امریکہ کی دفاعی امداد اور پرانی شرائط


editامریکی کانگرس نے ملک کے دفاعی اخراجات کے بل کی منظوری دے دی ہے۔ پاکستان کو فوجی امداد بھی اسی بجٹ کے تحت فراہم کی جاتی ہے۔ 600 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے نیشنل ڈیفنس اختیاراتی ایکٹ میں پاکستان کو 450 ملین ڈالر فراہم کئے جائیں گے تاہم یہ رقم فراہم کرنے کے لئے تین شرائط عائد کی گئی ہیں۔ ان میں پاکستان کی طرف سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی اور اس کے لیڈروں کے خلاف مقدمات کی تصدیق، امریکی ہتھیار اقلیتی گروہوں کے خلاف استعمال نہ کرنے کی تصدیق اور ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ شامل ہے۔

امریکہ کی طرف سے فوجی امداد فراہم کرنے کے لئے اس قسم کی شرائط پہلے بھی عائد کی جاتی رہی ہیں، اس لئے ان شرائط کے ساتھ پاکستان کو فوجی امداد کی فراہمی کا فیصلہ کسی حد تک امریکی حکومت کی خواہش کے مطابق ہے۔ کیوں کہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی تصدیق امریکی وزارت خارجہ کو کرنا ہوگی جبکہ وزیر دفاع یہ تصدیق کرنے کا پابند ہوگا کہ پاکستان امریکی ہتھیاروں کو اقلیتی گروہوں کے خلاف استعمال نہیں کرتا۔ گو کہ پاکستان کو ان دونوں امریکی وزارتوں کی تصدیق حاصل کرنے کے لئے شواہد اور ثبوت فراہم کرنا ہوں گے لیکن پاکستان اس قسم کے ثبوت فراہم کرسکتا ہے۔ شرائط میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کی تصدیق میں مدد فراہم کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا معاملہ بھی شامل کیا گیا ہے اور اسے دنیا کا ہیرو قرار دیا گیا ہے۔ لیکن بل میں یہ شرط عائد نہیں ہے کہ آفریدی کی رہائی کے بغیر پاکستان کو امداد نہیں دی جا سکتی۔ اب یہ بل سینیٹ کی منظوری کے لئے جائے گا جس کے بعد صدر اوباما کی منظوری کے لئے پیش ہوگا۔

اس دوران سفارتی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکی حکومت پاکستان کے لئے ایف 16 طیاروں کی فروخت میں معاونت کے سوال پر کانگرس سے رجوع کررہی ہے تاکہ سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چئیرمین سینیٹر باب کارکر کی اس پابندی کو ختم کروایا جا سکے کہ امریکی وسائل ان طیاروں کی خرید کے لئے صرف نہیں کئے جا سکتے۔ امریکہ کے وزیر دفاع ایش کارٹر نے بھی حالیہ دورہ بھارت کے دوران اس فروخت پر بھارتی اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لئے ان طیاروں کی ضرورت ہے۔

ان دو خبروں سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ چند ماہ کے دوران سرد مہری کی جو کیفیت موجود تھی ، وہ کسی حد تک کم ہو سکے گی۔ لیکن پاکستان کو اپنی خا رجہ اور دفاعی پالیسی اس ادراک کے ساتھ تیار کرنے کی ضرورت ہوگی کہ امریکہ بھارت کو خطے میں اپنے مفادات کا محور سمجھتا ہے ۔ اس کی پالیسیاں بھارتی اثر و رسوخ سے متاثر ہوں گی۔ واشنگٹن میں بھارتی لابی کو طاقتور امریکی حلقوں میں دسترس حاصل ہے اور اس کی بات کو توجہ اور ہمدردی سے سنا جاتا ہے۔ ان حالات میں پاکستان اور امریکہ کو باہمی تعلقات کے حوالے سے ایسی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہوگی کہ بھارت کی طرف امریکی جھکاؤ پاکستان کے قومی مفادات کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ اسی طرح پاکستان کو ہر قسم کے دہشت گردوں کے خلاف اقدام کرکے پاک سرزمین کو دوسرے ملکوں میں دہشت گردی کرنے والے گروہوں سے پاک کرنے کی ضرورت ہوگی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali