سوات کی شورش: تنازعہ کا تصفیہ اور قیام امن


fazle rabiسوات کی حالیہ شورش پر کئی کتابیں زیورِ طبع سے آراستہ ہوچکی ہیں۔ ان میں کئی کتابیں اردو جب کہ چند کتابیں انگریزی زبان میں ہیں۔ سوات میں طالبانائزیشن اور مذہبی شدت پسندی کی وجوہات ہمہ جہت ہیں جن کا جائزہ کسی ایک کتاب میں لینا ممکن نہیں، تاہم ان وجوہات پر گہری تحقیق کے بعد تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ حال ہی میں سوات کی ایک جواں سال دانش ور تبسم مجید کی انگریزی زبان میں لکھی گئی کتاب INSURGENCY IN SWAT, Conflict Settlement and Peace Building کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ’سوات میں شورش‘ (تنازعہ کا تصفیہ اور قیام امن) کے عنوان سے کیا جاسکتا ہے۔ یہ کتاب دراصل مصنفہ کی پی ایچ ڈی کے مقالے کا جامع خلاصہ ہے۔ کتاب پر تبصرہ سے پہلے اس حساس موضوع پر تحقیق کرنے والی جرأت مند تبسم مجید کا مختصر تعارف ضروری ہے۔ تبسم کا تعلق سوات سے ہے۔ وہ نہ صرف سوات میں پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج سیدو شریف میں پولی ٹیکل سائنس کا مضمون پڑھاتی ہیں بلکہ ایک سوشل ورکر اور تعلیمی ایکٹویسٹ کی حیثیت سے بھی سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہتی ہیں۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی۔ 2010ء میں انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی (اسلام آباد) سے ایم اے پولی ٹیکل سائنس میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ 2013ء میں انھوں نے قائدا عظم یونی ورسٹی (اسلام آباد) سے ایم فل کیا۔ اس کے بعد ڈیڑھ سال تک سوات یونی ورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 2014ء میں پی سی ایس کے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ گرلز کالج سوات میں پولی ٹیکل سائنس کی لیکچرر تعینات ہوئیں۔ سوات جیسے دُور افتادہ اور سخت مذہبی و پختون روایات کے اسیر معاشرے میں تبسم مجید جیسی باہمت لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم سے رغبت، روشن خیالی اور جرأت قابل ستائش ہے۔

 

تحقیقی مقالے پر مشتمل اس کتاب میں تبسم نے سوات کی قدیم تاریخ سے لے کر جدید تاریخ تک اس کا تدریجی ارتقائی جائزہ لیا ہے۔ انھوں نے ریاستِ سوات کے ادغام کے بعد کے حالات پر ایک تنقیدی نظر ڈالی ہے جس کے دوران 18 جولائی 1989ء میں ضلع دیر میں مولانا صوفی محمد نے ’’تحریک نفاذِ شریعت محمدیؐ‘‘ کے نام سے  ایک تنظیم کی بنیاد رکھی اور اس کے تحت ملاکنڈ ڈویژن میں شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے کوششیں شروع کیں۔ تبسم نے مولانا صوفی محمد کی تحریک کی بڑی وجہ ملاکنڈ ڈویژن میں پاٹا کے قوانین کی موجودگی ظاہر کی ہے جس میں انصاف کے مسلمہ اصولوں سے روگردانی کی وجہ سے عام لوگوں میں احساس محرومی پیدا ہوا۔ جب 12 فروری 1992 ء میں سپریم کورٹ کے حکم پر پاٹا ریگولیشن کا خاتمہ کردیا گیا تو سوات میں ایک قانونی خلا پیدا ہوگیا جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مولانا صوفی محمد نے اپنی تحریک میں تیزی پیدا کی۔ مولانا کا موقف تھا کہ پاٹا ریگولیشن کے قوانین کے خاتمہ کے بعد علاقے میں پیدا ہوجانے والا قانونی خلا شرعی قوانین کے نفاذ سے پُر کردیا جائے۔ تحریک کے سرگرم کارکنوں نے جب 2 نومبر 1994ء میں سوات کی ضلعی عدالتوں اور سیدو شریف ایئرپورٹ کو اپنے قبضہ میں لے کرسوات بھر میں حکومت کی عمل داری ختم کردی تو حکومت نے حکمت سے کام لے کر ریاست کے خلاف یہ بغاوت فرنٹیئر کانسٹیبلری کی کارروائی اور شرعی ریگولیشن 1994ء کے نفاذ کے ذریعے ختم کی لیکن جب تحریک کے کارکن اس سے مطمئن نہ ہوئے تو بعد ازاں حکومت نے شرعی ریگولیشن 1999ء نافذ کردیا۔ اس کے باوجود عدالتوں میں مقدمات زیرالتواء ہوتے رہے۔2006ء میں مولانا صوفی محمد کے داماد ملا فضل اللہ نے اپنے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کے ذریعے اپنے مخصوص مذہبی نظریات کی تبلیغ شروع کی تو اس کا انجام سوات میں ایک خونیں معرکہ کی صورت میں نکل آیا۔ پورا علاقہ طالبانائزیشن کی لپیٹ میں چلا گیا، سوات کے بیشتر علاقوں میں حکومتی رِٹ کا خاتمہ ہوا جس کے نتیجے میں حکومت کو ’’راہِ حق‘‘ فیز ون اور ’’راہِ حق‘‘ فیز ٹو کے نام سے فوجی آپریشن کرانا پڑے۔ جب اس کے باوجود سوات کے حالات مزید بگڑتے چلے گئے تو بالآخر فوج نے مئی 2009ء میں حتمی طور پر ’’راہِ راست‘‘ کے نام سے سوات میں طالبان کے خلاف مؤثر آپریشن کا آغاز کیا جس کے دوران بیس لاکھ کے قریب لوگوں کو آئی ڈی پیز بننا پڑا۔ یہ تمام واقعات تبسم مجید کی کتاب میں بڑی تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔

 

title option twoتبسم نے سوات میں طالبانائزیشن کی مختلف وجوہات کا جائزہ لیا ہے۔ جن پر تاریخی، مذہبی، سیاسی، عدالتی اور آئینی وجوہات جیسے عنوانات کے تحت بحث کی گئی ہے۔ انھوں نے امریکا کے 9/11 کے واقعہ کے مابعد ان اثرات پر بھی روشنی ڈالی ہے جن کی لپیٹ میں ملاکنڈ ڈویژن بھی آگیا تھا اورجس کے نتیجے میں مولانا صوفی محمد امریکا کے خلاف افغانی طالبان کی مدد کے لیے ملاکنڈ ڈویژن سے دس ہزار لوگوں پر مشتمل عوامی لشکر لے کر باجوڑ کے راستے افغانستان میں داخل ہوئے تھے لیکن عسکری تربیت اور کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے تحریک نفاذ شریعت محمدیؐ کے کارکن افغانستان میں یا تو قتل کردئیے گئے تھے یا انھیں گرفتار کرلیا گیا تھا اور جو وہاں زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے، واپس پاکستان آتے ہوئے انھیں 16 نومبر 2011ء کو مولانا صوفی محمد سمیت پولیٹیکل حکام نے گرفتار کرلیا تھا۔ ان گرفتار ہونے والے کارکنوں میں ملا فضل اللہ بھی شامل تھا۔ سوات میں طالبانائزیشن کی ایک بڑی وجہ فاضل مصنفہ نے یہ بھی بتائی ہے کہ سوات کے ریاستی دور میں عدالتی انصاف موجود تھا۔ عوام میں گڈ گورننس کی وجہ سے محرمی کا احساس نہیں پایا جاتا تھا لیکن جب28 جولائی 1969ء میں ’ریاست سوات‘ پاکستان میں ایک ضلع کی حیثیت سے ضم کردی گئی تو اہل سوات کے لیے مسائل اور مشکلات کا ایک لامتناہی دور شروع ہوگیا۔حکومت اور متعلقہ اداروں کی عدم توجہی اور بے انصافی پر مشتمل عدالتی نظام کی وجہ سے اہل سوات کی محرومیاں روز بہ روز بڑھنے لگیں جس سے مولانا صوفی محمد اور ملا فضل اللہ جیسے لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور پورے علاقے کو شرعی قوانین کے نفاذ کے نام پر بداَمنی اور شورش کی آگ میں جھونک دیا۔ سوات کی شورش میں غیر ملکی ایجنسیوں، پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں اور اس وقت کے حکومت کے کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

 

سوات میں فوجی چھاؤنی کا قیام، فوجی آپریشن کے بعد سرچ اور کلیئر آپریشنوں کے ذریعے مقامی پشتون روایات کی پامالی، سکیورٹی فورسز کا چیک پوسٹوں پر عام شہریوں کے ساتھ نامناسب سلوک اور اس کے ممکنہ اثرات جیسے موضوعات بھی کتاب کا حصہ ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب میں سواتی طالبان کے ان اہم طالبان کا تذکرہ بھی موجود ہے جن کی گرفتاری پر بھاری انعامات مقرر کیے گئے ہیں۔ ان میں کچھ بڑے کمانڈر توفوج کے ہاتھوں مارے گئے ہیں لیکن کچھ ابھی بھی فوج کے پاس موجود ہیں۔ ان میں دو مشہور قابل ذکر طالبان رہنما مسلم خان اور محمود خان فوج کی تحویل میں ہیں، جن کی گرفتاری پر 10 ملین روپے کے انعامات کا اعلان کیاگیا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان دونوں کو 11 ستمبر 2009ء میں فوج نے گرفتار کرلیا تھا لیکن ابھی تک ان پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے اور نہ انھیں عدالت میں پیش کردیا گیا ہے۔ کتاب میں سوات میں طالبانائزیشن اور مذہبی شدت پسندی کی بنیادی وجوہات کا نچوڑ ان چند جملوں میں سمویا جاسکتا ہے۔ ’کمزور اور ناقص عدالتی نظام، بیڈ گورننس، پاٹا ریگولیشن کے خاتمہ کے بعد قانونی خلا، زندگی کی بنیادی سہولیات کا فقدان اور علاقے میں تعمیر و ترقی کے حوالے سے محرومیاں۔‘

 

’سوات میں شورش‘ (تنازعہ کا تصفیہ اور قیام امن) تبسم مجید کی ایک نہایت عمدہ کاوش ہے۔ انھوں نے سوات میں طالبانائزیشن پر مجموعی طور پر عمدہ تحقیقی کام کیا ہے اور مذہبی شدت پسندی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ناگفتہ بِہ صورتِ حال پر ماہرانہ تبصرہ کیا ہے۔ یہ کتاب سوات کے ایک مخصوص دور کے حالات اور واقعات کے بارے میں ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جس سے اس موضوع پر تحقیق کرنے والے طلبہ و طالبات کے علاوہ مؤرخین بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ تبسم اور ان کی طرح دیگر لکھنے والوں نے سوات میں طالبانائزیشن پر جو تحقیقی کام کیا ہے، اس کی روشنی میں سوات کی آنے والی نئی نسل کو بھی سوات کے ان ناگفتہ بِہ حالات کے حوالے سے مستند معلومات حاصل ہوسکیں گی کیوں کہ یہ سوات میں طالبانائزیشن کے قیام اور اس کے عروج و زوال پر مشتمل مصنفہ کے چشم دید حالات و واقعات پر مشتمل تاریخ ہے جسے آنے والے دور میں بھی مستند سمجھا جائے گا۔

128 صفحات پر مشتمل یہ کتاب سوات کے مشہور اشاعتی ادارہ شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز مینگورہ (فون: 722517-0946) نے خوب صورت گٹ اَپ کے ساتھ مجلد شائع کی ہے۔

 

 


Comments

FB Login Required - comments