جب تصویر حرام تھی


shoaib muhammadدنیاوی چیزوں کی ہی طرح مذہبی مسائل میں بھی مسلسل ارتقاء جاری ہے اور مذہبی مسائل بھی مسلسل حرام سے حلال کا سفر طے کر رہے ہیں یعنی وہی چیزیں جو کچھ عرصہ پہلے تک شدید حرام تھیں، اب حلال ہو گئی ہیں۔

ان مسائل میں تصویر کا مسئلہ بڑا معرکۃ الآراء ہے کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے تک اس کی شدید حرمت پر بالکل اتفاق تھا لیکن پھر بتدریج کراہت و اباحت سے ہوتی تصویر سازی اب تو شاید مندوب و پسندیدہ کے درجے تک جا پہنچی ہے۔ (کم از کم آج علماء جس طرح تصویریں بنواتے ہیں، اس سے لگتا تو یہی ہے۔)

تصویر سازی کا رجحان جس طرح بڑھا ہے اور خود علماء نے آج اسے جس طرح اپنایا ہے، ہماری موجودہ نسل کو شاید لگتا ہے کہ شاید یہ کبھی ناپسندیدہ بھی نہ رہا ہو۔ مگر آئیے دیکھتے ہیں کہ ماضی قریب میں ہی صورتحال کیا تھی:

1) سعودی حکومت کی جانب سے قائم کردہ دار الافتاء ”اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والإفتاء“ نے ایک فتوی میں کہا کہ:

“صحیح قول جس پر شرعی دلائل دلالت کرتے ہیں اور جس پر جمہور علماء قائم ہیں یہ ہے کہ جاندار چیزوں کی تصویر کی حرمت کے دلائل فوٹوگرافی کی تصویر اور ہاتھ سے بنائی جانے والی تصاویر سبھی کو شامل ہیں ،خواہ وہ مجسم ہو یا غیر مجسم ہو ،دلائل کے عام ہو نے کی وجہ سے۔” (فتاوی اسلامیة: ج4 ص355)

2) سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ ابن باز لکھتے ہیں:

“ہم نے جواب میں جو احادیث اور اہلِ علم کا کلام نقل کیا ہے، اس سے حق کے متلاشی پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لوگ جو کتابوں ،مجلوں ،رسالوں اورجریدوں میں جاندار کی تصویر کے سلسلہ میں وسعت برت رہے ہیں، یہ واضح غلطی اور کھلا ہوا گناہ ہے۔” (فتاوی شیخ ابن باز: ج4 ص179-189)

3) مولانا رشید احمد لدھیانوی نے ایک اسکول کے جلسہ میں تصویریں لینے کے سوال پر لکھا:

”یہ معصیت کی مجلس ہے، جس میں شرکت قطعاً جائز نہیں؛ بلکہ دورانِ مجلس اس قسم کی حرکت شروع ہو تب بھی روکنے کی قدرت نہ ہونے والے ہر شخص پر اٹھ جانا واجب ہے“، نیز فرماتے ہیں کہ: “انتہائی قلق کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ تصویر کی لعنت عوام سے تجاوز کرکے خواص؛ بلکہ علماء تک پھیل گئی ہے جس کا افسوسناک نتیجہ سامنے آرہا ہے کہ بہت سے لوگ ان حضرات کے اس طرزِ عمل کو دیکھ کر اس قطعی حرام کو حلال باور کرنے لگے۔” (احسن الفتاوی: ج8 ص417ـ418، 434)

4) مولانا یوسف لدھیانوی سے کسی نے مسجد میں ختم قرآن کے موقع پر تصویریں لینے کے بارے سوال کیا تو جواب آیا:

“تصویریں بنانا خصوصاً مسجد کو اس گندگی کے ساتھ ملوث کرنا حرام اور سخت گناہ ہے۔ اگر یہ حضرات اس سے علانیہ توبہ کا اعلان کریں اور اپنی غلطی کا اقرار کر کے اللہ تعالی سے معافی مانگیں تو ٹھیک ہے ،ورنہ ان حافظ صاحب کو امامت سے اور تدریس سے الگ کر دیا جائے ۔اور ان کے پیچھے نماز ناجائز اور مکروہِ تحریمی ہے۔” (آپ کے مسائل اور ان کاحل : ج7 ص61)

5) ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ “فلم اور تصویر آنحضرت ﷺ کے ارشاد سے حرام ہے، اور ان کو بنانے والے ملعون ہیں۔” (آپ کے مسائل:ج7 ص67)

اللہ اللہ! اب کہاں رہے وہ تقویٰ و پارسائی کا خیال رکھنے والے؟ یہ افسوس اپنی جگہ مگر اس سے بھی بڑھ کر ملاحظہ کریں کہ موجودہ علماء پر اپنے ہی گروہ کے پہلے علماء کے فتوے کس قدر شدید ہیں بلکہ پہلے علماء کے نزدیک تو موجودہ علماء کے پیچھے نماز تک نہیں ہوتی۔ جب علماء ہی اپنوں سے بڑوں کے فتووں کا لحاظ نہیں کرتے تو عوام سے اس کی امید رکھنا عبث ہے۔


Comments

FB Login Required - comments