آزادی صحافت پر ایک اور حملہ


censorshipپاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کی ریگولیٹری اتھارٹی نے جرائم کی ڈرامائی تشکیل اور کسی جرم میں ملوث ہونے والے لوگوں کے انٹرویو نشر کرنے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پابندی یکم رمضان المبارک سے عائد کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی ٹیلی ویژن چینل کا لائسنس منسوخ کیا جا سکے گا۔ پیمرا کے چیئرمین ابصار عالم نے بتایا ہے کہ جرائم کی تمثیل کاری کے معاملہ پر قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں غور کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ عدالتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ٹیلی ویژن پر جرائم کو ڈرامائی انداز میں پیش کرنے سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک کے ٹیلی ویژن اسٹیشن بار بار یاد دہانی کے باوجود اس بارے میں تعاون کرنے پر آمادہ نہیں ہیں، اس لئے یہ پابندی عائد کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ جرائم کی رپورٹنگ اور زیر سماعت مقدمات کے بارے میں معلومات کی فراہمی نہایت حساس معاملہ ہے۔ عالمی سطح پر صحافی تنظیمیں اس حوالے سے احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرتی ہیں۔

اگرچہ پاکستان کی صورتحال میں مختلف ٹیلی ویژن اسٹیشنز پر جرائم کے بارے میں نشر ہونے والے پروگراموں میں قانون شکنی اور بنیادی اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی کی روک تھام ضروری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ کہنا بھی لازم ہے کہ کسی بھی ملک میں کسی غیر صحافتی ادارے کو اس قسم کی پابندی لگانے کا اختیار نہیں ہونا چاہئے۔ پیمرا حکومت کی طرف سے نامزد کردہ ادارہ ہے اور حکومت اسے اپنی مرضی و منشا کے مطابق میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے استعمال کرتی ہے۔ اس ادارے کو ملک کے اخبارات یا الیکٹرانک میڈیا میں کام کرنے والے صحافیوں کو یہ ہدایات جاری کرنے کا حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کسی معاملہ پر کس طرح رپورٹنگ کر سکتے ہیں۔ صحافیوں کی عالمی تنظیمیں اور تمام جمہوری ملکوں کی قومی تنظیمیں اس بات پر اتفاق کرتی ہیں کہ جرائم سمیت کسی بھی معاملہ کی رپورٹنگ کے سلسلہ میں فیصلہ کرنے کا اختیار صحافی یا اس کے ایڈیٹر کو ہوتا ہے۔ یہ بات طے کر لی گئی ہے کہ کوئی غیر متعلقہ شخص خواہ اس کی حیثیت اور رتبہ کچھ بھی ہو، نہ تو کسی خبر یا رپورٹ کی تشکیل اور پیشکش کے بارے میں رائے دینے کا حق رکھتا ہے اور نہ ہی غیر شائع شدہ یا غیر نشر شدہ مواد کسی غیر متعلقہ شخص ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس میں پولیس اور عدالت بھی شامل ہے کو دکھایا جا سکتا ہے۔ کسی بھی صحافی یا اس کے ادارے کے ادارتی بورڈ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے سارے مواد کو غیر متعلقہ لوگوں کی دسترس سے محفوظ رکھے۔

صحافت کے اس مسلمہ طریقہ کار کے ہوتے ہوئے پیمرا کا حکم نامہ دراصل آزادی اظہار و صحافت کے اصول کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔ لیکن پیمرا کے تازہ فیصلہ پر غور کرتے ہوئے یہ جاننے کی بھی ضرورت ہو گی کہ پاکستان میں صحافت کو تجارتی اور کمرشل مفادات کا مطیع کر دیا گیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کی مقبولیت کے بعد درجنوں ٹیلی ویژن چینل مارکیٹ میں آ چکے ہیں جو اشتہاروں کا حصہ وصول کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں صحافت کے اصولوں کا تقدس سب سے پہلے پامال ہوتا ہے۔ اسی کمرشل مقابلے بازی کی وجہ سے اکثر اداروں کے ایڈیٹرز اور ادارتی فیصلوں کو کمرشل یا مارکیٹنگ منیجرز کا زیرنگیں کر دیا گیا ہے۔ یعنی کوئی رپورٹر اپنے ایڈیٹرز کی مرضی سے کسی واقعہ یا اہم معاملہ کی رپورٹنگ کرنے میں آزاد نہیں ہے۔ اس کے نشر ہونے سے پہلے ادارے کے تجارتی معاملات کا نگران یہ دیکھنے کا حق رکھتا ہے کہ کیا اس خبر کی اشاعت ادارے کے لئے مالی طور پر نقصان کا سبب تو نہیں ہو گی۔ یہ طریقہ کار بھی اسی طرح بنیادی صحافتی اصولوں سے متصادم ہے جس طرح کسی سرکاری ادارے کی طرف سے نشریاتی اداروں کو یہ ہدایت جاری کرنا غلط ہے کہ وہ کیا نشر کر سکتے ہیں اور کس پروگرام کی تشکیل کس طرح ہونی چاہئے۔

