ایک روسو کا سوال ہے بابا


zafar kakarغالب کو داد دینی چاہیے کہ تعمیر میں خرابی کی ایک ہی صورت مضمر تھی ۔ یہاں تو خانہ انوری آباد ہے مگردزدیدہ نظری کی بجائے عقابی روح اچھل اچھل کر داد عیش سمیٹ رہی ہے۔ جن لفظوں پر شرمندگی ہونی چاہیے وہ الفاظ دانشور ببانگ محفل لکھتا ہے اورقاری دمڑی کاپوستی بنے سر ہلاتا رہتا ہے۔ مانا کہ امن عامہ کی صورت حال مخدوش ہے۔ مانا کہ معیشت کچھوے کی چال سسک رہی ہے۔ معلوم ہے کہ تعلیم کی صورت حال اکارت ہے۔ صحت کا شعبہ زوال پذیر ہے۔ بدعنوانی کا ناسور پورے سماج میں سرایت کر چکا ہے مگر قوم کی مسند دانش پر براجمان اہل دانش کیا خرافت بیچ رہا ہے؟ تاریخ سے سیکھنا چاہیے کہ قومیں جب زوال کا شکار ہوتی ہیں تو میلان میں لیونارڈو ڈاونچی آبی پہیہ بنانے کی جستجو میں لگا رہتا ہے اور پیرس میں روسو عمرانی معاہدہ تحریر کر رہا ہوتا ہے۔ تینتیس برس کا تھامس جیفرسن امریکا کا اعلان آزادی تحریر کرتا ہے۔ ادھر دیکھیے کہ پانامہ کا سیاپا ہی ختم نہیں ہو رہا۔ حکمرانوں کی بدعنوانی کو جمہوریت کی ناکامی سے جوڑا جا رہا ہے اور بہتری کی توقع وہاں سے کشید کرنے کا ارادہ ہے جہاں قوم کی اجتماعی دانش کی مقدس دستاویز چند اوراق سے زیادہ کی وقعت نہیں رکھتی۔

خرابی کی صورت جب پورے سماج کی تعمیر میں مضمر ہو تو اہل دانش کا کام سماج کے لئے نئی راہیں متعین کرنا ہوتا ہے۔ ہمارا سماج اس وقت جس دلدل میں دھنسا ہے اس سے نکلنے کی صرف ایک صورت ہے اور وہ ہے سیاسی فکر کی تشکیل جدید۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قوم جب زوال کا شکار ہوتی ہے تو اہل دانش قوم کے سیاسی فکر کی تشکیل جدید کرتے ہیں تاکہ سیاسی قوتیں اس سے نمو پا کر اپنے لئے نئی راہیں متعین کریں۔ یورپ میں روسو اور والٹئیر کا کام اس کے سامنے کی مثال ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارے یہاں اس کام کی سرے سے ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔ سوچنے والے اذہان بھی معاشرے میں اپنی راہیں فوری نتائج کے حصول سے جوڑ لیتے ہیں۔ ایک تصویر خرابی کی دیکھ لیجیے۔ صحافت ایک مقدس پیشہ جو قوم کی راہ متعین کرنے اور سوال اٹھانے کا ذمہ دار ہے۔ ادھر صحافی یا حکومتوں سے مفادات وصول کر رہے ہیں یا پھر ٹی وی اسکرینوں پر ہذیان بک رہے ہیں۔ سول سائٹی سماج کی نبض ہے۔ ادھر سول سوسائٹی میں سوچنے سمجھنے والے افراد یا غیر ملکی مفادات کے شکار ہو کر اپنی راہ کھوٹی کرتے ہیں یا پھرفوری شہرت کے لئے ٹی وی کیمروں کی موجودگی میں کسی بونے کے خلاف احتجاج کرتے نظر آتے ہیں یا پھر زیادہ سے زیادہ کسی سیاسی جماعت میں بہتر عہدے کے حصول کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں۔ ان کا تو خیر کیا ہی ذکر جن کی دن رات محفلیں مغربی طرز تعیش سے بھرپور ہوتی ہیں مگر اخبار کے صفحے اور ٹی وی کی اسکرین پر مشرقی اقدار کے وعظ سناتے ہیں اور اقبال کے شاہینوں کا خون گرماتے رہتے ہیں۔ خون گرم ہونے پر پتہ چلتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کسی پر تشدد تحریک کے کارکن بن سکتے ہیں۔

ایک صورت حال تقسیم سے پہلے درپیش تھی۔ اس کا ادراک حضرت اقبال نے کیا اور Reconstruction of religious thought in islam  لکھ دی۔ اقبال کو مسئلہ یہ درپیش تھا کہ مذہب زندگی میں فعال کردار ادا کرے گا یا نہیں کرے گا۔ اقبال اور ان کے ہمنوا دانشوروں کا خیال تھا کہ مسلم معاشرے کی تعمیر سیکولر بنیادوں پر ممکن نہیں ہے۔ جان لینا چاہیے کہ یہاں ریاستی سیاسی بندوبست کی بات نہیں ہو رہی بلکہ معاشرتی زندگی کی بات زیر بحث ہے۔ گو اقبال کی شاعری اور خطبات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال ریاستی سطح پر بھی ایک مذہبی ریاست کے قائل تھے لیکن اس موضوع سے اجتناب اس لئے ضروری ہے کہ ماہرین اقبالیات کے پاس اس ضمن میں متضاد آرا یا دعوے موجود ہیں لیکن Reconstruction of Religious Thought in Islam سے یہ طے ہے کہ اقبال معاشرے میں مذہب سے زندہ تعلق کے حامی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمان قوم کو اگر مذہب سے زندہ تعلق قائم کرنا ہے تو وہ مذہب کی’ فقہی تعبیر‘ جو بن چکی ہے اس سے ممکن نہیں ہے۔ یہ بات سمجھنے والی ہے کہ محمد رسول اللہ جو دین دے کر گئے ہیں وہ لوگوں کے ذریعے تفہیم کے مراحل سے گزر کر ہم تک پہنچا ہے۔ اور لوگوں کے اس تفہیم نے ایک ’فقہی تعبیر‘ اختیار کر لی ہے جس کو اقبال Religious Thought کہتے ہیں۔ غور کیا جائے تو پوری مسلم دنیا کو آج اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ ایسی ہی ضرورت کا ادراک کر کے مغرب میں احیائے علوم کی تحریک چلی مگر مغرب میں Renaissanceسے پہلےReformation کی تحریک چلی۔ اور مسلمانوں کو اسی Reformationکی ضرورت ہے۔

اقبال تو مذہب سے زندہ تعلق برقرار رکھنے کے لئے Reformation کو ضروری خیال کرتے تھے مگر یہ آج کے دور میں یہ مسلمانوں کے بقا کا سوال ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ اس’ فقہی تعبیر‘ اور روایتی تعبیر پر دنیا نے اس وقت بہت سے سوال کھڑے کر رکھے ہیں۔ ان سوالات کے جواب کم از کم موجودہ تعبیر کے دوانین میں تلاش نہیں کئے جا سکتے۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر مسلمان قوم کو اس دین کی دعوت لوگوں کو پہنچانی ہے جو کہ ان کا اصل کام ہے۔ تب بھی اس فقہی تعبیر کے ذریعے یہ ممکن نہیں ہے بلکہ اپنی قدیم فکری اساس میں وہ مسلمانوں کے لئے بھی تحریک کا باعث نہیں رہا۔ جبکہ آج کا انسان نہ صرف افادیت پرست ہے بلکہ علم کی آسان ترسیل نے اسے سوال اٹھانے کی بھی ہمت عطا کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سماج کی تہذیبی روایات بدل چکی ہیں۔ معاشرت کے اسالیب بدل چکے ہیں۔ آج کے انسان کو یہ بتانا کہ ایک جنگی قیدی غلام یا بندی کی صورت اختیار کرے گا یہ اس کے لئے کسی صورت قابل قبول نہیں ہو گا بلکہ وہ پہلے کے غلامانہ نظام پر سوال اٹھائے گا۔ ایسے میں جب ہمارے فقہی دوانین غلام رکھنے کے ا قدار پر بحث کریں گے یا باندی کے لباس پر بحث کریں گے تو موجودہ انسان کے لئے اس کو سمجھنا ممکن نہیں رہے گا۔

 مذہبی تعبیر میں Reformation کے تو کئی پہلو ہیں مگر اس کا ایک پہلو مسلم سیاسی فکر سے ہے۔ سیاسیات سے دلچسپی کے باعث دراصل موضوع بھی یہی ہے۔ اس وقت مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ مسلم سیاسی فکر کا ہے۔ بدقسمتی سے عالمی منظرنامے پر مسلمانوں کی سیاسی فکر کا تشخص اس وقت جارحیت  کا ہے۔ آپ تمام تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ آپ مسلمانوں کی گزشتہ آٹھ صدیوں کی جدوجہد دیکھ لیں۔ آپ موجودہ دور میں اٹھنے والی تمام تحاریک اٹھا کر دیکھ لیں ،آپ کو سیاسی فکر اپنے باطن میں یہی نظر آئے گی کہ مسلمانوں کا کام جب بھی ان کے پاس طاقت ہو گی، دنیا کو فتح کرنا ہے۔ ترتیب کے فرق کے علاوہ کوئی فرق نہیں ہے۔ کچھ تحاریک کا مطمح نظر یہ تھا کہ پہلے اپنے ملک میں اسلام کا نفاذ کیا جائے اور پھر اس کو پھیلا جائے جبکہ کچھ تحاریک نے براہ راست جنگ کو ترجیح دے دی۔ ان کا خیال ہے کہ قدیم جنگی طرز پر علاقے فتح کرتے ہوئے خلافت کو بڑھایا جائے۔ اس کی واضح مثالیں طالبان تحریک اور القاعدہ و داعش کی تحاریک ہیں۔

 ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانوں کے اس سیاسی فکر کی تشکیل جدید کر کے لوگوں کے اذہان کو اس پر مطمئن کیا جائے۔ جان لینا چاہیے کہ مسلم مذہبی تعبیر میں تشکیل جدید کی جو ضرورت اقبال نے محسوس کی وہ کام آج تک نہیں ہو پایا۔ گو کہ کچھ لوگوں نے انفرادی سطح پر ایک نئی تعبیر کے خدوخال باندھ دیئے ہیں مگر وہ مسئلہ فوری نوعیت کا نہیں ہے۔ جبکہ مسلم سیاسی فکرکی تشکیل جدید اس وقت مسلم امہ کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ اگر یہ کام فوری نوعیت پر نہ کیا گیا تو اطمینان رکھنا چاہیے کہ خلفشار کے علاوہ اس کی کوئی اور صورت نکلنا ممکن نہیں ہے اور دنیا کی بڑی طاقتوں کو جنگ کی دعوت دینے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ بلکہ جنگ کی بھی کیا دعوت دینی، موجودہ تحاریک جیسے القاعدہ و داعش ہیں وہ صرف طاقتور کو یہ دعوت دے رہے ہیں کہ آئیں اور ہمیں ماریں۔

سامنے کی صرف دو صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ مسلم سیاسی فکر ایک نئی تشکیل میں آ کر تحریک  کا ذریعہ بن جائے اور مسلم نوجوانوں کو ایک نئی دنیا دے دے یا پھر وہ داعش اور اس طرح کی دیگر تحاریک کی نذر ہو جائیں۔ ہمارے یہاں اصلاح احوال کی جب بھی کوئی تحریک شروع ہوتی ہے تو وہ فوری نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ انتخابی سیاست میں نکلتا ہے اور ایک بہتر متبادل کی تلاش شروع ہو جاتی۔ مشکل یہ ہے کہ تھوڑے عرصے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہتر جماعت اقتدار کے حصول کے لئے یا پہلے سے موجود جماعتوں کی مرہون منت ہے یا پھر ’اک ذرا گردن جھکائی دیکھ لی تصویر یار‘ کی صورت وہاں دیکھنا شروع کر دیتے ہیں جہاں سے منتخب حکومتیں گرائی جا سکتی ہیں۔ سامنے کی مثال مولانا مودودی کی جماعت اسلامی اور عمران کی تحریک انصاف ہے جن کا کہنا تھا کہ وہ نظام بدلیں گے۔ دیکھ لیجیے کہاں کھڑے ہیں۔ گراوٹ میں تعمیر صورت کیسے نمو پذیز ہو سکتی ہے؟ کم ازکم پاکستان کا تجربہ تو سامنے ہی ہے۔

جان لینا چاہیے کہ سیاست پیشہ حضرات موجود حقائق میں دلدل کی طرح دھنسے ہوتے ہیں۔ اہل اقتدار کی جواب دہی بھی لازم ہے مگر اس کے لئے ووٹ کی طاقت کو سمجھنا پڑے گا۔ جمہوری اقدار کا پالن کرنا پڑے گا۔ اس کے باوجود قوموں کی تقدیر بدلنا الیکشن سے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لئے فکری سطح کی تشکیل جدید درکار ہوتی ہے جو روسو اور والٹئیر نے کر دکھایا۔ اس وقت پاکستانی قوم اور پوری مسلم دنیا کو سیاسی فکر کی تشکیل جدید کی اشد ضرورت ہے تاکہ موجودہ سیاسی قوتیں اس سے نمو پا کر اپنے لئے نئی راہین متعین کریں۔ مشکل مگر یہ ہے کہ ہمارا روسو پانامہ سے فارغ نہیں ہوتا۔ ہمارا والٹئیرفوج کیا سوچ رہی ہے بتانے میں مگن ہے اور ہمارا ڈاونچی لال مسجد کے سامنے کھڑا مردہ باد کے نعرے لگا رہا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 82 posts and counting.See all posts by zafarullah