صالح ظافر: بشریٰ بی بی کا ریشمی ہلکے بادامی رنگ کا عبایا، شرعی پردہ


اسلام آباد (محمد صالح ظافر ) ایوان صدر میں صدر مملکت ممنون حسین کی اہلیہ کی عدم موجودگی میں نئی خاتون اوّل بشریٰ بی بی کا خیرمقدم صدارتی محل کے عملے کی خواتین اور صدر مملکت کے اے ڈی سی نے کیا اور ان کو وزیراعظم کے حلف کی تقریب گاہ تک پہنچایا۔ بشریٰ بی بی تقریب شروع ہونے سے کم و بیش دس منٹ پہلے آڈیٹوریم میں پہنچیں جہاں تقریب منعقد ہوئی، مسلح افواج کے سربراہان سمیت تمام مہمان اس وقت تک اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے، بشریٰ بی بی کے احترام میں اگلی صفوں میں موجود مہمان کھڑے ہوگئے۔ برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کھڑے ہوتے ہی بشریٰ بی بی کو سلیوٹ کیا اور انہیں ہدیہ تبریک پیش کیا۔

بشریٰ بی بی جو ریشمی ہلکے بادامی رنگ کی عبایا پہنے تقریب کے لئے آئی تھیں انہوں نے اپنا منہ شرعی انداز میں چھپا رکھا تھا جس میں آنکھیں کھلی تھیں جنہیں ڈھانپنے کے لئے انہوں نے سر کے رُومال کو جو عبایا ہی کا حصہ تھا اس کی چھتری بنا رکھی تھی۔ جنرل باجوہ کی اہلیہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے بشریٰ بی بی سے مصافحہ کیا اور انہیں مبارکباد دی۔ خاتون اوّل کے برابر کرسی خالی رکھی گئی تھی۔ دونوں خواتین نے تہنیتی جملوں کا بیٹھے بیٹھے تبادلہ کیا جس کے بعد عقب سے آئی خواتین نے بشریٰ بی بی سے ہاتھ ملایا اور مبارکباد دی اسی دوران صدر مملکت اور نومنتخب وزیراعظم ہال میں داخل ہوگئے اور تالیوں کی گونج میں تقریب شروع کر دی گئی۔

حلف برداری کے بعد تقریب میں موجود خواتین سے بشریٰ بی بی نے کافی دیر تک بات چیت کی۔ صدر اور وزیراعظم کی آمد کے بعد مسلسل تالیاں بجائی جا رہی تھیں جبکہ منتظمین نے طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق قومی ترانہ بجا دیا اور تالیوں کا سلسلہ جاری تھا اس پر لاؤڈ اسپیکر سے اعلان کیا گیا کہ قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہو جائیں۔ قومی ترانے کے دوران بھی عمران خان نے دو ایک مرتبہ نگاہ مہمانوں پر ڈالی۔

صدر ممنون اور وزیراعظم عمران دونوں حلف برداری کے لئے کھڑے ہوگئے تو عمران خان نے اپنی شیروانی کی جیبیں ٹٹولی تاکہ چشمہ نکال سکیں لیکن وہ اندر کرتے کی بغلی جیب میں رکھا تھا اس پر انہوں نے اپنی سیاہ شیروانی کا پلّو اُٹھایا اور سیدھے ہاتھ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر چشمہ نکالا اور یوں حلف برداری شروع ہوئی۔ یوں تو حلف کی عبارت کی ہر سطر میں کسی نہ کسی لفظ پر عمران خان اَٹک رہے تھے لیکن خاتم النبین کی ترکیب ادا کرنے میں انہیں کافی مشکل پیش آئی اس پر صدر ممنون حسین نے ان لفظوں کو دُہرایا اسی طرح یوم قیامت کی ترکیب کو وہ یوم قیادت پڑھ گئے جس کی بھی دُہرا کر صدر ممنون نے اصلاح کی۔ تبدیل شدہ لفظ ادا کرتے ہوئے عمران خان تقریباً ہنس دیے۔

حلف برداری کے بعد صدر ممنون حسین اور عمران خان نے حلف نامے پر دستخط کیے صدر نے انہیں مبارکباد دی۔ خان حلف اُٹھاتے ہی سیدھے سامنے کی صف میں فروکش اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی کے پاس گئے جس کے بعد وہ مسلح افواج کے سربراہوں سے ملے جنہوں نے مصافحہ سے پہلے انہیں سلیوٹ کیا اور مبارک دی۔ تقریب کے ڈائس پر سبکدوش نگران وزیراعظم ناصر الملک بھی موجود تھے جبکہ تقریب میں پنجاب اور کے پی کے نگران وزرائے اعلیٰ، نگران وفاقی وزرا، آزاد کشمیر کے صدر مسعود خان، بلوچستان کے گورنر محمد خان اچکزئی، پنجاب، سندھ اور کے پی کے نامزد گورنرز نے بھی شرکت کی۔

اسلام آباد میں متعین سفیروں کی محدود تعداد بھی تقریب میں موجود تھی، امریکہ، متحدہ عرب امارات، فرانس، روس، افغانستان اور ترکی کے سفیروں کی عدم موجودگی کو محسوس کیا گیا۔ وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر وسیم چیمہ نگران وزیراعظم ناصرالملک کے ساتھ ایوان صدر آئے، حلف برداری کے بعد وہ نئے وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ایوان صدر سے رُخصت ہوئے اور پرائم منسٹر ہاؤس چلے گئے۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء باہم گھل مل گئے جن کے لئے بینکوئٹ ہال میں مفرحات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مہمانوں کی تواضع چائے، کافی، ٹھنڈے پانی کے علاوہ پانچ قسم کے بسکٹوں سے کی گئی تھی جو ایوان صدر میں تیار کردہ تھے۔

بینکوئٹ ہال میں صدر اور وزیراعظم نے مہمانوں سے ملاقات کی اور ان سے مبارکباد وصول کی۔ 1992ء کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی، بعض فلمی اداکار، بھارت سے آئے کرکٹ کے کھلاڑی نجوت سنگھ سدھو یہاں مہمانوں کی توجہ کا مرکز رہے۔ سدھو اپنی ٹھیٹھ پنجابی میں مہمانوں سے کھلی ڈلی گفتگو کرتے رہے جس سے پنجابی کی شدھ بدھ نہ رکھنے والے بھی لطف اندوز ہوتے رہے۔ قبل ازیں انہوں نے جنرل قمرجاوید باجوہ سے بھی اسی لہجے میں گفتگو کی اور ان سے پرجوش معانقہ کیا۔

وہ جنرل باجوہ کی پیش کش پر بہت شکرگزار تھے کہ بابا گورو نانک کے 550 ویں جنم دن پر کرتارپورہ کی سرحدی گزرگاہ کو کھول دیا جائے گا جہاں بعض روایات کے مطابق سکھ مت کے بانی بابا گورو نانک دفن ہیں۔ سدھو نے کہا کہ میں نے جنرل باجوہ سے کہا ہے کہ میرا ان سے ایک تعلق ہمارا جٹ ہونا ہے۔ سدھو نے مقبوضہ کشمیر اور وہاں ہونے والے مظالم کے بارے میں بھی سوال کیا گیا تو وہ اسے ٹال گئے۔ حلف برداری کی اس تقریب میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے کسی رکن اسمبلی یا رہنما نے شرکت نہیں۔

سینیٹ کے قائم مقام چیئرمین سلیم مانڈوی والا موجود تھے تاہم وہ بطور چیئرمین سینیٹ آئے تھے۔ سابق صدر اور سابق نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو جنہوں نے ایوان صدر میں تین مرتبہ اپنے منصب کا حلف اُٹھایا ہے ہفتے کے روز اس تقریب میں انہیں عقبی نشستوں پر جگہ دی گئی تھی۔ ایوان صدر کے عملے نے حلف برداری کی تقریب کے انتظام و انصرام میں مہارت اور ذمّہ داری کا ثبوت دیا جس کی تحریک انصاف کے رہنما بھی تعریف کرتے رہے۔

اسلام آباد سے ہی سکندر لودھی کے مطابق تقریب میں آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کی نشست کے ساتھ بھارتی کرکٹ اسٹار نوجوت سنگھ سدھو کو جگہ دی گئی۔ وہ دونوں پاک بھارت متنازعہ امور پر رسمی بات چیت بھی کرتے رہے۔ تقریب کے آغاز سے قبل نئے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کو تمام مہمانوں نے خوش آمدید کہا۔ اسی طرح پنجاب کے نامزد گورنر چوہدری سرور بھی سب کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔

وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری کے لئے آنے کے موقع پر پورا ہال کافی دیر تک تالیاں بجاتا رہا تاہم ماضی قریب کی روایات کے برعکس کوئی نعرے بازی نہیں ہوئی، البتہ پی ٹی آئی کے کارکنوں اور مہمانوں کو سخت سیکورٹی کے انتظام کے باعث وزیراعظم سے مصافحہ کرنے میں کافی دُشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعظم عمران خان سیکورٹی کے سخت حصار کے باعث اپنے بہت سے ذاتی دوستوں سے مصافحہ بھی نہ کرسکے۔ تاہم پوری تقریب میں وہ تر و تازہ اور مسکراتے ہوئے دکھائی دیے، قومی اسمبلی میں کل جذباتی اور جارحانہ تقریر کرنے والے وزیراعظم آج بڑے تحمل اور اطمینان سے خاموش رہے۔
بشکریہ جنگ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

محمد صالح ظافر کی دیگر تحریریں
محمد صالح ظافر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں