دانی کا فریضہ ادا کر رہے تھے ۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اس وطن سے اپنی وابستگی ظاہر کر رہے تھے جو اب ان سے چھن گیا تھا۔

International Comparisons

ابھی میں انھی سوچوں میں تھا کہ میرا نام پکارا گیا۔ گردان سنانے کے لیے میری باری آگئی تھی۔ اس جانی پہچانی گردان کو بلند آواز میں کسی غلطی کے بغیر دہرانے کے لیے میں کیا کچھ نہ قربان کرنے کو تیار تھا! مگر میں پہلے ہی لفظ پر اٹک گیا، اور پھر سر جھکائے بنچ کا سہارا لیے چپ چاپ کھڑا رہا۔ شرم اور خوف سے میرا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔ مجھے سر اٹھا کر سامنے دیکھنے کی ہمّت نہیں ہورہی تھی۔ پھر مجھے ہامیل صاحب کی آواز سنائی دی:

’’فرانز بیٹے، میں اس وقت تمھیں جھڑکوں گا نہیں۔ تمھاری اپنی شرمندگی سزا کے لیے کافی ہے۔ دیکھ لو ہم پر کیا بیتی ہے۔ ہم روزانہ اپنے آپ سے کہتے ہیں: ’ابھی بہت وقت ہے۔ میں کل کتاب پڑھ لوں گا۔‘ اب ہمیں پتا چل رہا ہے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ ہمارے الزاس کی بدقسمتی یہی ہے کہ ہم اپنا ہر کام کل پر ٹالتے رہتے ہیں۔ اب وہ دوسرے لوگ ہم سے ٹھیک ہی تو کہتے ہیں: ’تم سب لوگوں کو اپنے فرانسیسی ہونے کا کیسا عجیب گھمنڈ ہے۔ تم اپنی زبان نہ پڑھ سکتے ہو، نہ لکھ سکتے ہو!‘ اب ہم پر جو گزر رہی ہے اس میں صرف اس بچّے فرانز ہی کا قصور نہیں ہے۔ اپنی تباہی کے ذمّےدار بڑی حد تک ہم خود ہیں۔ تمھارے والدین نے جتنی ضرورت تھی تمھاری تعلیم پر اتنا زور نہیں دیا۔ وہ تو تم سے کھیتوں پر اور مِلوں میں کام لینے کو ترجیح دیتے تھے، تاکہ وہ تھوڑے سے اور پیسے کما سکیں۔ کیا میں خود ملامت سے بری ہوں؟ میں نے خود بھی تم بچّوں کا اسکول کا کام روک کر تم سے اپنے بغیچے میں پانی ڈلوایا ہے۔اور جب بھی مچھلی کے شکار کے لیے میرا جی چاہا ہے تو میں نے کلاس کو جلدی چھٹّی دے دی ہے۔‘‘

موضوع بدلتے بدلتے ہامیل صاحب آخرکار فرانسیسی زبان کے بارے میں بات کرنے لگے۔ انھوں نے کہا کہ یہ دنیا کی سب سے خوبصورت زبان ہے۔ یہ بیان کے لحاظ سے سب سے زیادہ واضح اور قاعدوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ معقول زبان ہے۔ اس کی حفاظت کرنا اور اس کو کبھی نہ کھونا ہمارا فرض ہے۔ کیونکہ اگر کسی قوم کو غلام بننا پڑے مگر وہ اپنی زبان کو نہ بھولے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی قیدی کی جیب میں قید خانے کے دروازے کی چابی رکھی ہو۔T

پھر انھوں نے گرامر کی کتاب کھول کر اس میں سے سبق پڑھانا شروع کیا۔ اس وقت جس طرح ہر بات میری سمجھ میں آرہی تھی، اس پر میں خود ششدر تھا۔ ان کی ایک ایک بات آسانی سے میرے ذہن نشیں ہو رہی تھی۔ اپنے خیال میں اس سے پہلے میں نے کبھی اتنی توجہ سے سبق نہیں سنا تھا۔ اور شاید انھوں نے بھی کبھی اس طرح آہستہ آہستہ قاعدے نہیں سمجھائے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ بیچارے ہم سے بچھڑنے سے پہلے اپنا پورا علم ہم تک پہنچانا چاہ رہے تھے، اور کوشش کر رہے تھے کہ اس آخری موقعے پر سارے قواعد ہمارے ذہنوں میں بیٹھ جائیں۔

class-taught-in-frntreal-arاس سبق کے بعد کتابت کی باری آئی۔ اس دن کے لیے ہامیل صاحب نے بالکل نئی مشقیں تیار کی تھیں، جن پر بہت ہی خوشخط گول گول حروف میں لکھا ہوا تھا: ’’فرانس، الزاس، فرانس، الزاس۔‘‘ ایسا لگ رہا تھا کہ ہماری ڈیسکوں کے اوپر گڑے ہوے کھونٹوں سے بندھے ہوے ننھے ننھے جھنڈے اُڑ رہے تھے۔ کلاس کے سارے بچّے جس انہماک سے کام کر رہے تھے وہ سماں دیکھنے کے لائق تھا۔ کیسی خاموشی تھی! کاغذ پر قلم گِھسنے کی آواز کے علاوہ کوئی اور آواز نہیں سنی جا سکتی تھی۔ اسی درمیان میں کچھ پتنگے اُڑتے ہوے کلاس میں گھس آئے، مگر کسی نے ان کی طرف توجہ نہیں دی۔ بلکہ بالکل ہی ننھے بچّوں تک کی توجہ نہ بٹی جو پوری یکسوئی سے اپنے اپنے لکڑی کے ٹکڑوں کے ارد گرد پنسل گھما کر ان کا چربہ اتارنے کا کام کر رہے تھے، جیسے کہ یہ بھی فرانسیسی کی تحریر ہو! اسکول کی چھت پر کبوتر بھاری آواز میں غٹرغوں کر رہے تھے۔ میں نے اپنے دل ہی دل میں کہا، ’’تو کیا اب ان کبوتروں کو بھی جرمن زبان ہی میں غٹرغوں کرنے کا حکم ہوگا؟‘‘

