زرداری، ہٹلر اور گئے دن کی مسافت


husnain jamal (3)پانچ روز یہ سوچنے میں گزار دینا کہ جو پڑھا ہے اسے کس پیرائے میں بیان کیا جائے، کس بات کا ذکر چھیڑا جائے اور کیا پڑھنے والوں کے لیے چھوڑ دیا جائے، ایک تکلیف دہ انتظار تھا۔ کسی کتاب کو پڑھ کر اس کے بارے میں سوچنا اور پھر لکھنا، ایسا تجربہ بہرحال نیا تھا۔ یہ احساس بھی دامن گیر تھا کہ سب کچھ لکھ دیا تو خریدنے والے کیا پڑھیں گے اور یہ مسئلہ بھی درپیش ہے کہ سن سینتالیس تک کی سیاست کے بارے میں ایک موقر ادیب کی آرا کتنی درج کی جائیں اور کتنی چھوڑ دی جائیں۔ ان میں کئی معزز نام بھی آتے ہیں جن سے مصنف نے بے لاگ اختلاف کیا ہے، اور بہت سچائی سے ہر بات کھل کر بیان کی ہے۔ لیکن کتاب کا وہ حصہ جو شاید ایک چوتھائی بھی نہ ہو اور زیادہ تر آخری صفحات پر مشتمل ہے، سوال یہ ہے کہ وہی حصہ دماغ پر کیوں حاوی ہے۔ باقی کتاب کی بات کیوں نہیں ہو رہی، وہ جو ایک سوانح ہے ہمارے ایک گوشہ نشین اور درویش صفت ادیب کی، جو شہرت اور نام سے دور بھاگتے رہے لیکن ادب کے سنجیدہ قاری ہمیشہ انہیں پڑھنا چاہتے ہیں۔ اردو ادب کے تراجم کی بات جب بھی ہو گی، ان کا ذکر نہ ہو، یہ ممکن نہیں ہو گا۔

پرجیاں کلاں میں پیدا ہونے والے شاہد حمید جب اپنے بچپن کی بات کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے خیالوں کے منہ زور گھوڑے بہت مشکل سے قابو کر رہے ہیں، واقعات ایک فلم کی مانند چلنا شروع ہو جاتے ہیں لیکن ایسا قاری جو پنجابی زبان سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتا، اسے درمیان میں آنے والے کافی زیادہ پنجابی الفاظ کی وجہ سے تسلسل ٹوٹنے کی شکایت ہو سکتی ہے۔ چوں کہ ہر انسان سوچتا اپنی مادری زبان میں ہے اور اگر اپنے بچپن کے بارے میں سوچے یا بات کرے تو ایک لاڈ (یا مان کہہ لیجیے) بھی لہجے میں در آتا ہے، تو پنجابی الفاظ پر مشتمل یہ بیانیہ اس لاڈ کا بیانیہ ہے۔ اگرچہ بریکٹس میں ایسے الفاظ کے ساتھ ان کے اردو مترادفات درج ہیں لیکن یہ الفاظ کافی زیادہ ہیں۔ یہاں ایک دل چسپ بات یہ ہے کہ جس جگہ بچپن یا مصنف کے آبائی گاؤں کا کوئی ذکر نہیں، وہاں زبان مکمل طور پر اردو ہے، گویا ناسٹیلجیا جیسے ہی دماغ پر دستک دیتا ہے ساتھ اپنی لفظیات بھی لے کر آتا ہے۔

bookپرجیاں کا جغرافیہ، وہاں کا رہن سہن، طرز تعمیر، اس زمانے میں پاسپورٹ حاصل کرنے کے طریقے، حاصل کرنے کے بعد ولایت جانے کا احوال، ٹامس کک ٹریول ایجنسی کی خدمات، تعلیم کی صورت حال، کنواں کھودنے کے طریقے، بچپن میں سیکھے گئے ریاضی کے فارمولے، علاج کے دیسی ٹوٹکے، دوسری عالمی جنگ، سائمن کمیشن کا احوال، اس زمانے کی علاقائی سیاست، ڈاک اور اس کی تقسیم کا نظام، دیسی سٹریٹ تھیٹر کا احوال، مکئی، ساگ، گنے کی اقسام اور ان کی کاشت کے طریقے، پینسل کے سکوں کی موٹائی جانچنے اور درست پینسل استعمال کرنے کے رموز، ریشم کے کیڑے، بٹیر کا شکار، گندم کی کٹائی، بھاٹی گیٹ کے شعرا اور ادیب اور اس علاقے کو حکیم احمد شجاع نے لاہور کا چیلسی کیوں کہا، بلومز بیری کیوں نہ کہا، پٹواریوں کے قصے، سکول کی لائبریری کا دلکش احوال، بیٹ کے دیہاتوں میں کھیلے جانے والے کبڈی اور گلی ڈنڈے کی یادیں، برج اور پچیسی کی اقسام، شادیوں کا احوال اور اس زمانے کی رسوم، کیتھرین میو کی کتاب مدر انڈیا میں درج برصغیر کی خواتین کی تکلیف دہ صورت حال، صبیحہ خانم اور ماہئیے کا مشترکہ پس منظر، بھارت چھوڑ دو تحریک، نصابی کتابوں کے یاد رہ جانے والے باب اور ان پر تبصرہ، پرانے لاہور کی یادیں، لاہور کی پرانی مشہور کتابوں کی دکانیں، مظفر علی سید، عبدالعزیز خالد، اور پھر پاکستان بننے اور یہاں آنے کی روداد، یہ سب ہی کچھ اس کتاب میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ سینتالیس کے بعد شاہد حمید صاحب نے کیسے گزران کی وہ یہاں موجود نہیں، نہ ہی انتظار حسین صاحب اور ان کے باقی دوستوں کا کوئی خاص تذکرہ نظر آتا ہے۔ یہ بہرحال ایک معمہ ہے جس کی ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کتاب سن سینتالیس پر آ کر ختم ہو جاتی ہے۔

