اڈیالہ کے قیدی سے ملاقات – کچھ مشاہدات


میاں نواز شریف سے براہ راست رابطہ ان کی لندن سے پاکستان روانگی سے چند گھنٹے قبل تک رہا ۔ پھر اس کے بعد جب وہ وطن عزیز کی سرزمین پر پہنچے تو ان تک رسائی کو طاقتوروں نے نا ممکن بنا دیا۔ جیل میں مقید کر کے یہ خیال باندھ لیا گیا کہ شاید ان کی قیادت میں آئین کی بالادستی کی خاطر لڑنے والے ان سے ملاقات کی کوششوں کو اس خوف سے ترک کر دیں گے کہ کہیں عتاب شاہی کا شکار نہ ہو جائیں۔ مگر تمام اندازے غلط ثابت ہوئے اور مجھ جیسے ان گنت اشخاص نے اپنے رہنما سے ملاقات کی غرض سے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے۔ راقم الحروف خوش قسمت رہا کہ وہ اس مقصد میں کامیاب بھی ہو گیا۔

وقت دیا گیا کہ آپ اڈیالہ جیل کے گیٹ نمبر پانچ پر صبح گیارہ بج کے تیس منٹ پر پہنچ جائیں۔ مقررہ وقت سے قبل ہی میں گیٹ نمبر پانچ کے سامنے موجود تھا تا کہ کہیں کوئی وقت کی نسبت سے بہانہ کر کے ملاقات کو منسوخ نہ کر دیا جائے۔ بہرحال 11:30 پر میں اڈیالہ جیل میں داخل ہو گیا۔ سیکورٹی پر مامور اہلکار اتنی ہمت تو نہیں رکھتے کہ وہ آپ سے میاں نواز شریف کے حوالے سے کوئی براہ راست مثبت بات کر سکیں لیکن ان کی سراہتی نظریں اس بات کا پتہ دے رہی ہیں کہ وہ میاں نواز شریف کے ملاقاتیوں سے ایسا سلوک روا رکھنا چاہتے ہیں کہ جیسے کسی آزادی کے متوالے قیدی کے ملاقاتیوں سے روا رکھا جانا چاہیے۔ عملہ خوش اخلاقی سے پیش آیا، شناختی کارڈ مانگا، نمبر درج کیا اور پھر کم و بیش 100 قدم کے فاصلے پر قائم انتظار گاہ تک پہنچ گیا۔ انتظار گاہ میں ایئر کنڈیشنر کی سہولت موجود تھی۔ وہاں بیٹھے ابھی کوئی 15، 20 منٹ کا عرصہ گزرا تھا کہ ایک اہلکار آیا اور بولا کہ ملاقات کے لئے چلیں۔ اب منزل جیل کا اندرونی علاقہ تھا بہرحال زیادہ فاصلہ طے نہیں کیا تھا کہ ایک اور کمرے تک پہنچ گئے۔

یہ کمرہ انتظارگاہ کی نسبت کشادہ تھا مگر حالت اس کی اس کی نسبت خراب تھی۔ درمیان میں ایک میز موجود تھی اور اس کے گردا گرد پلاسٹک کی کچھ کرسیاں رکھی ہوئی تھی۔ اس کمرے میں پہنچنے کے ساتھ ہی موسم کی شدت کا احساس ہونے لگا کیوں کہ انتظار گاہ کے برعکس یہاں پر ایئر کنڈیشنر موجود نہیں تھا ابھی کمرے کا جائزہ ہی لے رہا تھا کہ کیپٹن صفدر آ گئے۔ وہ مذہبی معاملات کے حوالے سے ایک پرجوش شخصیت ہے اس بات کا اندیشہ 25 جولائی سے قبل بھی ظاہر کیا جا رہا تھا اور اب بھی کیا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت مذہبی قوانین سے چھیڑ چھاڑ کا ارادہ رکھتی ہے اور کسی وقت بھی یہ سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔ کیپٹن صفدر نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مہدی صاحب میں جیل میں رہوں یا جیل سے باہر مگر اگر اسلامی قوانین کے خلاف کوئی سازش ہوئی تو کیپٹن صفدر کٹ مرے گا مگر ایسا ہونے نہیں دے گا۔

ابھی یہ گفتگو جاری تھی کہ میاں نواز شریف تشریف لے آئے اور سب ان کے احترام میں نشستوں سے کھڑے ہو گئے۔ انہیں دیکھتے ہی مجھے ان سے جدہ میں ہوئی پہلی ملاقات یاد آ گئی۔ مشرف کا طوطی بول رہا تھا۔ جلاوطنی کی اذیت ساتھ ساتھ تھی مگر وہ بالکل ہشاش بشاش تھے اس کے بعد بھی ان سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔ حالات جیسے بھی ہوئے مگر وہ نظر ہمیشہ ہشاش بشاش ہی آئے۔ مضبوط اعصاب ان کی پہچان ہیں مگر یہ تو جیل ہے لیکن ان کی طبیعت ان سخت لمحات میں بھی کمال پرسکون نظر آئی۔ وہ ہمیشہ خوش لباس رہے ہیں مگر اب ان کے کپڑوں پر نہ تو مطلوبہ استری ہوئی تھی اور لباس بھی پسینے سے شرابور تھا مگر طبیعت ایسی نظر آرہی تھی کہ جیسے حالات کی سختی کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتی۔ ان کے لئے وہاں اور بھی تکالیف ہے مگر وہ خود پسند نہیں کرتے کہ عوام ان سے آگاہ ہوں۔ اور وہ صرف ان تکالیف کے سبب سے ان کے حامی رہیں بلکہ وہ نظریے اور حکمت عملی کی جنگ جیتنا چاہتے ہیں۔ حقیقی فتح بھی یہی ہوگی۔

خیریت دریافت کرنے کے بعد حالات حاضرہ پر گفتگو کا سلسلہ چل نکلا۔ 25 جولائی کے بعد سے جو صورت حال ہے، اس پر ان کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہیں اور حالات کے بہت جلد بہتر ہوجانے کی قوی امید ان کی گفتگو میں موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ 1993 کے سخت حالات ہو یا مشرف کا شب خون ان تمام حالات سے مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان اور مسلم لیگ کو بچا کر پہلے بھی آگے بڑھ چکے ہیں اور اب بھی انشاء اللّه ایسا ہی ہو گا۔ آئین اور جمہوریت کے ساتھ موجودہ مسخرے پن کی بھی جلد بیخ کنی کر دیں گے۔ ان کی آواز میں اعتماد اور پختگی ماضی کی نسبت اور زیادہ تھی۔ جیل میں عبادت اور کتاب دوستی ان کےمرکزی معمولات میں شامل ہیں۔ اکثر تنہائی رہتی ہے کیوں کہ جو مشقتی ہیں ان سے بھی جب بات کرنا چاہے تو اہلکار ساتھ ہوتے ہیں۔

ابھی وہ پاکستان کے حالات میں بہتری پر بات کر ہی رہے تھے کہ ایک اہلکار داخل ہوا اور اس نے ان کے کان میں کچھ کہا۔ میاں نواز شریف نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی آپ سے باتیں کرنے کا تو بہت دل چاہتا ہے مگر یہ کہہ رہے ہیں کہ ملاقات کا وقت تمام ہوا چاہتا ہے۔ وہ اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے دوبارہ ملے اور واپس چل دیے پسینہ کپڑوں میں بہتا صاف دکھائی دے رہا تھا مگر کوئی معاہدہ تو درکنار وہ اس لفظ کو سننے کے بھی روادار نہیں۔ کمرے سے واپسی پر کیپٹن صفدر سے دوبارہ ملاقات ہو گئی۔ کیپٹن صفدر مجھے مریم نواز جہاں تشریف رکھتی تھی، وہاں لے گئے۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ ان سے علیک سلیک ہوئی تو دل سے دعا نکلی کہ دوبارہ جلد ان سب سے آزادی کی حالت میں ملاقات ہو کہ وہی حقیقی قومی آزادی ہو گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں