بائیں بازو والوں سے خبردار


\"khurramکوئی شعر آپ کا دل موہ لے آپ اسے گنگنا گنگنا کر بس جھومتے رہیں لیکن پھر کوئی بدتمیز آپ کا مزہ یہ کہہ کر کرکرا کردے کہ آواز تو خیر اللہ کی دین ہے لیکن جو آپ گا رہے ہیں وہ شعر کی تعریف پر پورا نہیں اترتا پھر نا چاہتے ہوئے بھی آپ کو غزل، نظم، قصیدہ، رباعی، قطعہ، مرثیہ۔ ہجو وغیرہ کی تعریفیں سمجھنی پڑتی ہیں۔ بدقسمتی سے علوم اس قدر ترقی کر گئے ہیں کہ ہر چیز کی کوئی نہ کوئی تعریف یا ڈیفینیشن ہوتی ہے۔

ایک محفل میں کسی صاحب سے جو بار بار بحث کرتے ہوئے خود کو بائیں بازو کا علمبردار کہہ رہے تھے ہم نے پوچھ ہی لیا کہ آخر یہ بائیں بازو کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے بڑی عالمانہ تقریر کی جو ہم نے اسی وقت اپنے موبائل فون میں رکارڈ کر لی اور اب اسی کو سن کر نقل کر رہیں ہیں۔

\’سیاست میں دائیں اور بائیں بازو کی اصطلاحات کا آغاز فرانسیسی انقلاب کے دوران ہوا جب بادشاہ کے دائیں طرف وہ حضرات تشریف فرما تھے جو بادشاہت کا تسلسل چاہتے تھے۔ جبکہ بائیں طرف وہ جو بادشاہت کے خاتمے اور جمہوریت کے قیام کے متمنی تھے۔ وہ دن اور آج کا دن وہ لوگ جو جاگیرداری، سرمایہ داری، جنگوں، غیر ملکی مداخلت، مذہبی جنونیت اور فرقہ واریت کی حمایت کریں انہیں دایاں بازو اور ہاریوں، مزدوروں، عورتوں کے حقوق کی بات کریں۔ مذہبیت کی جگہ عقلیت کو فوقیت دیں، جنگوں اور سامراجی مداخلت کی مزاحمت کریں سب بائیں بازو کے کہلاتے ہیں\’ جب ہماری موٹی عقل اس تعریف کو سمجھنے سے قاصر رہی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا:

میں اس کا نام نہ لوں پھر بھی لوگ پہچانیں

کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے

ان کی اس گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل سے تنگ آکر ہم نے ایک چھوٹی سی شرح مرتب کی ہے امید ہے وہ احباب اس سے خوش ہوں گے جنہوں نے بائیں بازو کے فتنہ سے عوام الناس کو متنبہ کرنے کا قومی بیڑہ اٹھا لیا ہے۔

بایاں بازو۔

ان کی پہچان بہت آسان ہے۔ یہ لوگ چلتے وقت اپنا بایاں پیر پہلے آگے بڑھاتے ہیں۔ گفتگو کرتے ہوئے بائیں ہاتھ کا مکہ بنا کر ہوا میں لہراتے ہیں اور اسی سے سامنے رکھے ڈائس یا میز کو بجاتے ہیں مصاٖفحہ یہ بھی سیدھے ہاتھ سے کریں گے لیکن پھر فوراً بائیں ہاتھ سے آپ کے دائیں ہاتھ کو گرمجوشی سے پکڑ لیتے ہیں۔ ہاتھ ملانے کے بعد یہ دائیں کے بجائے بایاں ہاتھ سینے پر رکھتے ہیں، اس طرح دل کے بجائے ان کا جگر ہاتھ کے نیچے ہوتا ہے۔ اس سے تاثر ملتا ہے کہ غیر جذباتی اور صنعتی قسم کی سوچ کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ جگر ہی جسم کا ورک ہاؤس ہوتا ہے۔ ان کو کرکٹ میں بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے کھلاڑی پسند ہوں گے۔ یہ خواہ دائیں ہاتھ سے لکھتے کھاتے اور کام کرتے ہوں لیکن اگر آپ ان سے جھوٹ موٹ دوستی کرکے پوچھیں تو یہ بتائیں گے کہ کبھی کبھار یہ بائیں ہاتھ سے یہ سب اعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہنستے وقت یہ منہ کھولیں تو جلدی سے ان کے دانت گن کر دیکھ لیں ہمیشہ ایک عقل ڈاڑھ وہ بھی بائیں طرف زیادہ ملے گی۔ اسی طرف کے کلبی(کینائن) دانت کو نظروں نظروں میں ناپ لیں تو وہ بھی دائیں کینائن سے کوئی نصف ملی میٹر بڑا ہوگا۔ عام لوگوں میں دائیں کے مقابے میں بایاں ہاتھ اور پاؤں معمولی سے چھوٹے ہوتے ہیں لیکن ان میں یہ دونوں برابر ہوں گے اس لئے ان کا بایاں جوتا ہمیشہ تنگ ہوگا جبکہ بایاں دستانا زیادہ گھسا ہوا۔ یہ تصویر کھنچواتے وقت ہمیشہ اپنا دایاں کان چھپا کر بایاں نمایاں رکھتے ہیں۔ یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ کپڑے پہنتے وقت یہ پاجامے کے بائیں پانچے اور قمیض کی بائیں آستین سے خود کو داخل کرتے ہوں گے۔

کمیونسٹ:

ان کی پہچان یہ ہے کہ ان کی بیٹھک یا ڈرائنگ روم میں فیض احمد فیض کی نسخہ ہائے وفا ضرور رکھی نظر آئے گی۔ آپ ان سے کمیونزم کی ناکامی کی بات کریں گے تو ترنت کہیں گے کہ کمیونزم تو کہیں آیا ہی نہیں تھا۔ آپ روس و چین پر تنقید کریں تو الٹا سوال داغ دیں گے کہ دنیا میں سب سے زیادہ کس ملک کی آبادی پابندِ سلاسل ہے۔ آپ اس بے موقع احمقانہ سوال پر بغلیں جھانکیں گے تو یہ ناقابلِ یقین ہولناک انکشاف کریں گے کہ وہ ملک کوئی اور نہیں دنیا کا سب سے بڑا سرمایہ دار ملک ریاست ہائے متحدہ ہے۔(آپ گھر آکر گوگل سرچ کریں گے تو بھی یہی جواب ملے گا)۔ یہ آپ کو یہ بھی بتائیں گے کہ دنیا میں پولیس کے ہاتھ بھی سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکہ بہادر میں ہوتی ہیں۔ آپ ان سے تقاضہ کریں گے کہ تم امریکہ کو چھوڑو جن ملکوں کے نام لیوا ہو ان پر اعتراضات پر جواب دے لو تو مسکرا کر کہیں گے کہ جب تم پر سرمایہ دارانہ نظام کی شیطانیت واضح ہو جائے گی تو ان کا جواب دے دوں گا۔ آپ لاحول ولا قوۃ کہتے ہوئے ان کو ان کے حال پر چھوڑ کر اس یقین کے ساتھ رخصت ہو جائیں کہ انہیں اگر روسی روبل نہیں مل رہے تو چین سے یوآن ضرور وصول ہو رہے ہوں گے۔

مارکسی:

ان کی مثال مونگ کی دال کی کھچھڑی میں غلطی سے پک جانے والے چنے کے دانے کی ہے جو دور سے الگ ہی نظر آجاتا ہے۔ لیکن بھولے سے بھی اسے چمچہ میں اٹھا کر چبانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اسے جتنی دیر بھی پکالیں یہ گلتا نہیں اور جبڑا ہلا دیتا ہے۔ میں نے ایک مارکسی سے پوچھا کہ انتہائی مختصرا\” بتاؤ مارکسزم ہے کیا۔ ان کا جواب کچھ یوں تھا: \” یہ یقین کہ انسانی معاشرہ میں مادّی حالات یعنی ذرائع پیداوار اور تعلقاتِ پیداوار ہی کی اصل اہمیت ہے مادہ کی دوسری حالتوں کی طرح معاشرہ بھی مسلسل حرکت میں ہے۔ سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں۔ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ معاشرہ اب تک جن ادوار سے گزرا ہے وہ ہیں: قدیم قبائلی، غلام دارانہ، جاگیردارانہ، سرمایہ دارانہ اور سوشلسٹ نظام۔ ہر جس طرح ایٹم میں الیکٹرون اور پروٹون ہوتے ہیں اسی طرح ہر سماج میں متضاد طبقات ہوتے ہیں جن کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں۔ مثلاً جاگیردار اور ہاری کے مفادات مختلف ہوتے ہیں اور مزدور اور سرمایہ دار کے مفادات یکساں نہیں ہوسکتے۔ معاشرہ میں تبدیلی عموما\” کمیّتی(کوانٹٹی) اور بتدریج ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی کیفیتی(کوالٹی) اور یکایک بھی ہوتی ہے جسے آپ انقلاب کہتے ہیں۔ ہر دور کی اپنی اخلاقیات اور اپنے سیاسی ادارے ہوتے ہیں\” وغیرہ وغیرہ اس جناتی فلسفے کا نام انہوں نے جدلیاتی مادیت بتایا۔ ہم جب پچھلے سال ان کے پاس گئے تھے تو اس وقت دھرنا چل رہا تھا۔ ہم نے کافی دیر عمران خان کے حسن و خصائل بیان کئے لیکن انہوں نے کوئی دلچسپی ہی نہ لی۔ ہمارے اصرار پر بس ایک مختصر اور غیر تشفی بخش جواب دیا کہ ںطام وہی رہے گا جو ساٹھ ستر سال سے چل رہا ہے۔ اب کی بار ہم جمہوریت کی مالا جپتے اس امید پر گئے کہ وہ عمران خان کو گالی دینے میں ہماری نقالی فرمائیں گے اور قبلہ نواز شریف کی قصیدہ گوئی میں ہم سے قافیہ اور ردیف ملائیں گے لیکن افسوس ان کا احمقانہ سوال وہی تھا کہ عمران خان اور نواز شریف میں فرق ذرا مجھے بھی سمجھا دو۔ اسی کو کہتے ہیں زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔


Comments

FB Login Required - comments