وزیر اعظم ہاؤس میں رضاکارانہ بنیاد پر سکول چلانے کی ہماری آفر


ہمارے وزیراعظم نے وزیراعظم ہاؤس میں تعلیمی ادارہ قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ یہ بہت ہی اچھا عزم ہے۔ پاکستان ایک نہایت ہی نازک دور سے گزر رہا ہے اور قوم کو اس وقت تعلیم و تربیت کی جتنی زیادہ ضرورت ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ حکومت کو بھی اس کا احساس ہو گا اور حکومت کو دیکھ دیکھ کر ہمیں بھی یہی احساس مارے ڈال رہا ہے۔

اگر ہم نے اس تاریخی موقعے پر اپنے وزیراعظم کا ساتھ نہیں دیا تو، میرے منہ میں خاک، نریندر مودی کا اکھنڈ بھارت کا خواب پورا ہو جائے گا یا ادھر مغربی جانب سے افغان دوبارہ ہماری سر زمین پر حملہ کر دیں گے۔ وہ پہلے بھی کئی مرتبہ ایسا کر چکے ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ ان کی فطرت اب بدل گئی ہو۔ وہ تو پاکستان کی طاقت کی وجہ سے سہمے بیٹھے ہیں اور جیسے ہی کمزوری کا نشان دیکھا تو ہمیں نہیں بخشیں گے۔

ہمارے وزیراعظم نے درست فرمایا ہے کہ قوم کو سب سے زیادہ تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں یوتھ کوئی غلط فیصلہ نہ کرے بلکہ ایک باشعور تعلیم یافتہ فرد کی حیثیت سے ملک و قوم کے اور اپنے ذاتی مستقبل کا درست فیصلہ کرے۔ آج کی دنیا میں تعلیم ہی پیسہ ہے اور تعلیم ہی طاقت ہے۔ اسی سے معیشت بنتی ہے، اسی سے دفاع ہوتا ہے، اسی سے مصنوعی سیارے بنتے ہیں جن پر نہ صرف ہم رنگین فلمیں دیکھتے ہیں بلکہ اپنی بھوک مٹانے کو جی پی ایس کے ذریعے نزدیکی ریسٹورنٹ کا راستہ بھی جانتے ہیں۔

لیکن معاملہ یہ ہے کہ قوم کا ایک ایک فرد اس کا ساتھ نہ دے تو لیڈر اکیلا کچھ نہیں کر سکتا۔ سیانے کہہ گئے ہیں کہ اکیلا چنا بھاڑ نہیں جھونکتا۔ اس لئے ہمارے وزیراعظم بھی اس کلیے سے مستثنی نہیں ہیں۔

اس موقعے پر ہم ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے آگے بڑھ کر وزیراعظم ہاؤس کا تعلیمی منصوبہ مفت میں چلانے میں مدد کی آفر کرتے ہیں تاکہ ہمارے وزیراعظم کا بوجھ کچھ ہلکا ہو۔ نہ صرف یہ کہ ہم اس فل ٹائم جاب کا کوئی معاوضہ نہیں لیں گے بلکہ ہم چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ میں ہر سال دس لاکھ روپیہ بھی جمع کروا دیا کریں گے۔

اب آپ پوچھیں گے کہ کیا ہمارے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آئے گا کہ ہم ایسا بڑا سکول نہ صرف اپنی ذاتی جیب سے چلائیں بلکہ چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ میں دس لاکھ روپلی بھی عطیہ کریں۔

ہم نے اپنے وزیراعظم سے یہ سیکھا ہے کہ اگر لیڈر اچھا ہو تو سب کچھ ممکن ہے۔ اس کی نیک نیتی ناممکن کام کو بھی ممکن کر سکتی ہے۔ وزیراعظم ہاؤس کا سکول چلانے کے لئے بھی ہماری نیت نہایت نیک ہے۔ ہم ایسا کریں گے کہ وزیر اعظم ہاؤس کی پہلی دو منزلوں پر سکول کی کلاسز ہوں گی۔ ننھے بچوں کو دو منزلوں سے زیادہ سیڑھیاں چڑھانا اچھا نہیں۔ وہ گر کر چوٹ کھا سکتے ہیں۔ نیز آج کل اساتذہ بھی زیادہ تر بیمار شیمار ہی رہتے ہیں، کسی کے گھٹنے میں تکلیف ہے، کسی کی کمر خراب ہے تو کسی کا دم پھول جاتا ہے۔ اس لئے پہلی دو منزلوں کو ہی سکول کے لئے استعمال کیا جانا مناسب ہے۔

پھر ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ زمانہ بہت زیادہ خراب ہو چکا ہے۔ میڈیا اور انٹرنیٹ نے ہمارے ٹین ایجرز کو وقت سے پہلے ہی جوان کر دیا ہے اور ان کو بہت چھوٹی سی عمر میں ہی وہ سب کچھ پتہ چل چکا ہے جو ان کے بڑوں کو بزرگ ہونے کے بعد بھی ٹھیک سے پتہ نہیں چل پایا ہے۔ اس لئے یہ اہم ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کا سکول ایک عمارت میں نہ ہو۔

