یہ باباجان کون ہے؟


13228148_10154871535422729_78497213_nوہ بزرگ شخص مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ یہ بابا جان کون ہے؟ بزرگ کا تعلق وادی گوجال کے دور افتادہ گاؤں سے تھا اور وہ گذشتہ انتخابات میں بابا جان کو ووٹ دے چکا تھا۔ بزرگ شخص بابا جان کو نہیں جانتا تھا مگر ووٹ ان کے حق میں ڈال چکا تھا۔ یہ بزرگ شخص علاج کی غرض سے گلگت آیا تھا اور میں نے ان کو راستے میں لفٹ دیا تھا ۔ ہم دونوں جو ٹیا ل سے بازار کی طرف آرہے تھے۔ یہ جولائی 2015 کا مہنہ تھا۔ میں نے بزرگ سے صرف اتنا پوچھا تھا کہ چچا آپ ہنزہ کے لگتے ہیں آپ نے ووٹ کس کو دیا تھا؟ میرے اس سوال کا جواب دیتے دیتے بزرگ نے مجھ سے پوچھ لیا کہ بابا جان کو ن ہیں اور نوجوان ان کو اتنا کیوں چاہتے ہیں؟ میں نے بزرگ سے دوبارہ استفسار کیا کہ چچا آپ جب ان کو نہیں جانتے تھے تو ان کو ووٹ کیوں دیا؟ وہ بزرگ اپنے چہرے پر معصومانہ سی مسکراہٹ سجاتے ہوئے گویا ہوئے۔” میں بابا جان سے متعلق اتنا زیادہ نہیں جانتا ہوں۔ میرا ایک نوجوان بیٹا کراچی میں مقیم ہے، انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ میں اپنا ووٹ بابا جان کو دے دوں۔ اس کے علاوہ مجھ بابا جان کی تصویر بہت اچھی لگی تھی ۔ مجھے لگا کہ وہ واحد غریب آدمی ہیں جو انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ باقی سارے لوگ اپنی د ولت کے بل بوتے پر الیکش لڑتے ہیں۔ یعنی سب موسمی پرندے ہیں صرف الیکشن کے لئے ہنزہ آتے ہیں بابا جان ہمارے حقوق کے لئے جیل جاچکا ہے۔ “

بزرگ کا اصرار تھا کہ میں ان کو بابا جان سے متعلق کچھ بتا دوں مگر ہمارا سفر ختم ہوچکا تھا ۔ بازار پہنچ کر بزرگ گاڑ ی سے اتر کر چلے گئے ۔میں نے ان سے خدا حا فظ کہتے ہوئے ہنستے ہوئے پوچھا کہ چچا آپ بابا جان کو ووٹ دے کر پشیمان تو نہیں ہیں؟ بزرگ کہنے لگے ” بیٹا میں متعدد بار مختلف امید واروں کو ووٹ دے چکا ہوں ۔ مگر اس مرتبہ مجھ لگا کہ میں نے پہلی بار کسی حقدار کو ووٹ دیا ہے۔ اور اگر بابا جان مستقبل میں بھی الیکشن لڑے گا تو میں ان کو ہی ووٹ دونگا۔”

بزرگ سے رخصت ہوکر میں سوچنے لگا کہ باباجان کی ہار میں بھی جیت پوشیدہ ہے ۔ کیونکہ اس قدر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانا کسی دولت، خاندانی اثر، اختیارات اور دھونس دھاندلی سے ممکن نہیں ہے۔ یہ صرف خدمت خلق کو عبادت سمجھنے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں آتا۔

بابا جان گذشتہ پندرہ بیس سالوں سے سیاسی اور سماجی کارکن کی حیثیت سے عوامی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔1999 میں جب وہ ڈگری کالج گلگت میں زیر تعلیم تھے تو اس وقت ان کو طلبہ سیاست کا موقع ملا ۔ ان کو معلوم ہوا کہ ان کے گاؤں ناصر آباد میں سنگ مرمر کا پہاڑ ایک کمپنی کو لیز پر دیا گیا ہے ۔ یہ سن کر وہ گاؤں پہنچ گئے اور گاؤں کے لوگوں کو ان کے حقوق کے لئے متحرک کیا۔ انہوں نے اس کمپنی کو وہاں کام کرنے نہیں دیا یہاں تک کہ وہ کمپنی واپس چلی گئی اور دوسری کمپنی آئی ان کا بھی بابا جان سے ٹاکرا ہوا ۔ بابا جان نے لوگوں کی مدد سے تحریک کو منظم کیا اور اس کمپنی کو بھی کام کرنے نہیں دیا۔ بابا جان کا کہنا ہے کہ جب تک کوئی کمپنی گاؤں کے لوگوں کو برابر کا پارٹنر نہیں بنائے گی وہ کمپنی گاؤں کے ملکیتی معدنیات کو اٹھا کر نہیں لے جاسکتی۔ انہوں نے گاؤں کے لوگوں کو سمھجایا کہ وہ پشتنی و غیر پشتنی باشندوں کے جھگڑے سے نکل کر اپنے حقوق کے لئے متحد ہو جائیں۔ گاؤں کے لوگوں نے ایسا ہی کیا اور اپنے قدرتی معدنیا ت سے خود ہی استفادہ کرنے کا عہد کیا۔ اس مقصد سے گاؤں کے لوگوں نے ایک تنظیم بھی بنا لی اور اس کے ذ ریعے معدنیات سے استعفادہ کرنے پر کام جاری ہے۔بابا جان ان قدرتی وسائل کو بچانے کے لئے ہر فورم پر گئے اور عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا۔

بعد ازاں بابا جان نے گاؤں کے لوگوں کی مدد سے گاؤں کی ملکیتی زمین کو 44 کے قریب با اثر افراد کے قبضے سے آزاد کرا یا اور اس زمین کو فی گھرانہ 17 مرلے کے حساب سے گاؤں کے غریب افراد میں تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دوران ان کو مارپیٹ ، ایف آئی آرز اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر وہ نہیں گھبرایا اور ہر ظالم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑا رہا۔ اُن دنوں بابا جان اپنے سوشلسٹ نظریات اور ہنزہ کے حکمران خاندان سے فطری ٹکر کی وجہ سے پی پی پی کا ہم نوا بن گیا۔ وہ پہلے پی ایس ایف اور بعد ازاں پی وائی او ہنزہ کا صدر رہا۔

اسی دوران لیبر پارٹی گلگت بلتستان کے آرگنائزر احسان ایڈوکیٹ سے ان کی ملاقات ہوئی ۔احسان ایڈوکیٹ نے ان کو 2003 میں لیبر پارٹی کے زیر اہتمام خیبر پختون خواہ میں منعقد ہونے والے ایک کنونشن میں شرکت کی دعوت دی ۔باباجان نے وہ قبول کیا اور ان کے ساتھ اس کنونشن میں شرکت کی۔چونکہ باباجان پہلے ہی سوشلسٹ نظریات کے حامی تھے اس لئے ان کو لیبر پارٹی میں بڑی کشش نظر آئی۔ لیبر پارٹی پاکستان نے جب معاشرے میں مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کی ترجمانی کی تو بابا جان کے لئے یہ باتیں دلچسپی سے خالی نہیں تھیں۔ باباجان اکثر بتاتے ہیں کہ ان کو جب یہ پتہ چلا کہ لیبر پارٹی مظلوموں کی بات کرتی ہے، خواتین کو مردوں سے کم تر نہیں سمجھتی ہے، مزدوروں اور پسے ہوئے طبقات کے معاشی اور سیاسی حقوق کی بات کرتی ہے تو وہ اس پارٹی سے بہت متاثر ہوئے۔

وہاں سے واپسی پر انہوں نے 2004 میں پی پی پی کو خیر باد کہا اور پروگریسو یوتھ فرنٹ بلورستان کی بنیا د رکھ لی۔ یہ سوشلسٹ نظریات رکھنے والی گلگت بلتستان کے نوجوانوں کی پہلی تنظیم تھی۔ اس تنظیم کی مدد سے انہوں نے گلگت بلتستان اور بلخصوص ہنزہ کے نوجوانوں کو ان کے حقوق کے حصول کے لئے متحد کرنا شروع کیا۔ وہ ہر عوامی مسلے پر اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے آواز اٹھاتے رہے۔ انہوں نے سینکڑوں مرتبہ ہنزہ اور گلگت بلتستان کے مختلف مسائل پر جلسے جلوس اور احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا، اس دوران ان پر لاٹھی چارج اور مقدمات بنتے رہے مگر وہ ثابت قدم رہے۔عوامی حقوق کے لئے چندہ جمع کرکے عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کرتے رہے۔ عوامی مسائل کے حل کے لئے ہر فورم کا دوراز ہ کھٹکھٹا یا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم گلگت بلتستان کو ایک فرقہ پرست سماج سے پروگریسیو سماج میں تبدیل کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے۔ 2004 میں ہی انہوں نے ہنزہ سے ضلع کونسل کا الیکشن لڑا اور 894 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے ۔ جبکہ ان کے مد مقابل امیدوار 924 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ باباجان اپنے مخالف امیدوار پر دھاندلی کا الزام لگا کر عدالت گئے مگر عدالت سے فیصلہ آنے سے پہلے ضلع کونسل کی مدت ختم ہوئی۔

باباجان پروگریسو یوتھ فرنٹ کے پلیٹ فارم سے بھاشا ڈیم نام مخالف تحریک میں پیش پیش رہے ۔ وہ اور ان کے ساتھیوں نے اس غرض سے جب ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تو پارک ہوٹل گلگت کے سامنے ان پر پولیس نے بہیمانہ تشدد کیا اور کئی افراد کو کینٹ تھانے کے حوالات میں بند رکھا۔ مگر بابا جان اور ان کے ساتھیوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔

2005 کے فرقہ وارانہ کشدیدگی میں انہوں نے لیبر پارٹی کی مدد سے گلگت میں امن کانفرنس رکھا اور لوگوں کو پیغام دیا کہ وہ امن کا دامن تھامے رکھیں اور فسادات کی بجائے مل کر اپنے حقوق کے لئے کام کریں۔

2005 میں ہی وہ گلگت بلتستان کی قوم پرست اور ترقی پسند جماعتوں کا اتحاد جی بی ڈی اے کا حصہ بنے اور متعدد جلسوں اور جلوسوں میں اپنے پر جوش تقریروں کی وجہ سے نوجوانوں میں مقبول ہوگئے اور سینکڑوں نوجوانوں نے ان کی تنظیم جوائن کر لی۔

وہ سوست ڈرائی پورٹ سے میر فیملی کو بے دخل کرانے کی تحریک میں بھی پیش پیش رہے۔ اس دوران وہ جلسہ جلوس کرتے رہے ۔ انہوں نے ہنزہ کے لئے قانون ساز اسمبلی میں اضافی نشست کی بات 2001 سے کرنا شروع کیا تھا۔جس کے لئے انہوں نے متعدد بار احتجاجی مظاہرے کیا اور ان پر مقدمات بھی بنتے رہے۔

4 جنوری 2010کو سانحہ عطا ء آباد کے بعد متاثرین کے حقوق کی تحریک میں ان کا اہم کردار رہا۔ حکومتی وعدوں کی تکمیل کے لئے انہوں نے اس سانحہ کے بعد تین مہنے انتظار کیا مگر کوئی سبیل نظر نہیں آئی ۔انہوں نے اپنی تنظیم کے پلیٹ فارم سے کراچی، لاہوراوراسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے اور پریس کانفرنسز کیا۔ جس کے نتیجے میں قومی میڈیا اس مسلے کی طرف متوجہ ہوا۔ اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جب ہنزہ کا دورہ کیا اور بے نظیر لنگر کا افتتاح کیا تو بابا جان اور ان کے ساتھیوں نے وزیر اعظم کے خلاف نعرے لگایا اور لنگر اٹھا کر پھینک دیا ۔ کیونکہ ان کا کہنا تھا ہم بھکاری نہیں ہیں ہمیں ہمارا حق دیا جائے۔ پھر متاثرین کو لے کر انہوں نے جھیل کی طرف لانگ مارچ کیا جس پر ان کے اوپر لاٹھی چارج ہوئی اور مقدمات بنائے گئے۔ چونکہ مشتعل مظاہرین نے پی پی پی کا جھنڈا جلایا تھا اس لئے ان پر غداری کا بھی مقدمہ درج کیا گیا۔حالانکہ بابا جان آج بھی کہتے ہیں کہ میں پاکستان سے محبت کرتا ہوں۔ مجھے ملک کے حکمرانوں سے گلہ ہے جنہوں نے ہمیں حقو ق سے محروم رکھا ہے۔ ملک سے کوئی گلہ نہیں اس لئے میں ایک ایسی جماعت کا حصہ ہوں جو پاکستان کی وفاقی جماعت ہے میں کسی مقامی جماعت کا حصہ نہیں ہوں۔

11 اگست 2011 کو اس وقت کے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سید مہدی شاہ کے دورہ ہنزہ کے دوران متاثرین عطا آباد نے احتجاجی مظاہرہ کیا اس دوران پولیس کی فائرنگ سے ایک باپ اور بیٹا جاں بحق ہوئے۔ بابا جان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت نگر میں تھے۔ جہاں انکو واقعے کی خبر ملتے ہی وہ ہنزہ روانہ ہوئے۔ جہاں مشتعل مظاہرین پہلے ہی جلاؤگھیراؤ کر چکے تھے۔ باباجان وہاں پہنچ کر اس دھرنے میں شریک ہوئے جو کہ مظاہرین نے جاں بحق ہونے والے باپ اور بیٹا کی لاشوں سمیت کے کے ایچ پر دے رکھا تھا۔ بعد ازاں صوبائی حکومت کے زمہ داروں کے اس وعدے پر دھرنا ختم ہوا کہ وہ زمہ دار پولیس والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

صوبائی حکومت نے زمہ داروں کے خلاف کارروائی کی بجائے 20 دنوں بعد درجنوں مظاہرین پر انسداد دھشت گردی کے قانون کے تحت مقدمات بنائے اور ان کو گرفتار کیا جن میں باباجان بھی شامل تھے۔ جبکہ اس واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو ترقیاں دے کر باعزت ریٹائرڈ کیا گیا۔ حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کے لئے ایک جوڈیشل کمیشن بھی بنایا تھا مگر اس کی رپورٹ تاحال منظر عام پر نہیں آسکی ہے۔

گرفتاری کے بعد اعصاب شکن تفتیشی مراحل سے گزارنے کے بعد باباجان اور ان کے ساتھیوں کو جیل میں ڈالا گیا۔ وہ جیل میں بھی باز نہیں آئے اور وہاں قیدیوں کے حقوق کی بات کرنا شروع کیا۔ ان کے کہنے پر مختلف فرقوں کے قیدی متحد ہوئے اور پہلی دفعہ اپنے حقوق کے لئے مل کر احتجاج کیا اور اپنے حقوق کی بات کی۔ جس کی پاداش میں باباجان پر جیل کے قیدیوں کو اکسانے کے الزام میں مذید مقدمات قائم ہوئے اوران کو ڈسڑکٹ جیل گلگت سے سب جیل گلگت منتقل کیا گیا ۔باباجان کی رہائی کے لئے پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک میں سوشلسٹ، کمیونسٹ ، ترقی پسنداور انقلابی سیاسی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔

2012 میں ان کو جیل میں پیغام دیا گیا کہ پاکستان کی تین ترقی پسند جماعتیںیعنی لیبر پارٹی پاکستان، ورکرز پارٹی پاکستان اور عوامی پارٹی پاکستان کو ایک دوسرے میں ضم کر کے ایک نئی سوشلسٹ جماعت کی بنیاد ڈالی جارہی ہے۔ باباجان نے جیل سے خط لکھ کر اس کو سراہا۔ جس کے نتیجے میں عوامی ورکرز پارٹی پاکستان وجود میں آئی اور بابا جان پاکستان سطح پر اس پارٹی کے نائب صدر منتخب ہوئے۔یعنی اس کے بعد بابا جان پروگریسو یوتھ فرنٹ کی زمہ داریوں سے دستبردار ہوئے اور عوامی ورکرز پارٹی جوائن کرلی۔ یہ پاکستان کی واحد سوشلسٹ جماعت ہے جو پاکستان اور گلگت بلتستان کے نتخابات میں حصہ لیتی ہے۔

13 مہنے جیل میں گزارنے کے بعد باباجان ضمانت پر رہا ہوئے۔ ان کی رہائی پر نوجوانوں نے جشن منایا اور پاکستان بھر میں موجود گلگت بلتستان کے نوجوانوں اور ترقی پسند جماعتوں نے ان کی جدوجہد کو سلام پیش کیا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے نوجوانوں کی سیاسی تر بیت کے لئے جگہ جگہ خصوصی نشستوں کا اہتمام کیا۔ وہ اس مقصد سے گلگت بلتستان کے کونے کونے میں گھومتے رہے اور پاکستان کے دیگر شہروں میں موجود گلگت بلتستان کے نوجوانوں سے بھی رابطہ کیا۔وہ اپنے سوشلسٹ، انقلابی اور غریب پرور نظریات کی وجہ سے نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوئے اور آج بھی گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں ان کے چاہنے والے نوجوان بڑی تعداد میں موجود ہیں جو ان کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔

2013 میں گندم کی سبسڈی کی بحالی کے لئے جب عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان بنی تو بابا جان کو ضلع ہنزہ نگر کی زمہ داری مل گئی۔ انہوں نے وہاں تاریخی مظاہروں کا اہتمام کیا۔ اور عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک میں پیش پیش رہے۔ جس کے نتیجے میں حکومت نے سبسڈی بحال رکھا۔ 2014 ان کی ضمانت منسوخ ہوئی اور وہ دوبارہ جیل چلے گئے ۔ اس دوران انسداد دھشت گردی کی عدالت نے تین مقدمات میں مجموعی طور پر ان کو 71 سال کی سزا سنائی ۔ وہ اس وقت بھی جیل میں ہیں اور سزا کاٹ رہے ہیں اور اپنی سزا کے فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی ہے جو کہ زیر سماعت ہے۔

وہ گزشتہ دو سالوں سے جیل میں ہیں۔دوسری دفعہ جیل جانے کے بعد حسب عادت جب انہوں نے ڈسٹرکٹ جیل گلگت میں قیدیوں کو حقوق کے لئے متحد کرکے احتجاج پر اکسایا تو ان کو گاہکوچ جیل منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ اس وقت ایام اسیری گزار رہے ہیں۔ان کی رہائی کے لئے اور ان کی جدو جہد کوسلام پیش کرنے کے لئے آج بھی پاکستان بھر کے مختلف شہروں میں کانفرنسز منعقد ہوتے ہیں۔ پاکستان بھر سے بڑی تعداد میں ترقی پسند لو گ اکثر گاہکوچ جیل جاکر ان سے ملتے ہیں۔

وہ اس وقت عوامی ورکرز پارٹی جی بی کے صدر اور فیڈرل کمیٹی کے ممبر ہیں۔ انہوں نے گذشتہ جی بی اسمبلی کے عام انتخابات میں جیل میں بیٹھ کر حصہ لیا۔ ان کے چاہنے والے نوجوانوں نے ان کی انتخابی مہم چلائی اور اس مقصد کے لئے خواتین اور جوانوں نے چندہ جمع کیا۔ اور ہنزہ کے حکمران خاندان کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر آگئے اور4741 ووٹ لئے۔جبکہ ہنزہ کے نامی گرامی سیاست دان ان سے پیچھے رہ گئے۔

ہنزہ پر صدیوں تک حکمرانی کرنے والے خاندان کو ٹف ٹائم دینے والے ناصر آباد ہنزہ کے انتہائی غریب گھرانے کا یہ شخص اس مقام تک کیسے پہنچا یہ دیکھ کر سب لوگ حیران ہیں۔ اس دفعہ وہ پھر سے جیل میں بیٹھ کر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔ اس دفعہ ان کا مقابلہ میر غضنفر علی خان سے نہیں بلکہ ان کے نوجوان بیٹے پرنس سلیم خان سے ہے۔

باباجان گلگت بلتستان کے وہ واحد سیاسی ورکر ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ قید کاٹی ہے ان کی سیاسی جدوجہد انوکھی اس لئے ہے کیونکہ وہ انتہائی غریب ہونے کے باوجود عوام کوان کے حقوق کے لئے متحد کرتے رہے ہیں۔وہ گلگت بلتستان کے واحد سیاسی کارکن ہیں جوعلاقے میں سوشلسٹ نظریات پر مبنی جدوجہد کرتے ہیں اور اس مقصد کے لئے تکلیفات برداشت کرتے ہیں۔ وہ انقلابی نظریات کے باوجود انتخابات میں حصہ لیتے ہیں کیونکہ ان کا خیا ل ہے کہ عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے انتخابا ت بہترین زریعہ ہیں۔ باباجان کی رسمی تعلیم اتنی زیادہ نہیں ہے مگر وہ دنیا کے بڑے بڑے نظریات دانوں کو پڑھ چکے ہیں اور سوشلسٹ نظریات پر ان کا مطالعہ کافی وسیع ہے۔ وہ معروف سوشلسٹ فلاسفرز کارل مارکس، اینگلز، لینن اور دیگر کے نظریات پڑھ چکے ہیں۔وہ ایک متحرک سیاسی کاکن ہونے کے علاوہ ایک ملنسار، بردبار، غریب پروراور چھوٹے بڑوں کو عزت دینے والی شخصیت کے مالک ہیں۔ عوامی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کے لئے عوام کو متحرک کرنے میں ان کو کمال کی حد تک عبور حاصل ہے۔ وہ نعروں سے زیادہ عملی کام پر یقین رکھتے ہیں۔ا ن کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ وہ الیکشن جیت جاتے ہیں یا ہار جاتے ہیں وہ اس بات سے خوش ہوتے ہیں کہ عوام استحصالی طبقے کو مسترد کرنے کے قابل ہوتی جارہی ہے اور غریبوں میں اپنی قیادت ڈھونڈ رہی ہے۔

اس دفعہ وہ جیل میں رہتے ہوئے پھر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کتنی عوامی حمایت حاصل کرتے ہیں۔ مگر ہم جیسے لوگ جمہوریت کے اس حسن کو بڑا انجوائے کرتے ہیں کہ ہنزہ پر صدیوں تک حکمرانی کرنے والے ایک خاندان کو ناصر آبا د ہنزہ کا یہ غریب ترین سیاسی کارکن کتنا ٹف ٹائم دیتا ہے۔کیونکہ وہ اپنے حلقے کے وہ واحد امید وار ہیں جوناصر آباد میں ایک جھونپڑی کا مالک ہے اور ان کی سیاست اپنے علاقے میں ہی ہے جبکہ ان کے مد مقابل تمام امید وار گلگت یا اسلام آباد میں بڑے بڑے گھروں میں رہتے ہیں اور صرف الیکشن کے وقت ہنزہ پہنچ جاتے ہیں۔ہنزہ میں الیکشن کا یہ دلچسپ معرکہ 28 مئی کو وقوع پذیر ہوگا۔


Comments

FB Login Required - comments