گومتی، لندن اور ایک ناتمام کہانی


FullSizeRenderیہ تو آپ کے علم میں آ ہی چکا ہو گا کہ راقم قومی فضائی ادارے میں چالیس سال نوکری کا شرف حاصل کر چکا ہے اور اپنے فضائی میزبان کی ڈائری والے میاں خاور جمال بھی اسی ادارے سے وابستہ ہیں۔ آج بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ آپ کو اپنی سب سے پہلی لندن یاترا کا حال سنایا جائے۔ ویسے اگر تاریخ کے حساب سے لکھا جائے یا بااعتبار سن عیسوی کہہ لیجیے (Chronological Order)  تو جدہ، مدینہ، مکہ، نیروبی، لندن، ایمسٹریڈیم، پیرس، جنیوا، استنبول، قاہرہ، دبئی، بنکاک، ایتھنز، منیلا، ڈنمارک، نیویارک، ڈیلس فورٹ ورتھ، لاس اینجلز، دمشق کی سیاحی میں عمر گزری ہے۔ ان میں سے جدہ، نیروبی اور دہلی تو بسلسلہ ملازمت جانا پڑا اور باقی مقامات پر مفت ٹکٹ کی سہولت کا استعمال کرتے ہوئے سیر و تفریح کی خاطر گئے۔

تو صاحبو یہ 1977 کا ذکر ہے، اس اچھے زمانے میں ویزا کے حصول کے لیے اسلام آباد جانے کی ضرورت نہیں ہوا کرتی تھی۔ اکثر ممالک صرف مقامی اسٹیشن منیجر (پی آئی اے) کے تعارفی خط کی بنیاد پر بوقت آورد ہی داخلہ کا اجازت نامہ دے دیا کرتے تھے۔ سستا زمانہ تھا۔ ڈالر دس روپے اور پاؤنڈ پچیس روپے کا ہوا کرتا تھا۔ ارادہ بنایا کہ لندن میں ماموں کے ہاں قیام کیا جائے گا اور ایمسٹریڈیم میں کسی یوتھ ہوسٹل میں ٹھہر جائیں گے۔ پاکستانی 3000 روپے کے 300 ڈالر بنوائے اور بذریعہ فوکر جہاز ملتان سے کراچی روانہ ہو گئے۔

کراچی سے لندن چار جولائی 1977 کو روانہ ہوئے۔ ایگزیکٹ تاریخ اس لیے لکھ رہے ہیں کہ انتالیس برس پرانا پاسپورٹ اور اس کے بعد کے سارے پاسپورٹ ہمارے پاس اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔ یہ تصویر دیکھیے، اسی زمانے کی ہے جب آتش کا تو پتہ نہیں لیکن جمال ضرور جوان بلکہ نوجوان تھا۔ صرف پانچ گھنٹے کی
پرواز کھاتے پیتے آرام کرتے ہی میں گزر گئی اور ہم گویا پلک جھپکتے میں لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ پر جا اترے۔ واجبی سی امیگریشن ہوئی، آفیسر نے ملتان کے سٹیشن منیجر کا تعارفی خط دیکھا، ایک دو سوالات کیے (گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لیے) اور ٹھک کر کہ چھ ماہ کا اجازت نامہ عطا کر دیا۔ اس انٹری پر ہمارا ایک دھیلا بھی خرچ نہیں ہوا، آج کل کی طرح نہیں کہ آپ چودہ ہزار روپے جمع کروائیں، پندرہ بیس دن انتظار کریں اور پھر بھی یقین نہیں کہ ویزا ملے گا یا نہیں، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

image1

عمر بھر ہمارا یہی وطیرہ رہا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی سفر پر جائیں تو ایک چھوٹے سائز کا ٹرالی بیگ ساتھ رکھتے ہیں جو جہاز کے اوپر والے خانے میں سما جائے۔ اس میں دو جینز، دو شرٹس، ایک پولو، یوروپ جانا ہو تو ایک کوٹ جیکٹ یا سوئٹر، اس کے علاوہ ایک عدد شیونگ کٹ اور نائٹ سوٹ بمعہ سینڈل، یہ فقیر کی کل کائنات ہوتی ہے۔ ٹریول لائٹ آپ کے سفر کا مزہ دوبالا کر دیتا ہے، نہ سامان گم ہونے کا خوف، نہ چوری کا ڈر۔

Arrival hall میں آنے کے بعد ماموں سے رابطے کا سوچ ہی رہے تھے کہ کہاں سے فون کیا جائے یا خود کسی طریقے سے برائٹن (لندن سے ستر کلومیٹر دور ایک قصبہ تھا، اب یقیناً شہر میں بدل چکا ہو گا) پہنچ کر فون کریں۔ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ستون سے ٹیک لگائے سانولی سی (کالی اس لیے نہیں کہہ سکتے کہ آج کل کے صحافتی آداب کے خلاف ہے) ہندوستانی لڑکی متوحش نگاہوں سے چاروں طرف دیکھ رہی ہے، جیسے خوفزدہ ہرنی شکاریوں کے گھیرے میں آگئی ہو اور راہ فرار نہ مل رہی ہو۔ اور آنسو بے اختیار اس کی غزالی آنکھوں سے بہتے چلے جا رہے تھے۔ پہلے تو سوچا کہ چھوڑو یار پردیس میں کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔ مگر آخر انسانی ہمدردی غالب آ گئی اور پوچھا کیوں رو رہی ہو۔اس نے اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں بتایا کہ وہ اپنی ماں اور چھوٹے بھائی کے ساتھ چچا کے بلاوے پر لندن آئی ہے، مگر اسے لینے کوئی نہیں آیا۔ پوچھا کوئی فون نمبر ہے، تو اس نے اپنی مٹھی میں سے ایک بھیگا ہوا کاغذ نکال کر ہمیں تھما دیا۔ اس پر کوئی فون نمبر تو نہیں لکھا تھا مگر ایک پتہ ضرور لکھا ہوا تھا۔ حیرت ہے کہ آج انتالیس برس بعد بھی ہمیں وہ پتہ زبانی یاد ہے۔

7, Nightingale Close, Crawley, Sussex.

ہم خود پہلی مرتبہ لندن آئے تھے۔ ہمیں کیا معلوم یہ جگہ کہاں ہے۔ ایک بوبی (لندن کا مددگار سپاہی) سے مدد لی۔ اس نے بتایا کہ یہ ائیر پورٹ سے چالیس میل دور ایک کاؤنٹی ہے اور یہ کہ وہ ٹیکسی کروانے میں ہماری مدد کر دے گا۔ خیر ہم نے ماں بیٹی کو سب سمجھایا کہ یہ لندن ہے، یہاں ٹیکسی کا سفر بہت محفوظ ہے، یہ ٹیکسی ڈرائیور آپ لوگوں کو صحیح جگہ پہنچا دے گا مگر وہ دونوں مان کے نہ دیں۔ ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہو گئیں کہ ہمارے ساتھ چلو، ہمیں اکیلے ڈر لگتا ہے۔

ہم نے سوچا کہ ہمارے کون سے بچے رو رہے ہیں، فارغ اور اکیلے ہی تو ہیں، یہ حامی بھر لی اور لندن کی مشہور زمانہ کالی ٹیکسی میں سوار ہو گئے۔ وہ عفیفہ یعنی گومتی ہمارے ساتھ بیٹھیں، ساتھ میں ان کا بھائی اور اماں پھسکڑا مار کر فرش پر براجمان ہو گئیں۔ لندن کے مضافات میں سبزہ زاروں اور مرغزاروں سے ہوتے ہوئے ہم لوگ تقریباً ایک گھنٹے بعد منزل مقصود پر جا پہنچے۔ جب ہم ٹیکسی سے اتر رہے تھے تو سامنے والے گھر سے کسی کے ہندی اشلوک اونچی آواز میں پڑھنے کی آواز آ رہی تھی۔ سب کے چہرے خوشی سے دمکنے لگے کہ ہم صحیح جگہ پہنچ گئے ہیں۔ یہ گومتی کے چچا کی عبادت کا وقت تھا۔ ٹیکسی ڈرائیور کو اہل خانہ نے بیس پاؤنڈ دے کر روانہ کیا اور ہمیں بڑی عزت سے گھر کے اندر لے جایا گیا۔

IMG_2519گومتی اور اس کی ماں بڑی متشکر نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔ اور اس کی ماں بار بار کہہ رہی تھی کہ بڑا بھالو منش ہے۔ شاید کلکتہ کے ہوں گے۔ بڑی پرتکلف چائے پیش کی گئی۔ سب نے کہا کہ نئے آئے ہو، ایک آدھ رات ہمارے ہاں ٹھیر جاؤ مگر ہم نے اجازت چاہی اور بتایا کہ برائٹن میں ماموں رہتے ہیں ان کے گھر جانا ہے۔ معلوم ہوا کرالے سے برائیٹن صرف آدھے گھنٹے میں ٹرین پہنچا دیتی ہے، گومتی کا کزن دیو آنند سٹیشن چھوڑ گیا۔ چلتے ہوئے گومتی کے چچا نے دو سو پاؤنڈ زاد راہ پیش کرنا چاہا جو ہم نے قبول نہیں کیا۔ ظاہر ہے آپ بھی ہوتے تو یہی کرتے۔ گومتی کے ساتھ ایک تصویر بھی اتروائی تھی جو کہیں گم ہو گئی ہے، مگر اس کی شکل نہاں خانہ دل میں ابھی تک موجود ہے۔

کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ وہ بھی ہماری طرح بوڑھی ہو گئی ہو گی۔ پتہ نہیں کتنے بچے ہوں گے، لندن سیٹل ہو گئی یا ہندوستان واپس چلی گئی ہو گی۔

زندگی اسی طرح ایک سفر کا نام ہے۔ جس میں ہزاروں لوگ ملتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ آنند بخشی کا گانا کشور کمار کی آواز میں سنیں، دل جھوم اٹھتا ہے۔

زندگی کے سفر میں گزر جاتے ہیں جو مقام

پھر نہیں آتے

پھر نہیں آتے!


Comments

FB Login Required - comments