ادبی جمالیات، مواد، اثرات اور دائرہ ء کار


naseer nasirادب کو جمالیاتی بنیادوں پر پرکھنا مناسب ہے یا فلسفیانہ اور اخلاقی قدروں پر، اس بات کا تعلق فلسفہء فن سے ہے، جس کی بحث ادب میں بہت قدیم ہے۔ محض فلسفیانہ اور اخلاقی نہیں بلکہ اس بحث کے افادی، علمی، ادراکی، فکری، معاشی، معاشرتی، عمرانیاتی، سائنسی اور کئی دیگر پہلو بھی ہیں۔ جمالیاتی معروض کا تعلق صرف جسمانی یا مرئی مظاہر سے نہیں، غیر مرئی اور داخلی محسوسات اور اظہارات سے بھی ہوتا ہے۔ جمالیاتی تصور آفاقی ہے اور اسے علمی طور پر بھی پرکھا جا سکتا ہے۔ فلسفے اور اخلاق کی اعلی اقدار جمالیاتی سیاق و سباق ہی میں ادب پارے کا روپ دھار سکتی ہیں۔ اس لحاظ سے ادب کو جمالیاتی بنیادوں پر پرکھنا زیادہ مناسب ہے۔ فلسفہ اور اخلاق تو اس کے اندر پوشیدہ ہوتے ہیں۔ ارسطو نے اپنی بوطیقا میں شاعر اور فلسفی کو ایک جیسا اہم منصب عطا کیا ہے۔ تاہم ارسطو پر بہت زیادہ کام کرنے والے انیسویں صدی کے ایک برطانوی مفکر ارمسن اور دیگر چند مفکرین نے جمالیاتی نقطہء نظر کی انفرادیت سے انکار کیا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ادب میں اصل اہمیت پیش کردہ مواد اور اسلوب کی ہوتی ہے۔ ادبی مواد میں جس نوع کے اجزا ہوں گے، اثرات بھی کم و بیش اسی نوع کے ہوں گے۔ مواد میں اگر مخفی احتمالی اور امکانی قوائیت ہو گی تو ادب بھی طاقتور ہو گا۔ اسلوب اور پیشکش کے اعتبار سے ادب کی مثال ایک ایسے ماحصل یا پروڈکٹ کی ہے جس کے خام مواد کو شاعر یا ادیب اپنے اندر کی ریفائنری میں صاف گری کے نہایت پیچیدہ عمل سے گزارتا ہے۔ اسے آپ تصعید و تطہیر کا عمل یا سبلیمیشن بھی کہہ سکتے ہیں۔ اثرات مابعد تخلیق یا ما بعد ادب آتے ہیں اور مرتب ہونے میں عرصہ کھینچتے ہیں۔ حقیقی ادب کے اثرات فوری نوعیت کے نہیں، دور رس ہوتے ہیں۔ ادب عام طور پر زیر زمین رہتا ہے اور سطح پر محض اس کے اثرات کی لہریں محسوس کی جا سکتی ہیں۔ ان لہروں کی حدِ عمل اور شدتِ اثر کا انحصار کسی خطے یا معاشرے کے افراد کی ذہنی، تعلیمی، علمی اور ادبی استطاعت اور رسائی پر ہوتا ہے۔

اثرات کے دائرہ ء کار میں شرح خواندگی کے علاوہ کسی علاقے یا ملک کا سیاسی و سماجی نظامِ کار، معاشرتی حدو و قیود، اخلاقی و قانونی ذمہ داریوں کا ادراک، ثقافتی و تہزیبی رویے یا قدریں اور ترسیل و ابلاغ کے ذرائع براہ راست ملوث ہوتے ہیں۔ جس معاشرے میں علمی و ادبی پس ماندگی ہو اور اقدار کی پامالی عروج پر ہو، ذہنی طور پر آزاد اور پڑھے لکھے افراد کی تعداد بہت کم ہو اور لوگوں کے ہیروز صرف فلمی ستارے یا کھلاڑی ہوں جن سے آگے ان کی بطلانیت کا تصور ختم ہو جاتا ہو ، خود کو بطور شاعر یا ادیب متعارف کرانا باعث تضحیک ہو، درسگاہوں میں علوم و فنون، شعر و ادب اور تحقیق و سائنس سے حقیقی طور پر وابستہ شخصیات کی توقیر و تکریم کی بجائے پاپ گلوکاروں، اہلیت اور حسن و قبح کے بجائے منظورِ نظر خواتین یا پیشہ ور مسخرہ قسم کے ادبی شعبدہ بازوں، تحسین طرازوں، خطبے سازوں اور مشاعرہ بازوں ہی کو مدعو کیا جاتا ہو، علمی و ادبی اکادمیوں اور اداروں پر از کار رفتہ ادبی بہروپیے اور سرکار و دربار کے قصیدہ گو براجمان ہوں، صاحب کشف و نظر افراد کی جگہ ان پڑھ معطیان محض اپنی دولت اور سیاسی و سماجی مرتبے کے بل بوتے پر جامعات  کی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹیوں کے اراکین ہوں، ذہانت کا معیار انگریزی زبان پر دسترس سے متعین ہوتا ہو، قومی اسمبلی کی کارروائی تک اپنی زبان کے بجائے انگریزی میں ہو اور جعلی اسناد کا کاروبار زوروں پر ہو وہاں ادب کے اثرات کی بات بے معنی ہے، محض ایک یوٹوپیا ہے۔ معاف کیجیئے گا میں شاید کچھ تلخ ہو گیا ہوں لیکن قومی زبان و ادب کے حوالے سے ہمارے معاشرے کی اصل صورت حال اس سے کہیں بدتر بلکہ قابلِ رحم ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اردو شعر و ادب کی اپنی تہذیبی شناخت اور لسانی جغرافیہ تو ہے لیکن یہ ابھی تک خطے میں کوئی تاریخ ساز تحریک لانے اور حقیقی انقلابی روح بیدار کرنے میں ممد ثابت نہیں ہو سکا (مثلاْ جس طرح کہ لاطینی امریکہ، ایران اور بعض دوسری علاقائی اکائیوں میں)۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ادب نعرہ یا خطبہ یا ریسرچ پیپر نہیں ہوتا اور شاعر یا ادیب نہ تو سیاستدان ہوتا ہے نہ سوشل ورکر۔ ادب کا کام سمت نمائی ہے، آئیڈیالوجی فراہم کرنا ہے۔ مطلوبہ نتائج کا حصول اس کے دائرہ ء اختیار سے باہر ہے۔ (اداریہ تسطیر بہ ترمیم)

 


Comments

FB Login Required - comments