ہم پاکستانیوں کا اخلاق ….


\"masroorآپ کسی دن کچھ وقت کے لئے کسی سڑک یا چوک پر کھڑے ہو جائیں اور مشاہدہ کریں کہ ہم پاکستانیوں میں کتنے فیصد لوگ اپنی روز مرّہ زندگی میں معقول رویہ اپناتے ہیں۔اگر سو میں سے دس فیصد بھی اخلاقی ،مذہبی ، سماجی اقدار اور قانون کی پیروی کرنے والے مثبت سوچ کے حامل افراد نظر آجائیں تو بڑی بات ہو گی۔مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم یا توثواب کی غرض سے \”امت مسلمہ\” کی تعداد اور شان و شوکت بڑھانے یا پھر شائدمحض \”مردانگی\” کی دھاک بٹھانے کے لئے بچوں کی فوج ظفر موج پیدا کرتے ہیں اور پھر انھیں سماج پرمسلّط کر دیتے ہیں۔رہا ان کی تعلیم و تربیت ، صحت اور انھیں معاشرے کا کارآمد فرد اور اچھا شہری بنانے کا معاملہ تو اس کیلئے بھلا ہم کیوں تکلّف اٹھائیں! یہ سارے کام تو حکومت کے ہیں، ہم نے امّت کی تعداد میں اضافے کیلئے اپنا حصہ بقدر جثّہ ڈال دیا ہے کیا اتنا کافی نہیں ہے!

کچھ عرصہ پہلے میرے ایک غیر ملکی دوست کی گاڑی کا اسلام آباد میں حادثہ ہو گیا ، انھیں اللہ نے بچا لیا لیکن گاڑی کا کافی نقصان ہوا۔ مجھے اسی دن بذریعہ بس چند دن کیلئے اپنے آبائی علاقے واپس جانا تھا سو میں نے مروتاًاپنی گاڑی انھیں دینے کی پیش کش کر دی جو انھوں نے میرے شدید اصرار پر قبول کر لی۔ میری واپسی پر جب وہ مجھے گاڑی لوٹانے آئے تومجھ سے اپنی گاڑی پہچانی ہی نہیں جا رہی تھی کیونکہ ان صاحب نے نہ صرف اس کے چھوٹے موٹے نقص خود دور کروا لئیے تھے بلکہ مکمل ٹیوننگ کے ساتھ ساتھ کار کو واش اور پالش بھی کروا رکھا تھااور پیٹرول کی ٹینکی بھی فُل تھی جس سے مجھے حیرانی کے ساتھ شرمندگی بھی ہوئی کیونکہ وہ اب مُرمّت پر اٹھنے والے اخراجات لینے سے انکاری تھے حالانکہ انھوں نے اس سارے عمل میں اپنی سوشل سروس سے مجھے اس صبر آزما انتظار کی کوفت سے بچایا تھا جو ایسے مواقع پر برداشت کرنا پڑتی ہے اور اس لحاظ سے وہ میرے محسن تھے۔اس کے برعکس ہم اپنے پاکستانی دوستوں کو بھی جانتے ہیں کہ اگر آپ بھول کریا کسی دباو¿ میںآ کر اپنی کوئی چیز کسی کو امانتاً دے دیں تو آپ پریشانی میں ہی رہتے ہیں کہ واپس آپ کو کس حالت میں ملتی ہے یا ملتی بھی ہے کہ نہیں۔ خاص طور پر ادھار کے معاملے میں ہم ایسے واقع ہوئے ہیںکہ جذباتی انداز میں اپنی کوئی ایسی مجبوری دوست کو بتائیں گے کہ وہ جیب خالی کرنے پر مجبور ہو جائے گا، چاہے خود وہ اپنی ضروریات بمشکل تمام پوری کر رہا ہو۔ایک ہفتے میں ادائیگی کا وعدہ کریں گے لیکن واپسی کیلئے قیامت کا انتظار کروائیں گے۔ تقاضا کرنے پر اپنا اور اپنے خاندان کی ضروریا ت اور مجبوریوں کا رونا روئیں گے لیکن دوسرے کے بارے میں یہی سمجھیں گے کہ نہ اس کا خاندان ہے اور نہ ہی اس کی ضروریا ت ہیں۔

ہمارے ہاں اکثرگھر میں ایک کمانے والا ہو گا اور کئی کھانے والے لیکن اس کے باوجود کمانے والے کا سب ناک میں دم کر کے رکھتے ہیں کہ فلاں کیلئے وہ چیز لی تو میرے لئیے کیوں نہ لی ۔ یا اس کیلئے تو اچھی لی میرا تو کوئی خیال ہی نہیں۔ اور اگر گھر کا کفیل سرکاری ملازم ہو تو اس کا گھر اور خاندان والے اتنا ناک میں دم کریں گے کہ وہ جھوٹی انا اور شان و شوکت و عز ت کیلئے کرپشن کی دلدل میں پیر رکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی مغز مار مار کے سرکاری افسر بن جائے تو پھر گھر والے ، برادری والے اور دوست احباب ایسی فرمائشیں کرتے اور توقعات وابستہ کر لیتے ہیں کہ گویا وہ سرکار کا تنخواہ یافتہ ملازم نہیں بلکہ کئی ملوں اور فیکٹریوں کا مالک بن گیا ہو۔اس بیچارے کے بارے میں یوں سمجھا جائے گا جیسے پورا پاکستان اس کے حکم سے ہی چلتا ہے یوں طرح طرح کی سفارشوں کا تانتا بندھ جائے گا، اگر کام ہو گیا تو دوسرا کام تیار ہو گااور اگر نہ ہوا تو اس بیچارے کے بارے میں یہی کہا جائے گا\”چھڈ پرے، فارغ آدمی ہے یار\”اور فارغ اس لئیے ہے کیونکہ میرا کام نہیں کروا سکااور یہ کبھی نہیں سوچے گا کہ خود جو اپنے کاموں کیلئے دوسروں کا محتاج ہے وہ بڑے کام کا ہے۔کسی نئے بندے سے ہماری سلام دعا ہو تو سب سے پہلے یہی سوچتے ہیں کہ کس طرح اس سے فائدہ لیا جائے۔ جب تک فائدہ ملنے کی امید رہے سلام دعا رہتی ہے اس کے فوری بعد تم کون اور میں کون۔ہمارے نزدیک اچھا انسان ہونے کی تعریف یہی ہے کہ وہ ہمارے کتنا کام آ سکتا ہے۔

مذہبی تعلیمات کا خواہ عشر عشیر بھی پتہ نہ ہولیکن ہم مذہبی اتنے ہیں کہ سنی سنائی باتوں پر فتوے دینا اور بغیر تحقیق کافر قرار دینے میں وقت نہیں لگاتے ۔جو بہت زیادہ مذہبی ہوتے ہیں سمجھ لیں یا تو ان کا کاروبار مذہب بیچنا ہے یا پھر وہ اصل \”کاروبار\” پر پردہ ڈالنے کیلئے مذہب کی آڑ لیے ہوتے ہیں۔خاص طور پر آج کل تو مذہب اور کرائم کا چولی دامن کا ساتھ نظر آتا ہے ۔بدکردار، بدخصلت اور سماج دشمن لوگ آپ کو اپنے ارد گرد ہمیشہ مذہب کی آڑ لیتے نظر آئیں گے جب کہ حقوق العباد کے معاملے میں وہ کوسوں دور ہوں گے۔ویسے کسی سفید پوش غریب کی مدد نہیں کریں گے لیکن دکھاوے کیلئے محافل سجائی جاتی ہیں اور دیگیں پکائی جاتی ہیں جن میں اکثر اپنی ہی حیثیت کے کھاتے پیتے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ دوسرے کی ماں بہن اور عزت کو چھیڑتے وقت بے غیرت بن جاتے ہیں اور جب اپنی عزت کا معاملہ درپیش ہو تو ہم جیسا کوئی غیرت مند ہی نہیں ہوتا۔ غیرت کے نام پر عورتیں ناحق قتل کی جاتی ہیں حالانکہ صورتحال اس کے بر عکس ہو توشاید ہی کوئی مرد غیرت کے نام پر قتل ہونے سے بچ سکے۔

مصروفیت کی ہمارے نزدیک تعریف یہ ہے کہ کوئی کتنا پیسہ اکٹھا کرتا ہے۔ اس کے باوجود کہ ہم دنیا کی فارغ ترین قوم ہیں جس کا سب سے بڑا ٹیلنٹ وقت ضائع کرنا ہے لیکن جب بھی کسی سے ملیں گے یہ کہے گاکہ وقت نہیں ۔ خاص طور پر پڑھنے لکھنے اور ہر اس محفل یا شخص جس سے علم و تربیت مل سکتی ہو اس کیلئے ہمارے پاس وقت بالکل بھی نہیں ہو گا ۔ عقل و دانش کی تعریف ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جو جتنا دولتمند ہے وہ اتنا ہی عقل مند ہے۔ قائد اعظم کو بھی شائد ہم قائد اس لیے مانتے ہیں کیونکہ نوٹوں کے اوپر اس کی تصویر ہوتی ہے۔ ترقی کا تصور بھی ہمارے نزدیک وہی ہے جو ہمارے پرانے مغل شہنشاہوں کا ہوتا تھا یعنی عمارتیں اور کنکریٹ کے پہاڑ کھڑے کرنا ، انسانی وسائل کو ترقی دینے کو ہم ترقی نہیں مانتے۔ کہنے کو غریب قوم ہیں لیکن حکمرانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی شاہانہ مزاج رکھتے ہیں۔ انسان کے کیریکٹر کی قدر نہیں بلکہ اس کے عہدے ، اختیار اور دولت کے اعتبار سے اس کی قدر کرتے ہیں۔ جھوٹ ، وعدہ خلافی ، ریاکاری، فحش گوئی، علم دشمنی ، بد تہذیبی ، فریب کاری، خیانت اور شر و فساد پھیلانے سے نفرت کہ جو آپﷺ سرکار کی تعلیمات کا خاصہ ہیں وہ ہم نام نہاد عشق رسول کے دعویداروں میں کہیں نظر نہیں آئیں گی۔

ہمارے کردار میں منافقت ، رشتوں میں مادیت ،نوکری میں رشوت و سفارش ، ٹیکس ادائیگی میں چوری ، ہلدی میں مصنوعی رنگ ، دودھ میں پانی ، الیکشن میں دھاندلی ، مرچ میں سرخ اینٹیں ، شہد میں شیرہ ، نیت میں بد نیتی ، گھی میں کیمیکل ، طبیعت میں جلن و حسد ، ہوٹلوں میں مردار گوشت، امتحان میں نقل ، مدارس میں لونڈے بازی ، بجلی کے بل میں ہیرا پھیری اور دوستی میں خود غرضی ہے۔ کیا یہ سب ہمارے اخلاقی دیوالیہ پن کی علامات نہیں؟ بظاہر حضور ﷺ کی محبت کے دعویدار اصل میں شیطان کی محبت میں گرفتار نظر آئیں گے۔اس طرح کی عوام کے اوپر پھر ایسے حکمران ہی مسلط ہوں گے کہ جن پہ مخالفین جب کرپشن کا کوئی الزام لگاتے ہیں تو معقول ترین اوربہترین جواب یہ ہوتا ہے کہ کیا تم نے کرپشن نہیں کی؟یقینی طور پران حالات میں ایسے لوگ ہی حکمرانی کے اہل ٹھہریں گے جو اقتدار کے مزے یہاں لوٹیں گے، پیسہ یہاں کمائیں گے اور خون یہاں کے لوگوں کا چوسیں گے لیکن جیسے ہی باری ختم ہو گی تو دولت بھی باہر اور خود بھی خاندان سمیت باہراور موقع ملتے ہی دوبارہ امت مسلمہ کی شان و شوکت میں اضافہ کرنے اور مردانگی دکھانے کی غرض سے پیدا کئیے گئے گدھوں کے جلسوں کی منڈی میں اپنی لیڈری چمکائیں گے۔ خدا اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود نہ بدلنا چاہے، تو آئیں اپنے گریبان میں بھی ذرا جھانک کر دیکھیں!


Comments

FB Login Required - comments

مسرور احمد کی دیگر تحریریں
مسرور احمد کی دیگر تحریریں