ہم جنسیت اور ہمارے رویے


arshad sulehriچشم پوشی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ خاص کر اپنی ذات سے جڑے کسی ایسے معاملے کو جو جنسی حوالے سے ہو محض شرم کے مارے دبا دینا عقل مندی کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔ جنسی مسائل پر بات کرنا فحاشی نہیں ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ پاکستان میں جنسی مسائل پر بات کرنے کی اشد ضرورت بھی ہے۔ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں یہاں دانستہ جنسی معاملات کو دبا دیا جاتا ہے۔ سنجیدگی سے بات کرنے کی بجائے گناہ کبیرہ اور فحاشی قرار دے کر لاتعلقی اختیار کرلی جاتی ہے۔ یہ غیر انسانی رویہ ہے۔ ہمیں ہر قسم کے سیاسی، سماجی اور مذہبی نقاب اتار کر انسان بن کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ جن کے کسی عمل سے ہم نفرت کر رہے ہیں وہ جیتے جاگتے ہماری طرح ہی کے انسان ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ معاشرے، تعلیمی اور تربیتی اداروں اور خاص کر والدین کی عدم توجہی کی وجہ سے ایک بچہ اگر کسی ماحول کے زیر اثر آکر یا فطری طور پر اپنے ہم جنس کی جانب راغب ہو جاتا ہے تو اس میں بچے کا کیا قصور ہے۔ یہ امر بچے کی جبلت ہوسکتا ہے۔ ماحول جو اسے دستیاب ہوا نے اس کی جبلت کو پروان چڑھایا اور اس میں ہم جنس پسندی کے عنصر بڑھتے رہے۔

والدین کو چاہیئے کہ وہ اپنے بچے کے طور و طریقوں، عادات اور دوستیوں پر نظر رکھیں کیونکہ والدین بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے بچے میں کیا کمی و بیشی ہے۔ جب والدین یا بڑوں پر یہ انکشاف ہو کہ ان کا بچہ بیٹی یا بیٹا کچھ الگ سے ہے۔ اس کی سوسائٹی بھی اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ ہے۔ والدین بجائے مارنے، گھر سے نکال دینے اور نفرت کا اظہار کرنے کے پہلے سے زیادہ پیار کریں، مزید اپنے قریب لے کر آئیں، زیادہ سے زیادہ توجہ مرکوز کردیں۔ غیر محسوس طریقے سے آپ اسے نئی زندگی، نیا ماحول دے سکتے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ والدین اپنے ہم جنس پسند بچوں کو اپنائیں نہ کہ دھتکار دیں، چشم پوشی ہرگز ہرگز نہ کریں۔

ہم جنس پسندی کوئی جرم نہیں ہے اور نہ ہی کوئی بیماری ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے۔ قدیم ترین تاریخ کے پنے بھی اس امر کے گواہ ہیں کہ انسان ہم جنس پسند بھی ہے اور جنس مخالف سے بھی رغبت رکھتا ہے۔ ہم جنس پسندی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ نہ ہی یہ مغربی ممالک کی پیدا کردہ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مغرب نے دیگر کئی حقیقتوں کی طرح ہم جنس پسندی کی حقیقت کو بھی قبول کر لیا ہے۔ رواج نہ دیں مگر اس حقیقت کو قبول کریں کہ پاکستانی معاشرے میں ہم جنس پسندوں کی ایک قابل ذکر تعداد ہے۔ اس میں خواجہ سرا الگ ہیں۔ ہم جنس پسندوں کی خفیہ شادیوں کے کئی واقعات بھی سامنے آچکے ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت دیگر شہروں میں ہم جنس جوڑے اپنی ازدوجی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ راولپنڈی میں میرپور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے فراز ( اصل نام نہیں ) اپنے ہم جنس کے ساتھ تین سال سے رہ رہا ہے۔ ایسی طرح فروا ( اصل نام نہیں ) اور سونیا ( اصل نام نہیں ) چار سال سے ایک ساتھ ہیں۔ ان کی کہانی بی بی سی نے رپورٹ بھی کی ہے۔ سوشل میڈیا اور مخصوص ویب سائٹس ہم جنس پسندوں کے میل ملاپ کے کامیاب ذرائع ہیں۔

مگر ہم جنس پسند خوف کے حصار میں جکڑے ہوئے ہیں۔ والدین، رشتے داروں کا خوف، مذہب، معاشرے کا ڈر آسیب کی طرح ان پر ہر وقت رہتا ہے۔ ایسے واقعات کی بھی کمی نہیں کہ جب عزت کے نام پر اپنوں نے ہی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ لاہور میں گزشتہ سال تین نوجوان ہم جنس پسندوں کو قتل کر دیا تھا۔ مذہب اور عزت کے نام قتل حقائق سے پہلو تہی کا نتیجہ ہے۔ حقیقت سے نظریں چرانے والے معاشرے زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں اور سوچ کو حقیقت پسندانہ بنانے کی ضرورت ہے۔ چشم پوشی سے جنم لینے والے مسائل جب ہاتھ سے نکل جاتے ہیں پھر پچھاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ہے۔ ہم جنس پسند بچوں سے چشم پوشی اپنے ہاتھوں اپنی گود برباد کرنا ہے۔ شرمندگی سے زندگی بہتر ہے۔


Comments

FB Login Required - comments