قاصد، گھڑیال اور دیگر امور معلقات


wajahatبرادر بزرگ کہتے ہیں کہ ہم بزدل قوم ہیں۔ اس کی تردید یا تائید کا یارا تو نہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ قسمت کے کھوٹے ہیں۔ یہی دیکھئے کہ آج پطرس بخاری کو یاد کرنے کا ارادہ تھا۔ لاہور کے انار کلی بازار کا ایک پر لطف مطائبہ بیان کرنا تھا مگر فلک کج رفتار کا تقاضا ہے کہ قاصد صحافیوں سے بات کی جائے اور شاہراہ آئین کے تپتے پتھروں پر سجدہ کیا جائے۔ مقدارت کی تقسیم کا حادثہ ہے۔ قدیم عہد میں ایک علم نجوم ہوتا تھا، انسان کی فکر نے ارتقا کیا اور اسے علم ہیئت میں بدل ڈالا۔ اور ہم بھی کیا قیامت ہیں کہ ہم نے علم نجوم کو صحافت اور ہیئت کو ہیئت مقتدرہ قرار دے دیا۔ ہمارے ایک صحافی نہایت سلیم الطبع ہیں اور صفائے قلب کا نسخہ ارزاں کرتے ہیں۔ ایک اور نیک دل صحافی کہ انھیں صحافت کا نجم الثاقب کہنا چاہئے، چڑیا اور دیگر مرغان چمن کی خبر رکھتے ہیں۔ حسن اتفاق کہنا چاہئے کہ کبوتر کسی بھی سمت سے اڑتا ہوا آئے، خانہ انوری کی دیوار پر ایک ہی مضمون کا رقعہ رکھتا ہے۔ اجل کے ہاتھ کوئی آرہا ہے پروانہ…. پانچ نکات ہیں اور خوبی یہ کہ ترتیب بھی ایک سی ہے۔ معلوم ہوا کہ پاناما لیکس کے انکشافات تو محض کھونٹی ہیں جس پر وہی سہاگن دوپٹہ لٹک رہا ہے جو میلا ہو کر رنگ لاتا ہے۔

قمری کف خاکستر و بلبل قفس رنگ
اے نالہ، نشان جگر سوختہ کیا ہے

تو بات یہ کھلی کہ صاحبان باوقار کو منتخب وزیراعظم سے شکوے ہیں۔ توبتہ النصوح کا کردار سلیم لکھتا ہے کہ میاں نواز شریف دوغلے پن سے کام لیتے ہیں۔ دوغلہ پن مثبت لفظ نہیں اور نہ منتخب وزیراعظم کے بارے میں ایسی بات کہنا مستحسن ہے۔ جنوری 1959 میں جسٹس رستم کیانی نے فرما دیا تھا کہ جنرل ایوب خان کی مہم جوئی سے بنیادی نقصان یہ ہوگا کہ سیاسی رہنماو¿ں اور عسکری قیادت کے درمیان اعتماد کے مستقل بحران کی بنیاد پڑ جائے گی۔ رستم کیانی صاحب ادراک تھے۔ ساٹھ برس گزر چکے، اعتماد کا یہ بحران ختم ہونے میں نہیں آرہا۔ اس کی ایک وجہ وفا کا یک طرفہ تقاضا بھی ہے۔ اپنی خوئے جفا پر بھی نظر رکھنی چاہئے۔ چار دفعہ تو پھولوں کا قتل عام ہوا ہے اور پتیاں نوچتے رہنے کی کہانی مسلسل ہے۔ قاصد صحافی ایک ردیف تسلسل کے ساتھ استعمال کرتے ہیں جس میں تشکر کا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ “اب کی بار واسطہ کھری اور قناعت پسند سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے پڑا ہے”۔ صاحب، آپ نے اسی تحریر میں رقم فرمایا کہ خیبر پختونخواہ میں عمران خان کے ساتھ وعدہ پورا ہوگیا لیکن پنجاب میں ان کے حق میں جو ہونا تھا نہ ہوسکا۔ گویا مئی 2013 میں اس ملک کے لوگوں نے ووٹ نہیں دئے تھے، یہ تو راز و نیاز کے معاملات تھے۔ کچھ وعدے تھے جو نبھائے گئے اور آرزو سے کچھ پیمان تھے جو مآل تک نہ پہنچے۔ تس پر آپ کی شفقت ہی کہیں گے کہ اخلاقیات کا درس دیا جاتا ہے۔ سیاسی مکالمے میں دوغلے پن کا لفظ اچھا اثر نہیں چھوڑتا لیکن یاد دلانا چاہیئے کہ این آر او کے بارے میں میڈیا مہم کی حوصلہ افزائی کرنے والوں میں وہ نام بھی شامل تھا جس نے دبئی میں بیٹھ کر این آر او کی تفصیلات طے کی تھیں۔ اخلاقیات کا سوال ہے تو سیاسی اخلاق کی قدرِ اولیٰ ملک کے لوگوں کا حق حکمرانی ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارا ملک ایک جمہوریہ ہے تو یہ محض خطابت نہیں ہوتی۔ ہم نے غیر ملکی حکمرانوں سے آزادی کی لڑائی اس لئے لڑی کہ ہمیں اپنی زمین پر حکمرانی کا بدیہی اور ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے۔ جب ہمارے اس حق پر نقب لگائی جاتی ہے تو بطور ایک آزاد قوم کے ہمارے وجود کی نفی کی جاتی ہے۔ ہماری بے بسی دیکھئے کہ ساٹھ برس سے اس کشمکش میں مبتلا ہیں لیکن جانتے ہیں کہ ایسا کرنے والے غیر نہیں ہیں۔ یہ گھر کے اندر کا معاملہ ہے۔ یہ گرہ ناخن تدبیر سے وا کرنا ہوگی۔ ہم کسی کو جسد اجتماعی سے منفک نہیں کر سکتے۔ اس کشمکش کی نزاکتیں آزادی کی جد و جہد سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ ہم نے وہ لڑائی جیت لی تھی اور ہم اس موقف سے دستکش نہیں ہوں گے کہ شفاف حکمرانی آئین کی بالادستی سے الگ نہیں کی جا سکتی۔ روپے پیسے ادھر سے ادھر کرنے کا معاملہ اس لئے ثانوی ہے کہ لیاقت علی خان اور ذوالفقار علی بھٹو پر مالی بد عنوانی کا کوئی الزام نہیں تھا۔ اعتماد کا رشتہ استوار کرنے کے لئے شفافیت کی ماہیت پر غور کرنا چاہئے۔

