ملتان کی گرمی اور شاہ شمس کی بوٹی


razi uddin raziملتان میں رہ کر گرمی کو کوسنا کوئی مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ جس شہر کی پہچان ہی گرد و گرما ہواور اس کے بعد گورستان کا تذکرہ ہو وہاں کے باسیوں کو گرمی پر حیرت بھی نہیں ہونی چاہیے اوراس کی حدت و شدت پر کسی قسم کی پریشانی بھی لاحق نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن اس کا کیا کریں کہ آج کل شہر میں گرمی کے سوا کوئی سرگرمی ہی نہیں۔ صبح سے شام تک ہم سب کمروں میں دبکے رہتے ہیں اور باربار اپنے موبائل فون پر درجہ حرارت معلوم کرکے آہیں بھرتے ہیں۔ کہتے ہیں ملتان میں گرمی اس لیے زیادہ ہے کہ سینکڑوں برس پہلے شاہ شمس نام کے ایک بزرگ ملتان تشریف لائے تھے۔ روایت ہے کہ ایک روز اُن کا جی چاہا کہ وہ بوٹی بھون کر کھائیں۔ مورخین کہتے ہیں بوٹی بھوننے کے لئے شاہ شمس نے ملتانیوں سے آگ مانگی۔ اور اہل ملتان نے اس درویش کو آگ دینے سے انکار کردیا۔ درویش کوجلال آگیا۔ نام ان کا شمس تھا انہوں نے آسمان کی جانب دیکھا اور شکوہ کیا کہ ملتان والے بوٹی بھوننے کے لئے مجھے آگ نہیں دے رہے۔ ایسے میں سورج شمس کی مدد کو آیا بلکہ روایات کے مطابق سورج سوا نیزے پر آ گیا۔ اورشاہ شمس نے سورج کی گرمی میں بوٹی بھون کر مزے سے کھا لی۔ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا اسے ہمارے بچپن میں” دھپ سڑی “کہا جاتا تھا پھر یہ سورج میانی کہلایا اور جب امن محبت کا درس دینے والے ملتانی فرقوں میں تقسیم ہو گئے تو کچھ لوگ اسے شیعہ میانی بھی کہنے لگے۔ بوٹی بھوننے والی اس روایت میں کوئی حقیقت بھی ہے یا نہیں لیکن یہ کچھ سوالات کو ضرور جنم دیتی ہے۔ مثلاً یہی سوال کہ آخر ملتانیوں نے شاہ شمس کو آگ دینے سے انکار کیوں کر دیا تھا؟ اگر وہ ایسے نہ کرتے تو شاید یہ شہر اس زمانے سے اب تک اس طرح سورج کے عتاب کا شکار بھی نہ ہوتا۔ ایک خیال یہ بھی ابھرتا ہے کہ کیا ملتان والے اس زمانے میں کسی کو آگ دینے کے بھی روادار نہیں تھے؟ خیر روایات اور قصے کہانیوں پر ہم تو آنکھیں بند کرکے یقین نہیں کرتے۔ ہاں جو یقین کرتے ہیں انہیں پھر یہ بات بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ روادار سمجھے جانے والے ملتانی کسی زمانے میں کسی کو آگ دینے کے بھی روادار نہیں تھے۔ لیکن اس تذکرے کو چھوڑیں آیئے بس گرمی کا ہی ذکر کرتے ہیں کہ جس کی شدت اس شہر میں ہمیشہ سے بہت زیادہ رہی لیکن جو شور اور ہاہاکار ہمیں اب سننے کومل رہی ہے وہ ہمارے لیے نئی بھی ہے اور حیران کن بھی۔

ہمارے بچپن میں بھی گرمی ایسی ہی ہوتی تھی۔ لیکن شہر میں درختوں کی اتنی بہتات تھی کہ گرمی کی شدت محسوس نہ ہوتی تھی۔ اونچی چھتوں والے ہوادار مکانوں میں ایک آدھ بجلی کا پنکھا گرمی کے مقابلے کے لیے کافی سمجھا جاتا تھا۔ گھڑے اور صراحی کا ٹھنڈا پانی گرمی کی شدت کم کرتا تھا۔ دوپہر کو یا شام ڈھلے سکنجین تیارکی جاتی تھی۔ آئس کریم اورقلفی گرمی کا خاص تحفہ ہوتی تھی۔ لکڑی کی ہتھ ریہڑی پر آئس کریم والا گلی میں آکرجب مخصوص آواز لگاتا تو سب بچے ماﺅں کے روکنے کے باوجود ننگے پاﺅں گھروں سے باہر نکلتے۔ کاغذ میں لپٹی ہوئی آئس کریم لے کر واپس آ جاتے۔ شدید گرمی کے باوجود آئس کریم کی خواہش میں ان کے پاﺅں نہیں جلتے تھے۔ برف شہر کے مختلف علاقوں میں پھٹوں پر فروخت ہوتی تھی جو گھر پہنچتے پہنچتے آدھی رہ جاتی تھی۔ لو صاحب برف پر یاد آیا کہ ہمارے ایک معزز دوست اپنی محبوبہ کی خوشنودی کے لئے ایک بار ناز سینما سے ڈبل پھاٹک تک سر پر برف رکھ کر لائے تھے اور اس دوران ان کا چہرہ مبارک برف محفوظ رکھنے کے لئے استعمال کئے جانے والے برادے اور پسینے اور برف کے پانی کی آمیزش سے مزید خوبصورت ہو گیا تھا۔ المیہ یہ ہوا کہ جس محبوبہ کے لئے انہوں نے اتنی مشقت جھیلی اس نے وہ برف ان کے رقیب کی مدارت کے لئے منگوائی تھی کہ وہ بھی چلچلاتی دھوپ میں اپنے مشن پر وہاں آیا ہوا تھا۔ خیر چھوڑیں اس قصے کو برف پر یاد آیا کہ ہم برف کے گولے بہت شوق سے کھاتے تھے اورہمیں یہ فکر بھی نہ ہوتی تھی کہ ان گولوں پر جو میٹھا رنگ ڈالا جا رہا ہے اس کے ہماری صحت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے سچ پوچھیں تو برف کے گولوں نے ’مضرصحت ‘ ہونے کے باوجود کبھی ہماری صحت پر منفی اثرات مرتب نہیں کیے تھے۔ کوک اور دیگر مشروبات توبہت بعد میں آئے وگرنہ ملتانیوں کا پسندیدہ مشروب تو گولی والی بوتل ہی تھا جی ہاں اس شہر میں بندوق ہی نہیں بوتل بھی گولی والی ہوتی تھی۔ ایک خاص ڈیزائن کی بنی ہوئی یہ بوتل بھی اب ماضی کا حصہ بنتی جارہی ہے۔ اندرون شہر والے آئس کریم یا قلفی کی بجائے فالودے سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ پینے کا صاف پانی سول علاقوں میں بھی وافر مقدار میں موجود ہوتا تھا۔ گلی محلوں میں مختلف چوراہوں پر سرکاری نل سے لوگ پانی بھرتے تھے گھروں میں ہینڈپمپ کا پانی بھی آج کے فلٹر پلانٹ والے پانی سے بہتر ہوتا تھا۔ وقت زقند لگا کر آگے بڑھ گیا۔ وہ سڑکیں جہاں گھنے درخت ہواکرتے تھے فلائی اوورز اور دو رویہ کشادہ سڑکوں کی تعمیر کے نتیجے میں درختوں سے خالی ہوگئیں۔ کینٹ کا مال روڈ ہو یا ابدالی روڈ ، بہاولپور روڈ ہو یا نواب پور روڈ اب یہاں لوگ سائے کوبھی ترستے ہیں۔ اور تو اورہاﺅسنگ کالونیوں کے کاروبار نے شہراورگردونواح سے آموں کے باغات کا بھی صفایا کر دیا۔ شاہ شمس کی بوٹی بھوننے کے لیے جو سورج سوا نیزے پر آیا تھا وہ کچھ اور نیچے آ گیا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments