ہاتھ کی لکیریں اوران پر بنے جزیرے


ali arqamشادی کے بندھن کے بارے میں سماجی رسوم، معاشرتی ضوابط ، مذہبی روایات کیا کہتی ہیں یہ ایک طویل بحث ہے لیکن تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو دیگر سماجی اداروں کی طرح اس میں بھی مرد کی پوزیشن زیادہ مستحکم رہی ہے۔ اسی لئے شریک حیات کے انتخاب کے حق، شادی کے طے پاجانے یا ختم کرنے کے حوالے سے مرد کی پوزیشن فیصلہ کن رہی ہے۔ آج شام یہودی مذہب و روایات میں طلاق کے حوالے سے مرد کے حتمی اختیار اور طلاق کی عمل میں مرد کی رضامندی کے حصول پر زور اور مذہبی پیشواؤں کی طرف سے طلاق سے جڑی رسوم پر ایک مضمون پڑھا جس میں ایک موقع پر جب کہ طلاق کے حوالے سے تمام تحریری کاروائی مکمل ہوجاتی ہے تو عورت کو کہا جاتا ہے کہ وہ دروازے تک جاکر واپس لوٹے اور پھر مرد کے سامنے دونوں ہتھیلیاں پھیلا دے اس طرح کے ہتھیلیوں میں خم نہ ہو، پیالے نہ بنے ہوں بلکہ بالکل سیدھی ہوں اور مرد آگے بڑھ کر اسے طلاق کے کاغذات تھما دیتا ہے۔

ان سیدھی پھیلی ہوئی ہتھیلیوں کے تذکرے سے مجھے زمانہ طالب علمی کا واقعہ یاد آگیا۔ جب اس نے میرے سامنے ہتھیلیاں پھیلا کر ہاتھ کی لکیریں پڑھنے کی درخواست کی تھی۔ سولہ سال گزر گئے لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ اب بھی اپنے ہاتھ کی لکیروں کو دیکھ کے کہتی ہوگی، ‘انہی نے مروایا ہے۔’

جانے وہ ایسا کہتی ہوگی کہ نہیں لیکن میں جب بھی ایسا سوچتا ہوں میں اپنے آپ کو قصوروار سمجھنے لگتا ہوں کہ اس کے اس غلط تاثر کو تقویت دینے والا میں ہی ہوں۔ پھر کہتا ہوں شاید وہ جان گئی ہو کہ ہاتھ کی لکیریں کچھ نہیں ہیں، یا شاید وہ یہی سمجھتی ہو کہ اگر یہ سچ ہوتیں تو اسے دیکھنا گناہ کیوں ہوتا۔ پتا نہیں وہ کیا سمجھتی ہوگی۔

یہ کالج کے زمانے کی بات تھی۔ میں نے فٹ پاتھ پر بکنے والی کیرو کی پامسٹری کی کتاب اور اس موضوع پر ایک آدھ دوسری کتابوں کے سستے سےایڈیشن خریدےتھے اور بڑی دلچسپی سے اُس کا مطالعہ کررہا تھا۔ زندگی کی لکیر، دل اور دماغ کی لکیر، قسمت کی لکیر، مثلث، جزیرے، کراس اور ابھاروں کی موجودگی کی دی گئی تشریحات کو پڑھتا جاتا اور اپنے ہاتھ میں یہ سب تلاش کرتا جاتا۔ پھر بتدریج دوسرے لوگوں کے ہاتھوں کا مُطالعہ شروع کردیا لیکن میری جستجو اور تبصروں کا عنوان ذاتی زندگی، قسمت، روزگار، محبت و شادی وغیرہ رہتے اور چوں کہ اکثر افراد کے بارے میں میری معلومات ہوتی تھی تو میں کچھ فیورایبل سی باتیں کرتا جسے سُن کر وہ خوش ہوجاتے۔

ایک دفعہ میں پھوپھی کے گھر ان کے باورچی خانے میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک لڑکی دروازے سے اندر داخل ہوئی اور مجھے دیکھ کر ذرا دیر کو جھجکی اور واپس مُڑکر جانے لگی تھی کہ پھوپھی نے اسے آواز دی اور کہا آجاؤ ماجدہ یہ میرا بھتیجا ہے، میرے کراچی والے بھائی کا بیٹا ہے۔

وہ واپس مڑی اور آکر کونے میں پڑی چوکی پر بیٹھ گئی۔ پھوپھی نے مجھے مخاطب کیا اور اس کا تعارف کرانے لگی، ‘بھتیجے یہ ماجدہ ہے، تمھارے پھوپھا کی بھانجی۔ اسی گاؤں میں اس کی شادی ہوئی ہے۔ ہمارے پڑوس میں رہتی ہے۔’

‘اچھا! میں نے یوں ہی رسمی طور پر کہا اور کوئی اور بات کرنا چاہی لیکن پھوپھی نے میری بات سُنی ان سُنی کرتے ہوئے ماجدہ کے بارے میں بات جاری رکھی۔ جس میں مجھے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ ماجدہ بھی رسمی بات چیت کے بعد باورچی خانے سے نکل کر گھر کے دوسرے حصے کی طرف چلی گئی۔ لیکن پھوپھی نے بات جاری رکھی۔

“اس بے چاری کی شادی کم عمری میں ہوگئی تھی، اس وقت یہ تھوڑی نادان اور بے وقوف سی تھی لیکن لوگ سمجھے عمر کے ساتھ بہتر ہوجائے گی۔ پھر اس کے پےدرپے دو بیٹے ہوگئے۔ لیکن اس کے الا بالی پن میں کوئی فرق نہ آیا۔ اس کی ساس نے ڈانٹ ڈپٹ سے اور شوہر نے مارپیٹ سے راہ راست پر لانے کی کوشش کی لیکن کوئی خاص فرق نہ پڑا۔ شوہر نے ماں کے کہنے پر دوسری شادی کرلی۔ اب وہ دوسری بیوی ٹاٹ سے ہے اور اس کی حالت نوکرانیوں سے بھی بدتر۔ اس کے اپنے بیٹے بھی اس سے زیادہ دادی کی سُنتے ہیں۔

میں نے رسمی طور پر ہمدردی کے چند جملے کہے کہ پھوپھی نے اچانک کہا۔ بیٹا تم ذرا اس کی ہتھیلی دیکھو۔ کیا اس کی قسمت میں کوئی خوشی ہے۔ کہیں بہتری کی اُمید ہے۔

اب پھوپھی نے مجھے مُشکل میں ڈال دیا۔ نہ میری کوئی خاص مہارت تھی نہ ہی میں اس کو کوئی خاص سنجیدگی سے لیتا تھا ساری بات شغل کی حد تک تھی۔ پھر اتنے گھمبیر قسم کے معاملے پر رائے زنی تو اور مشکل تھی تو بقول شخصے بڑی نازک صورت حال تھی۔

پھوپھی نے ماجدہ کو آواز دے دی تھی اور اس نے بھی صابن سے ہتھیلی اچھی طرح سے دھو کر میرے سامنے سیدھی کرکے پھیلادی ۔ سو میں نے مصنوعی متانت چہرے پر سجاکر اس کے ہاتھ کی لکیروں پر انگلی پھیرنی شروع کردی۔ پھر بڑے نپے تُلے انداز میں اس کے ماضی کے بارے میں پھوپھی سے حاصل ہونے والی تازہ تازہ معلومات کی روشنی میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ‘تمھارے ساتھ یقیناً ماضی میں بہت بُرا ہوا ہے۔ لیکن اس میں تمھاری اپنی بے وقوفیوں کابھی بڑا دخل رہا ہے’ یہ سن کر اس کی آنکھوں میں حیرت درآئی کیوں کہ وہ پھوپھی کی بریفنگ سے بے خبر تھی۔ پھر اکثر لوگ اپنے اوپر پڑنے والی افتاد کے لئے خود کو قصور وار ٹھہراتے رہتے ہیں ایسے میں اگر کوئی اور ان کے اس رجحان کی توثیق کرے تو ایک گونہ تسلی سی محسوس ہوتی ہے۔

