نقاد کی خدائی: عسکری اور فسادات کا ادب (2)


ajmal kamalخدامِ ادب کو خدایانِ ادب کا درجہ مل جانے کے بعد یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ انھیں فانی انسانوں یعنی تخلیقی ادیبوں پر فوقیت دی جائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فسادات کے موضوع پر شائع شدہ تحریروں کے انتخاب کی ابتدا ایک نہیں دو تنقیدی مضامین سے ہوتی ہے۔ بلکہ یہ پھپھوندی یا کائی آئینے کے دونوں رخوں پر لگی ہوئی ہے، یعنی اس کا اختتام بھی ایک تجزیے پر ہوتا ہے۔ ان تینوں میں مضمون تو واحد ہی ہے، یعنی عسکری کا ‘‘فسادات اور ہمارا ادب’’، باقی دونوں یعنی ممتاز شیریں اور آصف فرخی کی معروضات تو اسی کی شرحیں ہیں، بلکہ آپ چاہیں تو مصرع اٹھانے کی کوششیں کہہ لیجیے۔

‘‘فسادات کا ادب’’ کی اصطلاح کو بھی نقاد کے ذوقِ خدائی کا معجزہ سمجھنا چاہیے۔ بہ قولِ عسکری:

‘‘ایک لحاظ سے نقاد بھی ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ ان بیچاروں کو فنکار کے تخلیقی کرب کا تجربہ ہی کیا ہے۔ ان کے نزدیک تو ادب ‘موضوعات’ کے متعلق ہوتا ہے، یعنی جس طرح اسکول کے لڑکے کے سامنے امتحان کا پرچہ آ گیا اور اس نے جواب لکھ دیے، نقادوں کے خیال میں تخلیقی عمل بس اتنا ہی ہوتا ہے کہ لکھنے والے کے سامنے حیات و کائنات سے متعلق چند مسائل پیدا ہوئے اور اس نے اپنی رائے بیان کر دی۔’’

کم از کم پاکستان میں رفتہ رفتہ عسکری کو ایسے مقام پر فائز کر دیا گیا ہے جو غالباً رحمت اللہ علیہ کی کھونٹی سے بھی کچھ اوپر واقع ہے۔ اپنے لیے نت نئے مسجود تراشنا انسانوں کا ایک دلچسپ مشغلہ رہا ہے اور یہ معصوم سرگرمی ہر قسم کے اعتراض سے ماورا ہے۔ اس شغلِ بےکاری میں سرگرم برادرانِ خورد نے عسکری کو پورا حق دے دیا ہے کہ ادب، سیاست، فلسفہ، الٰہیات، نفسیات، جس موضوع کو جیسے چاہیں اوڑھیں یا بچھائیں، اور اپنا فرض یہ ٹھہرا لیا ہے کہ ان کے بستربند کے ساتھ لپٹتے اور کھلتے رہیں۔ اس میں بھی کوئی خاص حرج نہیں؛ مگر مشکل تب پڑتی ہے جب ان حضرات کی سمجھ میں یہ چھوٹی سی بات نہیں آتی کہ جو شخص عسکری کی تحریروں کو وحیِ الٰہی سے مختلف چیز سمجھتا ہو اُس پر ان برخوردارانِ بستر کی پیروی لازم نہیں آتی۔ حال یہ ہے کہ یہ لوگ عسکری کے بقول ‘‘بمچو ما ڈنگرے نیست’’ کی تفسیر بنے رہتے ہیں۔ اِدھر کسی نے منھ کھولا کہ عسکری کے پاؤں گیلی مٹی کے ہیں، اُدھر برادرانِ خورد نے اس کی ٹانگ لی۔ سرحد کے اُس طرف کا حال نہیں معلوم، ادھر کے لوگ تو عسکری راج میں زندہ رہنے کے اس قدر عادی ہو گئے ہیں کہ چیرہ دستوں کی چیرپھاڑ سے بچنے کے لیے چپ رہنے ہی میں عافیت سمجھنے لگے ہیں۔

چونکہ اردو تنقید کے معبدِ سیزدہ خدایاں میں عسکری کا درجہ خاصا بلند ہے، اس لیے ‘‘فسادات کے ادب’’ کا جو بھی انتخاب شائع ہوتا ہے اس میں عسکری کا زیرِ بحث مضمون ضرور شامل کیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ ممتاز شیریں کی ادارت میں نکلنے والے رسالے ‘‘نیا دور’’ کے ‘‘فسادات نمبر’’ سے شروع ہوا۔ اسی خاص نمبر کو توسیع دے کر ممتاز شیریں نے ‘‘ظلمت نیم روز’’ کے نام سے ایک کتاب مرتب کی جسے اشاعت کے لیے پاکستانی ادیبوں کی سرکاری تنظیم پاکستان رائٹرز گلڈ کے حوالے کیا گیا۔ مسودے کی پُراسرار گمشدگی کے باعث یہ کتاب سرکاری خرچ پر نہ چھپ سکی۔ چوںکہ دو ڈھائی سو سال پرانے ان محطوطوں کو دوبارہ جمع کرنا ممکن نہیں تھا اور اس مجموعے کو اپنے خرچ پر شائع کرنا ممتاز شیریں کی استطاعت سے باہر تھا، اس لیے اسے ان کی وفات کے بعد ان کے برخوردارِ سعادت آثار آصف فرخی نے از سرِ نو مرتب کرکے شائع کرایا۔ پے در پے اشاعتوں کے باوجود یہ سوال کرنے کی مجال کسی کو نہیں ہوئی کہ عسکری کا موقف ان انتخابات میں شامل افسانوں، مثلاً ‘‘کھول دو’’، ‘‘لاجونتی’’ اور ‘‘گڈریا’’ کی موجودگی میں کس طرح قابلِ اعتبار ٹھہرتا ہے۔

عسکری کے تابعینِ مہمل سے یہ توقع کرنا انصاف سے بعید ہو گا  کہ ان کے نقادانہ جلووں کے سامنے اپنی آنکھیں خیرہ نہ ہونے دیں۔ ان کی خوش عقیدگی کا عالم دیکھ کر تو ضمیر جعفری کی نظم یاد آجاتی ہے جس کا ذیلی عنوان ‘‘ایک ژولیدہ گفتار بزرگ کے دھندلے دھندلے ملفوظات کا خلاصہ’’ ہے۔ (یہ نظم اُس وقت وقت بھی بےساختہ یاد آتی ہے جب عسکری کی تحریروں میں فراق گورکھپوری کا ذکر ہو رہا ہو۔) اس نظم کا ہر بند ٹیپ کے اس مصرعے پر ختم ہوتا ہے:

شاگرد بولا واہ واہ، کیا بات ہے، کیا بات ہے!

ان کی توصیفی فقرے ‘‘اگر کوئی پوچھے۔۔۔’’ سے شروع ہوکر ‘‘ظاہر ہے عسکری صاحب’’ پر ختم ہوتے ہیں۔  superlatives   سے اِدھر رکنے کو یہ گستاخی گردانتے ہیں۔ ‘‘عسکری یہ بھی جانتے تھے کہ پودے کیسے زندہ رہتے ہیں اور ذروں میں ہستی کا کون سا قانون عمل کرتا ہے’’ کی قبیل کے فقروں کو تو خیر ‘‘پیراں نمی پرند’’ کی کرامات سمجھ کر نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ‘‘فسادات کے ادب پر عسکری صاحب کا مضمون وقیع ترین ہے’’، ‘‘عسکری صاحب اردو کے اعلیٰ ترین نقاد ہیں’’، اس قسم کی باتیں اتنے تواتر کے ساتھ اور زور دے دے کر دُہرائی جاتی ہیں کہ سننے والے کو شبہ ہونے لگے کہ یا تو کہنے والے کو خود ان باتوں پر یقین نہیں ہے یا پھر اس کا اشارہ اردو تنقید کی کم مایگی کی طرف ہے۔

باقی نقادوں کا خیال غالباً یہ ہے کہ اعلیٰ ترین کا فیصلہ چوںکہ قیامت تک کے لیے ہو ہی گیا ہے ، اور تنقید کی جو بلندترین سطح اردو ادب کے مقدر میں تھی وہ میسر آ ہی چکی ہے، اس لیے عسکری کی تحریروں کو غور سے پڑھنے اور ان کے بارے میں سوال اٹھانے سے کیا حاصل۔ یا ممکن ہے نقادوں کو تازہ افسانوں کے پرچہ ہائے ترکیب استعمال لکھنے سے فرصت نہ ملتی ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انھیں اپنی پگڑی کے اچھالے جانے کا خوف عسکری کی تحریروں کا تجزیہ کرنے سے باز رکھتا ہو۔

واقعہ یہ ہے کہ بعض پڑھنے والوں کے ذہن میں عسکری کی تنقید پڑھ کر کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں، اور چونکہ پڑھنے والوں کے سر پگڑی سے آزاد ہوتے ہیں اس لیے وہ ان سوالوں کا سامنا کرنے سے نہیں جھجھکتے۔ پھر وہ اس کو کوئی غیرمعمولی یا خلافِ وضعِ فطری بات بھی نہیں سمجھتے کہ اہم نقادوں کے معاملے میں کبھی کبھار ایسے سوال پیدا ہوں۔ اگر اہم نقاد بڑا نقاد بھی ہوا تو ان سوالوں سے نمٹنے کے بعد بھی اس کی تحریروں میں کچھ نہ کچھ بچ رہے گا جو پڑھنے والوں کے کام کا ہو گا۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو بھی کیا حرج ہے۔

‘‘فسادات اور ہمارا ادب’’ نامی مضمون چند ایسے موضوعات کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر زیر بحث لاتا ہے جن سے عسکری کو اس مضمون سے پہلے اور بعد میں اکثر سروکار رہا ہے، مثلاً ادیب کی ذمے داری، خارجی حالات سے ادب کا تعلق، آزادی فکر، تنقید کا منصب، ادبی منصوبہ بندی وغیرہ۔ اس بنا پر اس تحریر کو عسکری کی دوسری تحریروں کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش شاید نامناسب نہ ہو۔

کوئی تحریر، خواہ ادب ہو یا تنقید، مصنف کے اختیارکردہ اسلوب پر توجہ دیے بغیر پوری طرح سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ یہ بات عسکری کے سلسلے میں اور بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ان کے اسلوب کی انفرادیت کے سب یہ لوگ قائل معلوم ہوتے ہیں۔ تنقید کا یہ اسلوب ان سے پہلے کسی نے اختیار نہیں کیا تھا۔ وہ اس اسلوب کے موجد تھے مگر افسوس یہ ہے کہ خاتم نہیں تھے۔ قرۃ العین حیدر عزیز احمد پر اپنے ایک مضمون میں کہتی ہیں:

‘‘محمد حسن عسکری کی تقلید میں تنقید عرصے سے اب کچھ اس طرح لکھی جاتی ہے: اجی وہ تو کہیے کہ مارسل پروست کی اس وجہ سے نانی مر گئی کہ کافکا صاحب کہہ گئے ہیں جاٹ رے جاٹ ترے سر پہ کھاٹ۔ مگر راں بو صاحب بیٹھے وہی لکیر پیٹتے رہے۔ ویسے ورجینیا وولف کو بھی آج کل کون گھاس ڈالتا ہے، اور جیمز جوائس تو خیر کب کے ٹائیں ٹائیں فِش ہو گئے۔ فلاں فلاں نے فرانس میں کروچے کا کونڈا کر ڈالا اور سارتر نے تو خیر فلاں فلاں بات کہی ہے مگر کیمو بھی ایک ہی کائیاں نکلا۔۔۔’’

مگر یہ ایک سرسری سا تبصرہ ہے اور عسکری کے اسلوب کی صرف ایک خصوصیت پر جو شاید اس قدر اہمیت نہ رکھتی ہو جتنی ان کے مقلدین کی تحریریں پڑھ پڑھ کر اہم محسوس ہونے لگی ہے۔ان برادرانِ خورد کو یقین ہے کہ اگر تنقیدی مضمون میں ‘‘ڈی ڈی ٹی چھڑکنا’’، ‘‘میٹھا برس’’ اور ‘‘بیل بیاہا’’ جیسے چٹ پٹے کلمات استعمال کر لیے جائیں تو کسی استدلال کی ضرورت نہیں رہتی۔

عسکری کے تنقیدی اسلوب کے بہت سے اوصاف ہیں، لیکن نقطۂ نظر کی استقامت  (consistency)  کا شمار ان میں نہیں ہوتا۔ اس انگریزی لفظ سے آپ کو انگریزی کا وہ مشہور مقولہ یاد آئے گا جس میں اس خصوصیت کو  hobgoblin of little minds   قرار دیا گیا ہے۔ عسکری کی کوتاہ ذہنی کے رد میں ایک تو یہی خاصی پُرزور دلیل ہے۔ کیا عجب، کوشش کی جائے تو اور بھی دلیلیں دستیاب ہو جائیں۔ عسکری کے متاثرین اگر دن رات زبانی روایت کی چارپائیاں توڑنے کے بجاے اس طرف توجہ کریں تو کیا مضائقہ ہے۔

رسالہ ‘‘ساقی’’ میں ‘‘جھلکیاں’’ کے عنوان سے اپنے پہلے کالم میں عسکری نے اصرار کے ساتھ اس بات کی وضاحت کی تھی کہ ان کے خیالات دراصل ان کے تعصبات ہیں جو تیزی سے بدلتے رہتے ہیں اور جن کا دارومدار کیمیائی، حیاتیاتی، عمرانی اور بیسیوں دوسرے افعال پر ہے؛ اور پڑھنے والوں کو چاہیے کہ ان کی تحریروں میں ازلی وابدی صداقتیں پانے کی توقع نہ کریں۔ جہاں تک عسکری کے آخری فقرے کا تعلق ہے، اسے ان کی پیش قیاسی کا معجزہ کہنا چاہیے کہ ایک دن تابعینِ مہمل ان کی تحریروں سے ازلی و ابدی صداقتیں برآمد کرنے کی کوشش کریں گے ۔۔ اور کامیاب بھی ہو جائیں گے۔ جس طرح مشتاق احمد یوسفی نے لکھا ہے کہ لوگ نہ صرف خونی پیچش کا علاج تعویذ گنڈوں سے کرتے ہیں بلکہ ستم یہ ہے کہ صحت یاب بھی ہو جاتے ہیں۔

آنکھیں کھلی رکھ کر پڑھنے والوں کے لیے البتہ یہ وضاحت غیرضروری ہے کیونکہ وہ تنقید سے ازلی وابدی صداقتیں فراہم کرنے کی توقع وابستہ نہیں کرتے۔ ثانوی اہمیت رکھنے والی ان مددگار تحریروں سے انھیں بہت سے بہت یہ جاننے کی توقع ہوتی ہے کہ ادبی تخلیقات اور ادب کے مسائل کے بارے میں تنقیدنگار نے کیا رائے قائم کی ہے، کس بنیاد پر کی ہے اور یہ رائے ادب کی تحسین اور ادبی مسائل کی تفہیم میں پڑھنے والے کی کس طرح مدد کر سکتی ہے۔ ازلی و ابدی صداقتیں یا تو الہامی کتابوں میں ملتی ہیں یا عظیم ادبی تخلیقات میں۔ فرق یہ ہے کہ الہامی کتاب پڑھنے والے سے ایمان لانے کا مطالبہ کرتی ہے اور ادبی تخلیق پڑھنے والے کو ادیب کے تجسس میں شریک کرتی ہے۔ ادب کے موضوعات ازلی اور ابدی حقیقتوں سے لے کر انسانوں کی ارضی زندگی کے مبتذل قضیوں تک ہر چیز کے بارے میں ہو سکتے ہیں۔ بلکہ یہ تعمیم قائم کر لینا شاید احتیاط سے بعید نہ ہو کہ مجرد ازلی وابدی حقیقتوں سے ادب کی مختلف اصناف کو صرف اس حد تک سروکار ہوتا ہے جس حد تک وہ انسانی زندگی کے برسرِ زمین قصوں میں ظاہر ہوتی ہیں، اس لیے کہ ادب کی کائنات کا مرکز تو انسان اور انسانی زندگی ہی ہے۔

کسی مسئلے یا موضوع پر کسی شخص کے خیالات میں تبدیلی واقع ہونا ایک فطری امکان ہے اور اس کے اسباب بیسیوں ہو سکتے ہیں۔ جہاں تک لکھنے والے کے کیمیائی یا حیاتیاتی افعال کا تعلق ہے، پڑھنے والا ان کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کر سکتا۔ اگر تنقیدنگار نے یہ تاثرات، بہ قولِ عسکری، اپنے ذاتی روزنامچے میں درج کیے ہوتے تو کسی معالج کے کام آ سکتے تھے۔ اگر ایسا نہیں ہے اور اس نے ان تاثرات کو بہ رضا و رغبت کسی ادبی رسالے میں شائع کرانا اور اس طرح پڑھنے والوں سے ادب کے موضوع پر مکالمہ قائم کرنا مناسب سمجھا ہے، تو اس کے کیمیائی اور حیاتیاتی افعال کو اس بحث سے خارج ہی رکھنا بہتر ہو گا۔ پڑھنے والا تو تنقیدنگار کے خیالات میں تیزرفتاری یا سست روی سے آنے والی تبدیلیوں کے اسباب اس کی تحریروں ہی میں پانے کی توقع کرے گا۔ جیسا کہ عسکری نے کہا ہے:

‘‘اگر آپ مجھے بتائیں کہ مجھے کل عرفان حاصل ہو گیا تو میں آپ کو مبارکباد دے سکتا ہوں مگر مجھے اس علم سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ میرے لیے تو یہ بات زیادہ ضروری ہے کہ آپ کو کتنی دشواریاں پیش آئیں، آپ کدھر کدھر بھٹکے اور ٹھیک راستے پر کس طرح پہنچے۔ اگر آپ مجھے یہ ساری باتیں بتائیں تو مجھے اپنی جستجو میں واقعی مدد مل سکتی ہے۔’’

یہ یاد دلانا غیرضروری ہو گا کہ عسکری کو آخری عمر میں جو چیز حاصل ہوئی تھی اسے بھی ان کے مریدین عرفان ہی کہتے اور مانتے ہیں؛ البتہ یہ بتانا ضروری ہے کہ مجھے یہاں اس عرفان سے بحث نہیں۔ برسبیل تذکرہ، محمد ارشاد، محمد علی صدیقی وغیرہ اسے معرضِ بحث میں لا کر ‘‘میٹھا برس’’ اور ‘‘بیل بیاہا’’ جیسی براہینِ قاطع کے علاوہ ‘‘کوئی محمد ارشاد’’ کی لاجواب پھبتی اور ‘‘زندیقی صاحب’’ کے فتوے سے اپنی زباں بندی کروا چکے ہیں۔ اس قسم کی بحث میں پڑنے سے تو بہتر ہے کہ آدمی، بقولِ عسکری، مانجھا سُوتے۔ یوں بھی تصوف بحث مباحثے کی چیز نہیں، اسد محمد خاں کے لفظوں میں، اللہ چاہے تو ساٹھواں برس لگتے لگتے خواہ مخواہ بھی ہو جاتا ہے۔

اوپر دیے گئے اقتباس میں عرفان سے عسکری کی مراد غالباً وارداتِ قلبی سے نہیں بلکہ ذہنی تجسس کی مدد سے دریافت کیے ہوے کسی نکتے سے ہے جس کی وضاحت معقول اصطلاحوں اور معروضی بیان کے ذریعے سے کی جا سکتی ہو۔ ان کی بات اس لحاظ سے بالکل درست ہے کہ پڑھنے والے کے لیے محض اس بیان کی کوئی اہمیت نہیں کہ کوئی شخص اپنے ذہنی تجسس کی مدد سے کس نتیجے پر پہنچا؛ اصل افادیت اس امر کی ہے کہ وہ اس نتیجے پر کس طرح پہنچا۔ یہ دوسری بات ہے کہ عسکری کی تنقیدی تحریریں بعض اوقات ان کے اعلان کردہ نتائج کے اسباب جاننے میں پڑھنے والے کی مدد نہیں کرتیں۔ اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران انگریزی ادیبوں اور شاعروں میں جو رجحانات پیدا ہوئے اس پر تبصرہ عسکری کے ہاں کئی جگہ ملتا ہے۔ مئی 1944ء کی ‘‘جھلکیاں’’ میں لکھتے ہیں:

‘‘جنگ نے وقتی طور پر جذبات کی بہت سی پیچیدگیوں کو دور کردیا ہے۔ اب موت اور زندگی نے ایسی واضح اور سادی شکل اختیار کر لی ہے۔ کہ اس میں پہلے والی جذباتی بھول بھلیاں کی گنجائش ہی نہیں۔ موت کی قربت نے زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو پیارا بنا دیا ہے۔ کل تک چاند، سورج، پھول یا پیڑ پر نظم لکھنا حماقت کی نشانی سمجھا جاتا تھا، آج مرنے سے پہلے ان پر آخری نظر ڈال لینے کو جی چاہتا ہے۔ بالکل فطری بات ہے کہ روایتی غنائیت لوٹ آئے۔’’

مارچ 1945ء میں لکھتے ہیں:

‘‘کم سے کم میں تو اس چیز کو بہت قابلِ قدر سمجھتا ہوں کہ انگریز ادیبوں نے جنگ اور قومی مصلحتوں کو اپنے دماغ پر مسلط نہیں ہونے دیا، جیسا روس میں ہوا ہے۔ جنگ کے بارے میں بھی افسانے لکھے جاتے ہیں لیکن ان میں خودستائی نہیں ہوتی بلکہ سچ۔ وہ سچ جسے لکھنے والے نے ذاتی طورپر محسوس کیا ہے، خوہ یہ سچ اس کی حکومت کے مقاصد کے کتنا ہی خلاف کیوں نہ ہو۔ ہر لکھنے والے نے وہ نامحسوس آواز سننے کی کوشش کی ہے جو بی بی سی کی نشریات میں نہیں سنی جاتی بلکہ صرف اپنے دل کی گہرائیوں میں، اور وہ بھی مختصر ترین لمحے کے لیے۔’’

ستمبر 1965ء کی ‘‘جھلکیاں’’ میں فرماتے ہیں:

‘‘جنگ نے آرٹ کی اصلی حقیقت اور اہمیت بھی اچھی طرح واضح کردی ہے۔ اب لوگوں نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ آرٹ سیاست کا ضمیمہ نہیں بلکہ اس کی ہستی الگ ہے، اس کی زندگی کے اصول لگ ہیں، اور فنکار کے ذہن کی آزادی بہت بڑی چیز ہے۔ چناںچہ ان شاعروں کو اپنا نقطۂ نظر وزارتِ جنگ سے نہیں ملا بلکہ انھوں نے شعوری طور پر کوشش کی ہے کہ سستی حب الوطنی کی رو میں نہ بہہ جائیں۔’’

‘‘فسادات اور ہمارا ادب’’ میں ارشاد ہوتا ہے:

‘‘جنگ کا ادیبوں پر جو ردِعمل ہو ا وہ یہ کہ انھوں نے اپنی زندگی کو بڑا خالی خالی محسوس کیا۔ نہ پھول رہے تھے نہ چڑیاں، عزیز اقربا بچھڑ گئے تھے۔ جنگ کی وجہ سے ذاتی آزادی میں بڑی کمی آ گئی تھی۔ ان سب ذہنی اور شخصی آسائشوں کے غائب ہو جانے سے انھیں بڑی تکلیف ہوئی اور انھوں نے بھری پُری زندگی کے سوگ میں بسورنا شروع کر دیا۔ فی الجملہ انگریز ادیبوں کا رویہ بڑا انفعالی قسم کا رہا اور اس ردِعمل کی بنیادوں پر کسی جاندار ادب کی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ محض جھلاہٹ، محض بدمزگی کا احساس، محض بےاطمینانی ادب کے لیے زیادہ دیر تک کام نہیں دیتی۔ اس سے زیادہ کار آمد تو شدید اور جنونی قسم کی نفرت ہی ہوتی۔ یہ تو قابلِ تعریف بات ہے کہ عملاً قومی خدمت کرتے ہوے بھی انھوں نے اپنی ادبی حیثیت کو فراموش نہیں کیا۔ مگر جس قسم کا ذہنی تجربہ انھیں حاصل ہوا وہ ادبی اعتبار سے بہت زیادہ قابلِ وقعت نہیں تھا۔’’

عسکری کے کیمیائی اور حیاتیاتی افعال کے بارے میں میری معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں؛ آپ کا علم بھی غالباً محدود ہی ہو گا۔ ان اقتباسات کے سیاق وسباق سے صرف ان عمرانی حقائق کا پتا چلایا جا سکتا ہے کہ مئی 1944ء میں ‘‘جمال پرستوں’’ کے اس اعتراض کی مخالفت مقصود تھی کہ اردو کی نئی شاعری میں غنائیت نہیں ہے، مارچ 1945ء میں کچھ گمنام ہندوستانی ادیبوں کی گوشمالی کرنی تھی جو انگریزوں کی رخصتی کا انتظار کیے بغیر ان کے جدید ادب کو رُو بہ زوال اور غیراہم قرار دینے لگے تھے۔ ستمبر 1965ء کا کالم ‘‘ترقی پسندوں’’ کے اس نقطہ نظر کے رد میں تھا کہ ادیب اپنے اردگرد ہونے والے واقعات سے لاتعلق نہ رہیں اور ایسی چیزیں لکھیں جو نئی ریاست کے نقطہ نظر کے مطابق ہوں، ان کا ادب ہونا نہ ہونا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

جہاں تک استدلال کا تعلق ہے، اس کی کمی لہجے سے پوری ہو جاتی ہے۔ (1) ‘‘موت کی قربت نے زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو پیارا بنا دیا ہے۔ کل تک چاند، سورج، پھول یا پیڑ پر نظم لکھنا حماقت کی نشانی سمجھا جاتا تھا، آج مرنے سے پہلے ان پر آخری نظر ڈال لینے کو جی چاہتا ہے۔’’ (2) ‘‘نہ پھول رہے تھے نہ چڑیاں، عزیز اقربا بچھڑ گئے تھے۔ جنگ کی وجہ سے ذاتی آزادی میں بڑی کمی آ گئی تھی۔ ان سب ذہنی اور شخصی آسائشوں کے غائب ہو جانے سے انھیں بڑی تکلیف ہوئی اور انھوں نے بھری پُری زندگی کے سوگ میں بسورنا شروع کر دیا۔ ’’ نفسِ مضمون تو جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں دونوں جگہ ایک ہی ہے، بس لہجے کی تبدیلی سے نتیجہ بدل جاتا ہے اور زبان پر عسکری کی ماہرانہ گرفت کا بہ خوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اردو زبان کو ‘‘شاعرِ انقلاب و اَمرد و زن’’ جوش ملیح آبادی پہلے ہی لونڈی کے طور پر اپنے گنجان آباد حرم میں داخل کر چکے ہیں، ورنہ ‘‘خد اے تخمین و ظن’’ کی حیثیت سے عسکری اس کے زیادہ سزاوار تھے۔ مگر خیر، عسکری کو بقولِ کسے لذت دنیا سے کچھ بہرہ نہیں؛ اور پھر وہ انکسار کے قائل ہیں۔

(جاری ہے)

 


Comments

FB Login Required - comments