اب ان تمام حساس معاملات کے پیش نظر ہماری یہ رائے ہے کہ ہم وزیراعظم ہاؤس کے دائیں والے حصے میں لڑکیوں کا سکول کھولیں گے اور بائیں والے میں لڑکوں کا۔ درمیان والی عمارت سکول کے آفس کے لئے استعمال ہو گی تاکہ لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک دوسرے سے دور رہنا ممکن بنایا جا سکے۔

اب سوال رہ جاتا ہے کہ سامنے کی عمارت میں تو سکول بن گئے، پیچھے بیکار کھڑی پانچ چھے منزلہ عمارت کا کیا مصرف ہو گا جسے ننھے بچوں اور بزرگ اساتذہ کے استعمال میں لانا ممکن نہیں ہے۔ اقبال نے فرمایا ہے کہ
نہیں ہے چیز نِکمّی کوئی زمانے میں!
کوئی بُرا نہیں قدرت کے کارخانے میں

اس بظاہر نکمی عمارت کا بھی ہم نے ایک ایسا مصروف سوچ رکھا ہے جس کے ذریعے معصوم بچوں کو نہ صرف اعلی تعلیم دینے کے اخراجات پورے ہو جائیں گے بلکہ ہم چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ میں دس لاکھ سالانہ بھی ادا کر سکیں گے۔ مثلاً ہمارا ارادہ ہے کہ اس کے بڑے کمروں کو ہم شادی ہال کے طور پر کرائے پر دیا کریں گے۔ وزیراعظم سیکرٹیریٹ کے کمروں کو ہم دفاتر کے طور پر کرائے پر چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اوپری منزل پر ایک بہترین ہوٹل بنا دیا جائے گا جس کے کمروں میں رہنے والوں کو سارا اسلام آباد اپنے قدموں میں پڑا دکھائی دے گا۔

ہمیں موقر قومی روزناموں کے ذریعے پتہ چلا تھا کہ ادھر مربے کھانے والے گھوڑوں کے لئے وسیع اصطبل اور پولو گراؤنڈ بھی موجود ہے۔ کچھ حصے میں ہم شرفا کے بچوں کے لئے ایک ہارس رائیڈنگ کلب بنا دیں گے اور دوسرے میں بچوں کے لئے تھیم پارک بنا دیں گے جس میں بچوں کو اسلام آباد کے شاہی تماشے دکھائے جائیں گے۔ یہ سارے فلاحی منصوبے صرف سکول کی خاطر ہوں گے تاکہ حکومت سے کوئی پیسہ ٹکہ لیے بغیر سکول چل سکے۔

ان تمام فلاحی سرگرمیوں سے بہرحال ہمارے ذاتی اخراجات تو پورے نہیں ہو پائیں گے اور نہ ہی ہماری نیت بھرے گی مگر انشا اللہ سکول کے اخراجات پورے ہو جائیں گے اور وزیراعظم ہاؤس کے اس سکول میں ہم اسلام آباد کے تین چار سو بچے بغیر کوئی فیس لئے مفت میں پڑھا سکیں گے۔ ہم قوم کی خاطر ایک بڑی قربانی دیتے ہوئے اپنی ذات کو اس بری طرح نظرانداز کرنے کو تیار ہیں۔

امید ہے کہ ہمارے وزیراعظم کو ہمارا یہ منصوبہ پسند آئے گا۔ بلکہ وزیراعظم ہاؤس کے علاوہ اسلام آباد میں دو تین مزید جگہیں بھی ہماری نظر میں ہیں جہاں ہم وزیراعظم کے مشن کو تکمیل تک پہنچانے کی خاطر ایسے ہی مزید مفت سکول بھی بنا سکتے ہیں۔ ادھر اپنے لاہور میں بھی ایسی بہت سی جگہوں پر ہم نظریں جمائے بیٹھے ہیں جو ہمارے ایسے منصوبوں کے ذریعے قوم کی خدمت کر سکتی ہیں۔ وزیراعظم کو چاہیے کہ جلد از جلد ہمیں ملاقات کے لئے طلب کر لیں تاکہ پانچ سال پورے ہونے سے پہلے پہلے ہمارے عزائم پورے ہو جائیں اور ہم قوم کو سبق پڑھا کر تعلیم یافتہ کر سکیں۔

ہمیں یہ احساس ہے کہ ہم واحد شخص نہیں ہیں جو وزیراعظم کا جذبہ دیکھ کر قوم کی اس طرح خدمت کرنے کے لئے بے قرار ہو رہا ہو۔ ایسا ایک ہجوم ہمارے وزیراعظم کے گرد اکٹھا ہو گا۔ لیکن ان کو میرٹ پر فیصلہ ہمارے حق میں کرتے ہوئے باقیوں کو یہ سمجھا دینا چاہیے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب نہ ہوا تو نریندر مودی کا کا اکھنڈ بھارت بنانے کا خواب شرمندہ تکمیل ہو سکتا ہے اور مغربی سرحد سے افغان بھی حملہ کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 988 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar