آخر سندھی اتنے بیوقوف کیوں ہیں؟


khurram niaziجس طرح ساحلِ سمندر پر مٹر گشت کرتے کرتے آپ کی نظر ایک کارک لگی بوتل پر پڑ جائے جس میں سے ایک گول تہہ کیا ہوا کاغذ جھانک رہا ہو اور آپ بےصبری سے کارک کھینچ کر کاغذ احتیاطاََ باہر نکالیں کہ دیکھتے ہیں کیا برآمد ہوتا ہے۔ کسی اطالوی دوشیزہ کا اپنے مصری عاشق کے نام منظوم خط، ایک ڈوبتے سفینے کے مسافر کی مدد کے لئے آخری پکار یا زنجیبار میں مدفون ایک خزانے کا نقشہ!! بالکل یونہی پاکستان میں اٹھنے والی سیاسی طغیانی یا سونامی گویا بوتل میں مقفل اس پیغام، الزام یا دشنام کو ساتھ لے آئی ہے کہ: “آخر سندھی اتنے بیوقوف کیوں ہیں؟”

کل نوشہرو فیروز سندھ سے نکل کر وائرل ہونے والی وہ ویڈیو جس میں ایک غریب گدھا گاڑی والا اپنے منہ میں جوتا لئے وڈیرے سے معافی مانگ رہا ہے اس سوال کو اسی طرح تازہ کرتا ہے جیسے پرانے زخم پر جمی کھرنڈ کو ناخن سے کھرچ دیا جائے کہ “آخر سندھی اتنے بے وقوف کیوں ہیں؟”

پنجاب میں کسانوں پر کتے چھوڑے جائیں، غریب بچہ کے بازو چارہ کاٹنے والی مشین میں ڈال کر تن سے جدا کر دئے جائیں، غیرت کے نام پر سینکڑوں قتل ہوجائیں۔ بلوچستان میں پرائیوٹ جیلیں دریافت ہوں، انسانوں کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے سلگتے کوئلوں پر چلایا جائے، لڑکیاں وَنی ہو جائیں۔ خیبر اور شمالی علاقوں میں لوگ سنگسار کئے جائیں، جرگے جیتے جاگتے انسانوں کو بھسم کرنے کے احکام صادر فرمائیں۔ ملک کے طول و عرض کے ہر گوشے میں کرپشن اور مہا کرپشن کے اسکینڈل اور میگا اسکینڈل کی داستانیں گونجیں لیکن ہر بار مختلف لبوں سے نکلتے اس سوال کے مخاطب ایک ہی کہ: آخر سندھی اتنے بے وقوف کیوں ہوتے ہیں؟

سندھیوں کی اس بے وقوفی کی داستان ملک کے قیام سے شروع ہوتی ہے جب یونینسٹ پارٹی کے زعماء کو ڈرایا گیا کہ نہرو سوشلسٹ ہے بڑے جاگیرداروں کی ساری زمینیں چھین کر ہاریوں میں تقسیم کردے گا۔ چنانچہ وہ راتوں رات وفاداریاں تبدیل کرکے مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ ادھر ہندوستان میں آزادی کے فوراََ بعد زرعی اصلاحات لاکر زمینداری نظام کا خاتمہ کیا گیا اور کچھ علاقوں میں زیادہ سے زیادہ نہری زمین کی ملکیت کی حد ساڑھے بارہ ایکڑ رکھی گئی۔ فالتو پڑی زمین کو ہاریوں میں مفت تقسیم کیا گیا اور مسلسل زمین کی حد کم کرتے کرتے اب کیرالہ میں یہ محض پانچ ایکڑ ہے۔

دوسری طرف پاکستان میں شروع ہی سے انہی جاگیرداروں کے خاندان سیاست پر قابض رہے۔ 1959ء میں ایوب خان نے ملک کی پہلی زرعی اصلاحات کا اعلان کیا جن کے خاص نکات مندرجہ ذیل تھے:

٭کوئی زمیندار انفرادی طور پر 500 ایکڑ سے زیادہ نہری اور 1000 ایکڑ سے زیادہ بارانی زمین نہیں رکھ سکتا۔

٭اس حد سے زیادہ ساری زمینوں کو حکومتی تحویل میں لے کر مالکانہ حقوق ان مزارعین کو دے دیئے جائیں گے جو ان پر کاشت کرتے ہیں۔

٭حکومت بے زمین ہاریوں میں بلامعاوضہ زمین تقسیم کرے گی۔

گو کہ ہندوستان کی زرعی اصلاحات کے مقابلے میں زمین کی ملکیت کی حد بہت اونچی رکھی گئی تھی پھر بھی زمینداروں نے اپنی اراضی کو وراثت کے ذریعے تقسیم در تقسیم کر کے ان اصلاحات کو ناکام بنا دیا۔

یکم مارچ 1972ء کو صدر بھٹو نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے نئی زرعی اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے زمین کی انفرادی ملکیت کی حد ڈیڑھ سو ایکڑ نہری اور تین سو ایکڑ بارانی مقرر کردی۔ 1977ء میں اس حد کو مزید کم کرکے ایک سو ایکڑ کردیا گیا۔ مگر ایوب خانی اصلاحات کی طرح ان اصلاحات پر بھی کبھی کوئی عملدرآمد نہیں ہوا تا آنکہ ان کو تختۂ دار پر پہنچا کر جنرل ضیاء تختِ اقتدار پر براجمان ہوگئے۔  1979 میں قانون میں دو ترامیم کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو اختیار دیا گیا کہ اگر وہ حدِ ملکیت سے زائد زمینوں کو لیز کرنا چاہیں تو جس شخص سے یہ زمین حاصل کی گئی تھی اس کو فوقیت دی جائے گی۔ دوسرے تعلیمی اداروں اور ‘مشترکہ زرعی کو آپریٹوز’ کو وفاق کی طرف سے اس حد بندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔

1979ء میں پشاور ہائی کورٹ کی ‘شریعت بنچ’ نے مزارعین کے حقِ شفعہ(خریدنے میں فوقیت) کو اسلامی تعلیمات سے منافی قرار دے کر منسوخ کردیا۔ 1981ء میں وفاقی شریعت کورٹ نے اس فیصلے کی توثیق فرمادی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ نے بھی اس پر مہرِ تصدیق ثبت کردی۔ 1989ء میں اسی بنچ نے قزلباش وقف بنام چیف لینڈ کمشنر کے مشہور مقدمے کا فیصلہ دیتے ہوئے فرمایا کہ بڑے زمین داروں سے زمین سرکاری تحویل میں لینا غیر اسلامی ہے۔ وقف کو (مسجد، مدرسہ، مزار یا اسلامی اداروں) کے لئے دی جانے والی اراضی ہر زرعی اصلاحات کے کسی بھی قانونی تقاضہ سے مستثنیٰ ہے۔ زمین کی حد مقرر کرنا فرد کی ملکیت پر بندش عائد کرنے کے مترادف ہے جو خلافِ اسلام ہے۔ ان فیصلوں کے بعد عملاََ 1947ء سے ہونے والی تمام زرعی اصلاحات کو ریورس گیئر لگ گیا۔

سندھی معاشرے کے جمود میں ایک عامل تو بڑی جاگیروں کی موجودگی رہی اور دوسری طرف پارٹیشن کی ہجرت کے نتیجے میں اردو سندھی کی تفریق جس کو باہر سے پنکھے جھل جھل کر خوب ہوا دی گئی۔

جنرل ضیاء نے سندھ میں بڑے جاگیرداروں سے کھلے بندوں اتحاد بنایا اور ساتھ ہی ساتھ قوم پرستوں سے پینگیں بڑھائیں۔

ایم کیوایم کا قیام یقیناََ شہری علاقوں میں پائے جانے والے احساسِ محرومی کا نتیجہ تھا لیکن پچھلے تیس سال کی تاریخ میں اس کا کردار اس چھڑی کا رہا ہے جس سے سندھ کے اڑیل بیل کو دلدل کی طرف دھکیلنے کا کام لیا گیا ہے۔ مشرف دور گزرے ابھی اتنا عرصہ نہیں گزرا کہ بہت کچھ حافظہ سے محو ہو جائے۔ پورے ملک میں وڈیرہ شاہی ہو، یکساں فیوڈل کلچر ایک کونے سے دوسرے کونے تک دکھائی دیتا ہو، جائز و ناجائز طریقے سے بے تحاشہ دولت کمانے اور اس کی نمود و نمائش معاشرے کی مسلمہ اقدار ہوں، طاقتور قاتلوں کو مقتول کے کمزور اہلِ خانہ کو پیسے دے کر معافی حاصل کرنے کا قانونی حق موجود ہو، تمام بڑی جماعتیں جاگیردارانہ اخلاقیات اور اقدار کی پرتو اور محافظ ہوں، اسٹیبلشمنٹ بھی اس میں پوری طرح شریک ہو، کسی جماعت کے منشور میں جاگیرداری کے خاتمے اور ہاریوں کے حقوق کی طرف جھوٹ موٹ بھی اشارہ نہ ملتا ہو، تو ایسے میں کیا میں آپ سے بھی پوچھ سکتا ہوں کہ سندھیوں کو چھوڑیں اپنا بتائیں آپ اتنے بیوقوف کیوں ہیں؟


Comments

FB Login Required - comments