عام طور سے صحافتی اصولوں اور کمرشل مفادات میں توازن پیدا کرنے کے لئے ہر ادارے ، شہر یا ملک کے صحافی اپنی تنظیموں کے ذریعے رہنما اصول مرتب کر لیتے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں تنظیم سازی اس بارے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اپنی نمائندہ تنظیموں کے ذریعے صحافی بنیادی اخلاقی اصول وضع کرتے ہیں اور سختی سے ان پر عمل کرتے ہیں۔ پاکستان میں بوجوہ یہ صورتحال موجود نہیں ہے۔ ستر کی دہائی میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس PFUJ نے صحافیوں کو منظم کرنے اور ان کے پیشہ وارانہ مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے ضرور اقدام کئے تھے لیکن 80 کی دہائی میں فوجی آمر جنرل (ر) ضیا الحق کے دور میں ریاستی جبر کا سامنا کرتے ہوئے یہ اتحاد پارہ پارہ ہو گیا۔ ملک کے صحافیوں کو نظریاتی طور پر تقسیم کر دیا گیا۔ یعنی اعلان تو یہ کیا گیا کہ اختلاف کی اصل وجہ عقیدہ اور اخلاقیات کا فرق ہے لیکن نظریہ کی بنیاد پر صحافیوں کے اتحاد پر چوٹ لگانے والوں نے ملک کی آمرانہ حکومت کا ساتھ دیا۔ اس طرح صحافت میں ذاتی مفاد اور حرص کو متعارف کروانے کا رواج ڈالا گیا۔ ضیا الحق کے بعد آنے والی جمہوری حکومتوں نے بھی صحافیوں کے انتشار سے فائدہ اٹھانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا۔ 2000 کی دہائی میں الیکٹرانک میڈیا منظر عام پر آنے تک مالکان کے کمرشل مفادات تمام میڈیا ہاؤسز کو اپنی گرفت لے چکے تھے۔ ورکنگ جرنلسٹ نہ تو اپنے حالات کار بہتر کروانے کے لئے اقدام کرنے کے قابل تھے اور نہ ہی وہ مل کر صحافت کی آزادی کے لئے کوئی حصار بنانے میں کامیاب ہو سکے۔

رہی سہی کسر دو عوامل نے پوری کر دی۔ مختلف شہروں میں صحافیوں نے پریس کلب کے نام سے مل بیٹھنے کے مرکز بنا رکھے تھے ۔ شروع میں یہ ادارے جرنلسٹوں کی مشترکہ یونین کے زیر اثر کام کرتے تھے البتہ ان کا انتظام کرنے کے لئے علیحدہ انتظامیہ چن لی جاتی تھی۔ جرنلسٹوں میں اختلافات کے نتیجے میں پریس کلب خود مختار اکائیوں میں تبدیل ہونے لگے۔ شروع میں حکومت نے وزارت اطلاعات کے ذریعے ان کلبوں کو فنڈ فراہم کر کے صحافیوں کو اپنی مٹھی میں کرنے کا کام شروع کیا۔ اس کے بعد پریس کلبوں کے ذریعے مختلف شہروں میں پلاٹوں کی تقسیم کے منصوبے شروع کر کے ان کلبوں کو جو صرف صحافیوں کے مل بیٹھنے کی جگہ کا کام کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔ غیر معمولی اثر و رسوخ اور طاقت عطا کر دی گئی۔

اس حوالے سے دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ ملک میں اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ مالکان نے صحافتی امور پر کنٹرول سخت کرنا شروع کر دیا۔ اس مقصد کے لئے آسان ترین طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ اخبار یا ٹیلی ویژن کا مالک خود ہی اس ادارے کا ایڈیٹر بھی بن بیٹھا ہے۔ اس لئے اگر کوئی سرپھرا صحافی کسی اسٹوری کو شائع یا نشر کرنے پر اصرار کرے اور خود کو مالک کی اصلاح کا محتاج ماننے سے انکار کر دے تو وہی مالک ایڈیٹر کے روپ میں کسی بھی خبر کو روکنے یا شائع کرنے کا ’اخلاقی اور قانونی‘ اختیار استعمال کرتے ہوئے ورکنگ جرنلسٹوں کو اپنی مرضی و منشا کے مطابق کام کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ میڈیا ہاؤسز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور صحافیوں کی مانگ میں بے پناہ اضافہ کے باوجود مالکان بدستور طاقتور ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحافی کسی مضبوط تنظیم کے تحت منظم نہیں ہیں اور ان کی صفوں میں ایسے لوگوں کی کثرت ہے جو روزگار برقرار رکھنے کے لئے مالکان کی ہر بات ماننے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ان حالات میں پاکستان میں آزادی صحافت اور صحافیوں کی قوت کے بے شمار قصے کہنے اور سننے کے باوجود عملی طور پر صحافت اور صحافی مالکان کی مرضی کے تابع ہیں۔ مالکان اپنے تجارتی مفادات کے لئے کسی بھی حد تک جانے یا حکومت سے کسی بھی قسم کا معاہدہ کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ اس صورتحال میں اکثر ٹیلی ویژن اسٹیشنوں نے جرائم کی رپورٹنگ کا یہ انوکھا طریقہ ایجاد کیا ہے کہ اس مقصد سے علیحدہ پروگرام نشر کئے جاتے ہیں۔ کسی قتل ، ریپ یا اغوا اور خودکشی کے واقعہ کی ڈرامائی تشکیل کی جاتی ہے اور جرنلسٹ اس جرم میں گرفتار لوگوں کا انٹرویو بھی تمثیل کاری پر مبنی پروگرام میں شامل کر لیتے ہیں۔ انٹرویو لیتے ہوئے صحافی صرف واقعہ کی معلومات حاصل کرنے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اکثر صورتوں میں وہ ملزموں کو اخلاقیات کی دہائی دیتے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے بھی دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔

اس صورتحال کی اصلاح کے لئے ملک کے صحافیوں کو ضابطہ اخلاق بنانے کی ضرورت تھی لیکن یہ کام الیکٹرانک میڈیا کی حد تک پیمرا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ جب پیمرا دہشت گردی اور تشدد کے واقعات کی رپورٹنگ میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے یا کرائم پروگراموں کی ساخت پر اعتراض کرتا ہے تو سب اسے قبول کر لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس ادارے کے پاس کسی نشریاتی ادارے کو جاری شدہ لائسنس منسوخ کرنے کا اختیار ہے۔ کوئی تاجر اپنے ادارے کو کسی صحافتی اصول کی پاسداری میں بند کروانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ یہی رویہ ملک میں آزاد صحافت اور خود مختارانہ رپورٹنگ کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

آخر میں قارئین کی دلچسپی کے لئے ان پیشہ وارانہ اصولوں کو بیان کرنا مناسب ہو گا جو انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس IFJ نے تیار کئے ہیں۔ یہ اصول درج ذیل ہیں:

1۔ سچ کا احترام کیا جائے۔ عوام کو سچ فراہم کرنا صحافی کی پہلی ذمہ داری ہے۔

2۔ اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے کوئی بھی صحافی بہرصورت معلومات کے حصول اور فراہمی، تبصرہ اور تنقید میں آزادانہ دیانت کا مظاہرہ کرے گا۔

3۔ صرف حقائق کی بنیاد پر خبر فراہم کی جائے گی۔ صحافی نہ تو مرضی کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرے گا اور نہ ہی دستاویزات میں جعل سازی کا مرتکب ہو گا۔

4۔ صحافی معلومات / خبر کے حصول کے لئے جائز طریقے اختیار کرے گا۔

5۔ غلط خبر شائع یا نشر ہونے کی صورت میں جلد از جلد اس کی تردید نشر یا شائع کرنے کا اہتمام کیا جائے گا۔

6۔ صحافی معلومات کے ذرائع کا تحفظ کرے گا اور انہیں آشکار نہیں کرے گا۔

7۔ صحافی کو اس بات سے آگاہ ہونا چاہئے کہ میڈیا کے ذریعے امتیازی رویے فروغ پا سکتے ہیں۔ اس لئے صحافی کسی بھی قسم کے امتیاز خاص طور سے نسل، جنس ، جنسی رویے ، زبان ، مذہب یا سیاسی و دیگر رائے کے بارے میں تعصب پھیلانے سے گریز کرے گا۔

8۔ یہ چیزیں صحافی کے لئے پیشہ وارانہ ممنوعات کا درجہ رکھتی ہیں:

الف) سرقہ یعنی کسی دوسرے کی تحریر یا خبر کو اپنا بنا کر پیش کرنا۔ ب) بددیانتی سے کسی کے بارے میں غلط خبر پھیلانا۔ ج)جھوٹ پر مبنی کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے والی خبر پھیلانا یا بے بنیاد الزامات عائد کرنا۔ د) کسی بھی حالت میں کسی بھی طرح کسی بھی قسم کی کوئی رشوت یا مراعات حاصل کرنا

9۔ خود کو صحافی کہلانے کا مستحق ہونے کے لئے ان اصولوں پر عمل ضروری ہے۔ صحافی اپنے ملکوں کے قوانین کے مطابق پیشہ وارانہ معاملات پر صرف اپنے ادارتی ساتھیوں کے ساتھ بات کرے گا۔ حکومت یا کوئی دوسری اتھارٹی ان معاملات میں مداخلت کا حق نہیں رکھتی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 418 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali