پاناما لیکس پر قانون سازی کی ضرورت ہے


رضوانہ ظہیر

rizقومی اسمبلی میں وزیراعظم کے تاریخی اور مایوس کن خطاب کو دیکھ کر انڈین مووی کا وہ مزاحیہ سین یاد آگیا جس میں ڈان کا ایک ملازم لوگوں پر اس کی دھاک بٹھانے کے لئے کئی بار یہ کہانی دہراتا ہے کہ ” اس کی ایک ٹانگ لکڑی کی ہے جو بھائی نے بات نہ ماننے پر توڑ دی لیکن بھائی چونکہ رحمدل بھی ہیں تو خود ہسپتال لے کر گئے اور نقلی ٹانگ بنوا کر دی”۔ ہر سوال کے جواب پر ایک ہی کہانی باربار دہرا دی جائے تو وہ محضکہ خیز بن جاتی ہے۔ سرمائے کی ترسیل کے جواب میں برفی کی جگہ لڈو اور لڈو تو رس گلے کے بدلے اور رس گلے تو گلاب جامن کے بدلے تھے اور گالب جامن تو کھائے ہی نہیں جیسے جواب دے کر شریف خاندان قوم کو مطمئن نہیں کر پائے۔ سب کے بیانات اکٹھے کریں تو کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا جیسی کیفیت لگتی ہے. آف شور کے لیے پورے خاندان نے مختلف ذرائع پہ ہاتھ پاؤں مارے جس کے ہاتھ جو لگا اکٹھا کرکے آف شور میں لگا دیا۔

حیرت ہے تقریر لکھنے والوں پر اتنے منجھے ہوئے ہو کر بھی کیا لکھا۔ میں تو ابھی ماس کام کی طالبہ ہوں اگر مجھے وزیراعظم کی تقریر لکھنی ہوتی جس میں اپوزیشن کے سوالوں کا جواب بھی نہیں دینا تو اسکا متن کچھ ایسا ہوتا:

“جناب سپیکر میں اپنے پچھلے دو خطابات میں قوم کو بتا چکا ہوں کہ وہ کیا عوامل تھے جس کی وجہ سے میرے بچے مجبور ہوئے کہ وہ ملک سے باہر سرمایہ کاری کریں۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ایک عام سرمایہ دار کن حالات میں کاروبار چلا رہا ہے۔ اور کیا وجوہات ہیں جو لوگ اپنی دولت کو باہر منتقل کرنا محفوظ سمجھتے ہیں۔ پچھلے ایک مہینے سے ہم بہت الزام تراشی کر چکے ہیں اب میں اپوزیشن کو دعوت دیتا ہوں کہ مل کر ایسی قانون سازی کریں کہ پچھلے ادوارمیں ملک سے سرمایہ منتقل کرنے والے اس پاکستان کو سرمایا کاری کے لیے محفوظ ترین ملک سمجھیں، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگ جنھوں نے غیر قانونی ذرائع سے سرمایہ منتقل کیا ان کی بھی پرستش کی جائے۔ اور میں اب بھی کہتا ہوں کہ میرے بچے بھی اس احتساب سے مستثنیٰ نہیں۔ اس آف شور کمپنیوں کے شور سے کوئی بھی محفوظ نہیں سب پر اس کیچڑ کے چھینٹے پڑ چکے ہیں اور یہ معاملہ جتنا طول پکڑتا جا رہا ہے دیگر اہم مسائل پس پشت پڑتے جا رہے ہیں اس لیے میری تجویز ہے کہ الزام برائے الزام کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ اسے ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔”

panamaدوسری طرف اپوزیشن اتحاد نے بھی تاریخی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا، وزیراعظم کو ” ٹف ٹائم” دینے کی بجائے ” رُس” کر باہر آنے کا کیا مقصد تھا؟ پھر جواز یہ دیا کہ چونکہ ہماری تقاریر ٹی وی پر نہیں دکھائی جانی تھیں اس لیے ہم واک آؤٹ کر گئے۔ عجیب منطق ہے بھئی جب اتنے چینلز اور کیمرے نہیں ہوا کرتے تھے تو کیا قومی اسمبلی کے اجلاس نہیں ہوتے تھے؟ قومی نوعیت کا اجلاس کیا کیمروں کا محتاج ہوتا ہے؟ پہلے صحافی خبر کے پیچھے بھاگتے تھے اب خبر خود ٹی وی پر آنے کے لیے اٹھ کر باہر آجاتی ہے۔

میڈیا نے بھی اس مصالحے دار خبر سے چٹخارے تو خوب لیے لیکن صحافتی اقدار کو  ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس مسئلے کے حل کے لیے سوالات نہیں اٹھائے۔ شرکاء کا زبردست رگڑا دینے کے بعد بس یہ بتایا کہ آف شور کمپنیاں طلاق جیسی ہیں؛ “حلال لیکن سخت ناپسندیدہ”۔ اکا دکا آوازیں حل کے لیے اٹھی بھی تو الزام اور ماضی کو کھنگالنے کے “کھڑاک” (شور شرابے) میں دب گئیں۔

ان عوامل پر روشنی ڈالنے کی اشد ضرورت ہے جن کے باعث لوگوں کا اعتبار اپنے ملک سے اٹھ کر سمندر پار جزیروں پر بن گیا۔ دور تو جانے کی ضرورت ہی نہیں زرداری دور میں بجلی اور گیس کے بدترین بحران نے فیصل آباد اور سیالکوٹ کی صنعت کا پہیہ جام کر دیا تھا۔ فیصل آباد میں مزدوروں کے ساتھ ساتھ مالکان بھی خود سازی کی دھمکیاں دیتے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوئے۔ کاروباری طبقے نے اپنا سرمایہ بنگلہ دیش اور ملائشیا جیسے سستے ممالک میں منتقل کیا تاکہ لاگت پر قابو پایا جا سکے۔ اس لیے وہ ایسے فیصلے کرنے میں وہ حق بجانب ہیں اور ان کے پاس ٹھوس جواز بھی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو سنجیدگی کے ساتھ بیٹھ کر قانون سازی کرنی پڑے گی۔ باقی دنیا کو ایک طرف رکھیں اپنے ہی ملک کے لوگوں کے لیے اس ملک کو سرمایہ کاری کے لیے بہترین اور محفوظ بنائیں۔ حکومتیں آنے اور جانے سے ان کے کاروبار پر آنچ نہ آئے۔ جب ملک اتنے زرخیز حالات مہیا کرے گا تو دولت باہر منتقل ہو گی ہی نہیں۔ یہی لوگ ملک کے لیے ریوینیو (ذرائع آمدنی) پیدا کریں گے ورنہ موبائل کارڈ اور تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس نچوڑ نچوڑ کر بھی معیشت بحال نہیں ہوگی۔

اسحاق ڈار معاشی داؤ پیچ خوب جانتے ہیں بار بار آئی ایم ایف کے دروازے پر جا کر ملکی وقار گروی رکھنے کے بجائے ان آفشوری طبقے کے سانے ہاتھ پھیلائیں۔ اپنا مارتا ہے تو بھی چھاؤں میں ڈالتا ہے۔ قرض حسنہ لینے اور دینے کا بھی وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ کیا ریاست ان آفشوریوں سے قرض لے کر آئی ایم آیف سے چھٹکارا نہیں پا سکتی؟ تاکہ انھیں پاکستان ہی “ٹیکس ہیون” لگے۔ موجودہ قانون کے مطابق تو آپ کے پاس کوئی قانونی جواز موجود نہیں جس سے اتنے لوگوں کی سکرونٹی کی جائے یا انھیں مجبور کیا جائے کہ اپنا سرمایا ملک میں واپس لائیں۔ استثنیٰ کے علاوہ سزا جزا کا کوئی اور طریقہ آپ کے ذہنوں میں ہے تو ضرور آزمایئے لیکن بس اب قانون سازی فرما دیجیے۔


Comments

FB Login Required - comments