اب ہم کسے ووٹ دیں؟


adnan-khan-kakar-mukalima-3

موجودہ سیاسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے، یہ سوال ہم میں سے بہت سے لوگوں کے ذہن میں ہے کہ ووٹ کسے دیا جائے۔ کچھ لوگ تو خیر دیوتاؤں کے پجاری ہوتے ہیں اور اپنے سیاسی معبود تراش کر ان کے چرنوں میں بیٹھ جاتے ہیں، لیکن ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو واقعی یہ چاہتے ہیں کہ غیر جانبداری سے اسی پارٹی یا لیڈر کو ووٹ دیں جو کہ ملک کے حالات بہتر کر سکتا ہے۔ اس معاملے میں شاید خیبر پختونخوا کے عوام سب سے زیادہ بہتر ہیں کہ عمومی طور پر کسی پارٹی کے مرید ہوئے بغیر ہر الیکشن میں ایک نئی پارٹی کی حکومت لاتے رہے ہیں۔ وہ شخصیت کے سحر کی بجائے کارکردگی پر ووٹ دینے کے قائل لگتے ہیں۔

کراچی میں تو خیر ایک ہی آپشن ہے، ایم کیو ایم۔ کچھ محدود علاقوں میں دوسری پارٹیوں کی پاکٹس ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں وہاں تحریک انصاف کی کارکردگی حیران کن رہی تھی۔ لیکن کراچی سے ہٹ کر خاص طور پر پنجاب کے تناظر میں ہمارا پچھلی چند دہائیوں سے جن پارٹیوں کا تجربہ رہا ہے، ان کو دیکھتے ہیں۔

gotv-dont-complain-vote

میاں نواز شریف کی پنجاب کی حکومت تو جنرل ضیا کے سائے میں رہی تھی۔ اس وقت کارکردگی کی بجائے یہی دیکھا جاتا تھا کہ بندہ بھٹو کا حامی ہے یا مخالف۔ بھٹو کو اسلام اور اقدار کا دشمن قرار دینے والے میاں صاحب کو ہی ووٹ دیتے تھے۔ اس وقت ان کی ایک نمایاں اتحادی جماعت اسلامی بھی ہوا کرتی تھی جو اپنا ووٹ بینک میاں صاحب کو دان کر گئی۔ اب ہمارے پاس چار نمایاں آپشن ہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق۔

مسلم لیگ ن کا شہباز شریف کی وزارت اعلی میں ہمیشہ بادشاہی انداز رہا ہے۔ ادارے بنانے کی بجائے یہ دکھایا جاتا ہے کہ مظلوم زنجیر سے لٹکے ہوئے ہیں اور عدل جہانگیری ہو رہا ہے۔ ن لیگ کی میڈیا ہینڈلنگ بے مثال ہے اور کوئی دوسری جماعت اس طرح سے میڈیا کو ہینڈل نہیں کرتی ہے جو ن لیگ کا وصف ہے۔ جس طرح اداکارہ میرا خبروں میں رہنا جانتی ہیں، ویسے ہی شہباز شریف بھی خبروں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کسی جگہ ظلم ہو رہا ہو، کہیں آفت آئی ہو، شہباز شریف صاحب وہاں پہنچتے ہیں اور لوگوں کا دکھ درد بانٹتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے یہ ویسا ہی انداز ہے جیسا کہ فلموں میں ہوتا ہے۔ ایک عالیشان محل کا سیٹ کھڑا کیا جاتا ہے، فلم کی شوٹنگ ہوتی ہے، اور شوٹنگ پیک اپ ہونے کے بعد وہ محل غائب ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی کوئی ایک واقعہ میڈیا میں رپورٹ ہو جائے تو وہاں شہباز شریف صاحب کی لوگوں کے دکھ درد میں شامل ہونے کی تصویر تو سامنے آ جاتی ہے، لیکن ایسا سسٹم نہیں بنایا جاتا جس سے ایسا واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔ یعنی ایسا نظام بنانے کی طرف معمولی سی توجہ بھی نہیں دی جاتی ہے جس سے کسی دوسرے کے ساتھ یہ واقعہ پیش نہ آئے۔

Nawaz Sharifدوسری طرف ن لیگ کی ترجیح ایسا کام کرنے کی ہوتی ہے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہر روز نظر آئے۔ اس کی پہلی ترجیح سڑکیں اور پل وغیرہ ہیں۔ اس کے علاوہ یہ میڈیا میں شور برپا کرنے کے لیے پیلی ٹیکسی، سستی روٹی، دانش سکول، یوتھ لون پروگرام وغیرہ ٹائپ کے پروگراموں میں اربوں روپیہ غرق کر دیتی ہے اور چند ماہ بعد اس پروگرام کا نام و نشان تک نظر نہیں آتا ہے۔ اس کی توجہ عام آدمی کے لیے سستے اور معیاری سکول بنانے، ہسپتالوں کی حالت بہتر کرنے، تھانے کچہری یا دوسرے سرکاری محکموں میں عوام کی زندگی آسان بنانے، عوام کی سہولت کے لیے قانون سازی کرنے، یا طویل مدتی منصوبہ کی طرف نہیں ہوتا ہے۔ اس کی ترجیح الیکشن جیتنا ہوتی ہے، ملک کی مجموعی ترقی کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی ہے۔ ملازمت پیشہ طبقے اور کسانوں کے لیے ن لیگ کی حکومت آفت کا پیغام ہی ہوتی ہے۔ ایک طرف ان کے لیے دہشت گردی کا بدترین شکار ملک ہونے کے باوجود نیکٹا کے لیے بیس ارب روپے نہیں ہوتے ہیں، تو دوسری طرف میٹرو پر ایک سو بیس ارب روپے لگاتے ہوئے یہ دوسری مرتبہ سوچتے نظر نہیں آتے ہیں۔ ن لیگ کو صرف چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور کا منصوبہ متاثر نہ ہونے کے خدشے سے ووٹ دیا جا سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت کی توجہ بنیادی اور اہم قانون سازی کی طرف رہی ہے۔ اس کا اہم ترین کارنامہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی ہے۔ دوسرے کئی اہم آئینی اور قانونی معاملات بھی اس نے طے کیے ہیں۔ سرکاری ملازموں اور کسانوں کے لیے اس کی پالیسیاں اچھی رہی تھیں اور وہ موجودہ دور کی نسبت زیادہ سکون میں تھے۔ لیکن اس معاملے میں پیپلز پارٹی کی کمزوری بھی ہے کیونکہ وہ بڑے ملکی اداروں میں تھوک کے حساب سے نئی بھرتیاں کروا Zardari-2کر ان کو مالی طور پر ڈبونے کا باعث بھی بنتی رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کو شروع دن سے ہی اسلام دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، ایسے میں مولانا شیرانی کا چند ہفتے پہلے دیا گیا بیان سب کے لیے دلچسپی کا باعث رہا تھا جس میں انہوں نے یہ رائے ظاہر کی تھا کہ کہ اسلام کے حق میں پیپلز پارٹی کی حکومت سب سے بہتر رہی ہے اور ن لیگ کی حکومت کے بارے میں انہوں نے تحفظات ظاہر کیے تھے۔ دوسری طرف لبرل طبقات کا جھکاؤ پیپلز پارٹی کی طرف رہا ہے کیونکہ دوسری بڑی پارٹیوں کے مقابلے میں اس کی پالیسیاں کچھ لبرل رہی ہیں اور اس کی قیادت میں مولانا حضرات کے عقیدت مندوں کی کمی دکھائی دیتی ہے، جو کہ بہرحال ایک تاثر قائم کرتی ہے۔ پیپلز پارٹی تن تنہا پنجاب میں حکومت بنانے سے قاصر نظر آتی ہے، اور یہ مخلوط حکومت ہی کی صورت میں یہاں آ سکتی ہے۔ تحریک انصاف سے ٹوٹنے والے ووٹر اس کی طرف پلٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔

میڈیا کے معاملے میں یہ پروا نہِیں کرتی ہے کہ اسے کیا کہا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی سے زیادہ قوت برداشت کسی دوسری پارٹی میں دکھائی نہیں دیتی ہے۔ بظاہر ان کا یہی خیال ہے کہ مخالفین کو شور مچانے دو اور جواب نہ دو، اس شور شرابے کا کون سا ووٹر پر فرق پڑتا ہے۔ لیکن یہ غلط پالیسی ثابت ہوئی ہے کیونکہ شاید اسی کے ری ایکشن میں پیپلز پارٹی کے خاندانی ووٹروں کا نوجوان طبقہ منحرف ہو کر تحریک انصاف میں شامل ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی نے تعلیم اور صحت کے سیکٹر پر توجہ نہیں دی ہے اور گزشتہ حکومت میں اپنے کارکنوں کا ایک بڑا مان توڑا ہے۔ پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت سے کارکن کا یہ مان ہوتا تھا کہ وہ کسی بھی وزیر کے دفتر میں جا کر دھڑلے سے اپنا کام کروا سکتے ہیں، جبکہ گزشتہ حکومت میں پارٹی کے کارکنوں کو وزرا پہچاننے سے تقریباً انکاری تھے۔ پیپلز پارٹی کی صفوں میں دانشور طبقے کے افراد نظر آتے تھے، مگر اب وہاں وہ کم نظر آنے لگے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے پلس پوائنٹس عام افراد کے لیے دوسروں سے نسبتاً بہتر ہونا اور قانون سازی ہیں، لیکن وہ طویل مدتی منصوبہ بندی کی قائل نہیں رہی ہے۔ ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ ’بد اچھا بدنام برا‘ والے محاورے کی تصویر نظر آتے ہیں۔ دوسرے چاہے ان سے لاکھ درجے زیادہ کرپٹ ہوں، لیکن کرپشن کی مثال یہی بنے بیٹھے ہیں۔

imran-medتحریک انصاف نے تبدیلی کے نام پر زبردست ہلچل مچائی تھی۔ خاص طور پر شہری طبقے کے نوجوان اس میں بڑی تعداد میں شامل ہوئے تھے۔ ایک نمایاں چیز یہ تھی کہ امیر طبقے کے وہ افراد بھی اس کی حمایت کر رہے تھے جو بہ آسانی دوسرے ممالک میں سیٹل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی اس کے حامی تھے۔ لیکن گزشتہ تین سال کی کارکردگی نے بہت سوں کو مایوس کیا ہے اور وہ واپس پلٹ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی پارلیمان میں کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ تیس سے زائد اپوزیشن ارکان حکومت کو پریشان کرنے والی ایک بڑی طاقت ہوتے ہیں، لیکن جب خود عمران خان ہی اسمبلی میں جانے کو وقت کا زیاں سمجھتے ہوں تو باقی اراکین کی دلچسپی کا کیا عالم ہو گا۔

ڈھائی سال مسلسل دھاندلی کا شور مچانے کے بعد جس طرح وہ معاملہ کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوا ہے، اس کا قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ الٹا نقصان ہوا ہے کہ اب دھاندلی کا لفظ اتنی بار دہرایا گیا ہے کہ اسے عوام نظرانداز کرنے لگے ہیں۔ کاش عمران خان یہ احساس کرتے کہ وہ ایک سیاست دان ہیں، ایک مطلق العنان ڈکٹیٹر نہیں ہیں جس کی مرضی پر سب چلنے پر مجبور ہوتے ہیں، بلکہ ان کو سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ کچھ لے اور دے کر مفادات کا سودا کرنا ہوتا ہے۔ دھرنے میں اگر وہ وزیراعظم کے استعفے پر نہ اڑ جاتے تو وہ ایک اچھا موقعہ تھا کہ انتخابی اصلاحات کے بارے میں قانون سازی کروا لیتے اور کم از کم اگلے الیکشن میں دھاندلی کو کم کرنا ممکن ہو جاتا۔ اسی طرح اب وہ دھاندلی کو یکلخت بھلانے کے بعد کرپشن کو اس شدت سے دہرانے لگے ہیں کہ لوگ اس لفظ کو ٹیون آؤٹ کر کے ان سنی کرنے لگیں گے اور یہ لفظ بھی اپنا اثر مکمل طور پر کھو دے گا۔

عمران خان کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کی کارکردگی دکھائیں اور صوبے کو ترقی دیں، اور دوسری طرف وہ ایسے ایشو اٹھائیں جو کہ ایک عام آدمی کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان میں رشوت کو اب جائز یا ناجائز کام کروانے کی فیس کے طور پر قبول کیا جا چکا ہے۔ عوام کے لیے اہم مسائل تعلیم، صحت، سرکاری محکموں کی کارکردگی، روزگار کے مواقع وغیرہ ہیں۔ عمران خان سرکاری محکموں کی بہتری کی بات تو کرتے ہیں، لیکن کیا خیبر پختونخوا کی پولیس وغیرہ کی کارکردگی واقعی ایسی ہی ہو چکی ہے جیسی کہ وہ بیان کرتے ہیں؟ یہ تو صوبے کے رہائشی ہی بہتر سمجھتے ہوں گے لیکن جو سننے میں آ رہا ہے وہ اتنا امید افزا نہیں ہے۔ ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ کیا وجہ ہے کہ پشاور کا شوکت خانم کا پہلا حصہ تو نہایت ہی قلیل مدت میں تقریباً چار ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہو چکا ہے، لیکن صوبائی حکومت کے پاس ایسے بے شمار ارب ہونے کے باوجود گزشتہ تین سال میں سرکاری سیکٹر میں ویسا کوئی ہسپتال قائم نہیں ہوا ہے۔ عوام کے لیے کتنے نئے جدید ہسپتال بنائے گئے ہیں؟ کیا پچھلے تین سال میں پہلے سے موجود سرکاری ہسپتالوں کو شوکت خانم کی طرح ایک مثالی ہسپتال بنانے کی طرف توجہ دی گئی ہے؟ وہاں سکولوں کے لیے کیا کیا گیا ہے؟ بظاہر یہی نظر آ رہا ہے کہ تحریک انصاف کی کارکردگی اچھی نہیں ہے اور وہ صرف احتجاج کی سیاست ہی کر سکتی ہے۔ یہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بجائے ٹکراؤ کی قائل ہے۔ بہرحال امید کی ایک کرن نظر آتی ہے کہ پاناما کے مسئلے پر یہ دوسری اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مل کر اسمبلی میں گئی ہے۔

شہریوں کو سہولیات بہم پہنچانے کے معاملے میں سب سے زیادہ بہتر حکومت چودھری پرویز الہی کی رہی ہے۔ پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں انہوں نے جدید ہسپتالوں کے قیام کی طرف توجہ دی تھی۔ ان کا ایک بڑا کارنامہ 1122 کی مثالی سروس کا قیام ہے۔ ان کا انداز یہ رہا ہے کہ سرکاری افسران کے کاموں میں کم سے کم مداخلت کر کے عوام کی سہولت کے لیے کام کیا جائے۔ تعلیم اور قانون سازی کے معاملے میں یہ پیچھے رہے ہیں، گو کہ ان کے دور میں کسانوں اور ملازمت پیشہ افراد کی زندگی میں بہتری آئی تھی۔ اس دور میں ضلعی حکومتوں کا نظام بہترین رہا، لیکن اس کا کریڈٹ غالباً جنرل پرویز مشرف کو دیا جانا چاہیے۔ ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی مقبول عوامی لیڈر نہیں ہے۔ یہ اچھے طریقے سے صوبہ چلا سکتے ہیں، مفاہمتی سیاست میں بے مثال ہیں اور سب کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں، لیکن عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے اپنے علاقے میں ان کا تاثر ایسا بنا ہوا ہے کہ یہ بدمعاشوں اور رسہ گیروں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ یہ تن تنہا اپنے بل پر حکومت نہیں بنا سکتے ہیں، لیکن مخلوط حکومت میں اچھا کام کر سکتے ہیں۔

ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ برے سب ہی ہیں، کرپٹ سب ہیں، کوئی تھوڑا کوئی زیادہ۔ لیکن کرپشن میں صرف مالی کرپشن ہی نہیں، نااہلی بھی شامل ہوتی ہے۔ آپ نے اکثر سنا ہی ہو گا کہ موبائل یا فون کرپٹ ہو گیا ہے اور سست چل رہا ہے۔ مالی طور پر صاف حکومت بھی اگر سست چل رہی ہو اور عوام کو سہولت دینے کی بجائے ان کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہو، تو اس کی وجہ نااہلی کی کرپشن ہو سکتی ہے۔ جمہوریت میں سب سے بنیادی چیز بلدیاتی لیول کے ادارے اور الیکشن ہوتے ہیں، اور یہ تمام پارٹیاں ان سے دور بھاگتی ہیں کہ کہیں کوئی نئی لیڈرشپ نہ ابھر جائے جو کہ موجودہ قیادت کو چیلنج کر دے۔

ہم نے اپنی رائے دی ہے کہ کون سی سیاسی پارٹی ہماری رائے میں کیسی ہے۔ خود سے سوچیں، کسی ایک لیڈر یا پارٹی کے اندھے مرید مت بنیں۔ دیکھیں کہ کس سے کیا امید ہے۔ حکومت کرنے فرشتے یہاں نہیں آئیں گے، جو موجود ہیں، تعصبات سے بالاتر ہو کر انہیں میں سے کسی کا انتخاب کریں۔ بنیادی شرط تعصبات سے بالاتر ہونے کی ہی ہے۔ میرا ووٹ تو فی الحال پیپلز پارٹی کو جاتا دکھائی دے رہا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 325 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar