اعلیٰ عدلیہ کی اچھی اچھی باتیں


 صفی الدین اعوان

Safi Awanآج کل اچھی اچھی باتیں اچھی ہی نہیں لگتی ہیں۔ ہمارے قابل احترام چیف جسٹس پاکستان صاحب مختلف سیمیناروں میں جاکر اچھی اچھی باتیں کرتے ہیں جن کو سن کر دل کو بہت اطمینان ہوتا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار صاحب سپریم کورٹ کے انتہائی قابل احترام جسٹس ہیں اکثر ان کی باتیں اخبارات میں پڑھنے کا موقع ملتا رہتا ہے دل کو بہت خوشی ملتی ہے کہ کوئی تو ہے جو اس دور میں اچھی اچھی باتیں کرتا ہے عوام کو انصاف فراہم کرنے کی اچھی بات کرتا ہے۔

لیکن قیام پاکستان سے پہلے ہماری عدالتوں میں انگریز جسٹس ہوا کرتے تھے۔ بڑے ہی عجیب تھے۔ وہ اچھی باتیں نہیں کرتے تھے۔ عوام کو انصاف دینے کی بات نہیں کرتے تھے۔ نہ ہی وہ عوامی سیمینار میں جاتے تھے نہ ہی لوگ ان کو اچھی اچھی باتیں کرنے کے لئے ہوٹلوں میں بلایا کرتے تھے نہ ہی وہ کسی این جی او کے پروگرام میں مہمان خصوصی ہوا کرتے تھے۔ مجھے یہ سوچ سوچ کر بہت الجھن ہوتی تھی

گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کا ایک تفصیلی فیصلہ پڑھنے کا موقع ملا اس عدالتی فیصلے کی پیشانی پر جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب کا نام دیکھ کر میں ایک لمحے کیلئے رک گیا دل چاہا کہ جس جسٹس ثاقب نثار صاحب کی اچھی اچھی باتیں میں اخبارات میں پڑھتا رہتا ہوں آج ان کے فیصلے کا تفصیلی مطالعہ کرلیا جائے تفصیل پڑھی تو وہ سپریم کورٹ کے ڈبل بینچ کا فیصلہ تھا جس میں جسٹس منظور احمد ملک صاحب بھی شامل تھے اور تفصیلی فیصلے کے مصنف بھی جسٹس منظور احمد ملک صاحب تھے یہ فیصلہ (ایس سی ایم آر 2016 کے صفحہ نمبر 267 میں تحریر ہے)۔

تفصیلی ججمنٹ کی سمری میں کافی اچھی اچھی باتیں تھیں۔ زنا بالجبر کا مقدمہ ایک مہینے کی تاخیر سے درج کیا گیا جس کی وجہ سے معاملہ مشکوک تھا اسی طرح ایک اور اچھی بات لکھی ہوئی تھی کہ میڈیکل رپورٹ کی غیر موجودگی نے اس معاملے کو بالکل ہی مشکوک بنا دیا۔

جی ہاں میڈیکل رپورٹ کی غیر موجودگی میں یہ کیسے فیصلہ کیا جائے گا کہ کسی عورت کے ساتھ زنا بالجبر ہوا تھا کہ نہیں۔ یہ سادہ سی بات تو پاکستان کا ایک عام شہری بھی جانتا ہے کہ میڈیکل رپورٹ ہی کی بنیاد پر زنابالجبر کے مقدمے کا فیصلہ کیا جاتا ہے بلکہ موجودہ دور میں ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد اب یہ بھی بغیر کسی شک وشبے کے ثابت کیا جاسکتا ہے کہ زنا کس نے کیا اور ڈی این اے ٹیسٹ کی وجہ سے اس گھناؤنے جرم کے ملزم کسی صورت بچ نہیں سکتے۔

پولیس جب اپنی تفتیش کی رپورٹ پراسیکیوٹر کی اجازت سے جمع کرواتی ہے تو مجسٹریٹ اپنا اطمینان کرتا ہے کہ مقدمے کے شواہد اس قابل ہیں کہ ملزم کے خلاف عدالتی کاروائی شروع کی جاسکتی ہے تو وہ چالان یا تفتیشی افسر کی رپورٹ پر انتظامی حکم کرنے کے بعد سیشن ٹرائل یا اپنی عدالت میں مقدمے کی سماعت کا آغاز شروع کردیتا ہے۔ اگر زنا کے مقدمے میں جو پولیس چالان عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور اس مقدمے کے ریکارڈ میں ڈاکٹر کی گواہی شامل نہ ہو اور ڈاکٹر نے یہ میڈیکل سرٹیفیکیٹ جاری نہ کیا ہو کہ زنا ہوا ہے تو زنابالجبر کا مقدمہ تو رجسٹر ہی نہیں ہونا چاہیئے اور اگر کوئی جج میڈیکل رپورٹ کے بغیر کسی بھی شخص کے خلاف زنا کا مقدمہ پولیس رپورٹ پر رجسٹر کرتا ہے تو یہ ایک جج کی نااہلی کی بدترین مثال ہے۔

بدقسمتی سے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے مطابق منڈی بہاؤالدین کے ایک مجسٹریٹ کے سامنے تین افراد کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت کے سامنے گھسیٹ کر پیش کیا گیا اور میڈیکل رپورٹ نہ ہونے کے باوجود ان کے خلاف مقدمہ ایک مجسٹریٹ نے عدالت میں ٹرائل کیلئے قابل سماعت قرار دیا۔

آٹھ سال تک تین ملزمان کو عدالت میں ہتھکڑیاں لگا کر گھسیٹ کر عدالتوں میں پیش کیا جاتا رہا۔ یہی شواہد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج کے سامنے بھی پیش کیئے گئے، عدالت میں کوئی میڈیکل رپورٹ پیش نہیں کی جاسکی۔ گواہ جانبدار اور رشتے دار تھے ان کی گواہی میں تضاد تھا جبکہ مدعی مقدمہ جو ایک پولیس والے کی بیوی تھی اس حوالے سے عدالت کو مطمئن نہیں کرسکی کہ اس نے ایف آئی آر کی رجسٹریشن کیلئے پورے تیس دن کا انتظار کیوں کیا۔

بدقسمتی سے ان تمام شواہد نے مقدمے کو کمزور کیا اور جو مقدمہ اس قابل نہیں تھا کہ اس کو عدالت ٹرائل کیلئے قابل سماعت قرار دیا جاتا اور اصولی طور پر جو مقدمہ رجسٹر ہی نہیں ہونا چاہیئے تھا وہ رجسٹر بھی ہوا اور سیشن کورٹ سے ملزمان کو عمر قید کی سزا بھی ہوئی جس کو لاہور ہایئکورٹ نے برقرار رکھا اور آٹھ سال ان ملزمان کو ہتھکڑیوں سے اس وقت نجات ملی جب جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس منظور ملک پر مشتمل ڈبل بینچ نے ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا۔

لیکن کیا ملزمان کو صرف رہا کرنا ہی کافی تھا ؟ جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب اگر آپ یاد کریں آپ جو اچھی اچھی باتیں مختلف سیمینار میں کرتے ہیں کیا ان اچھی اچھی باتوں کے مطابق صرف ملزمان کو رہا کردینا کافی تھا؟ کیا مقدمے کے حقائق اس بات کو ثابت نہیں کررہے کہ مقدمہ مجسٹریٹ کی نااہلی کی وجہ سے رجسٹر ہوا تھا؟ کیا مقدمے کے حقائق یہ بات ثابت نہیں کررہے کہ وہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بھی نااہل تھا جس نے میڈیکل رپورٹ نہ ہونے کے باوجود سزا سنا دی؟

کیا مقدمے کے حقائق یہ بات بھی ثابت نہیں کررہے کہ لاہور ہایئکورٹ کے جسٹس نے بھی نااہلی کا مظاہرہ کیا اور سزا کو برقرار رکھا؟

میرا چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس میاں ثاقب نثار سے ایک سوال ہے کہ کیا صرف اچھی اچھی باتیں کرنے سے عوام کو انصاف مل سکتا ہے؟ انصاف تو یہ تھا کہ اس مقدمے کے تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی کا حکم دیا جاتا، جوڈیشل مجسٹریٹ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور لاہور ہایئکورٹ کے جسٹس کو اس نااہلی کا مظاہرہ کرنے پر مزید نااہلی کرنے اور مزید بے گناہوں کو ہتھکڑیوں میں جکڑنے سے روک دیا جاتا۔ ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جاتی کہ ان کی نااہلی کی وجہ سے تین بے گناہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے آٹھ سال تک رہے۔

سپریم کورٹ نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا تو کیا اچھی اچھی باتیں صرف سیمینار میں کی جاتی ہیں؟ چیف جسٹس آف پاکستان کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ نے چند روز قبل ہی تو گورننس کے حوالے سے ایک بیان دیا تھا تو اس معاملے میں گورننس کیا کہتی ہے؟

سپریم کورٹ کے اس رپورٹڈ کیس نے ہمارے سارے عدالتی نظام پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ کیونکہ واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ نے ارادی یا غیر ارادی طور پر تفتیشی افسر، پراسیکیوٹر، جوڈیشل مجسٹریٹ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج منڈی بہاؤالدین اور لاہور ہایئکورٹ کے جسٹس کی نااہلی کو تحفظ فراہم کیا ہے جن کی ناہلی کی وجہ سے تین افراد آٹھ سال تک ہتھکڑیاں لگا کر عدالتوں میں گھسیٹے گئے۔

برٹش دور میں جسٹس صاحبان اسی وجہ سے مختلف سیمیناروں میں جا جاکر اچھی اچھی باتیں نہیں کیا کرتے تھے۔ وہ عوام کو انصاف دینے کی بات بالکل نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ سب اچھی باتیں اپنے عدالتی فیصلوں میں لکھ کر عملی طور پر انصاف فراہم کر دیا کرتے تھے۔ وہ اہلیت رکھتے تھے یہ بات تو طے شدہ ہے۔ اگر یہ ظلم کسی برطانیہ کی عدالت میں ہوتا تو کوئی بھی نااہل مزید نااہلی کے لئے جج کی سیٹ پر نہ ہوتا

بس یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند روز سے مجھے اچھی اچھی باتیں بالکل بھی اچھی نہیں لگتی ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments