سیاستدان مریخ سے منگوائیں کیا؟


Bilal Ghauriقومی اسمبلی کی کارروائی دیکھیں تویوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی کالج یا یونیورسٹی کے طلبہ میں مباحثہ ہو رہا ہے ۔ نوازشریف نے ایک مرتبہ پھر اپنے دکھڑے سنائے تو لوگوں کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے اور ”لگے رہو منا بھائی “کا مشہور ڈائیلاگ یاد آ گیا ”ابے بس کر رُلائے گا کیا “۔ اپوزیشن کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ وزیر اعظم ایوان میں آئیں اور سوالات کا سامنا کریں مگر جب یہ مطالبہ پورا ہو گیا تو اپوزیشن نے انہیں آڑے ہاتھوں لینے کے بجائے اچھے بچوں کی طرح خطاب سننے کے بعد خاموشی سے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔ وقفے کے بعد لوٹ کر بُدھو گھر کو آئے توقائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے گوہر افشانی کی ، پھرعمران خان اور خواجہ آصف نے اپنی خطابت کا جوہر دکھایا ۔ اور اس کے بعد محمود اچکزئی نے اظہار خیال کیا۔ میرا خیال ہے کہ یہ میلہ عمران خان یا خواجہ آصف کے بجائے محمود اچکزئی نے لوٹ لیا ہے۔ جب وہ کرپشن کے خلاف زوردار تقریر کرتے ہوئے احتساب کا ایک نیا ادارہ بنانے کی تجویز دے رہے تھے تو میرے دماغ میں وہ فرسودہ اور بیہودہ بات چٹکیاں کاٹ رہی تھی کہ رات کو اسٹیج ڈرامے میں سب سے اگلی صف میں بیٹھا شخص صبح فحاشی کے خلاف کسی احتجاجی مظاہرے میں آگے بڑھ کر نعرے لگا رہا ہوتا ہے ۔ ان دنوں اسٹیج ڈرامے تو اپنی اہمیت و افادیت کھو بیٹھے ہیں البتہ قومی اسمبلی میں ظریفانہ گفتگو اور جگتوں کے ذریعے قوم کو سستی تفریح فراہم کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

یادش بخیر ، جب دھرنے عروج پر تھے تو تحریک انصاف کے رہنما اسحاق خاکوانی نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی کہ نوازشریف صادق و امین نہیں رہے لہٰذا انہیں آئین کے آرٹیکل 62,63کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔ شنید ہے کہ ایک مرتبہ پھر اسی نوعیت کی درخواست لیکر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں تاکہ اس مرتبہ دوسرے چیف کے ذریعے نوازشریف کو گھر بھیجا جا سکے۔ منتخب عوامی نمائندوں کی اہلیت سے متعلق ہمارے ہاں مستعمل قوانین کی حیثیت اس چھلنی کی سی ہے جس میں سے اونٹ بھی با آسانی گزر سکتے ہیں لیکن کسی کو پھنسانا مقصود ہو تو چیونٹیاں بھی روک لی جاتی ہیں ۔ شائد بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہو کہ آئین کے آرٹیکل 63 کی ذیلی شق ”R“ کے تحت اسے بھی نااہل قرار دیا جا سکتا ہے جس نے دس ہزار روپے یا اس سے زائد کا بجلی بل ادا نہ کیا ہو۔ آئین کے آرٹیکل 62,63 کے تحت ایسے افراد جن کا دماغی توازن درست نہ ہو ، الیکشن لڑنے کے اہل نہیں مگر ہمارے ہاں بہت سے فاتر العقل افراد الیکشن جیت کر اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ اگر کاغذات کی جانچ پڑتال کے وقت دہری شہریت کے حامل افراد، کسی بھی مقدمے میں سزا یافتہ افراد ، نادہندگان یا قرضے معاف کرانے والوں اور کسی بھی سرکاری عہدے یا ملازمت پر موجود افراد کو نااہل قرار دیا جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں اور یہ ایسی شرائط ہیں جن کے بارے میں باآسانی فیصلہ کیا جا سکتا ہے لیکن ارکان اسمبلی کی اہلیت کے لیئے جو صاد ق امین کی شرط رکھی گئی ہے اس سے بڑا مذاق اور کیا ہو سکتا ہے۔ ہمارے ہاں تو اخلاقی پستی کا یہ عالم ہے کہ نصف سے زائد مسلمان ایک دوسرے کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں تو یہ کیسے طے ہو گا کہ کون صادق و امین ہے اور کون نہیں ۔ کیا کوئی ایسا سائنسی آلہ موجود ہے جس سے کسی شخص کی صداقت و امانت کا معیار طے ہو سکے؟کیا کوئی ایسا ادارہ ہے جس کے سرٹیفکیٹ کو اس ضمن میں مستند سمجھا جائے؟ہمارے ہاں تو وکلاءکی چابک دستیوں کا یہ عالم ہے اور قانون میں اسقدر سقم موجود ہیں کہ جوش خطابت میں مولانا محمد علی جوہر مرزا غلام احمد کو الو کا پٹھا کہ بیٹھے۔ اب یہ معاملہ عدالت میں چلا گیا۔ مگر ان کے وکیل نے عدالت میں ثابت کر دیا محولا بالا شخص واقعی الو کا پٹھا ہے۔ یہاں تو کوے کو سفید ثابت کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ اگر کوئی گواہی درکار ہے تو جھوٹے گواہ با آسانی دستیاب ہیں۔ سرٹیفکیٹ یا فتویٰ درکار ہے تو وہ بھی پیش کیا جا سکتا ہے ۔ مجھے یاد ہے جب 11مئی 2007ءکو چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کراچی آمد کے موقع پر قتل و غارتگری ہوئی اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ایم کیو ایم کے خلاف سخت موقف اختیار کیا تو جوابی حملے کے طور پر متحدہ نے آئین کے آرٹیکل 62,63 کا سہارا لیا۔ عمران خان کے خلاف ایک قرارداد بھی پیش کی گئی کہ وہ 62,63 پر پورا نہیں اترتے۔ اس کے جواب میں عمران خان نے کہا تھا کہ ان شقوں کا اطلاق تو فرشتوں پر ہی ہو سکتا ہے وگرنہ کوئی انسان اس پر پورا نہیں اترتا۔ دوسری طرف پرویز مشرف جیسا شخص نہایت ڈھٹائی سے کہتا ہے باالکل میں 62,63 پر پورا اترتا ہوں جو مرضی چیک کر لیں۔

میرا خیال ہے کہ کہ اگر 62,63 کا پنڈورا باکس کھل گیا اور عدالتیں صادق و امین کا تعین کرتے ہوئے نااہل قرار دینے لگیں تو پھر ہم اسمبلیوں کے ارکان کہا ں سے لائیں گے؟ ظاہر ہے ہمارے معاشرے میں جھوٹ بولنا تو بہت معمولی اور عام سی بات ہے ہمارے عہد کا سب سے بڑا جھوٹا شخص تو وہی ہے جو کہتا ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولتا۔ یہاں تو ایسے ایسے دروغ گو موجود ہیں کہ جن کا موقف صبح شام بدلتا ہے۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت مے نوش ہے، جعلی ڈگری فیم جمشید دستی نے پارلیمنٹ لاجز سے شراب کی جو بوتلیں بر آمد کیں اگرچہ وہ کسی ایجنڈے کا حصہ تھیں لیکن یہ حقیقت تو اپنی جگہ موجود ہے کہ ارکان اسمبلی کی اکثریت بد کردار ہے اوریہ بات کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں بلکہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ماسوائے چند افراد کے جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، سب ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ اخلاقی بے راہ روی کا یہ عالم ہے کہ کوئی بلا جھجھک ناجائز تعلقات کا حامل ہے تو کوئی شرماتے ، لجاتے اور چھپاتے ہوئے یہ کام کرتا ہے۔ بعض پارلیمنٹرین تو ایسے بھی ہیں جو نہایت ڈھٹائی اور بے شرمی سے کہتے ہیں کہ جب بازار میں دودھ باآسانی دستیاب ہو تو گھر میں بھینس رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ اگر نواز شریف کو ناہل قرار دے دیا گیا تو پھر عمران خان کا معاملہ عدالت جائے گا جن کے حوالے سے ناقابل تردید شواہد دستیاب ہیں۔ شیخ رشید جیسے لوگوں کا کیا بنے گا؟ کیا صادق و امین کی شرط افسر شاہی سمیت دیگر اہم عہدوں پر تعینات بااثر شخصیات پر بھی عائد ہوتی ہے اور اگر انہیں اس چھلنی سے گزارا جائے تو کتنے افراد اس پل صراط سے گزر پائیں گے؟خود انصاف کی کرسی پر بیٹھے لوگ ، کیا وہ ان کڑی شرائط پر پورا اتر سکتے ہیں؟ محمود اچکزئی جوش خطابت میں یہ بھی کہ گئے کہ جو کرپٹ ہے وہ پارلیمنٹ اور کاروبار سب جگہ سے باہر ہونا چاہئے۔ ان سے گزارش ہے کہ یا تو لگے ہاتھوں پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے لفظ کرپٹ کی من پسند تشریح کروا لیں وگرنہ ہمیں قانون سازی کے لیئے کسی اور سیارے سے فرشتہ صفت انسان منگوانا پڑیں گے۔ پل صراط کو میرے رب نے قیامت پر موقوف رکھا ہے تو اس میں کوئی حکمت ہو گی لہٰذا دنیا میں ہی سیاستدانوں کو 62,63 کے پُل صراط سے نہ گزارا جائے اور اگر گزارنا ہی ہے تو پھر ایسے منصف لائیں جو خود بھی اس پل صراط کو عبور کر سکتے ہوں۔


Comments

FB Login Required - comments