ہٹلر اور سابق صدر زرداری ایک مقام پر ایک ہی صف میں دکھائی دیتے ہیں، اقتباس دیکھیے، “جیل نے اسے Shrewd political tactician (زیرک اور پرکار انداز سے سیاسی چالیں چلنے والا، بالکل آصف زرداری کی طرح) بنا دیا۔ اسے یہ سبق ملا کہ جرمنی میں اقتدار محض ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں مل سکتا بلکہ اس کے لیے اسے قانونی ذرائع سے ملک کے آئین کو سبوتاژ کرنا ہو گا” ۔۔۔۔ اگر جیل جانا ہی قدر مشترک ہے تو وہ منڈیلا بھی گئے، فیض صاحب بھی گئے، زرداری اور ہٹلر کو بیک جنبش قلم ایک ساتھ کھڑا کر دینا سیاسیات کے طالب علموں کے لیے بہرحال ایک سوال ہے۔ کیا ایک فوجی آمر، کروڑوں افراد کا قاتل، کسی بھی جمہوریت پسند سیاست دان سے ملایا جا سکتا ہے، شاید نہیں، اور یہ تبصرہ نویس اور اس کتاب کا واحد اختلاف ہے۔

بلا تبصرہ ایک اقتباس دیکھیے، “انیس سو چھیالیس کے انتخابات میں مسلم لیگ کے جن کھمبوں نے دھڑلے سے کامیابی حاصل کی تھی ، ان میں “ہمایوں” کے مالک اور ایڈیٹر میاں بشیر احمد بھی تھے۔ انہیں ضلع فیروز پور کے ایک حلقے میں ٹکٹ ملی تھی۔ انہیں ٹکٹ شاید اس لیے ملی تھی کہ وہ بیگم جہاں آرا شاہ نواز کے کزن اور بہنوئی تھے (ان کی اہلیہ گیتی آرا بیگم شاہ نواز کی سگی بہن اور میاں سر محمد شفیع کی صاحبزادی تھیں)، یا اس لیے کہ وہ “ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح” جیسی نظمیں لکھا کرتے اور انہیں پمفلٹوں کی صورت میں جلسوں میں مفت تقسیم کرایا کرتے تھے۔” (کھمبوں سے مراد یہاں وہ سیاسی امیدوار ہیں جو پارٹی کے نام پر انتخابات جیتتے آئے ہیں)۔

ناصر کاظمی کا پہلا مجموعہ “برگ نے” ہم میں سے اکثر کی پسندیدہ کتابوں میں سے ہے، بلکہ اب تو القا پبلیکیشنز اسے دوبارہ چھاپ بھی چکے ہیں، برگ نے کے دیباچے کی کہانی سنئیے، ” یہ دیباچہ دراصل مظفر علی سید نے لکھا تھا مگر جب کتاب چھپ کر آئی تو اس دیباچے کے نیچے ناصر کاظمی کے دست خط تھے۔ مظفر علی سید نے شکایت کی تو ناصر کاظمی نے سگریٹ کا کش لگاتے اور پیک تھوکتے ہوئے بڑے اطمینان سے جواب دیا، میں نے تمہیں دیباچہ لکھنے کو کہا تھا، یہ تو نہیں کہا تھا کہ یہ چھپے گا بھی تمہارے نام سے، مظفر علی سید منہ دیکھتا رہ گیا۔”

لیکن صاحب یہ دوستوں کی باتیں تھیں، اعلی ظرف لوگ تھے ان کی محبتیں تھیں، بے تکلفیاں تھیں، اس پر رائے کیا قائم کرنی بس پڑھیے اور لطف لیجیے۔ آگے پڑھیے گا تو لیڈی ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن اور پنڈت نہرو کے تعلقات بھی زیر بحث آئیں گے، پاکستان کو مسلم اکثریتی علاقے نہ ملنے میں لیڈی ایڈوینا کا کیا کردار رہا اور کیا گاندھی جی ہم جنس پرست تھے، اس قسم کے معاملات دیکھنے کو ملیں گے، ان پر آرا قائم کیجیے اور تاریخ کو مصنف کی آنکھ سے دیکھیے۔

“تقسیم ہند کے اعلان کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن دونوں ممالک کا گورنر جنرل بننے کا خواہش مند تھا مگر آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے اس کی اس خواہش کو پذیرائی بخشنے سے انکار کر دیا اور محمد علی جناح کو پاکستان کا گورنر جنرل نامزد کر دیا۔ مجھے ذاتی طور پر یہ فیصلہ کچھ پسند نہ آیا کیوں کہ میں دیانت داری سے سمجھتا تھا کہ گاندھی جی کی طرح محمد علی جناح کی شخصیت اتنی بلند و بالا تھی کہ وہ عہدوں سے مستغنی تھی۔ بعد میں جو واقعات پیش آئے، ان کی روشنی میں میرا کچا پکا ردعمل قدرے درست ہی ثابت ہوا” اس اقتباس سے آگے بھی بہت پرمغز لیکن سادہ سے انداز میں شاہد حمید صاحب اس زمانے کے سیاسی معاملات سمجھاتے ہیں اور ان کے حالیہ نتائج بتلاتے ہیں جو تاریخ کے سنجیدہ طالب علم بہت آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

لیاقت علی خان سے متعلق باب بہت چشم کشا اور قلم برداشتہ لکھا گیا ہے۔ اردو اخبارات نے انہیں قائد ملت کا خطاب کیوں دیا، مصنف کوئی وجہ بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ بھارت اپنے قیام کے دو برس بعد ہی آئین بنا کر سن پچاس میں انتخابات کروا جاتا ہے جب کہ لیاقت علی خان کی سربراہی میں ہمارے ہاں لے دے کر صرف قرارداد مقاصد ہی منظور ہوتی ہے جو بہت حیران کن ہے۔ انہوں نے آئین کیوں نہ بنایا؟ آئنی اور شفاف انتخابات کی راہ کیوں نہ ہموار کی، یہ بہت چبھتے ہوئے سوال ذہن میں آتےہیں، اور جب صوبائی انتخابات کروائے تو وہ معاملات ہوئے جہاں سے لفظ “جھرلو” ہماری صحافت میں داخل ہوا۔

اقتباس، “بھارت اپنا آئین بنانے اور انتخابات منعقد کرانے کے بعد بین الاقوامی سطح پر اپنے آپ کو متعارف کرانے اور اپنا وقار بڑھانے میں مصروف ہو گیا (جس کے نتیجے میں وہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں پاؤں تلے روندنے میں کامیاب ہو گیا) مگر لیاقت علی خان اسے محض “مکا” دکھاتے اور جذباتی قوم کو گمراہ کرتے رہے۔ وہ یہ مکا کس زعم میں دکھاتے تھے، میں تو آج تک سمجھ نہیں پایا۔” اور یوں یہ طویل پیراگراف وہاں ختم ہوتا ہے جہاں پاکستان امریکہ اور روس میں سے امریکہ کا انتخاب کرتا ہے، غالباً سن انچاس کی بات ہے، ویسے اسد محمد خان صاحب بھی ہماری موجودہ خرابیوں کی جڑ اسی فیصلے کو قرار دیتے ہیں جو ان کے انٹرویو (اسد محمد خاں کی باتیں) میں دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ کتاب 1928 سے لے کر 1947 تک کی ایک قیمتی اور بے تکلفی سے لکھی ہوئی دستاویز کہی جا سکتی ہے جس میں باوجود سوانح ہونے کے مصنف نے اپنی ذات کو بہت زیادہ محور نہیں بنایا۔ دنیا کی باتیں کیں، دنیا والوں کو دیکھا، اہم واقعات کا وہ رخ دکھایا جو ان کی نظر دیکھتی ہے اور فیصلہ ہم پر چھوڑ دیا۔ منکسر المزاجی کتاب کا اہم جزو ہے، باوجود ٹالسٹائی، جین آسٹن، دستویفسکی، ہیمنگوے اور ایڈورڈ سعید کی بھاری بھرکم کتابوں کے ترجمے کرنے کے اس کتاب میں آپ کو کہیں کوئی نرگسیت یا اپنی عظمت کی داستان نظر نہیں آتی، نظر آتا ہے تو ایک سادہ دل بوڑھا آدمی جو اپنی زبان اور اپنے علاقے کی محبت میں گرفتار رواں دواں لکھتا چلا جاتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 146 posts and counting.See all posts by husnain