پھر میں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے مبلغ کا سا انداز اختیار کرتے ہوئے کہا، ‘اگر کوشش کرو تو ابھی بھی بہتری کی گنجائش ہے۔ اپنے بچوں کو خود سے قریب کرو۔ بہرحال دو بیٹوں کی ماں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے’ اور پھر تنبیہی لہجے میں کہا، ‘اگر یوں ہی لاابالی پن جاری رکھا تو بچے تو ہاتھ سے جائیں گے ہی، کوئی غلط فیصلہ کرنے سے زیادہ بری صورت حال بھی پیش آسکتی ہے’ درحقیقت اس کے دل کی لکیر پر جزیرہ موجود تھا جو جذباتی صدمے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن میرے تبصرے میں اس کی ہاتھ کی لکیروں کے مطالعے کے برعکس نصیحت آمیزی کا مظاہرہ زیادہ تھا لیکن یہ صرف میں جانتا تھا۔ باقی سب اسے میری مہارت کا نچوڑ ہی سمجھے تھے۔

کچھ عرصہ گزرا ہوگا کہ میں سوات چھوڑ کر کراچی آگیا۔ اور یہ ساری باتیں بھول بھال گیا۔ چند سال بعد مجھے دوبارہ سوات جانا ہوا تو میں پھوپھی سے ملنے چلاگیا۔ برسبیل تذکرہ ذکر چھڑ گیا۔ پھوپھی اور ان کی بہو نے کہا تمہیں یاد ہے وہ ماجدہ لڑکی جس کا ہاتھ تم نے دیکھا تھا۔

میں نے اثبات میں سرہلایا تو میرے بڑے کزن سلطان بھائی کی بیگم نے کہا، “تم سے تو مجھے ڈر لگتا ہے۔ تمھاری بات تو بہت صحیح ثابت ہوئی”

میں نے کہا، ‘کیسے؟’ تو انہوں نے مجھے میری بات یاد دلاتے ہوئے کہا کہ تم نے اس سے کہا تھا کہ ان حالات میں اس کی نادانیوں کا بھی دخل ہے اور اگر آئندہ بھی اس نے ایسی حماقت جاری رکھیں تو شاید اس سے بدتر نتائج نکلیں۔

یہ سُن کر مجھے پوری بات یاد آگئی اور میں نے سرپکڑلیا پھر ان سے کہا کہ پوری بات بتاؤ۔ انہوں نے کہا کہ چند سال پہلے ماجدہ نے اپنے شوہر سے طلاق مانگی جو اس نے نہیں دی اور کینیڈا چلاگیا۔ ماجدہ کو کسی نے عدالت جانے کا مشورہ دیا اور وہ خلع لینے کورٹ پہنچ گئی۔ شوہر کی غیر موجودگی اور عدم نمائندگی کے باعث کورٹ نے کچھ ہی عرصے میں خلع کی ڈگری جاری کردی۔

شوہر نے پیغام دیا کہ میں نے طلاق دی ہی نہیں تو خلع کیسے ہوگئی تم اب بھی شرعاً میری بیوی ہو اور خبردار نکاح پر نکاح نہ کرنا، قانون کچھ بھی کہے تم نے نکاح کیا تو میں چھوڑوں گا نہیں۔

اب ملک کا قانون کچھ بھی کہے، مذہبی طبقے کی معتدبہ اکثریت کو اس بات پر اصرار ہے کہ عورت کا خلع لینے کا حق شوہر کی رضامندی سے مشروط ہے، کورٹ یکطرفہ طور پر خلع جاری نہیں کرسکتی۔ یعنی بیوی کے لئے کسی طریقے سے شوہر کو راضی کرنا ضروری ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ یہودی روایت کی توسیع ہے کہ عورت ہاتھ کی ہتھیلیاں پھیلائے سیدھی رکھتے ہوئے علیحدگی کی التجا کرے۔

جب کورٹ نے خلع دے دی تو ماجدہ کی فیملی اس کے سابق شوہر اور ساس کی باتیں سن کر جلال میں آگئی اور انہوں نے بیٹی کا نکاح اسی گاؤں میں اس کے سابق شوہر کے حریف خاندان کے ایک لڑکے سے کرادیا۔ لڑکا کچھ عرصہ دبئی میں گزار کر آیا تھا۔ سو شادی ہوئی اور میاں بیوی بڑے خوش، لڑکی کی زندگی خوشیوں سے بھر گئی اور ماضی کی ساری محرومیاں بھول گئیں کہ اچانک انہونی ہوگئی۔ اس کے شوہر کو کسی نے دن دھاڑے قتل کردیا۔ پتہ لگا کہ سابق شوہر نے کرائے کے قاتلوں کو پیسے دے کر اس کے شوہر کو مروادیا ہے۔

یوں وہ مختصر مدت کی خوشیاں خواب سا بن کے رہ گئیں اور وہ جاکر میکے میں بیٹھ گئی۔ جب کہ اس کے بیٹے اس کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں ہیں۔

یہ ساری صورت حال سن کر میں سُن سا ہوکر بیٹھ گیا۔ پھوپھی اور ان کی بہؤویں ہتھیلیاں صابن سے دھوکر بیٹھی مجھ سے لکیریں ٹٹولنے کا تقاضا کررہی ہیں، سب اپنے اپنے سوال دہرا رہی ہیں کہ ہمیں کچھ بتاؤ کہ مستقبل میں کیا ہے؟ کیا میرا شوہر مجھے امریکہ ساتھ لے جائے گا؟ کیا میری بیٹی کی جہاں منگنی ہوئی ہے وہ گھر اچھا ہوگا ؟ کیا میری قسمت میں اولاد لکھی ہے؟

میں سب کی باتیں سُنی ان سُنی کرکے برآمدے میں پھوپھا کے پاس آکر بیٹھ گیا جو وہاں بیٹھے دھوپ سینک رہے تھے۔ جب میں نے ماجدہ کا تذکرہ کیا تو ان کے چہرے پہ ایسے تاثرات آگئے جیسے وہ اس موضوع پر بات کرنا پسند نہیں کرتے ہوں۔ پھوپھی بھی وہاں آگئیں اور انہیں نے پوری بات بتائی کہ کیسے میں نے اس کا ہاتھ پڑھا تھا اور اسے نصیحت کی تھی۔ تو پھوپھا نے طنز بھرے لہجے میں کہا کیوں بھئی تم تو تبلیغی باپ کے بیٹے ہو تم کب سے پامسٹری کو ماننے لگے۔ میں نے سٹپٹا کر کہا پھوپھا یہ تین سال پرانی بات ہے جب میں کالج میں تھا اور انہیں سارا پس منظر بتایا کہ کا طرح پھوپھی سے ماجدہ کی خانگی زندگی کے بارے میں سُن کر میں نے چند باتیں کی تھیں جس کا پامسٹری سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا۔ پھر میں نے پھوپھا سے واقعے کی تفصیلات پر بات کی تو انہوں نے وہی واقعات دہرائے۔ جب میں نے وضاحت چاہی تو انہوں نے پہلے اس کے پہلی ساس کو برا بھلا کہا کہ وہ بہت ضدی عورت تھی ورنہ بیٹا تو اس کا کینیڈا میں بیٹھا اسے کیا لینا دینا تھا اس معاملے سے۔ پھر اپنے بہنوئی کو برا بھلا کہا کہ میرے منع کرنے کے باوجود انہوں نے پہلے یہاں رشتہ کیا۔ جب علیحدگی ہوگئی پھر اسی گاؤں میں دوبارہ کیوں رشتہ کیا۔ ‘لڑکا بھی مروادیا اور بیٹی کی زندگی تباہ کردی پہلے خلع دلوا کر پھر شادی کے غلط فیصلے سے۔

یوں ماجدہ کی زندگی کئی غلط اور غیر دانشمندانہ فیصلوں کے بھینٹ چڑھ گئی۔ پہلے کم عمری کی شادی، پھر بعد کے پے درپے غلط فیصلے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ اب بھی خود کو ہی قصور وار سمجھتی ہوگی اور اپنی ہاتھ کی لکیروں کو کوستی ہوگی کہ انہی نے مروایا ہے۔۔۔

اس غلط خیال کو تقویت دینے میں کچھ قصور میرا بھی ہے شاید!!!

 


Comments

FB Login Required - comments