قاصد پرندے فرماتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے سابق چیف کو عدالت کے کٹہرے میں دیکھنا پسند نہیں کرتی۔ دست بستہ عرض ہے کہ رائے دہندگان بھی اپنے منتخب وزرائے اعظم کی تذلیل پسند نہیں کرتے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ بد عنوانی کے الزام میں چھ اعلی افسروں کو سزا دی گئی ہے۔ ناانصافی کا حافظہ پتھر پر لکیر ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ ان چھ افسروں میں وہ نام بھی شامل ہے جسے دسمبر 2013 میں عدالت عظمیٰ میں طلب کیا گیا تھا۔ پیش نہ ہونے پر توہین عدالت کی کچھ کارروائی بھی سامنے آئی تھی اس کے بعد تاریکی کا ایک وقفہ ہے اور تیس مہینے بعد مالی بدعنوانی کا یہ معاملہ سامنے آتا ہے۔ غالباَ بدعنوانی کی زیادہ سنجیدہ صورت یہ تھی کہ شہریوں کے تحفظ کا معاملہ تھا اور عدالت عظمیٰ کی حکم کی تعمیل نہیں کی گئی تھی۔ یہ درست ہے کہ 2014 کے موسم بہار میں میاں نواز شریف طالبان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کر رہے تھے لیکن یہ تناظر بھی سامنے رکھا جائے کہ 2008 سے 2013 تک قاصد یہ پیغام لاتے تھے کہ سیاسی قیادت طالبان کے ساتھ لڑائی کو پھیلانا چاہتی ہے جبکہ پوٹھوہار کا صاحب بصیرت اس پر تیار نہیں ہے۔ میاں صاحب کا تزلزل اپنی جگہ لیکن قوم کے سیاسی شعور سے غیر مدلل اطاعت کا تقاضا کیوں کیا جاتا ہے۔ واضح رہنا چاہئے کہ جون 2014 کے بعد جن صحافیوں نے آپریشن ضرب عضب کا پرچم اٹھایا یہ وہی حدی خواں تھے جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ترکیب بتایا کرتے تھے اور آج پاناما لیکس کی دہائی دینے والوں میں شامل ہیں۔ دہشت گردی کے اصل مخالف وہی تھے جنہوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت کی اور دھرنے کے دوران پارلیمنٹ کا ساتھ دیا۔ قاصد تو پلک جھپکائے بغیر لکھ دیتا ہے کہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات میں دخل اندازی کا جواب دھرنوں کی صورت میں دیا گیا۔ قاصد صحافی ایک خوشنما پرندہ ہے جو چڑھتے سورج کی سمت اور ہوا کی رفتار کے عین مطابق اپنا گیت مرتب کرنا جانتا ہے۔ یہ عجیب منطق ہے کہ دھرنوں کا ناٹک سامنے آئے تو ایک فریق کے لئے لاعلمی کی بنیاد پر شک کا فائدہ مانگا جائے اور نشانے پر آنے والے فریق سے شکوہ کیا جائے کہ اس کے اعتماد میں دراڑ میں کیوںکر آئی۔ بھارت سے تعلقات بھی شکایات کا ایک پہلو ہے۔ اس سیاسی رہنما کے کردار کو سلام ہے جو ربع صدی سے اس موقف کی قیمت چکا رہا ہے کہ بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات بحال کیے بغیر پاکستان کی سیاست، معیشت اور معاشرت کو معمول کے خد و خال دینا ممکن نہیں۔ اس پر کاروباری مفادات کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ صاحب، کاروباری مفادات کے لئے تو لاہور اور کراچی میں ایک مسجد تعمیر کر دینا کافی ہوتا ہے…. کہ مشت خاک کی حسرت میں کوئی کوہکن کیوں ہو۔ پاک چین اقتصادی راہ داری کا معاملہ پاکستان کے مستقبل کی صورت گری کرے گا۔ اسے اقتدار اور اختیار کی اس داخلی رسہ کشی کے تناظر میں نہیں رکھنا چاہئے جو ایک اور دنیا کی کہانی ہے۔ سرد جنگ کے برسوں کی تلخ وراثت ہے۔ تب سکیورٹی اسٹیٹ اور غیر آئینی حکومتیں عالمی طاقتوں کے لئے مفیدِ مطلب آلات تھے۔ معیشت کی سیاست زیادہ شفاف ہوتی ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں ریاست سرمائے کی منطق کے تابع ہو گی۔ ریاست کا کردار کم ہونے سے ریاستی اداروں کی اجارہ داری پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس تمثیل کا پلاٹ زیادہ پھیلا ہوا ہے اور آنے والے عہد کی دستاویز ہے۔ مگر صاحب، اس تمثیل کی گھمبیرتا میں پطرس بخاری کا مطائبہ رہا جا رہا ہے۔ انارکلی بازار سے گزرتے ہوئے ایک دکان پر لٹکتا ہوا بڑا سا گھڑیال دیکھ کر پطرس بخاری نے دکان دار سے پوچھا کہ کیا آپ گھڑیوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں ، دکان دار نے نفی میں جواب دیا۔ پطرس نے پوچھا کہ تو کیا آپ گھڑیوں کی مرمت کرتے ہیں۔ دکان دار نے کانوں پر ہاتھ رکھے کہ گھڑیوں سے کچھ لینا دینا نہیں۔ پطرس نے کہا تو پھر یہ گھڑیال کس لئے لٹکا رکھا ہے؟ دکان دار نے کہا، صاحب نوزائیدہ لڑکوں کی عضویاتی کتر بیونت کرتا ہوں، آپ فرما دیجئے کہ دکان کے باہر کیا لٹکاو¿ں؟ بس یہی سوال قاصد صحافیوں سے بھی پوچھنا چاہئے کہ میاں نواز شریف تو قابل گردن زدنی ہیں، آپ فرمایئے کہ شاہراہ آئین پر کیا لٹکایا جائے۔


Comments

FB Login Required - comments