وقتاً فوقتاً جب میں نے کاغذ سے نظریں اٹھائیں تو دیکھا کہ ہامیل صاحب اپنی کرسی پر ایک طرح سے بیٹھے ہوے کبھی ایک چیز کو اور کبھی دوسری چیز کو آنکھ بھر کر یوں دیکھ رہے تھے، جیسے وہ اسکول کی اس چھوٹی سی عمارت کی ہر چیز اپنی یادداشت میں محفوظ کر لینا چاہ رہے ہوں۔ ذرا غور کیجیے: چالیس سال سے وہ اسی ایک جگہ رہتے تھے۔ کھڑکی کے باہر ان کا صحن نظر آتا تھا اور ان کے سامنے ان کے شاگرد بیٹھے رہتے تھے۔ ان کے چاروں طرف بالکل ایک ہی سماں رہتا تھا۔ ہاں اس عرصے میں کثرتِ استعمال سے گھس کر بنچیں اور ڈیسکیں ذرا چکنی ہو گئی تھیں۔ صحن کے اخروٹ کے درخت پہلے سے بڑے ہو گئے تھے اور جو بیل انھوں نے خود لگائی تھی وہ پھیل کر کھڑکیوں کا احاطہ کرتی ہوئی چھت تک پہنچ گئی تھی۔ بھلا ان کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی ان سب چیزوں کو چھوڑتے ہوے! اوپر کے کمرے سے اپنی بہن کی سامان باندھنے کی آوازیں سنتے ہوے! اگلے دن ان کو یہ ملک ہمیشہ کے لیے چھوڑنا تھا۔

public school-19th century classroomبہر صورت، انھوں نے کلاس کے وقت کے آخری لمحے تک ہمیں پڑھایا۔ لکھائی کی مشق کے بعد تاریخ کا سبق ہوا۔ اس کے بعد ننھے بچوں نے مل کر ’’با۔ بے۔ بی۔ بو۔ بُو‘‘ گایا۔ کلاس کے پیچھے بیٹھے ہوے ہاؤزر نے عینک لگا کر اور اپنے قاعدے میں دیکھ دیکھ کر سارے حروف بچوں کے ساتھ دہرائے۔ فرطِ جذبات سے اس کی آواز میں ارتعاش تھا۔ اس کے پوری محنت سے کام کرنے میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ہاں، اس کا پڑھنے کا انداز مضحکہ خیز حد تک عجیب تھا۔ لیکن اسے دیکھ کر جہاں ہم سب کو ہنسی آرہی تھی وہیں ہمارا رونے کو بھی دل چاہ رہا تھا۔ آہ، یہ آخری سبق مجھے ساری زندگی نہیں بھولے گا!

اچانک کلیسا کی گھڑی سے بارہ بجنے کی آواز آئی۔ پھر دوپہر کی عبادت کے لیے گھنٹیوں کا نغمہ بجا۔ اسی وقت فوجی پریڈ سے واپس آنے والے پروشیائی سپاہیوں کے نقاروں کی آواز ٹھیک ہماری کھڑکیوں کے نیچے سے گونجتی سنائی دی۔ ہامیل صاحب کرسی سے اٹھ کھڑے ہوے۔ ان کا قد مجھے پہلے کبھی اتنا اونچا نہیں نظر آیا تھا۔ ان کے چہرے کا رنگ اس وقت بالکل زرد ہو رہا تھا۔

انھوں نے کہنا شروع کیا: ’’میرے دوستو! … میں … میں …‘‘ لیکن وہ اور کچھ نہیں کہہ پائے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ان کا حلق گھُٹ رہا ہے اس لیے وہ اپنا جملہ مکمل نہیں کر سکتے ۔ کچھ بولنے کی بجاے آخر وہ تیزی سے بورڈ کی طرف مڑے اور ایک چاک اٹھا کر اپنی پوری طاقت سے چاک کو بورڈ پر گھس کر اور جتنے بڑے حروف ان سے بن سکتے تھے ایسے حروف بنا کر انھوں نے لکھا:

’’فرانس زندہ باد!‘‘

پھر وہ دیوار پر سر ٹکا کر وہیں کھڑے رہے، اور انھوں نے منھ سے کچھ کہے بغیر ہمیں صرف ہاتھ سے اشارہ کیا جس کا مطلب تھا:

’’سب کچھ ختم ہو گیا! اب گھر جاؤ۔‘‘

(فرانسیسی سے ترجمہ: کمال ابدالی

بشکریہ: اجمل کمال، مرتب رسالہ آج، کراچی)

  مکرر شکریہ: تصنیف حیدر، نئی دہلی  

 


Comments

FB Login Required - comments