بدکردار بکرا


کراچی مویشی منڈی قریب آئی تو فضا مینگنیوں اور گوبر کی بو سے معطر ہوگئی، ساتھ بکریوں کی مے مے اور بیلوں کی بہ بہ نے ایک ہاہاکار بلکہ ہاہاکار کی جگہ مے مے کار اور باباکار مچایا تھا۔ بھاوا کو ایک عدد ساہیوالی مست شرارتی بکرے کی تلاش تھی جس کے سینگ بڑے اور کان لمبے ہو۔

بھاوا کا ماننا ہے کہ قربانی کا جانور اتنا شرارتی اور ٹکر ماروں ہونا چاہیے کہ روز عید اسے ذبح کرو تو لگے جیسے کسی دشمن کو ذبح کیا ہے ”تاکہ بعد میں اس کا گوشت بہ آسانی اور خوشی خوشی حلق سے اترے “ ورنہ شریف بکرے کو ذبح کرنا تو اس قدر تکلیف دہ ہے جیسے کوئی محلے کے غریب پلمبر کو گھر کام کے بہانے بلائے اور ذبح کردے۔

تمام جانور انتہائی شریفانہ انداز میں گھنگرو کھنکاتے، چنے چباتے، انتہائی قرینے سے تازی مینگنیاں کنچوں کی طرح ٹپکاتے، بکھیرتے، اپنے اپنے خریداروں کے منتظر تھے۔

ایک سنگل بیوپاری نے بھاوا کے بکھرے بڑے بال، سفید اجلا لباس اور چمکدار داڑھی دیکھی تو ہمیں منڈی کی زبان میں ” ٹائٹ پالٹی“ سمجھ لیا اور اپنے اکلوتے بکرے سمیت ہماری جانب بڑھنے لگا۔ مگر وہ بکرا مالک کی نیت سمجھ گیا، فورا اپنی چاروں بریکیں کھینچ کر وہی منجمد ہوا، باوجود اس فور ویل بریک کے اس کا مالک اسے کھینچتے ہوئے لے آیا۔ جس کے نتیجے میں زمین پر چار ایسی لکیریں رقم ہوئیں جو ہمارے وہ جنگی جہاز جو ان دنوں فقط کرتب دکھانے کے ہی کام آتے ہیں چودہ اگست کے دن آسمان پر رقم کرتے ہیں۔

آتے ساتھ ہی بکرے کا منہ کھول کر اس کے دانت گنواتے ہوئے کہا۔ ”صاحب بلکل تازہ دم دو دانتہ ہے ایک دم کچا بچہ! یہ لو آپ کا ہوا“

بکرا بس برائے نام بکرا تھا بلکہ محض بکرے کا ایکسرے تھا، ضعف و کمزوری کا یہ عالم کہ چھرا تو دور نائی کی وہ منچلی قینچی جس کے ذریعے وہ کان کے پیچھے بالوں کی گولائی بناتے ہوئے خرپک، خرپک کرکے کسٹمر کو گدگدانے کی کوشش کرتا ہے! اس منچلی قینچی کے لگتار پندرہ بار کی خرپک خرپک سے بھی یہ ناچار سربریدہ ہوجاتا۔

بھاوا نے بکرے کی حالت دیکھی تو مالک سے استفسار کیا۔ جناب بکرے کو افیم کھلاتے ہو کیا؟

جواب دیا۔ افیم تو نہیں صاحب! بس کبھی کبھی ایک آدھ جام دیسی پلا دیتا ہوں۔
ہم آگے بڑھے کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ عید کا یہ عظیم فریضہ ہم کسی دیوداس کو ذبح کرکے ادا کریں۔

اس سنگل بیوپاری نے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا جہاں سودا ناکام ہوتے دیکھتا تو فوراً اپنا ملنگی بکرا پیش کرتے ہوئے کہتا۔ ”صاحب لے لو نا دو دانتا ہے بلکل کچا“۔

زرا اگے بڑھے تو دنبوں کا پورا جھنڈ رسی کی چاردیواری میں اپنی بہتی ناکوں کو مزید بہاتے ہوئے عوام الناس کو اپنی جانب اکرشک کررہے تھے۔

دنبہ ذات سے بھاوا ہمیشہ دو سو گز کے فاصلے پر رہتا ہے۔ اس فاصلے کی وجہ پچھلی قربانی ہے۔

پچھلے سال بھاوا سے کسی نے کہا کہ عید قربان کے موقع پر دنبہ ذبح کرنے سے ڈبل اجر ملتا ہے۔

لہذا اس ڈبل اجر کی جستجو میں بھاوا نے زندگی میں پہلی بار قربانی کے لئے دنبہ خریدا۔ گھر لاکر ہم نے صحن میں باندھ دیا، بھاوا چونکہ خدائی خدمتگار ہے قید و بند کے بدلے محبت کی زبان پر یقین رکھتے ہیں۔

ہمیں منع کرتے ہوئے کہا ”بے زبانوں کو قید نہیں کرتے، ان سے تو حسن سلوک کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، دل کے قریب رکھنا پڑتا ہے “ اپنے ہاتھوں سے دنبے کی رسی کھول کر اس کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہوگئے۔

کھیلتے کھیلتے بات نجانے کب بگڑ گئی! دنبہ بھاوا سے اچانک دس قدم کے فاصلے پر ہوا! اس سے پہلے کے بھاوا دنبے کی اس دس قدمی دوری کی وجہ سمجھتے دنبے نے بجلی کی سی تیزی میں ایک قدم لیا! (تھریپ) دوسرا قدم اسی رفتار میں (تھراپ) جبکہ تیسرا قدم مزید تیزی میں (تھروپ) اور اس کے بعد ٹینک کے گولے کی مانند ہوا میں جاتے ہوئے سامنے کھڑے بھاوا کی ٹانگوں کے بیچوں بیچ اپنا سر پیوست کردیا۔

یہ ٹکر اتنی شدید تھی کہ بھاوا زبان دانتوں میں دبا کر بھینگا ہوگیا، دونوں ہاتھ ٹانگوں کے درمیان دے کر کینگرو کی طرح دو ایک چھلانگیں ماریں اور وہیں گرگئے۔

بھاوا کے پاس اپنے اعضاء پوشیدہ کو مسلنے اور مزید بھینگا رہنے کے کے لئے زیادہ وقت نہیں تھا انھیں مستعد ہونے کی اشد ضرورت تھی کیونکہ وہ راکشس دنبہ ایک مزید وار کے لئے پوزیشن لے چکا تھا۔

بھاوا نے جب اپنی ابرآلود نگاہوں سے دنبے کو مزید قیامت ڈھانے کے لئے تیار دیکھا تو آواز کی جگہ ان کے منہ سے فقط فریادی ہوائیں نکلی پیچھے کو کھسکتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے دنبے کو باز رہنے کے ایسے مظلومانہ اشارے دیے جیسے ہندی فلموں میں زمین پر پڑی ادھ برہنہ مجبور عورت عین اس وقت ظالم ویلن کو دیتی ہیں جب وہ چہرے پر شیطانیت سجائے ہاہاہا کرتے اس کی جانب بڑھتا ہے۔

بھاوا نے جب دیکھا کہ رحم کی تمام اپیلیں مسترد اور مدد کی تمام راہیں مسدود ہوگئیں تو عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وار کو سینے پر سہنے کے بجائے پشت پر کھانے کی نیت باندھی اور وہی سجدے میں چلے گئے۔
دنبے نے بھاوا کے اس نئے زاویے کا نئے سرے سے نیا نشانہ لیا اگلی ایک ٹانگ کو زمین پر اس انداز میں پیچھے کو پھیرا جیسے اسپیشل ٹاپ گیر لگادیا ہو! اس بار پہلے سے دگنی رفتار میں فقط ”تھریپ“ تھراپ“ تھروپ“ ہی نہیں ایک چھوتے قدم ”دھروپ“ کا بھی اضافہ کیا اور ایک ایسی پرفیکٹ شاٹ ماری کہ بھاوا اچھل کر میدان سے باہر گرگیا۔

اس سانحے کے بعد بھاوا اور بھابھی دونوں ہی ہمیشہ کے لئے ڈبل اجر کی جہد سے دستبردار ہوئے۔ اس دن دنبے سے تاحیات نفرت کا اعلان کیا، اور واپس بکرے پر اگئے۔

اب تک ہم نے منڈی میں جتنے بکرے دیکھے ان میں سے ایک بھی مطلوبہ خصائص پر پورا نہیں اتر سکا۔ مشورہ ملا کہ ”حاجی گل باز افغانی“ کی ٹال پر جاؤ وہاں اپ کو مطلوبہ بکرا مل جائے گا۔

“گل باز“ کی تلاش میں نکلے تو اچانک شور برپا ہوا، پتہ چلا کے شہر کا ایک صاحب ثروت اپنے جانوروں کے قافلے سمیت اس گلی سے گزرے گے۔ ہم سمیت تمام خریداروں کو صاحب ثروت کے بہ وردی ڈانڈا برداروں نے دیوار سے لگایا۔ جب تک قافلہ گزر نہیں جاتا کسی کو ہلنے کی اجازت نہیں تھی۔

ناکہ بندی کے اس موقع پر ہمیں خان صاحب خان صاحب کہتے ہوئے مخاطب کیا گیا دیکھا تو وہ سنگل بیوپاری جسے سامنے کی دیوار سے لگایا گیا تھا اس نے انگلیوں سے دو کا اشارہ دیا اور وہی سے بہ آواز بلند کہا۔ ”لے لو نا صاحب دو دانتا ہے بلکل کچا“

اس کا بکرا جو اس افراتفری میں اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا انتہائی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بنا رسی پکڑوائے بیوپاری سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑا تھا۔ سچویشن کو سمجھتے ہوئے مالک سے ہم آہنگ ہوا اور بغیر کسی زبردستی و کھینچ تان کے بہ رضا و رغبت وہی سے اپنے دو دانت ہمارے سامنے آشکار کردیے۔

حاجی گل باز گھنی سیاہ داڑھی بڑی مونچھیں سر پر پگڑی، لگ بھگ پانچ ظاہری اور پندرہ پوشیدہ جیبوں کی حامل بھورے رنگ کی واسکٹ پہنے اپنے جانوروں کے جھنڈ میں پائے گئے۔

کہا حکم کرو صاحب!

بتایا جملہ شرارتوں سے لیس ایک عدد ساہیوالی بکرا جس کے کان لمبے ہو۔ فوری درکار ہے۔ ذبح کریں تو تکلیف نہیں بلکہ خوشی محسوس ہو۔
ہماری اس ڈیمانڈ کو خالصتا افغانی قہقے میں ہوا کرتے ہوئے کہا ”شرارتی بکرا بس؟ شرارتی بکرے تو میں بچہ لوگوں کو فروخت کرتا ہوں۔ تمھارے لئے میرے پاس الگ مال ہے۔ او تم کو بکروں کا ”ماما ٹاکر“ دکھاتا ہوں۔ “

حاجی گل باز نے جو بکرا دکھایا وہ بکرا واقعی بکروں کا ماما ٹاکر تھا، ”اخلاق بکریات“ نامی کسی چیز سے اسے دور دور کا تعلق نہیں تھا۔ انتہائی بدکردار و بدچلن، زبان نکالے گندی گندی آوازوں و اشاروں کے ذریعے سامنے بندھی بکریوں کی عزت نفس مجروح کرنے میں مصروف تھا۔

ہمارا استقبال بھی ماماٹاکر نے اس بیہودہ انداز میں کیا، کہ ایک لمحے کے لئے تو محسوس ہوا جیسے بھاوا بڑے بالوں والی مالاگوری بکری ہو، اور میں سبی کا سفید ہانڈوں۔ حاجی گل باز نے بکرے کی اس بیہودگی پر فاتحانہ انداز میں اپنے دونوں ہاتھ واسکٹ کی جیبوں میں دے کر داد طلب نگاہوں سے ہمیں دیکھا،

نرخ ڈیڑھ لاکھ بتایا گیا، جو آتے آتے پچاس ہزار پر رک گیا، سودا طے ہوا۔ ماما ٹاکر کو سوزکی لوڈنگ ٹرک میں چڑھایا گیا۔ ڈرائیور کو ایڈریس سمجھایا۔ اپنی گاڑی کی جانب آئے۔ تو اس سنگل بیوپاری کو منتظر پایا۔ وہ اپنا روایتی ڈائلاگ مارتا بھاوا نے رسی اس کے ہاتھ سے لے کر مجھے پکڑا دی کہا اسے بھی اس گاڑی میں سیٹ کروادو۔ بیوپاری کو قیمت دے کر دعا خیر کے ساتھ گھر روانہ ہوگئے۔

آج صبح بھاوا کا فون آیا۔ انتہائی غضب ناک آواز میں کہا ”کہ تمھاری بھابھی نے کہا ہے یا بکرا گھر پر رہے گا! یا میں! اس بے حیا بد ذات نے تمھاری بھابھی کا صحن میں قدم رکھنا محال کردیا۔ ذرا باہر نکلتی ہے تو کسی لچے کی طرح نیچ انداز میں ”بکککککھو“ کی آواز کس لیتا ہے۔ لہذا جلدی پہنچو! اس پہلے کہ میں اس روسی نژاد بکرے کو گولی ماردوں تم اسے اپنے گھر لے جاؤ۔ اور ہاں آتے ہوئے اپنے اس شرابی یار کے لئے ڈیڑھ لیٹر دیسی دارو بھی لیتے آنا، ورنہ شام تک شراب کی یاد میں باقاعدہ شاعری شروع کردے گا۔ “

ماماٹاکر کی بابت تو ہم نے معذرت کرلی۔ کیونکہ میں خود عیال دار انسان ہوں، البتہ دیوداس اور بھابھی کی ذمہ داری ہم نے اپنے سر رکھ لی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں