کڑاہی کھاتے وقت مرچوں والے گامے کو مت بھولیں


آج اپنے اپنے بکرے، دنبے اور بیل کو آنجہانی کرنے کے بعد آپ اب فارغ ہو چلے ہوں گے اور کلیجی بھون کر اس کا سالن بنانے کے بعد آپ شام کو اس کے تکے کباب بنا کر کھانے کے منصوبے باندھ رہے ہوں گے اور ساتھ ساتھ سگریٹ کے کش کھینچ رہے ہوں گے۔ لیکن آپ پر واجب ہے کہ اس موقعے پر آپ گامے کو ہرگز مت بھولیں اور یاد رکھیں کہ اس کے بغیر آپ چٹخارے نہ لے پاتے۔

ذرا تصور کریں کہ آپ کے سامنے گوشت کا پہاڑ موجود ہے لیکن آپ مجبور ہیں کہ مریضانہ کھانا کھائیں یعنی تیزابیت والے مریضوں کی مانند اس میں مرچیں ڈالنے کو میسر نہ ہوں۔ نہ ہی آپ بالٹی گوشت بنا سکتے ہوں۔ تکے کباب محض نمکین ہوں اور ساتھ کھانے کو فرینچ فرائز موجود نہ ہوں۔ نہ ہی اس قتال سے نمٹنے کے بعد آپ کے پاس صابن ہو کہ اپنے ہاتھ یا دامن سے خون کے داغ چھڑانے کے بعد سکون سے صوفے پر بیٹھ کر چائے پرچ میں ڈال کر سُڑک سکیں۔

آپ ان میں سے بیشتر عیاشیوں کے لئے یا کم از کم ان کے ناموں کے لئے گامے کے احسان مند ہیں۔ گاما ہی وہ ہیرو ہے جس نے آپ کو تمباکو اور آلو مہیا کیا، جس کی برکت سے آپ آج صابن سے ہاتھ دھوتے ہیں اور پرچ میں چائے ڈال کر پیتے ہیں اور سگریٹ کے کش کھینچتے ہیں۔ وہی ہے جس نے آپ کو بتایا کہ صوفہ کیا ہوتا ہے اور بالٹی کیا بلا ہے، کمرہ کسے کہتے ہیں اور الماری کیا شے ہوتی ہے۔ آپ پر واجب ہے کہ چٹخارے والا بالٹی گوشت اور کڑاہی کھاتے وقت گامے کو یاد رکھیں جس کے سبب آپ یہ مرچیں برداشت کر رہے ہیں۔ لیکن ان عیاشیوں کی آپ نے بہت بھاری قیمت چکائی ہے۔ ہندوستان کو مرچیں لگانے والا گاما ایک نہایت ظالم انسان تھا۔

پندرہویں صدی میں یورپ میں مصالحے اور شکر وغیرہ سونے کے مول بکتے تھے اور ان سب کا گڑھ ہندوستان تھا۔ یورپی اقوام عام طور پر بحیرہ روم کے راستے اسکندریہ اور دیگر مشرقی بندرگاہوں پر پہنچتے تھے جہاں عرب تاجر ان کو ہندوستانی مال فروخت کرتے تھے۔ لیکن بحیرہ روم میں ترکوں کے طاقتور بحری بیڑے نے یہ راستہ مغربی اقوام کے لئے پرخطر بنا دیا۔ اس پر یورپیوں نے ہندوستان کا ڈائریکٹ بحری راستہ ڈھونڈنے کی کوشش شروع کر دی۔

گاما، اس کے جہاز اور کالی کٹ کا راستہ

ترکوں سے بچ کر ہندوستان تلاش کرتے کرتے سپین کا کولمبس 1492 میں امریکہ دریافت کر بیٹھا۔ پرتگالی بھی بہت بے چین ہوئے پھر رہے تھے۔ انہوں نے ایک تجربہ کار ملاح واسکو ڈے گاما کو چار جہاز دے کر ہندوستان تلاش کرنے بھیجا۔ ساؤ گیبریل جہاز کا کپتان واسکو ڈے گاما تھا۔ ساؤ رافیل کا کپتان اس کا بھائی پاؤلو تھا۔ ساؤ میگویل کا کپتان نکولاؤ کوئلو تھا جو غالباً مشہور مصنف پاؤلو کوئلو کا بزرگ ہو گا۔ چوتھے جہاز کا کسی کو نام ہی نہیں پتہ۔

یہ چاروں جہاز افریقہ کا چکر کاٹ کر کینیا کی بندرگاہ مالندی تک پہنچ گئے۔ راستے میں وہ مختلف ریاستوں میں فراڈ وغیرہ کرتے رہے اور خود کو مسلمان مشہور کر کے مختلف سلطانوں کے دربار میں پہنچتے گئے۔ مالندی میں ان کو ہندی تاجر دکھائی دیے۔ وہاں ایک ملاح ان کو ہندوستان لے جانے پر راضی ہو گیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ مشہور عرب ملاح ابن ماجد تھا لیکن تاریخ دان اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ کچھ اسے ایک مسیحی، کچھ گجراتی اور کچھ مسلمان کہتے ہیں۔

وہ ملاح واسکوڈے گاما کو کالی کٹ لے آیا جہاں کا ہندو راجہ زمورین کہلاتا تھا۔ گاما دربار میں پیش ہوا اور راجہ زمورین کو اپنے لائے ہوئے شاہ پرتگالے کے تحفے دے کر ہکا بکا کر دیا۔ گامے کے شاہی تحفوں میں چار ارغوانی چغے، چھے ٹوپیاں، چار مونگے کی شاخیں، سات پیتل کے برتن، ایک صندوق شکر، تیل کے دو پیپے اور شہد کا ایک ڈرم شامل تھے۔ درباری حیران ہو گئے کہ پرتگال کے بادشاہ کے بھیجے گئے شاہی تحفوں میں سونا چاندی کیوں نہیں ہے اور یہ بیکار سی چیزیں کیوں بھیجی گئی ہیں۔ مقامی تاجروں نے یہ قرار دیا کہ گاما کوئی شاہی قاصد وغیرہ نہیں ہے بلکہ ایک عام سا قزاق ہے جو ایسے تحفے پیش کر رہا ہے۔

کالی کٹ کا راجہ زمورین واسکوڈے گاما کے تحفے دیکھ رہا ہے

راجہ زمورین نے گامے کو شاہی قاصد ماننے سے انکار کرتے ہوئے دوسرے تاجروں کی طرح اس سے سونے چاندی کے سکوں میں ٹیکس طلب کر لیا۔ اس پر گرمی سردی ہو گئی اور گاما کالی کٹ پر بمباری کر کے فرار ہو گیا۔ وہ اپنا ایسا بہت سا سامان پیچھے چھوڑ گیا تھا جو ہندوستانیوں نے خریدنے کے قابل نہیں سمجھا لیکن جو مال وہ اٹھا لے گیا تھا وہ اس بحری مہم کے کل خرچے سے ساٹھ گنا زیادہ مالیت کا تھا۔ جاتے جاتے واسکوڈے گاما کئی مقامیوں کو غلام بنا کر بھی ساتھ لے گیا۔

سنہ 1502 میں گاما اپنی دوسری مہم پر ہندوستان آیا۔ اس مرتبہ وہ پندرہ جنگی جہازوں اور آٹھ سو فوجیوں کے بیڑے کے ہمراہ آیا۔ اس نے راستے میں ملنے والے ہر ہندی اور عرب جہاز کو لوٹا۔ حاجیوں کے ایک جہاز پر قبضہ کر کے اس نے 400 حاجی زندہ جلا دیے جن میں پچاس عورتیں بھی شامل تھیں۔ کالی کٹ پہنچ کر اس نے بمباری شروع کر دی۔ کالی کٹ کا راجہ زمورین اس سے امن معاہدہ کرنے کو تیار تھا لیکن گامے نے یہ شرط لگائی کہ وہ پہلے اپنے ملک سے تمام مسلمانوں کو نکال دے۔ راجہ نے یہ شرط ماننے سے انکار کر دیا۔ گامے نے مقامی تجارتی جہاز پکڑ کر ملاحوں کے ناک، کان اور ہاتھ کاٹ کر انہیں راجہ کے پاس بھیجا۔ پورے ساحل پر خوف پھیل گیا اور تجارت بند ہو گئی۔ لیکن راجہ مسلمانوں کو نکالنے کو تیار نہ ہوا بلکہ ایک بحری بیڑہ لے کر جنگ کرنے آ گیا جسے گامے نے شکست دے دی۔

سنہ 1505 میں کوچین پر پہلا پرتگالی وائسرائے تعینات کیا گیا۔ گامے کو نظرانداز کر کے ایک مشہور ملاح فرانسسکو ڈی المیڈا کو یہ عہدہ دے دیا گیا۔ سنہ 1524 میں گاما اپنی تیسری مہم پر ہندوستان آیا۔ بالآخر اسے پرتگالی ہندوستان کا وائسرائے تعینات کر دیا گیا تھا۔ وہ ستمبر میں پہنچا اور دسمبر میں ہندوستان کو یورپی مرچوں سے روشناس کرنے والا یہ نہایت ظالم انسان ایک ہندوستانی مچھر کے ہاتھوں مارا گیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1037 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar