غلام رسول مہر بنام عاشق حسین بٹالوی (دوسرا حصہ )


usman Qazi6 ۔ ایک ضروری بات یہ ہے کہ پاکستان کی سکیم کی اصل غرض و غایت صرف یہ نہ تھی کہ مسلمانوں کے لیے آزاد حکومت کا بندوبست کیا جاتا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ مسلم اقلیتوں کی حفاظت کا بندوبست پختہ تر ہو جائے۔ تقسیم ملک کا فیصلہ ہو جانے کے بعد مسلم اقلیتوں کی حفاظت کا محکم تر انتظام حدر درجہ ضروری اور لازم تھا۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں، جنہیں تقسیم کی پوری داستان میں اس اہم ترین قومی غرض کے لیے سعی کا کوئی ثبوت اب تک نہیں مل سکا اور نہ میں سمجھ سکا ہوں کہ اس بنیادی ضرورت سے اعراض کی علت کیا تھی؟

7۔ میرے نزدیک ایک خوفناک غلطی یہ ہوئی کہ طول و عرض ملک کے ہر مسلمان ملازم کو اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان میں آجائے۔ میں نے اپنی بیس بائیس برس کی سرگرم سیاسی زندگی میں مسلمانوں کی تکلیفو ں اور پریشانیوں کا سرچشمہ اس کے سوا کوئی نہ پایا کہ ملازمتوں میں ان کی تعداد کم تھی اور حکومت نام ہی ملازمتوں اور ممبریوں (وضع قوانین اور نظم و نسق) کا ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ تقسیم ملک کے ساتھ ہی مسلم اقلیتوں کو تحفظ کے ہر وسیلہ سے محروم کر دیا گیا۔ میں نے پے در پے اس کے خلاف مقالات لکھے۔ ذاتی طور پر مختلف اصحاب اختیار سے التجائیں کیں لیکن کسی نے کچھ نہ سوچا۔ ہر شخص کو صرف یہ خیال تھا کہ بیچ میں سے غیر مسلم نکل جائیں گے تو زیادہ سے زیادہ ترقی حاصل کر لینے کا موقع ہو گا۔ آپ جانتے ہیں کہ قومی فرائض کو پورا کرنے کا یہ کوئی مناسب معیار نہ تھا۔

8 ۔ آپ کے دوسرے سوال یعنی راج گوپال اچاریہ فارمولا قبول کر لینے کے نتائج کا مسئلہ زیر بحث لانے کی ضرورت نہیں۔ اوپر کی تصریحات میں اس کے اکثر پہلو سامنے آگئے ہیں۔ میرے نزدیک مسلمانوں میں پھوٹ پڑ جاتی اور لیگ کی پوزیشن کمزور ہو جاتی۔ لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ لیگ مستحکم رہتی یا نہ رہتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو فائدہ پہنچتا یا نقصان۔ دونوں قسم کے امکانات تھے۔ یقین و وثوق سے کسی ایک پہلو کو راجح قرار دینا مناسب نہیں۔ موجودہ تقسیم بالاتفاق منظور ہوئی تھی اور انگریز کا قدم بیچ میں تھا۔ بایں ہمہ خون خرابہ ہوا۔ اس کے اسباب دوسرے تھے جو راج گوپال اچاریہ فارمولا قبول کر لینے میں بھی ہو سکتے تھے۔ البتہ یہ درست ہے کہ راج گوپال اچاریہ فارمولا کے مطابق مسلمانوں کی پوزیشن مقابلتاً بہتر ہوتی۔

9۔ آپ کا یہ خیال درست ہے کہ ماﺅنٹ بیٹن گورنر جنرل رہتا تو آبادیوں کے اٹھنے کی نوبت نہ آتی۔ کشمیر کا فیصلہ بھی بہ اطمینان ہو جاتا۔ غالباً ریفرنڈم کی ضرورت بھی پیش نہ آتی۔ میری معلومات یہی ہے کہ ابتدا میں ماﺅنٹ بیٹن کو ایک سال کے لیے بالاتفاق گورنر جنرل مانا گیا تھا اور یہ معاملہ طے کر کے بغرض منظوری لندن بھیج دیا گیا تھا۔ بعد میں غالباً ان لوگوں نے ردوبدل پر زور دیا جو سمجھتے تھے کہ اختیارات کا موقع انہیں نہ مل سکے گا۔ میری معلومات کے مطابق قائداعظم کے سامنے معاملات کو ایسے رنگ میں پیش کیا گیا کہ وہ پہلے فیصلے کو منسوخ کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ اگر اسے ماننا مناسب نہ تھا تو بہتر ہوتا کہ پہلے ہی انکار کر دیا جاتا لیکن ماننے کے بعد انکار یا ردوبدل بہت مضر ثابت ہوا۔ یہ میری معلومات ہیں۔ ہو سکتا ہے حرفاً حرفاً صحیح نہ ہوں۔ اب اکثر واقف کار حضرات کم از کم میرے علم کے مطابق اسی رائے پر آگئے ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ قائداعظم کو ماﺅنٹ بیٹن کے متعلق مختلف شبہات پیدا ہو گئے ہوں۔ لیکن ظاہر ہے کہ ماﺅنٹ بیٹن بذات خود کچھ نہ تھا ۔ وہ برطانوی حکومت کا نمائندہ تھا۔ برطانوی حکومت کے متعلق تو میرے نزدیک شبہات پیدا نہ ہوئے۔ جیسا کہ بعد کے طرز عمل سے مترشح ہوتا ہے لیکن اگر شبہات بھی تھے تو ان سے بچاﺅ کی دوسری تدابیر اختیار کی جا سکتی تھیں جو ماﺅنٹ بیٹن برطانوی امپریلزم کا ایک زبردست کارندہ ہونے کے باوجود کانگرسیوں کے نزدیک معتبر بن گیا۔ اسے ہمارے لیے تدبیر و تدبر سے معتمد علیہ بنانے یا کم از کم شبہات کا مرجع نہ بننے دینے میں کیا دقت اور کون سی مشکل تھی؟

10 ۔ کم از کم میرے نزدیک مسٹر جناح مرحوم انگریزوں کے ترک ہند کے باب میں غلط فہمیوں میں مبتلا تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انگریز جائیں گے نہیں اور ریاستیں اس حکومت کا ساتھ دیں گی جو رﺅسا کے معاملات میں کم از کم مداخلت کریں گی۔ انگریز ریاستوں کے طرز عمل کی تائید کریں گے ۔ لیکن یہ تصور غلط تھا اور غلط ثابت ہوا۔ یہ تصور خدمت عوام کے نقطہ نگاہ سے بھی غلط تھا۔ خدمت عوام کا تقاضا یہ تھا کہ رئیسوں کو نہیں بلکہ ریاستو ں کے عوام کو پیش نظر رکھا جاتا۔ ان کی بہبود کو مقدم سمجھا جاتا اور وہ رئیسوں کے تغلب و تصرف پر پابندیاں عائد کیے بغیر پوری نہ ہو سکتی تھیں۔ اس باب میں لیگ نے ابتدا میں جو طریقہ اختیار کیا تھا وہ میرے نزدیک مناسب نہ تھا۔ حکومت ہند نے ہمت کر کے تمام ریاستوں کو ختم کر دیا اور ایسی صورت پیدا کر دی کہ اگلے قدم پر سب ریاستیں مٹ جائیں۔ ہماری حالت محتاج بیان نہیں۔

11۔ وزارتی سکیم کو 1946 ءمیں مسترد کر دینے سے اس کے سوا کیا نتیجہ نکلتا کہ انگریز تھوڑی سی ترمیم کے بعد نئی سکیم بنا لیتے۔ جس طرح انہوں نے کرپس کی سکیم کے بعد نئی سکیم بنا لی تھی ، جو حالات پیش آئے، انہیں نظر انداز کر دیجئے۔ ان کا سکیم کو ماننے یا رد کرنے سے کوئی تعلق نہ تھا۔

12۔ کسی سکیم کی خرابیوں سے آگاہ ہونے کے باوجود فی الجملہ اسے قبول کر لینا موجب قدح نہیں بن سکتا۔ ہم نے 1933ءمیں فرقہ وارانہ فیصلے کو قبول کر لیا تھا حالانکہ جانتے تھے کہ وہ سو فیصد درست نہیں۔ ایسے معاملات میں صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ قدم آگے بڑھتا ہے یا نہیں بڑھتا۔ اگر بڑھتا ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ سیاست میں ایسے حالات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔ قائداعظم کا خیال ممکن ہے یہ ہو کہ پوری سکیم مان لینے سے ترتیب حکومت کا کام ان کے حوالے ہو جائے گا لیکن انگریزی حکومت اتنی نادان نہ تھی کہ ملک کی 3/4 آبادی کو نظر انداز کر کے 1/4 آبادی کو ترتیب حکومت کا کام سونپ دیتی یا ایسی حکومت بن جاتی۔ تو وہ کوئی قابل ذکر کام کر سکتی۔

یہی موقع ہے کہ جس میں گاندھی کا تدبر بروئے کار آیا۔ کانگرس عارضی حکومت کی سکیم رد کر چکی تھی لیکن گاندھی جانتا تھا کہ اس کے بغیر مستقل سکیم کے لیے کام کرنا مشکل ہو گا لہٰذا اس نے کانگرس کو راضی کر کے نہرو کو عارضی حکومت کے قبول کر لینے پر آمادہ کر لیا۔ چنانچہ دیول نے نہرو ہی کو ترتیب حکومت کا کام سونپا۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں کہ اگر انگریز مجھے لیگ کا لیڈر تسلیم کر کے ترتیب حکومت کا کام سونپتے تو میں انکار کر دیتا۔ اس لیے کہ یہ عارضی کامیابی پر خوش ہونے کا مقام نہ تھا بلکہ اہل ملک کی اکثریت کو ساتھ ملانے کا مقام تھا۔ عارضی حکومت ہندوﺅں کی اکثریت کو مٹا نہ سکتی تھی۔ چند ماہ میں انتخابات ہوتے۔ کانگرس اکثریت حاصل کر لیتی تو پھر وہی حکومت بناتی۔ عارضی کامیابی کسی کو کیا فائدہ پہنچاتی؟ چار دن کے لیے ہم حکومت سنبھال کر آبادی ملک کے محکم حقائق کو منقلب نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کو معلوم ہے کہ 1937 ءکے انتخابات کے بعد کانگرس نے ہندو اکثریت والے صوبوں میں حکومتیں نہیں بنائی تھیں اور انگریزوں نے عارضی یا عبوری حکومتوں کا ڈول ڈالا تھا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ جب کانگرس حکومتیں بنانے پر راضی ہو گئی تو عارضی حکومتوں کے کارفرما حرف غلط کی طرح صفحہ سیاست سے مٹ گئے۔

13 ۔ دو قوموں کے نظریے کا مفہوم پہلے ذہن نشین فرما لیجئے۔ میرے نزدیک قائداعظم مرحوم کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہر علاقے میں اکثریت کو اقتدار کا حق حاصل ہے۔ یعنی مطلب یہ نہ تھا کہ تمام مسلمان بلا استثنیٰ بالکل الگ کر دیے جائیں۔ اگر یہ مقصد ہوتا تو وہ تمام مسلمانوں کو مختلف مقامات سے منتقل کرا کے پاکستان میں لانے پر مجبور ہوتے۔ سیاست میں بعض اوقات مختلف امور کی اہمیت واضح کرنے کے لیے انہیں مبالغہ آمیز صورت دے دی جاتی ہے ۔ جن معنوں میں دو قوموں کے نظریے کو پاکستان کے عام لوگ یا عام لیڈر سمجھتے اور استعمال کرتے رہے۔ میرے نزدیک مرحوم قائداعظم کبھی بھی ان معنوں کے قائل اور معتقد نہ ہوئے۔ اس سلسلے میں آپ نے جتنے سوال پیدا کیے ہیں وہ پیدا نہیں ہوتے۔ البتہ مرحوم کے بعد پاکستان کے مختاران کار مسلسل و متواتر زیغ نظر اور ژولیدگی فکر میں مبتلا رہے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ لطف یہ ہے کہ ان سے باتیں کی جائیں ۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا معتقد کوئی بھی نہیں۔ اگر کوئی ہے تو مجھے اس کا علم نہیں۔ بیانات میں زیغ نظر اور ژولیدگی فکر کے اسباب پہلے سے موجود تھے اور متوازن صورت پیدا کرنے کی سعی کبھی نہ کی گئی۔ پاکستان کو جن مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ان میں سے متعدد مشکلات کا سرچشمہ یہ ژولیدگی فکر بھی ہے۔ نہ اس نظریے سے نجات حاصل کرنے کا حوصلہ کسی میں ہے اور نہ اس کے مطابق عمل کرنے کی ہمت کسی میں نظر آتی ہے۔

14 ۔ فسادات پر بحث کا معاملہ بہت نازک ہے اور بے حد طویل ہے۔ بلاشبہ سکھ فسادات کے بعد تقسیم پر آمادہ ہو گئے مگر اس عزم کے ساتھ کہ تقسیم کے بعد مسلمانوں کو مشرقی پنجاب سے نکالیں گے اور سکھوں کو مغربی پنجاب سے لا کر ایک صوبہ بنائیں گے۔ لیکن ہمارے کوتاہ نظر سیاست دان ، جن کے نام میں بتا سکتا ہوں۔ مسلسل اس وہم میں مبتلا رہے کہ سکھوں کو باتوں سے رام کیا جا سکتا ہے۔ ’ڈان‘ میں ایسے بیانات چھپتے رہے کہ آبادیوں کا مبادلہ ضرور ہو لیکن صرف ہندوﺅں کے ساتھ نہ کہ سکھوں کے ساتھ۔ جیسا کہ نواب ممدوٹ نے کہا تھا۔

15 ۔ اگر 1944 ءمیں خضر حیات یونینسٹ پارٹی توڑ دیتا تو پنجاب کی وزارت اسی وقت ختم ہو جاتی اور نئی وزارت نہ بن سکتی۔ جیسا کہ 1947 ءمیں لیگ کی غالب اکثریت کے باوجود نہ بن سکی۔ اس لیے کہ 1935 ءکے قانون کے مطابق اقلیتو ں کو ساتھ لینا ضروری تھا اور واضح رہے کہ پنجاب میں مسلمانوں کی اکثریت ایسی نہ تھی جیسی مثلاً یو پی ، سی پی ، بہار ، بمبئی ، مدراس وغیرہ میں ہندوﺅں کی تھی۔ اگر لیگ دو چار سکھوں اور ہندوﺅں کو ساتھ ملا کر وزارت بناتی تو کشمکش اسی وقت شروع ہو جاتی۔ وہ زمانہ جنگ کا تھا اور انگریز کسی کشمکش کے روادار نہ تھے۔وہ دفعہ 192 الف لگا کر حکومت خود سنبھال لیتے اور اس کا جو نتیجہ نکلتا وہ مسلمانوں کے لیے بحیثیت مجموعی میرے نزدیک مضر ہوتا۔

16 ۔ یہ صحیح نہیں کہ مسلمانوں اور سکھوں کا بگاڑ خضر حیات کے وزارت بنانے سے قائم ہوا۔ اس کے اسباب پہلے سے موجود تھے البتہ صوبے کے اندرونی معاملات میں تعاون کی صورت موجود تھی۔ اس سے سب نے فائدہ اٹھایا۔ 1946ء میں ایک ایسا موقع بھی آیا کہ لیگ کی حکومت بن جاتی لیکن اس طرح کہ مرکزی جماعتیں صوبے کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دیتیں اور اپنی سرگرمیاں آل انڈیا مسائل دستور کے تصفیے تک محدود رکھتیں۔ مسلمان پاکستان کی حمایت میں آزاد رہتے۔ سکھ اور ہندو اس کی مخالفت کے مجاز ہوتے۔ اس پر لیگ راضی نہ ہوئی اور معاملہ ختم ہو گیا۔

17 ۔بلاشبہ تارا سنگھ کی حرکت نے جلتی آگ پر تیل کا کام دیا۔ بارود میں چنگاری ڈال دی لیکن اسباب اشتعال پہلے سے موجود تھے۔

18 ۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ پاکستان حقوق مسلمان کے تحفظ کا ایک ذریعہ تھا اور تحفظ کا مقصد اس صورت میں پورا ہو سکتا تھا کہ پاکستان زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو اپنے اندر سمیٹ سکتا۔ جو پاکستان بنا۔ اس نے پوری قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور دونوں حصے تقریباً برابر ہیں۔ اس موقع پر اصل سوال یہ تھا کہ مسلمانوں کے لیے بحیثیت مجموعی ادھورا پاکستان مفید تھا یا وزارتی سکیم۔ لیکن پاکستان کو بجائے خود نصب العین قرار دے کر اس کی حیثیت و حدود کو کاملاً نظر انداز کر دیا گیا۔ میں اس نظریے کی صحت کا قائل نہیں۔

19 ۔ میں عرض کر چکا ہوں کہ فسادات کا معاملہ بڑی تفصیل کا محتاج ہے اور ساری باتیں لکھی نہیں جا سکتیں۔ آپ نے بالواسطہ جن لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے میں ان کا وکیل نہیں لیکن بلاواسطہ کون ذمہ دار ہوا۔

20 ۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ لیگ نے وزارتی سکیم مان لی تھی اور اس میں لیگ کے لیے انکار کے اسباب کانگرس نے پیدا کیے۔ پھر ’راست اقدام‘ (ڈائریکٹ ایکشن) کا مرحلہ پیش آیا اور فسادات کی آگ بھڑکی۔ اسے بھڑکانے کا ذمہ دار بڑے لیڈروں میں سے ارادتاً کوئی نہ تھا۔ لیکن چھوٹے لیڈر بڑے لیڈروں کے سامنے سب کچھ کرتے رہے مثلاً بہار میں ، یو پی میں، پنجاب میں ، بنگال میں تقسیم کے بعد جو فسادات ہوئے انہیں دونوں حکومتیں باآسانی روک سکتی تھیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ہر جگہ ہر شخص اپنے آ پ کو مواج سمندر کی لہروں میں تنکا بنا چکا تھا۔ اب یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کے دلوں میں کیا تھا۔ میرا پختہ اعتقاد ہے کہ بڑے لیڈر ہمت، جرات اور احساس ذمہ داری سے کام لیتے تو فسادات رک جاتے۔ قتل و غارت کا طوفان تھم جاتا اور چند روز میں آبادیاں نئے حالات سے مطابقت پیدا کر لیتیں۔ یہ امر دونو ں ملکوں کے لیے بے حد مفید ہوتا لیکن اب؟ اب مرزا غالب کے قول کے مطابق:

آئندہ و گزشتہ تمنا و حسرت است ،
یک کاشکے بود کہ بصد جا نوشتہ ایم

اس سلسلے میں اور بھی بہت سی باتیں کہی جا سکتی ہیں: ۔

آں راز کہ در سینہ نہاں است نہ وعظ است
برادر تواں گفت بہ منبرنہ تواں گفت

میں آپ کے گرامی نامے کا جواب جلدی دینا چاہتا تھا لیکن یہاں کی مصروفیتوں نے دم نہ لینے دیا۔ پرسوں بعد دوپہر تہیہ کر کے بیٹھا۔ صرف ایک صفحہ لکھنے پایا تھا کہ آدمی آگئے اور خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ آج اتوار تھا (14 فروری) صبح سے یہی کام شروع کیا تھا۔ لیکن پانچ مرتبہ بیچ میں اٹھنا پڑا۔ اس پریشانی احوال میں جمعیت فکر معلوم۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ بعض چیزیں تشنہ ہیں۔ لیکن تشنگی کو تحریر کے ذریعے بجھانا ممکن نہیں۔دعا کیجئے کہ خدا مجھے تین چار مہینے کے لیے وہاں آنے کی مہلت عطا کرے یا پھر آپ یہاں آ جائیں۔

میں خود اپنی کتاب جلد شروع کر دینا چاہتا ہوں۔ وہ تاریخ ہو گی اور اس کا آغاز 1901ء سے ہو گا تاکہ اسلامی سیاست کے نشیب و فراز ذرا بہتر صورت میں واضح ہو جائیں اور ہر شخص پہ آشکارا ہو سکے کہ 1857 ءکے بعد ہم نے احیاء و نشاة ثانیہ کا سفر کن حالات میں شروع کیا تھا اور کن کن منازل سے گزرتے ہوئے کہاں پہنچے۔

خانہ نشینی میں تخفیف کا خیال آپ کو کیوں آیا؟ میں اپنے مخصوص افکار و نظریات کے ساتھ انزوا میں تخفیف پر کیوں کر آمادہ ہو سکتا ہوں۔ انسان نیک کاموں سے تعاون کر سکتا ہے۔ جن کاموں کو درست نہیں سمجھتا ان سے الگ رہتا ہے۔ میرے لیے خدا نے دوسری صورت مقرر کر دی ہے۔ اس پر نہ افسوس ہے اور نہ اس حالت کے بدلنے کا بظاہر کوئی امکان۔ ہاں بھائی، لاہور اگرچہ وہ نہ رہا جو کبھی تھا لیکن اسے بھلایا نہیں جا سکتا۔

بایک جہاں کدورت باز ایں خرابہ جائیست

آپ اچھے ہیں۔ ایسی دنیا میں رہتے ہیں جس کے نیک و بد سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔

اگر بہ دل نہ خلد ہرچہ از نظر گذرد
زہے ردانی عمرے کہ در سفر گذرد

نظیری کہتا ہے
سفر گزیں کہ نہال اول از ملول شود
زمیں عزتبش آخر بہ از وطن باشد

لیکن نظیری ہی نے کہا ہے کہ
سیرایں دائرہ بدنیست ولے می ترسم
چشم از خویش بہ بندندچو پابکشائید

اگر موقع مل سکے تو عزیز جاوید اقبال سے خود ملاقات فرمائیے۔ اسے مختلف سیاسی امور کے متعلق تفصیلات مطلوب ہیں۔ آپ کی ملاقات اس کے لیے بے حد مفید ہو گی۔ موقع ملے تو پیغام بھیج کر یا خط لکھ کر پتہ منگا لیجئے۔ پمبروک کالج کیمبرج میں ہے۔ بھائی اعجاز اس کا پتہ جانتے ہیں۔ بھائی اعجاز اور تمام احباب کو میرا محبت بھرا سلام پہنچائیے۔
نیاز مند
(غلام رسول) مہر


Comments

FB Login Required - comments