ایک چیتا اور دو چالاک لومڑ


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دنیا کے حالات بہت ہی خراب ہوگئے، دنیا کی واحد سپر پاور میں ٹرمپ نامی بندر صدر منتخب ہوگیا۔ جانوروں کی تاریخ میں یہ دور سب سے خونی تھا، مشرق وسطیٰ کے ممالک میں جگہ جگہ خانہ جنگی اور خونریزی جاری تھی، اسی زمانے میں دریائے سندھ کے آس پاس کے علاقے میں انصاف پسند چیتا حکمران ہوا کرتا تھا۔ انصاف پسند چیتا عوام میں بہت مقبول تھا، اس نے فائٹنگ کے عالمی مقابلے میں ورلڈ کپ جیتا تھا، اسی طرح خدمت کے کئی منصوبے بھی شروع کئے تھے۔ چیتے سے پہلے اس علاقے میں ایک شیر حکمران ہوا کرتا تھا۔ شیر جنگل کی سیاسی سازشوں کا شکار ہو کر ان دنوں اڈیالہ میں سستا رہا تھا۔ اس کی بیٹی چیتے کی بادشاہی کو قبول نہیں کرتی تھی مگر شیر اور اس کی بیٹی خاموش بیٹھے تھے کہ کہیں شکاری گھات لگا کر انہیں سارے کھیل سے آئوٹ ہی نہ کردیں۔

انصاف پسند چیتے کو سب سے زیادہ مشکل پانچ دریائوں والے صوبے میں پیش آ رہی تھی۔ شیر نے یہاں بہت سے قلعے تعمیر کررکھے تھے، بڑے بڑے جنگلوں کے کئی قبیلے اب بھی دلی طور پر اس کے ساتھ تھے۔ چیتے کو خدشہ تھا کہ اس صوبے میں تبدیلی نہ آئی تو پھر سارا نظام ہی الٹ پلٹ ہوجائے گا، چیتے نے دو تجربہ کار لومڑ تلاش کئے ایک کو صوبے کی سربراہی اور دوسرے کو ایوان کی سربراہی پر سرفراز کیا۔ دونوں لومڑ سیاست کے فن میں طاق تھے، شیر کی سیاست کو انہوں نے آتے ہی تار تار کردیا۔ شیر کا چھوٹا بھائی مزاحمت کرتا رہا مگر پہلے ہی مرحلے میں شیر کے 15 ساتھی چیتا لومڑ اتحاد میں شامل ہوگئے۔ دو لومڑ وں کو پانچ دریائوں کی سرزمین بھیج کر چیتا بےفکر ہو گیا تھا، اسی لئے اس نے صوبے کو چلانے کے لئے بزداری بکرا تلاش کر لیا۔

سوچ یہی تھی کہ دو لومڑوں کی موجودگی میں تیسرا لومڑ لانا مناسب نہیں ہوگا بہتر ہوگا کہ ایک بزداری بکرا معاملات کو چیتے کی مرضی سے چلائے۔ لومڑ چالاکیاں کریں مگر بکرا خاموشی سے چیتے کے سیاسی ایجنڈے کو لے کر چلے۔ بکرا مڈل کلاسیا ہو کیونکہ اشرافیہ کلاس کے بکرے اکثر بےوفا نکلتے ہیں۔ مڈل کلاسیے بکرے ممنون، جھگڑے اور رجوانے ہوں تو وفادار نکلتے ہیں جبکہ اشرافیہ کے بکرے شوکت عزیز اور معین قریشی کی طرح اقتدار کی باری لے کر ایسے غائب ہوتے ہیں کہ انہیں دوبارہ ڈھونڈنا ہی مشکل ہوجاتا ہے۔ بزدار کا لغوی مطلب بھی بھیڑ بکریاں رکھنے والا ہے اور کسی بڑے نااہل لومڑ نے انہیں قربانی کا بکرا بنا کر یہاں بھیجا ہے کہ کل کو خود اس کی جگہ لے سکے مگر اسے علم نہیں کہ بزدار صرف بھیڑ بکریوں کو ہی نہیں جانتے اقتدار کی سازشوں کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں، بزداروں کو انگریز اور سکھ دونوں زیر نہ کرسکے وہ ہر لڑائی کے بعد پہاڑوں پر چڑھ جاتے جہاں انگریزوں اور سکھوں کے لئے ان کا پیچھا کرنا مشکل ہوجاتا۔

جانوروں کی دنیا اور بادشاہت کو جاننے کے لئے ضروری ہے کہ شیر چیتے، لومڑ اور بکروں کے طرز زندگی بارے تفصیلات جانیں۔ شیر جنگل میں جانوروں سے راہ ورسم اور سماجی رابطہ رکھتا ہے جبکہ چیتا تن تنہا رہتا ا ور شکار کرتا ہے۔ جانوروں کی عادات کا مشاہدہ کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ شیر بعض اوقات 30 تک کی ٹولی میں رہتے ہیں جبکہ چیتے گروپ یا خاندان میں نہیں رہتے۔ سائنسدان سمجھتے ہیں کہ ہندوستان وہ واحد ملک رہا ہے جہاں شیر اور چیتے اکٹھے رہتے رہے، وگرنہ جہاں شیر حکمران ہو وہاں چیتے نہیں بستے ۔انہی ماہرین کا خیال ہےکہ چیتا ہندوستان میں پہلے سے موجود تھا جبکہ شیر ایران سے بلوچستان کے راستے ہندوستان داخل ہوا اور پھر یہاں مستقل ٹھکانے بنالئے۔ گو جنگل کا بادشاہ شیر ہی ہوتا ہے لیکن شیر اور چیتے کے مقابلے میں چیتا اپنے کم وزن اور پھرتی کی وجہ سے وزنی اور سست شیر کو ہرا دیتا ہے۔ شیر گائے بھینس، ہرن اور بڑے بڑے جانور شکار کرتا ہے لیکن بھیڑ بکریاں بھی نہیں چھوڑتا۔ چیتا بھی انہی جانوروں کا شکاری ہے۔ مختلف ملکوں کی روایات میں لومڑ اور لومڑی کو چالاک، سازشی اور دغا باز سمجھا جاتا ہے۔ لومڑ، چیتے اور شیر کے دوست بن کر اسے اپنی وفاداری کا یقین دلاتے ہیں لیکن شیر اور چیتے جنگل کے بادشاہ ہیں۔ بوڑھے بھی ہوجائیں تو لومڑ کی بے وفائی پر اسے سزا ضرور دیتے ہیں، باقی رہی بکروں کی بات تو شیر اور چیتے بکروں پر ذمہ داریاں ضرور ڈالتے ہیں، مکمل انحصار نہیں کرتے کیونکہ اگر ایک بکرا قربان ہوگیا تو کیا؟ کئی اور بکرے تیار بیٹھے رہتے ہیں۔

حکمران چیتے ا ور گرفتار شیر کی کہانی کا انجام کیا ہوگا ؟ اس کا اندازہ اگلے چند ہفتوں میں ہوجائے گا کیا چیتا یہ چاہے گا کہ احتساب کی بیڑیاں اور سخت کی جائیں یا پھر شیر کو دیس نکالا دے کر سکون سے حکومت کی جائے۔ دوسری طرف اسیر شیر اور اس کی سیاسی سوچ رکھنے والی بیٹی چاہے گی کہ وہ قید میں زیادہ سے زیادہ دن رہ کر ہمدردی حاصل کریں۔ دریائے سندھ کے آس پاس جنگل کے ووٹر اور شکاری سب یہ سوچیں گے کہ شاہی خاندان کے شیر اندر رہے تو کل کو جنگل کے باقی جانور اٹھ نہ کھڑے ہوں۔

انصاف پسند چیتے نے پانچ دریائوں کی سرزمین میں دو لومڑوں اور بزداری بکرے پر مشتمل جو ٹیم بنائی ہے، اس میں موجود لومڑ منہ کھولے بکرے کو کھانے کی کوشش کریں گے۔ بکرے کے مقابلے میں لومڑ چالاک اور ہشیار ہیں، بکرے کو چیتے کی حمایت تو حاصل ہوگی مگر کب تک؟ بکرا کب تک خیر منائے گا بالآخر چالاک لومڑوں کی سازشوں کا شکار ہوجائے گا۔ لومڑ خود اقتدار میں آنا چاہتے ہیں وہ نہیں چاہیں گے کہ مظلوم جانوروں کا نمائندہ بکرا کامیاب ہوجائے ۔

دنیا بھر کے جانوروں کی اس دنیا میں چیتے کی حکومت پر پیشن گوئیاں جاری ہیں، توقع ہے کہ ایک نیا ملک وجود میں آئے گا جس میں شیر اور بھیڑ ایک ہی گھاٹ سے پانی پئیں گے، کوئی بھیڑیا میمنے کو یہ نہیں کہے گا کہ آپ نے اوپر سے پانی کیوں پیا ہے؟ دیکھنا یہ ہوگا کہ چیتا، اپنے جارحانہ رویے، غصے اور انتقام کے جذبے کو کتنا کنٹرول میں رکھتا ہے اگر تو اس نے شیر اور باقی جانوروں کے ساتھ حسن سلوک رکھا تو واقعی ایک نیا ملک بن جائے گا وگرنہ جانوروں کی لڑائی اور تباہی تو ہر جنگل کا مقدر ہوتا ہی ہے اس بار شاید جنگل میں منگل ہوجائے اور ایک نئی روایت شروع ہوجائے۔

بلاول چھوٹا میمنا ہے ناتجربہ کار ہے مگر اس نے کھانگڑ اور تجربہ کاروں کو بھگو بھگو کر صلواتیں سنائیں، لومڑوں اور چیتوں سب کو بےنقاب کرکے رکھ دیا شیر کی بھی مذمت کی۔ جنگل کی ظالم دنیا میں میمنے کی کون سنتا ہے چاہے وہ کتنا ہی درست کیوں نہ کہہ رہا ہو……..

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سہیل وڑائچ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

suhail-warraich has 134 posts and counting.See all posts by suhail-warraich