ملک ملول کی دھوتی


Saman ایک دھوتی پہننے کا شوق دوسرا دھوتی سنبھالنے کے آداب اور قر ینے سے درجہ اتم بے نیا زی۔ احباب اور اُن کی ا ہلیہ انہیں دھوتی کے شوق سے تائب کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کر چکے تھے مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ محترم نہ تو اپنے شوق سے دستبردار ہوئے اور نہ ہی دھوتی پہننے کے جملہ اسلوب و ا حتیاط کو ملحوظ خاطر رکھنے کا کوئی ڈھنگ اپنایا۔ دھوتی کے خلاف بات سنتے ہی بدک جاتے۔ حقارت سے پاجامے پر نظر ڈالتے ہوئے اُس کا دھوتی سے تقابل کرتے۔ اور اُن کی تان بالاآخر اِس بات پر ٹوٹتی کہ روئے ز مین پر دھوتی سا آسان ، آرام دہ اورہوا فر ینڈلی لباس آج تلک ا یجاد ہی نہیں ہوا ہے۔ پھر ا پنے آبا و اجداد (برصغیر کے) کی دور بینی پر بھی خیال آرائی فرماتے ہوئے یوں لب کشا ہوتے، ” د یکھئے کیا لباس ایجاد کیا ہے۔ د یکھنے کو ایک چادر ہے مگر باندھ لو تو دھوتی۔ اتارنے کا من ہو تو کوئی بٹن یا زپ کا جھنجھٹ نہیں بس ایک طرف سے لٹکتی ہوئی لڑ ( بندھی ہوئی دھوتی کے وہ حصے جو کمر کے دونوں جانب لٹکتے ہیں انہیں لڑ کہتے ہیں ) کو ہلکا سا کھینچیں دوسری گانٹھ خود بخود آپ کی کمر اور دھوتی پر اپنی گرفت ڈ ھیلی کر دے گی بس زرا چستی چاھیے سنبھالنے کو ورنہ دھوتی آپ کو ز مین سے اٹھانی پڑے گی۔ اور تو اور دھوتی کی آسانی و افاد یت کا تجربہ پیچش کے مر یض سے بہتر کسی دوسرے کو کیا ہو سکتا ہے۔ اُن کے قیاس کے مطابق یہ مغربی ممالک کا سکرٹ ہماری دھوتی ہی کی کوئی بگڑی شکل ہے۔

 بھاگوان اُن کے لئے لنڈے بازارسے ڈھوند ڈھونڈ کر ا یک سے بڑھ کر ا یک خوبصورت اور جاز ب نظر پاجامے لاتیں مگر ملول صاحب کے دل کو نہ بھاتے۔ ناچار یہ پا جامہ جات اُن کے دوستوں (ہم جیسے) کو دان کر د یے جاتے۔ جب بھی اُن کے گھر جانا ہوتا تو د یگر احوال کے ہمراہ صاحب کی دھوتی کے بارے کو ئی تازہ شگوفہ ضرور سننے کو ملتا۔ مثلاً رات کو تو دھوتی باندھ کر ہی سوئے تھے مگر …. نہا کر گیلے گیلے جسم پر دھوتی کستے ہو ئے آ رہے تھے کہ دھوتی کی ڈھیلی گانٹھ نے دغا دے د یا و غیرہ وغیرہ۔ ہندوستانی شاعر مخمور جالندھری کا ا یک شعر اُن کے مزاج کا بھرپور عکا س ہے۔

 شیخ صاحب سا نہ ہو گا کوئی بھی تیما ر دار

ہم کو غش آیا تو دھوتی سے ہوا د ینے لگے

بہت دِنوں کے بعد ملاقات کا شرف حاصل ہوا تو صاحب دھوتی کی بجائے پاجامہ زیب تن کئے صوفے پر دراز تھے۔ اپنا تو منہ حیر ت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اُن کی ا ہلیہ (جن سے ہماری دوستی صاحب کے برابر ہی سمجھو)کو بلا کر اِس تبد یلی کی شان نزول دریافت کی۔ پہلے تو خوب ہنسیں پھر قصہ بتا نے لگیں تو ہنسی اُن سے مسلسل چھوٹ چھوٹ جاتی رہی۔ بتایا کہ موصوف گھر سے سبزی خریدنے کے لئے منڈی تشر یف لے گئے تھے (اُن کے گھر سے سبزی منڈی کو ئی 300 گز کے فاصلہ پر ہے)۔ یہاں اُن کی ہنسی پھر بے قابو ہو گئی۔ صاحب بھی پاجامے کو سہلاتے ہوئے ز یر لب مسکرا رہے تھے۔ پھر پاجامے کو دھوتی کی طرح بے خیالی سے درست کرتے ہوئے خود ہی سید ھے ہو کر بیٹھ گئے اور بتانے لگے۔ ” یار ہونا کیا تھا اِس دھوتی نے تو مجھے ذ لیل کروا دیا۔ وہ کے صاحب آپ دھوتی سے جڑی شرمندگی اور خفت کو کب خاطر میں لایا کرتے ہیں۔ ہم نے حیر ت سے دریافت کیا۔

فرمانے لگے۔ سبزی منڈی سے ہفتہ بھر کے لئے سبزیاں ، پیاز ٹماٹر و غیرہ کے شاپر دونوں ہاتھوں میں لٹکائے گھر آ رہا تھا۔ ہوا تو خیر پہلے ہی چل رہی تھی تاہم جب میں گلی میں پہنچا تو تیز ہوا آندھی کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ یہاں تک سنا کر صا حب کھسیانی سی ہنسی ہنسے لگے (ہما رے ا یک ساتھی اس ہنسی کو رونے والی ہنسی کے نام سے پکارا کر تے ہیں) اور اُن کی ا ہلیہ منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی کو روکنے کی ناکام سعی فرما رہی تھیں۔ کچھ توقف کے بعد گویا ہوئے۔ ہوا کا رخ میرے مخالف تھا۔ جب ہوا نے باقاعدہ دھوتی کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا تو میں نے اپنی رفتار بڑھائی مگر مخالف سمت سے ہوا کے زور کے آگے دشواری ہو رہی تھی۔ گھر سے کوئی بیس قدم کے فاصلہ پر تھا کہ ہوا کی مستی اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ اس دوران میرے دونوں ہاتھ تو شاپروں سے بندھے تھے بس ٹانگیں اکٹھی کر تے ہوئے دھوتی کو قبضہ میں رکھنے کے جتن کرنے میں لگا تھا کہ ہوا کا ایک بگولہ سید ھا دھوتی میں سما گیا۔ سنبھلنے کا موقع کہاں ملتا، اس پہلے کہ میں شاپر ز مین پر رکھ کر دھوتی کو قابو کرتا آن کی آن میں دھوتی اڑتی ہوئی میرے منہ کے ساتھ چپک گئی۔ مجھے تو کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔

 ” انہیں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا لیکن مجھے سارے محلے کی عورتیں ہنستے ہوئے دکھائی دے رہی تھیں ، اُن کی گھر والی لقمہ دیتے ہوئے کہنے لگیں، ہوا تیز تھی چنانچہ محلے کی عور تیں اپنی چھتوں پر سوکھنے کے لئے ڈالے ہوئے کپڑے اتار رہی تھیں۔ یہ منظر دیکھتے ہوئے تاروں پر لٹکے ہوئے کپڑے ہوا پر سوار پورے محلے میں اڑتے پھر رہے تھے۔ بتایا کہ اُدھر صاحب نے دونوں ہا تھوں سے شاپر زمین پر رکھ کر بمشکل دھوتی کو قبضہ میں کیا تو چاروں جانب کدو، ٹینڈ ے، سیب، پیاز، اور آلو دوڑنے لگے۔ صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتانے لگیں۔ ایک طرف بے قابو دھوتی اور دوسری جانب شاپرز سے فراری سبز یاں اور پھل۔ پہلے تو ایک ہاتھ سے دھوتی کو سنبھال کر پاؤں سے ادھر اُدھرلڑھکتے ٹماٹر و پیاز روکتے رہے پھر اچانک انہیں اچھی تر کیب سوجھی کہ دوڑ تی بھاگتی سبز یوں اور پھلوں کی فوج پر دھوتی پھیلا کر زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے۔ اِس دوران بچے بھی پہنچ گئے جنہوں نے صاحب کے نیچے سے بکھری ہوئی سبز یاں او پھل نکال کر شاپرز میں ڈال دئے اور خیر سے صاحب دھوتی اور عزت سنبھالتے ہوئے گھر پہنچے۔

غرض سارے محلے نے یہ تفر یح انگیز منظر ملاحظہ کیا۔ شام تلک سارے محلے میں بات اچھے خاصے مبالغہ کے ساتھ پھیل چکی تھی۔ دو چار روز تو عالم یہ تھا کہ صاحب جب باہر نکلتے تو د یکھ کر محلے کی عورتوں کی ہنسی بے ساختہ چھوٹ جاتی۔ محلے دار خوا تین سے ٹاکرہ ہوتا تو وہ منہ پر دوپٹہ رکھ کر بے قابو ہنسی پر گرفت کرتے ہوئے تیز قدموں سے نکل جاتیں۔ صاحب نے گھر میں آتے ہی انتقاماً دھوتی پھاڑ کر فرش صاف کرنے کے لئے دے دی اور کہنے لگے یہ کلموہی اسی لائق ہے۔

ملول اور اُن کے بڑے بھائی متواتر بولنے کی خداداد صلا حیت سے بدرجہ اتم لیس ہیں۔ کسی دوسرے کو اظہار راے کے لئے ہوں ہاں کرنے (ہنکارہ بھرنے) سے زیادہ مہلت نہیں میسر ہوتی۔ صاحب اپنی بات کا آغاز ہی نمبر ٹو (number two) کہہ کر کرتے ہیں گویا نکتہ نمبر ون پہلے بیان کر چکے ہوں۔ بعد ازاں ایک درجن نکات کو نمبر ٹو بتا کر ہی بیان کرتے ہیں۔ دونوں بھائی بات کرنے، بات کو جاری رکھنے اور دوسرے کی بات سے بات شروع کرنے پر غیر معمولی قدرت رکھتے ہیں۔ آپ ملنے چلے جائیں۔ آپ کی خدمت کریں گے۔ کھانا کھلائے بغیر واپس نہیں جانے دیں گے مگر مجال ہے کہ آپ کو حال احوال پوچھنے کی گنجائش ملے۔ شومئی قست اگر دونوں بھائی موقع پر موجود ہوں تو ایسی صورت میں آپ کو ہوں ہاں کرنے کا موقع بھی بمشکل ہی ملے گا کیونکہ جب ایک بھائی کلام کر رہے ہوں تو دوسرے بھائی ہوں ہاں کرنے کی ذمہ داری اچک لیتے ہیں۔ چنانچہ آ پ کو یہ سعادت بھی نصیب ہی سے ملنے والی ہے۔ اُن کی ا ہلیہ راوی ہیں، جب ملول صاحب کی بڑی بہن فوت ہوئیں تو جاننے والی ایک فیملی تعزیت کے لئے آئی۔ کوئی ایک گھنٹہ خاموش بیٹھے رہے۔ برادرِ اکبر اپنی بات ختم کر تے تو برادرِ اصغر (ملول صاحب) بولنے کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا تے لیتے۔ اُن کے کلام کے دوران ہی برادرِ اکبر مہارت سے ریلے ر یس (Relay Race)  کے کھلاڑی کی طرح پیچھے جا کر بات کا سرا اپنی گرفت میں لے کر سر پٹ بھاگنے لگتے۔ قصہ مختصر تعزیت کے لئے آنے والے ” آپ کی ہمشیر ہ فوت ہو گئیں ، بہت افسوس ہوا“ کا جملہ ادا کئے بغیر ہی رخصت ہو گئے۔

 ”16سال یہی کام کیا ہے“ یہ موصوف کا تکیہ کلام تو نہیں تاہم کسی کو کوئی کام سر انجام د یتے ہوئے د یکھیں تو بے اختیار اپنی ماہرانہ رائے د یتے ہوئے راہنمائی فرمانا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ چھوٹتے ہی فرمایا کرتے ہیں”16سال یہی کام کیا ہے“۔ ایک روز دفتر سے آ رہے تھے۔ راستے میں ایک رکشہ ڈرائیور کپڑے سے ونڈ سکر ین صاف کر رہا تھا۔ دیکھ کر و ہیں رُک گئے۔ سامنے جاننے والے کی دکان تھی۔ وہاں سے ایک پرا نے اخبار کا ٹکڑا اٹھائے واپس آئے۔ رکشہ والے کو کہنے لگے، ” صاحب شیشہ کپڑے سے صاف نہیں کیا جاتا۔ منرل واٹر کی بو تل (جو وہ اکثر ہاتھ میں رکھتے ہیں) سے تھو ڑا سے پانی رکشہ کی سکر ین پر پھینکا پھر اخبار کو گچھو مچھو کر کے سکرین پر رگڑنے لگے۔ رکشہ والا کچھ د یر تو حیرت سے تکتا رہا پھر اُن کا ہاتھ روک کر بولا ،” مہربانی صاحب آج کے بعد ا سی طرح صا ف کیا کروں گا۔“ اپنا کام جاری رکھتے ہوئے فرما یا، ” 16سال یہی کام کیا ہے۔“ رکشہ والے کا منہ حیر ت سے کھلا رہ گیا اور د یر تلک انہیں جاتے ہوئے د یکھتا رہا۔

 گھر میں کوئی مرمت کا کام کرنے والا ہو، بچے کوئی کام کر رہے ہوں ، کپڑے دھونے والی مائی ہو ، یا فرش پر ٹاکی لگا نے والی سب کو علم ہے کہ صاحب نے 16سال یہی کام کیا ہے۔ ا یک روز اُن کے گھر گئے تو اُن کی ا ہلیہ سینیٹر ی ورکر سے گٹر صاف کروا رہی تھیں۔ اُن سے ملول صاحب کا پوچھا تو انہوں نے بتا یا کچھ نہیں بس اشارے سے کھڑا رہنے کے لئے کہا۔ کوئی پندرہ منٹ میں سینیٹری ورکر فارغ ہو گیا۔ اُس کو فارغ کر کے فرمایا ” ملول صاحب کو اوپر بند کر رکھا ہے اور سختی سے کہا ہے کہ سینیٹر ی ورکر کے رخصت ہونے تک اوپر ہی تشر یف ر کھیں “۔ وجہ در یافت کی تو بتا یا کہ کچھ عرصہ قبل گٹر بند ہوا تو ملول صاحب ا یک مزدور بلا کر لے آئے۔ جب مزدور کام کر رہا تھا تو یہ مسلسل کھڑے ہو کر اُس کو ماہرانہ ہدایات دیتے رہے اور ساتھ میں ہاتھ بھی بٹاتے رہے۔ آخر میں” 16سال یہی کام کیا ہے “وا لی بات بتانا نہیں بھولے۔ بعد میں ہم زور لگاتے رہے مگر اُس لڑکے نے ہم سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا۔ کہنے لگا آپ سے ا یک کوڑی لینا بھی حرام ہے صاحب۔ اپنا فون نمبر بھی دے گیا اور کہا کہ کوئی کام ہو تو صرف فون کرد یں۔ میں فارغ نہ بھی ہوا تو کسی کو بھجوا دوں گا۔


Comments

FB Login Required - comments