یکساں نظام تعلیم۔۔۔ ایک مختلف زاویہ نظر سے


uzair wazirجناب وجاہت مسعود صاحب کا مضون “یکساں نظام تعلیم ایک مفروضہ” پڑھنے کا موقع ملا۔ جس میں یکساں تعلیمی نظام کے رد میں دلائل دینے کی بجائے اس کے ضمن میں تعلیمی نظام میں موجود چند دیگر مگر اہم خرابیوں کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ وہ طبقات جو یکساں نظام تعلیم کا راگ الاپ رہے ہیں ان کے رویوں پر تنقیید کی ہے۔ جس کی وجہ سے بنیادی مسلہ اپنی جگہ پر برقرار ہے۔

اس بات سے ان کار نہیں کیا جا سکتا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں تعلیم اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اور تعلیمی نظام ہی نوجوانوں میں معاشرے کے سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کے حوالےشعور پیدا کرتا ہے۔ اب یہ اس بات پر منحصر ہے کہ معاشرے میں موجود اجتماعی نظام نوجوانوں کو شعور دینا چاہتا ہے یا بے شعور رکھتا ہے۔ کیونکہ اجتماعی نظام کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ تعلیمی نظام کوایسے ترتیب دیا جائے۔ جس میں اس کا مفاد پیش نظر ہو۔

معاشرے کی ترقی کے لئے  یہ بھی ضروری ہے کہ وہاں پر رہنے والے افراد کے درمیان فکری ہم آہنگی ہو۔ اور رائے کے اختلاف کوخندہ پیشانی سے سنتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔ میرے نزدیک تعلیمی نظام کا اس میں بڑاعمل دخل ہے۔ موضوع کو آگے بڑھانے سے پہلے ایک اور اہم بات یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تعلیمی نظام کی ذمہ دار ریاست ہوتی ہے نا کہ افراد۔ اور اس حدود کے اندر موجود سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب کے لئے  دائرۂ کارمتعین کرنا بھی ریاست کے اہم فرائض میں شمار ہوتا ہے۔

دہرے یا تہرے نظام تعلیم کے برعکس میری ناقص رائے میں یہ تقسیم اور بھی گہری ہے۔ اور یہ تقسیم کئی طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔ لیکن ہم بنیادی طور پریہاں اسے عصری اور مذہبی تعلیمی اداروں میں تقسیم کریں گے۔ جو کہ سب سے پہلے ہمارے معاشرے میں ملا اور مسٹر کی تفریق کا باعث بن رہی ہے۔ مذہبی اداوں سے فارغ التحصیل طلباء عصری اداروں کے طلباء پر فتوے داغتے رہتے ہیں جبکہ عصری تعلیمی اداروں کے گریجویٹ مذھبی اداروں میں پڑھنے والوں کو جاہل اور گنوار سمجھتے ہیں۔ اور دونوں اطراف پر شدت پسند سوچ کے حامل افراد پائے جاتے ہیں۔ اس سے مزید آگے بڑھیں تو مذہبی اداروں میں یہ تقسیم مزید بڑھ جاتی ہے۔ مثلا دیوبندیوں کا الگ نظام، بریلویوں کا الگ۔ اس کے علاوہ اہلحدیث، جماعت اسلامی اور اہل تشیع کے الگ نظام تعلیم وغیرہ وغیرہ۔ جو کہ دین کی تعلیم دینے کی بجائے اپنےاپنے فرقوں کے موقف کی تعلیم دیتے ہیں اور آگے جاکر یہ تعلیم مذھبی فرقہ واریت کا باعث بنتی ہے۔ اسی طرح عصری تعلیمی اداروں میں ایلیٹ، مڈل کلاس اور غرباء کی تقسیم پر پرائیویٹ اور سرکاری ادارے موجود ہیں۔ جو کہ ملک پر مسلط استحصالی نظام کی ضرورت کے مطابق مختلف برانڈ کے پرزے تیار کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ مثال کے طور پر ایچسن کالج جس کی ماہانہ فیس لگ بھگ پچاس ہزار کے قریب ہے اور باقی خرچے اس کے علاوہ ہیں۔ جو کہ اس ملک کی نوے فیصد آبادی کے کل ماہانہ اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔ اب اس ادارے سے فارغ تحصیل طلباء یا تو بڑے بڑے عہدوں پر فائز نظر آئیں گے اور یا پھر سیاست کے ایوانوں میں بیٹھ کر اجتماعی ترقی کی بجائے اپنے طبقے کے مفادات کا تحفظ کرنے والی پالیسیاں تشکیل دیں گے۔ اوریا پھر بیرونی ممالک کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ان کی آلہ کاری کا کردار ادا کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ مختصر یہ کہ اگر حقیقت کی عینک لگا کر دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے کی ترقی میں ان کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ دوسری طرف پرنچلے لیول کے پرائویٹ ادارے محکوموں اور ما تحتوں کی فوج پیدا کر رہے ہیں۔ اور جہاں تک سرکاری اداروں کا تعلق ہے تو اکا دکا کے علاوہ باقی تو کسی بھی کھاتے میں نہیں۔ اس صورتحال کے ہوتے ہوئے یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ ایک حاکم اور محکوم دماغ میں ( جو کہ طبقاتی تعلیمی نظام شعوری یا غیر شعوری طور پر پیدا کر رہا ہے) کیسا مقابلہ اور کہاں کا کمپٹشن۔ مقابلہ تو تب ہی ممکن ہوتا ہے جب دو فریق مساوی حیثیت کے ہوں۔ جہاں پر ابتدا ہی سے فرق ایک اور سو کا ہو وہاں پر مقابلے کا خیال ہی ایک سراب سے کم نہیں۔

جہاں تک وجاہت صاحب مدرسوں کی تعداد یا مذہبی طبقے کی طرف سے ان کی رجسٹریشن کی مخالفت کا رونا رو رہے ہیں تو ان کے لئے اتنا عرض ہے کہ یہ تو عالمی سامراجی ایجنڈے اور سعودی عرب کے خطے میں مفادات کے حصول کی خاطر آپ کی آلہ کارحکومتوں نے ڈالر اور ریال کے عوض خدمات کا نتیجہ ہے۔ کیسے ان مدرسوں کو زمینیں الاٹ کی گئیں۔ کیسے ان کو فنڈز دیے گئے۔ تزویراتی گہرائی کا مفروضہ قائم کرکےکیسے ان مذہبی مدرسوں کی آبیاری کی گئی۔ اورجہادی نرسریاں تیار کی گئیں۔ اب تو اس حوالے سے کافی تفصیلات انٹرنیٹ پر بھی موجود ہیں۔ کہ کیسے نیبراس کا یونیورسٹی اور ہمارے ملک کی ایک مشہور مذہبی سیاسی جماعت نے مل کر امریکی امداد اور واشنگٹن کی ایما پر جہادی نصاب کو ترتیب دیا اور افغانستان اور اس سے ملحقہ پاکستانی سرحدی علاقوں میں شدت پسندی کی تعلیم کو عام کیا۔ اسی طرح سے اس کی ایک جھلک ہالی وڈ کی فلم ’چارلی ولسن وار‘ میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ اب اس میں یکساں نظام تعلیم نہیں بلکہ سامراجی مقاصد کا زیادہ عمل دخل ہے۔ اور اب تو تزویراتی گہرائی کے مفروضے بھی قصہ پارینہ ہو گئے ہیں اس لئے حکومت کو چاہیے کہ ریاست کی رٹ کو مضبوط کرے اور دہشت گردی کو پروان چڑھانےوالے مدرسوں سے جان چڑائے۔ اور جو ماشاللہ آپ کے لبرل سوچ رکھنے والے عصری تعلیمی اداروں سے دہشت گردی میں ملوث افراد گرفتار ہو رہے ہیں ان کا کیا؟

دوسری بات جو میرے محترم دوست جناب وجاہت صاحب نے کی ہے۔ یکساں نظام تعلیم سے تعلیم کا معیار خدا ناخواستہ گرے گا۔ تو اس میں میں صرف اتنا کہوں گا یہ الزام بھی یکساں نظام تعلیم پر عاٰئد نہیں ہوتا۔ بلکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ موجودہ دور کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر ایسا نظام تعلیم اور نصاب ترتیب دے جو تمام افراد کے لئے  بلا تفریق مفید ہو اور ملکی ضروریات کو بھی پورا کرے۔

تیسری بات (جو کہ وجاہت صاحب نے مذہبی جماعتوں کا موقف بتایا ہے) کہ ہمارا تعلیمی نظام مغرب سے مرعوبیت اور اپنے خطے کی تاریخ سے دوری پیدا کر رہا ہے، سے میں اتفاق کرتا ہوں کیونکہ اگر نظام تعلیم کے ذریعے افغان قوم میں دہشت گردی کا بھیج بویا جا سکتا ہے تو مرعوبیت کیوں نہیں پیدا کی جا سکتی ۔ لیکن ہمارے مذہبی طبقے کا المیہ یہ ہے کہ وہ اتنا کہہ کر چپ ہوجاتا ہے۔ اس کی درست وجہ تلاش نہیں کرتا اور جدید دور کی عصری تعلیم کے حصول کا منکر ہوجاتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ کیا اس بنیاد پر ہم اپنے بچوں کو جدید تعلیم کے حصول سے روک لیں۔ تو حالات بہتر ہوجائیں گے۔ بالکل نہیں کیونکہ اس طرح ہم اپنی قوم کو جدید دور کی سائنسی ترقیات اور ان کے ثمرات سے محروم کر لیں گے۔

جہاں تک مادری زبان میں تعلیم کا معاملہ ہے تو اسمیں کوئی شک نہیں کہ مادری زبان میں بچے چیزیں بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے ان زبانوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ نئی نئی اصطلاحات اور تشریحات لانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ جدید تعلیم کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ اور جب تک یہ عمل نہ ہو مادری یا قومی زبان میں تعلیم ایک خوشنما نعرے کے علاوہ کچھ نہیں۔

اس بات سے بھی انکار نہیں کہ ہمارے بجٹ کا بیشتر حصہ دفاع، انتظامی معاملات پر خرچ ہوتا ہے۔ اور تعلیم ہماری دوسری یا تیسری ترجیح بھی نہیں ہے۔ لیکن اس وجہ سے یہ کہنا کہ یکساں نظام تعلیم کا مطالبہ ہی غلط ہے۔ یہ بات بھی اعتدال پر مبنی نہیں بلکہ دوسری انتہا ہے۔

اب ہم آتے ہیں ان لوگوں کی طرف جو یکساں نظام تعلیم کی بات کرتے ہیں لیکن ان کا اپنا یا ان کی اولاد کا طرز عمل، جو وہ کہتے ہیں اس کے منافی ہے۔ تو اس بارے میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہمارے بہت سے سیاسی لیڈر جلسہ عام میں جوش خطابت میں آکر سماجی تبدیلی اور انقلاب کی بات کرتے ہیں جب کہ ان کی اپنی زندگی سرمایہ پرستی کا مظہر ہوتی ہے۔ تو کیا ہم یہ کہنا شروع کر دیں کہ سماجی تبدیلی ہی غلط چیز ہے؟ نہیں بالکل نہیں۔ بلکہ ان بنیادی مغالطوں کو دور کرنا پڑیگا۔

اب سوال یہ ہے کہ ان جملہ مسائل کا حل کیا ہے؟ میرے خیال میں جدید دور کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایف اے تک کی تعلیم بغیر کسی تفریق کے سوسائٹی کے تمام طبقات کے لئے  مساوی اور لازمی ہو۔ جو کہ مندرجہ ذیل نکات پر مشتمل ہو۔

1۔ سب سے پہلے طلبا کو اس خطے یعنی برصغیر کی تاریخ بغیر کسی تعصب کے پڑھائی جائے۔ یہاں کی اقوام کی ہزاروں سال کی تہذیب کیسے پروان چڑھی۔ اس خطے کا فلسفہ کیا تھا۔ چندر گپت موریا کون تھا۔ اشوک کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟ اسلام جب یہاں آیا تو اس نے یہاں پر بسنے والی اقوام، ان کے طرز زندگی اور فلسفے پر کیا اثرات مرتب کئے۔ کیسے تعداد میں کم ہونے کے باوجود اس کثیر المذہبی اور کثیرالقومی خطے پر مذہبی رواداری اور قومی اتحاد کے اصول پر مسلمانوں نے لمبے عرصے تک حکومت کی۔ کیوں ہندوستان ہندوں کی بڑی آبادی ہونے کے باوجود ٹیپو سلطان کی برسی تو بناتا ہے۔ لیکن کسی بھی انگریز وائسرائے(جنہیں ہم میں سے اکثر لوگ انسان دوست سمجھتے ہیں) کی برسی نہیں مناتا۔ کیوں جو مقام ہندوستان میں اکبر کو حاصل ہے وہ لارڈ ماونٹ بیٹن کو نہیں حاصل؟ اس خطے کو سونے کی چڑیا کیوں کہا جاتا تھا۔ اور پھر جب زوال آیا تو زوال کی اجتماعی وجوہات کیا تھیں؟ محض مغلوں کی تاریخ کو ہندوستانی تاریخ کہہ کر یا مغلوں کی اجتماعی اچھائیوں پر غور و فکر کے بغیر ان کی ذاتی زندگیوں کے نقائص کو بیان کر کے مسترد کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ آج آپ کا سیاسیات، سماجیات اور فلسفے کا نصاب مغربی فلاسفروں اور مغرب کے سیاست، معیشت اور سماجیات کے اصولوں سے تو بھرا پڑا ہے لیکن اپکے خطے نے فلسفہ، سیاسیات، سماجیات کے حوالے سے کیا اصول دیے۔ اس کا دور دور تک کوئی ذکر ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا طالبعلم اپنے خطے کو بانجھ سمجھ کر مغربیت کا شکار ہو رہا ہے۔

2۔ ہمارے ملک کی بیشتر آبادی کا مذہب اسلام ہے۔ اس لئے یہ بھی ضروری ہے کہ قران کی تعلیمات ہمارے سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کے حل کے لئے  کیا اصول دیتی ہیں۔ اور اسلام کی آفاقی اور انسان دوستی پر مبنی تعلیمات کیا ہیں؟ اس نے دیگر معاشروں پر کیا مجموعی اثرات مرتب کئے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ مذہب ہمارے معاشرے کی ٹھوس حقیقت ہے۔ اس لئے یورپ کی طرح اس کو شجر ممنوع سمجھ کر ہماری اجتماعی زندگی سے اکھاڑ کر پھینکا نہیں جا سکتا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ہمارا معاشرہ شدت پسند دینی اور لادینی انتہاوں کی بجائے اعتدال پر رہے گا۔

3۔ ہمارے طلبا کو جدید دور کی سائنس سے روشناس کرانا بھی بہت ضروری ہے۔اس لئے بغیر کسی تفریق کے سائنسی تعلیم، سائنسی انداز فکر، جدید تحقیق کے اصول سکھانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ سائنسی ترقی کا فاعدہ روٹ لیول تک تمام انسانوں کو بلا تفریق رنگ، نسل، مذہب کے پہنچنا چاہئے۔ اور ان ثمرات پر کسی بھی طبقے یا قوم کی اجارہ داری غلط ہے۔

4۔ باقی اقوام نے ترقی کے مراحل کیسے طے کیے؟ ان کے کیا اصول تھے؟ ان چیزوں کو اپنے خطے اور ماحول سے ہم آہنگ بنا کر بتایا جائے

ایف اے تک کی یہ تعلیم دینے کے بعد طلبا کو ان کے مزاج اور صلاحیت کے مطابق مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کے لئے  مواقع فراہم کئے جائیں۔ اگر ان کی ضروریات ملک میں پوری نہیں ہوتیں تو بیرون ملک پڑھنے کے لئے  ان کو وضائف دیے جائیں۔

اس میں ایک اور اہم بات کا خیال بھی رکھنا ہوگا کہ جو لوگ بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مذہبی تعلیم میں تخصص یا سپیشلائزیشن کرنا چاہتے ہیں۔ ان کو بھی اتنی ہی سہولیات مہیا کی جائیں جتنی کہ عصری تعلیم والوں کو دیں جائیں۔ اور بعد میں بھی روزگار اور معاشرے میں ان کے مقام میں عصری علوم حاصل کرنے والے طلبا سے کوئی تفریق نہ رکھی جائے۔ تاکہ ہمارے معاشرے کا ذہین طالب علم مذہبی تعلیم حاصل کرنے کی طرف بھی مائل ہو۔ اور اس میں تحقیق کرکے مسائل کا حل پیش کر سکے۔

اب آخر میں یہ بات رہ جاتی ہے کہ کیا ہمارا موجودہ ریاستی نظام یہ سب کچھ کرنے کے لئے  تیار ہے؟ یقینا اس کا جواب نفی میں ہے۔ کیونکہ اس کا مفاد معاشرے کی اجتماعیت کی بجائے تقسیم میں مضمر ہے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں سماجی تبدیلی کے لئے  مکالمے کا عمل شروع کیا جائے اور ملک کے باشعور نوجوانوں کے ذریعے تبدیلی برپا کی جائے۔


Comments

FB Login Required - comments