ڈاکیہ: انتون چیخوف کی کہانی


رات بہت بیت چکی تھی۔ تین بج رہے تھے۔ ڈاکیہ اپنی علی الصبح ڈیوٹی پر جانے کی تیاری تقریباٌ مکمل کر چکا تھا۔ اپنی وردی کے اوپر گرم اوور کوٹ چڑھایا ہوا تھا۔ سر پر ڈاکخانے کی مہر لگی ٹوپی پہنےوہ منتظر تھا کہ ڈرائیور ڈاک کے سب تھیلے تین گھوڑوں والی گاڑی میں لاد دے جو ابھی دروازے پر آ کر کھڑی ہوئی تھی۔

غنودگی کا مارا پوسٹ ماسڑ اپنی کرسی پر بیٹھا اونگھ  رہا تھا۔ اسکی میز کرسی کے ساتھ ایسے رکھی ہوئی تھی کہ لگتا تھا وہ کاؤنٹر کے سامنے بیٹھا ہے۔ وہ ایک فارم بھر رہا تھا اور فارم سے نظر اٹھایے بغیر اس نے ڈاکیے کو مخاطب کیا۔

میرے بھانجے کو بہت ضروری ریلوے سٹیشن پر پہنچنا ہے۔ اپنی ماں کے پاس گاؤں جا رہا ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ قانون میں ڈاک کی گاڑی میں کسی پرائیویٹ سواری کو بٹھانا منع ہے لیکن کیا ہو سکتا ہے۔ میں اس کے لئےالگ سے گھوڑا کاڑی کرنے سے تو قاصر رہا، تم اس کو اپنے ساتھ ہی بٹھا لینا۔ کوئی بات ہوئی تو میں سنبھال لوں گا۔

گاڑی تیار ہے۔ باہر سے کوچوان نے آواز لگائی

کون لے جا رہا ہے گاڑی آج؟ ڈاکیے نے پوچھا

گلازوف، پوسٹ ماسٹر نے جواب دیا، چلو خدا کے حوالے۔ احتیاط سے جاؤ۔ رسید پر دستخط کرو اور نکلو۔

ڈاکیے نے رسید پر دستخط کیے اور باہر چلا گیا۔ اندھیرے کی وجہ سے اگرچہ صاف نظر نہیں آ رہا تھا لیکن ایک گھوڑا گاڑی کا خاکہ سا دکھائی دے رہا تھا۔ تینوں گھوڑے ساکت کھڑے تھے۔ سوائے بیچ والے گھوڑے کے جس کے سر ہلانے کی وجہ سے کبھی کبھی گھنٹی بجنے کی آواز سنائی دیتی تھی۔ ڈاک کے تھیلے اندھیرے کا ڈھیر لگ رہے تھے، گاڑی کے نزدیک دو سائے سے نظر آ رہے تھے۔ ان میں ایک سایہ ایک سکول کے لڑکے کا تھا جو کتابیں ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھا اور دوسرا گھوڑا گاڑی کے کوچوان کا جو پائپ پی رہا تھا۔ جلتے تمباکو کی چمک بغیر کسی سہارے کے ادھر سے ادھر آتی جاتی نظر آ رہی تھی۔ کبھی یہ چمک ختم ہو جاتی لیکن جیسے ہی کوچوان کش لیتا، تمباکو کا انگارہ پھر سلگنا شروع کر دیتا اور ہوا میں معلٌق ادھر ادھر چمکتا لظر آتا۔ صرف ایک لمحے کے لئے جلتے تمباکو کی روشنی میں کوچوان کی آستین، گھنی مونچھیں، آنکھوں پر چھتری کی طرح جھکی بھنوؤں کی ایک ہلکی سی جھلک نظر آئی۔

ڈاکیے نے خطوں سے بھرے ہوئے تھیلوں کو زور دے کر ذرا نیچے کیا اور اپنی زنگ آلود پرانی جنگ کی نشانی تلوار ان پر رکھ دی اور ایک تختے پر جو بنچ کا کام دے رہا تھا بیٹھ گیا۔ لڑکا بھی اپنی کتابیں لیے ہوئے اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔

اتنی دیر میں پوسٹ ماسٹر وردی کا تکلف کیئے بغیر رات کے گاؤن اور پاؤں میں چپل پہنے باہر نکل آیا۔ اتنا ضرور کیا کہ سردی کی شدت کی وجہ سے گاؤن پر ایک واسکٹ چڑھا لی تھی۔

‘بیٹے اپنی امٌاں کو میری طرف سے بہت پیار دینا۔ اور اپنے ماموں کو پارسل دینا نہ بھولنا۔ ‘ پوست ماسٹر نے اپنے بھانجے سے کہا اور کوچوان کو اشارہ کیا کہ بس اب وہ چل پڑے۔۔

کوچوان نے ہلکے سے لگام کو جھٹکا دیا، زبان سے ٹخ ٹخ کی آواز نکالی اور گاڑی حرکت میں آ گئی۔ بڑی گھنٹی ایسے بجی جیسے چھوٹی گھنٹیوں کو چلنے کا حکم دے رہی ہو۔ چھوٹی گھنٹیاں بھی تعمیل میں یک زبان ہو کر بجیں۔ کوچوان نے اپنی سیٹ پر کھڑے ہو کر ہلکے سے چابک گھوڑوں کی پیٹھ پر لگایا اور گاڑی کچی سڑک پر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئی، پوسٹ ماسٹر نے چلتے چلتے ایک مرتبہ پھر یاد دہانی کرائی۔ ‘سب کو میری طرف سے بہت پہت پوچھناـ

چھوٹا سا شہر جس میں یہ ڈاک خانہ واقع تھا ابھی نیند کے مزے لے رہا تھا۔ درخت اور مکان اندھیرے میں گلی کےدونوں طرف صبح کے انتتظار میں کھڑے تھا۔ دور دور روشنی کے آثار نہیں تھے۔ تاروں بھرے آسمان پر اکا دکا بادل نظر ارہے تھے۔ پیلا سا ڈھلتا چاند اندھیرے کو ہرانے میں میں ناکامی کا سامنا کر رہا تھا۔ رات سرد اور پرنم تھی لیکین سانس لیتے ہوئے ہوا میں خزاں کی خاص خوشبو کا احساس ہوتا تھا۔

سکول کے لڑکے نے، جو اپنی مفت سواری کے لیے ڈاکیے کا احسان مند تھا، نہایت ادب سے سے گفتگو شروع کی۔

‘اگر گرمی کا موسم ہوتا تو اب تک خاصی روشنی ہو چکی ہوتی، لیکن اس وقت تو صبح کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ گرمی تو اب بس ختم۔ لڑکے نے آسمان کی طرف دیکھا اوربات جاری رکھی، ‘آسمان کو دیکھ کر پتہ چل جاتا ہے کہ خزاں آ گئی ہے۔ ادھر دیکھیں، دائیں طرف۔ وہ ایک قطار میں تین ستارے نظر آ رہے ہیں نا، اسکو سہ تارہ کہتے ہیں جو اس خطٌے میں صرف ستمبر کے مہینے میں نظر آتا ہے۔’

ڈاکیے نے اپنے ہاتھ آستینوں میں گھسائے اور اپنا چہرہ گرم کوٹ کے کالر میں مزید دھنسا دیا۔ نہ کوئی حرکت کی نہ آسمان کی طرف دیکھا۔ بظاہر اسے سہ تارے سے کیا کسی بھی ستارے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ رات کے یہ تارے دیکھنا اس کا معمول تھا جس سے اب وہ خاصا اکتا چکا تھا

لڑکے نے کچھ دیر تو صبر کیا مگر پھر بولے بغیر نہ رہا گیا۔

بہت سردی ہے۔ اب صبح ہو جانی چاہیے۔ انکل آپ کو معلوم ہے سورج کس وقت نکلتا ہے؟

‘کیا’؟ ڈاکیے نے پوچھا۔

سورج آج کل کتنے بجے نکلتا ہے؟

جواب کوچوان نے دیا، ‘ پانچ اور چھ کے درمیان

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں