ثنا خوانِ تقدیس مشرق۔۔۔؟ حق مغفرت کرے


zeeshan hashimخبر ہے جسے پڑھ کر کسی بھی زندہ وجود کے اعصاب چٹخ جائیں۔ واضح ہے کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں یہ کھوکھلا اور بے جان ہو چکا ہے۔ ہمارا خاندانی نظام ہو یا نام نہاد مشرقی نظام اقدار جس کے تحفظ کے لئے مقدس دستے صبح و شام لبرلز و سیکولرز کو کوستے ہیں،اپنی بنیاد سسکتے اور تڑپتے معصوم انسانی لاشوں پر رکھے ہوئے ہے۔

لیہ میں ایک خاتوں اپنی غربت کا تماشا بن گئی۔ پندرہ سال پہلے اس خاتوں پر تیزاب پھینکا گیا جس کے سبب اس کی بینائی نہ رہی۔ شوہر راولپنڈی میں ایک مزدور ہے، چار بچے ہیں اور غربت نے گھر میں فساد برپا کر رکھا ہے، دوائی کے لئے پیسے نہیں ہیں، ایک سیٹھ اس معصوم کی ضرورتوں کا تماشا دیکھ رہا ہوتا ہے، اسے اپنے ڈیرے پر بلاتا ہے کہ آؤ میں نے اللہ رسول کے نام کی تین ہزار روپے زکوۃ نکالی ہے لے جاؤ۔ نابینا خاتوں اکیلے جانے سے قاصر ہے کہ سیٹھ اپنے موٹر سائیکل پر اسے لے جاتا ہے اور پھر وہاں درندگی انسانیت کو تار تار کر دیتی ہے۔مگر نہ آسمان پھٹتا ہے اور نہ زمین۔ نہ اقدار پر کوئی حرف آتا ہے اور نہ مشرق کا تہذیبی ورثہ اپنے فخر سے محروم ہوتا ہے۔ نہ اہل علاقہ کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں اور نہ ثناء خوانِ تقدیس مشرق کی جبیں پر شکن آتی ہے۔

ابھی دو ماہ پہلے کی بات ہے کہ پنجاب اسمبلی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے قانون بناتی ہے، خواتین کے تحفظ کا یہ قانون پاکستان میں مقدس مشن پر موجود مسلح و غیر مسلح دستوں کو ناگوار گزرتا ہے۔ اٹھائیس مذہبی جماعتیں مل بیٹھتی ہیں کہ اس قانون کو ہر حال میں ختم کرنا ازحد ضروری ہے۔ چشم فلک حیران تھی کہ ساٹھ ہزار سے زائد معصوم شہری قتل کر دیئے گئے مگر وحدت امت کے ایسے اجتماع دیکھنا تو درکنار مذہبی طبقہ نے دہشت گردوں کی کھل کر مذمت تک نہ کی۔ وہ جنہیں ڈرون حملوں میں مرنے والے کتے بھی شہید لگے، ماؤں کے وہ لخت جگر کتوں سے بھی بدتر لگے جو روزی روٹی کمانے کو بازار گئے اور واپس زندہ نہ لوٹے۔ ایک گھر اجڑ گیا سمجھو تین نسلیں اجڑ گئیں- وہ پیشوایان منبر و محراب حوّا کی بیٹی کے حقوق کے خلاف متحد و متفق ہو کر پنجاب اسمبلی کو دھمکیاں دے رہے تھے۔

اس مقدس مذہبی اتحاد کو دیکھنے کے بعد ہمیں لمحہ بھر کے لئے یہ گماں گزرا کہ شاید اب خواتین کے حقوق کے تحفظ کے بارے میں ہمارا مذہبی طبقہ حساس اور باشعور ہوا چاہتا ہے مگر ہمیں اس وقت شدید مایوسی ہوئی جب کراچی میں ایک بھائی اپنی بہن کو محض شک کی بنا پر اپنی جھوٹی غیرت کی تشہیر کے لئے قتل کر دیتا ہے، اس کے والدین اور پورا خاندان اس لڑکے کی تحسین کرتا ہے، تڑپتا وجود لاش میں بدل جاتا ہے مگر مشرقی اقدار کی وارث ہماری سوسائٹی موبائل سے ویڈیو بنانے میں مگن رہتی ہے۔ نہ کوئی مذہبی جلوس نکلتا ہے، نہ احتجاج ہوتا ہے، نہ کسی مذہبی شخصیت کا کوئی مذمتی بیان آتا ہے، اور نہ اس سنگین واقعہ پر کسی قسم کا اظہار افسوس کیا جاتا ہے۔

پھر ایبٹ آباد میں ایک بچی کو گاڑی میں رسیوں سے باندھ کر زندہ جلایا گیا۔ لڑکی کی لاش ہماری مشرقی اقدار کا جنازہ اٹھائے سوشل میڈیا پر ایک سوال بنے کوچہ کوچہ پھرتی رہی مگر بے حسی ایسی طاری ہے کہ کسی کان پر جوں نہ رینگی۔ لگتا یہی ہے کہ ہمارا پورا سماج عورت دشمنی پر متفق ہے۔

ہماری عدالتیں انصاف کے تصور کو مشرقی اقدار کی جھولی میں ڈالے آزادی انصاف اور مساوات کا مذاق اڑانے میں کبھی پیچھے نہیں رہیں۔ امریکہ و برطانیه کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں کی عدالتوں نے انسانی حقوق کا تحفظ عوامی پارلیمان سے بھی بڑھ کر کیا ہے اگر کبھی پارلیمان نے کوئی ایسا قانون پاس کیا جس کی رو سے شخصی آزادیوں پر تھوڑی سی بھی زد پڑتی تھی تو وہاں کی عدالتیں شخصی آزادی کے تحفظ کے لئے سامنے آئیں۔ مگر ہمارے یہاں آزادی و مساوات کا تحفظ تو دور کی بات عدالتیں انصاف کو صنفی امتیاز کے تحفظ کے لئے گروی رکھ چکی ہیں۔ ثبوت یہ ہے کہ آج اسلام آباد میں عدالتِ عظمیٰ نے ‘غیرت کے نام پر قتل’ کے ایک مقدمے میں والدین کی جانب سے ‘ معافی’ قبول کرنے کا فیصلہ دیا ہے۔

حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں

تھامسن روٹر فاؤنڈیشن کے مطابق پاکستان دنیا میں خواتین کے لئے خطرناک ترین ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے اور گزشتہ چار سال سے خواتین کے خلاف جرائم میں بے حد اضافہ ہوا ہے جن میں پانچ سرفہرست جرائم ہیں :

غیرت کے نام پر قتل

تیزاب گردی

جنسی طور پر ہراساں کرنا

گھریلو تشدد

اور حق جائیداد سے محروم کرنا

یہ رپورٹ ہمارا منہ چڑا رہی ہے۔ ایسا آئینہ دکھا رہی ہے جس میں ہمارا سماجی وجود اور قومی شناخت بھیانک نظر آتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں کہ اگر ہم آئینہ توڑ دیں گے یا شرمین عبید چنائے کی مذمت کریں گے یا بلند آہنگ اپنی مفروضہ اقدار کے گن گائیں گے یا خاندانی اقدار کی اہمیت جتائیں گے یا خواتین کو گھروں میں محبوس کرنے کے فوائد سنائیں گے یا موم بتی کی شمع میں انصاف تلاش کرتی جرات مند خواتین اور آزادی مساوات و انصاف کا پرچم اٹھائے لبرلز پر پھبتیاں کسیں گے تو سب خوشنما ہو جائے گا۔

اب لیہ کا واقعہ ہمیں جھنجھوڑ رہا ہے ہمای مشرقی اقدار کو بھی، ہمارے تصور انصاف کو بھی، ریاست کی رٹ کو بھی، سیاسی جماعتوں کے مفروضہ عوامی منشور کو بھی اور مذہبی پیشواؤں کی غیرت کو بھی کہ کیا تم سب خواتین کے خلاف متحد و متفق ہو چکے ہو ؟ دیکھئے مسائل سے آنکھیں چرانا منافقت بزدلی اور دروغ گوئی کی انتہا ہے۔ مسائل کے حل میں پہلا قدم مسئلہ کا اعتراف ہے، ہمیں تسلیم کر لینا چاہئے کہ ہم عورت دشمن معاشرہ کے باسی ہیں۔ اعتراف کے بعد انسان دوست معاشرہ تعمیر کرنے کا مرحلہ آتا ہے۔ آئیے کہ انسان دوستی کا ثبوت دیں اور انسانی حقوق کی ندترین خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائیں کہ ہمارے معاشرہ کے تمام کرتا دھرتا سن لیں- یقینا کسی بھی معاشرہ کی صحت کا اندازہ لگانے کا لٹمس پیپر یہی ہے کہ وہ معاشرہ خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ میں کتنا حساس ہے۔ بدقسمتی سے اب تک ہم بے حس ثابت ہوئے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan