راتوں رات امیر ہونے کا خواب اوراقدار کا زوال


جاوید احمد ملک

\"Javedکل رات پی ٹی وی لاہور سے قند مکرر کے طور پر ایک پرانا کھیل فہمیدہ کی کہانی استانی راحت کی زبانی نشر کیا گیا۔ یہ کھیل اسی کی دہائی میں دولت کی ریل پیل بڑھنے کے بعد ہمارے سماج میں تیزی سے آنے والی تبدیلیون پر مبنی ہے۔ فہمیدہ کی ماں ایک بیوہ استانی راحت ایک ایف اے سی ٹی ٹیچر ہے اور اس کی بیٹی فہمیدہ اپنے مالک مکان کی بیٹی کی شادی کی تیاریوں اور اپنی اور اپنی ماں کی زندگی کے تفاوت کو برداشت نہ کر سکی اور دماغ کی شریان پھٹنے سے انتقال کر گئی۔

نثار حسین کی ہدایات میں یہ کھیل شاید ہمارے معاشرے میں تبدیل ہوتے ہوئے اقدار کا اگر ایک نقطہ آغاز ہے تو پچھلے ہفتے بلوچستان کے فائنانس سیکرٹری کے گھر سے برآمد ہونے والے روپوں سے بھرے صندوق ہمارے سماج میں آنے والی اس جوہری سماجی تبدیلی کا ایک حتمی نہ سہی لیکن ایک عارضی نکتہ عروج ضرور ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کے ہم پہلا سماج نہیں ہیں جہاں دولت کی ریل پیل کو شان و شوکت کا پہلا معیار سمجھ لیا گیا ہے۔ خود مغرب عرصے سے مسلسل سیاست اور سماج میں دولت کے بڑھتے ہوے استعمال پر غور و فکر میں مصروف ہے لیکن پھر بھی وہاں سماجی رویوں میں عام آدمی ہونے یا رہنے کو اب بھی تحسین کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں کالج اور یونیورسٹی کے اسٹاف رومز میں بھی اب پراپرٹی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ پر زیادہ اور ریسرچ پر کم ہی بات ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کے علم اور صحافت جیسے شعبوں سے وابستہ افراد نے بھی اب پیسے کی بنیاد پر خود کو پرکھنا شروع کر دیا ہے۔

سوال یہ ہے کیا ہم شروع سے ایسے تھے یا اس کی وجہ ہمارا کمزور قومی نظام اور اس کے حکمران ہیں۔ اگر امریکا میں امریکن ڈریم کے نام پر غربت سے نکلنے کو فخر کا درجہ حاصل ہے تو پنجاب میں کیوں یہ رواج ہے کے ہر کوئی خود کو کم از کم ایک دولت مند زمیندار کے طور پر ظاہر ضرور کرتا ہے۔ اکثر ڈرائیور یہ شکایات کرتے نظر آتے ہیں کے لاہور میں جیسے ہی پولیس کو علم ہوتا ہے کہ وہ ڈرائیور ہیں اور کار کے مالک نہیں ان کا رویہ یک لخت بدل جاتا ہے اور ان سے مسلسل حقارت کا برتاؤ رکھا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کے ہر قیمت پر کامیاب ہونے کے رجحان نے ہماری جمہوریت کو بھی بدرجہ اتم متاثر کیا ہے۔ اپوزیشن میں رہنے اور اپنے نظریات کی بنیاد پر ایک متبادل کے لیے کام کرتے رہنے کو پاپولر میڈیا بھی تحسین نظروں سے دیکھنے کے لئے تیار نہیں۔ اس ضمن میں اردو ادب کے کم از کم دو بڑے ناول آزادی کے بعد ہونے والی لوٹ کھسوٹ کو بحث کا موضوع بناتے ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ کا \’راکھ\’ لاہور شہر میں ہونے والے فسادات اور بعد ازاں لاہور شہر میں ہونے والی قتل و غارت اور لوٹ کھسوٹ کو بہت عمدگی سے بیان کرتا ہے۔ عبد اللہ حسین کے \’ناددار لوگ\’ میں ایک پنجابی دہقان کو لکھنو کے جاگیردار کا اردو لہجہ رٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے تا کہ وہ تحصیلدار کے سامنے جا کر اپنے جعلی کلیم کا دفاع کر سکے۔

آزادی کے بعد راتوں رات امیر ہو جانے کی یہ نفسیات غالباً ہمارے سماج کے اندر اس قدر گھل مل گئی ہے کہ ہر قیمت پر اپنے رہن سہن میں ایک امیرانہ تبدیلی ہماری ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کی واحد منزل ٹھہر سی گئی ہے۔ اسی لیے لاہور کے ایک عام کھاتے پیتے گھرانے کو یہ بات عجیب سی لگے کہ فاروق طارق اپنے ویسپا موٹر سائیکل پر پچھلے بیس سالوں سے ہر روز مزدوروں کے کسی نہ کسی مظاہرے یا جلسے میں شریک ہوتے نظر آتے ہیں اور یہ کہ حلقہ ارباب زوق ستر سال سے ہر ہفتے ادب کے لیے بات کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ ان کے لیے شاید یہ ایک پاگل پن ہی ہو۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہمیں ایک طرف تو قناعت چاہیے لیکن دوسری طرف مارکیٹ کی طاقت بھی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے نہ تو ہمیں کیوبا بن کہ رہنا ہے کیوںکہ ذاتی مفاد پر چلنے والی منڈیاں کم از کم ہمارے سماج کا ایک لازمی حصّہ رہی ہیں لیکن ایسا کرتے ہوئے نہ ہی ہمیں امریکا کی طرح اندھا دھند سرمائے کے پیچھے بھاگنا چائیے۔

بلکہ ہم نے اپنے لیے ایک بلکل منفرد اور اپنے حالات کے مطابق ایک ایسا ماڈل بنانا ہے جو ہماری سماجی زندگی کو ایک متوازن رخ دے سکے اور اسی لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہمارے حقیقی مسائل پر ایک سنجیدہ گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھے۔ جیسا کے آج سے سو سال پہلے جرمن فلسفی اور ایک طرح سے جدید ریاست کے ایک اہم ترین بانی میکس ویبر نے مارکس پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف معاش ہی معاشرے میں رتبے کا وسیلہ نہیں ہیں بلکہ آرٹ یا علم کو بھی مرتبے کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔ مارکس اور ویبر دونوں نے اپنے حالات کو سمجھنے کے لیے ایک سنجیدہ کوشش کی تھی۔ ہمارے ہاں کسی وجہ سے اپنے سماج کو سمجھنے کے لیے ایک تخلیقی اور تحقیقی سوچ کا شدید فقدان ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے میں ایک دشواری کا سامنا ہے۔ ہمارے دانشور کی کم ہمتی کی وجہ سے ہمارے عوام سازشی تھیوریوں سے ہی کام چلا رہے ہیں۔

بات تھوڑی دور سی نکل گئی ہے۔ استانی راحت کی بیٹی فہمیدہ شاید آج ذرا بہتر حالت میں ہوتی اور سوشل میڈیا، کیبل ٹی وی اور موبائل فون کی وجہ سے وہ آج کے لاہور میں ثقافتی طور پر غالباََ اتنی تنہا نہ ہوتی جتنی وہ 1986 میں تھی لیکن دولت کی غیرمساوی تقسیم اور ناجائز ذرایع سے دولت کا حصول شاید اب اور بھی زیادہ رواج پاتا دیکھ کر دکھی ضرور ہوتی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جاوید احمد ملک کی دیگر تحریریں
جاوید احمد ملک کی دیگر تحریریں