نواز شریف، مریم نواز کی سزا معطلی کی درخواستوں کا فیصلہ موخر


ہائی کورٹ

AFP
جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی کسی بھی عدالت میں ایسی کوئی مثال ملتی ہے جس میں عدالت نے بغیر کسی وجہ کے کسی مقدمے کا التوا دیا ہو

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو جولائی میں ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت سے ملنے والی سزا کی معطلی کی درخواستوں کا فیصلہ موخر کر دیا ہے۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا وہ ان درخواستوں پر اس وقت فیصلہ نہیں سنائی گی اور دیگر پٹیشنز کے ساتھ ان کا فیصلہ سنایا جائے گا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سزا کے خلاف دائر اپیلوں کی پیر کو سماعت کی۔

سماعت کے دوران نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر مظفر عباسی نے اپنے دلائل مکمل کیے جس کے بعد عدالت نے درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور عدالت کا کہنا تھا کہ عدالت اس معاملے میں مناسب حکم نامہ جاری کرے گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت میں بینچ کے سربراہ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے 11 ستمبر تک تعطیلات ہیں اور کیونکہ یہ اپیلیں لگی ہوئی ہیں اور یہ اہم معاملہ ہے، تو اس بارے میں کوئی آبزیرویشن نہیں دے سکتے اور تمام معاملات کا جائزہ لینا ہوگا۔

اس کے علاوہ بینچ کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ احتساب عدالت کے جج نے جو چیزیں فیصلے میں لکھی ہیں اور جن دستاویزات کا حوالہ دیا ہے، ان کو دیکھنا ہو گا اور اس کے لیے وقت درکار ہے۔

اس موقعے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ جس طرح سے عدالت کے سامنے چیزیں آرہی ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر ریلیف دیا جائے اور احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کیا جائے۔

نواز

AFP

دوسری جانب نے نیب کی جانب سے عدالت کو جمع کرائے گئے جواب میں موقف اختیار کیا گیا کہ کیونکہ یہ معاملہ ابھی تک لگا ہوا ہے تو بہتر یہی ہوگا کہ عدالت اُس وقت تک فیصلے کو التوا میں رکھے جب تک کہ وہ بینچ جہاں یہ کیس پہلے گیا تھا، وہ اس کی سماعت نہیں کرتا۔

خیال رہے کہ 10 اگست کو نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو دی گئی سزاؤں کی معطلی کے لیے دائر کردہ درخواستوں کی سماعت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کا نیا بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

یہ سزائیں احتساب عدالت نے چھ جولائی کو شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے میں سنائی تھیں۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10 برس، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سات برس جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

نواز شریف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات رکھنے جبکہ مریم نواز کو والد کے اس جرم میں ساتھ دینے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5389 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp