پی ٹی آئی کے ٹائیگرز سے ہمدردی


ammar masoodمجھے عمران خان کے بارے میں بات نہیں کرنی۔  مجھے اپوزیشن کی مشترکہ حماقتوں کے بارے میں بات نہیں کرنی۔  مجھے پی ٹی آئی کی مسلسل حماقت کے بارے میں بات نہیں کرنی۔  پاناما لیکس بھی میرا موضوع نہیں ہے۔  کرپشن کے سکینڈل بھی میرا موضوع سخن نہیں ہیں۔  صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر بھی آج بات نہیں ہو گی۔  آئے روز دریافت ہونے والی آف شور کمپنیاں سے بھی آج مجھے کوئی سروکار نہیں۔  غربت اور افلاس بھی میرا موضوع نہیں ہے۔  لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے حکومتی وعدوں پر بھی بات زنگ آلود ہو چکی ہے۔  پنجاب پولیس کی کارکردگی پر گفتگو کو بھی اب جالے لگ چکے ہیں۔  مہنگائی اور افراط زر کی بات بھی پرانی ہو گئی۔  اسمبلی سیشن میں ارکان کی غیرحاضری اب پرانی بات ہو گئی۔  کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر بات سے بھی لوگ اب بور ہو چکے ہیں۔  جمہوریت اور اس کی بقا زمانہ قدیم کی بات ہو گئی۔  سول ملٹری تعلقات پر گفتگو میں بھی اب کچھ نہیں بچا۔  خیبر پختونخواہ میں چوہوں کی بھرمار اور پی ٹی آئی کی ناقص کارکردگی پر بات کرنے میں بھی کچھ حاصل نہیں۔  میرا آج کا سارا موضوع سخن وہ لوگ ہیں جو بڑے جوش و جذبے سے پی ٹی آئی کی حمایت کرتے ہیں اور عرف عام میں پی ٹی آئی ٹائیگرز کہلاتے ہیں۔

میں بہت حد تک یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان میں سے اکثریت میں بہت اچھے لوگ ہیں۔  شہروں میں رہنے یہ لوگ پڑھے لکھے نوجوان ہیں۔  این جی اوز میں جاب کرنے والے، دفتروں میں نوکریاں کرنے والے، اچھی انگریزی بولنے والے، پاور پوائنٹ پریزینٹیشن پر ملکی مسائل حل کرنے والے، تبدیلی کا خواب دیکھنے والے، جلسوں کی تعداد سے متوقع انتخابی نشستوں کا اندازہ لگانے والے، الطا ف حسین کے خلاف سکاٹ لینڈ یارڈ کو ہزاروں ای میل کرنے والے، ایس ایم ایس پر ملکی حالات تبدیل کرنے کے منصوبے بنانے والے، چہروں پر پی ٹی آئی کے جھنڈے پینٹ کروانے والے، بغیر سائلینسر کے موٹر سائیکلوں پر پی ٹی آئی کے جھنڈے لہرانے والے، انسانی حقوق کے نعرے لگانے والے، عطاء اللہ کے گانوں پر بھنگڑے ڈال کر ملک بدلنے والے لوگ، سوشل میڈیا پر حکومت کے ہر اقدام کو طنز و طعن کا نشانہ بنانے والے، بلاگ لکھ لکھ کر عوام کو انقلاب کے معنی سمجھانے والے، نقشوں کی مدد سے نیا پاکستان بنانے والے، اپنے لیڈرکی خاطر گفتگو میں ہر ایک سے بھڑ جانے والے لوگ، موروثی سیاست کو گالی دینے والے، کرپشن کے خلاف فیس بک پر جہاد کرنے والے وٹس ایپ پر وڈیوز بنا کر مخالفین کو چڑانے والے، اور ٹوئیٹر پر حکومتوں کے تخت الٹانے والے یہ لوگ بہت اچھے نیک نیت اور صالح لوگ ہیں ۔  ان میں بیشتر ملک کی بہتری کے خواہاں ہیں۔  تبدیلی کے طلب گار ہیں۔  نئے پاکستان کے لئے اس قوم سے خواست گار ہیں۔  یہ اچھے لوگ ہیں۔

ان اچھے لوگوں کا کوئی قصور نہیں ۔  یہ بہتر مستقل کا خواب دیکھتے تھے اور اسی لیئے پی ٹی آئی کے جھنڈے تلے جمع ہوئے تھے۔  اب جو صورت حال روز بروز ہو رہی ہے تو سچ تو یہ ہے کہ مجھے ان لوگوں سے ہمدردی ہوتی جا رہی ہے۔  ان پر ترس آتا جا رہا ہے۔  ان کے لئے دکھ سے دل بھر جاتا ہے۔  انہوں نے جب نئے پاکستان کا خواب دیکھا تو پورے یقین سے دیکھا تھا۔  انہوں نے اپنے لیڈر کے کہنے پر جب دھاندلی کا شور مچایا تھا۔  تو پورے وثوق سے دھاندلی کے کے خلاف نبرد آزما ہو گئے تھے۔  لیکن جب پینتیس پنکچر ایک سیاسی بات نکلی تو میرے جیسے کچھ دل چھوڑ گئے ہوں گے مگر باقی پورے جذبے سے اپنے مشن پر ڈٹے رہے ہوں گے۔  میں یقین سے کہتا ہوں جب خیبر پختونخواہ کی گورننس کی بات ہوتی ہو گی یہ بڑے جوش سے بہتری کے حق میں دلائل دیتے ہوں گے۔  لیکن جب بنوں کے جلسے نے عوام کے ایک جم غفیر نے ان نعروں کو ملیا میٹ کر دیا تو کچھ لوگ بدل گئے ہوں گے اور کچھ نئے پاکستان کے حصول پر اڑے رہے ہوں گے۔  جب خان صاحب نے نعرہ لگایا ہو گا کہ ہر آف شور کمپنی کرپشن کے لیئے بنتی ہے لوٹ مار کرتی ہو تو مجھے یقین ہے یہ سب بڑی جانفشانی سے ہر آف شور کمپنی کو لوٹ مار کا مال ثابت کرنے میں لگے ہوں گے۔  لیکن جب خان صاحب کی اپنی ایک آف شور کمپنی نکل آئی تو اپنا سا منہ لے کر کچھ لوگ اس جماعت کو چھوڑ گئے ہوں گے کچھ بڑے حوصلے سے کرپشن فری پاکستان کے لیئے لڑ رہے ہوں گے۔  جب پی ٹی آئی کے جلسوں میں خواتین کے ووٹ اور نمائندگی کی بات ہوتی ہو گی تو مجھے یقین ہے یہ بڑی محنت سے خواتین کے ووٹوں کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوں گے۔  پی ٹی آئی کے جلسوں میں خوتین کی شمولیت اور عورت کے احترام پر بات کرتے ہوں گے ۔  لیکن جب انہی جلسوں میں خواتین کے کپڑے پھاڑے جانے لگے، عورتوں پر مجرمانہ حملے ہونے لگے تو ان میں سے کچھ اس جماعت کو خیر باد کہہ گئے ہوں کچھ حالات کو محض ایک واقعہ بتا کر ڈٹے رہے ہوں گے۔  جب انہوں نے سنا ہو گا کہ میٹرو میں کرپشن ہے، پلوں کی تعمیر میں قومی دولت لوٹی گئی ہے تو یہ نیک نیت لوگ اس بات کے ثبوت لانے میں لگ گئے ہوں گے۔  ہر پل، سڑک کے افتتاح پر احتجاج کرتے ہوں گے ۔  لیکن جب تین سال میں پشاور کے ایک ہی پل کا افتتاح ہوا، اسی کو بہتر کارکردگی کہا گیا تو ان میں سے بہت سے لوگ روٹھ گئے ہوں گے اور بہتر مستقبل کے خواب میں کھو گئے ہوں گے۔ جس جماعت کو کرپشن کی بنیاد پر نکالا اسی کے ساتھ جب اتحاد کر لیا ہو گا تو کچھ لوگ ناراض ہو گئے ہوں گے باقی دل کو تھام کر ترقی کے خواب دیکھتے ہوں گے ۔ پاناما لیکس پر عمران خان کے خطاب سے ملکی سیاست میں ہونے والی انقلابی تبدیلیاں دیکھنے والے جب اس سنہری موقع پر احمقانہ بائیکاٹ دیکھتے ہوں تو ان میں سے بہت سے بدل گئے ہوں اور چند ایک اب بھی اثبات کا سہارا لے کر اس جماعت سے جڑے ہوں گے۔ اب بھی کسی معجزے کی راہ دیکھتے ہوں گے۔

مجھے اب پی ٹی آئی کی حماقتوں کا کوئی دکھ نہیں۔  مجھے ان نوجوانوں کا دکھ ضرور ہے۔  یہ لوگ اب ان بے وقوفیوں سے تھک گئے ہیں۔  اپنے لیڈر کی اوٹ پٹانگ حرکتوں کا جواب دے دے کر حوصلہ ہار چکے ہیں۔ میرے خیال میں پی ٹی آئی کا جرم خیبر پختونخواہ میں کرپشن کے سکینڈل نہیں، عوام سے جھوٹ بولنا بھی ان کا اتنا بڑا جرم نہیں۔  جمہوریت کے نام پر احمقانہ قلابازیاں کھانا بھی نہیں۔  ایمپائر کا آج تک انتظار بھی نہیں۔ ان کا سب سے بڑا جرم ان نوجوانوں کا حوصلہ توڑنا ہے۔ ان کو مایوس کرنا ہے۔  ان کے حوصلے کا تمسخراڑانا ہے۔  ان کی محبتوں کا مذاق بنانا ہے۔  ان جیالے ٹائیگروں کو بے توقیر کروانا ہے۔ چٹانوں کی بلندی سے ان نوجوانوں کے حوصلے اور ہمت کو پستی میں گرانا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 43 posts and counting.See all posts by ammar

One thought on “پی ٹی آئی کے ٹائیگرز سے ہمدردی

Comments are closed.