پانامہ پیپرزاورحکومتی پریشانی


 Haroon Abbasi picجلالتہ الملک شہنشاہ اکبر ایک مرتبہ ما حضر تناول فرما رہے تھے کہ ان کی نظر ایک سبزی کے سالن پر پڑی۔ انہوں نے اسے چکھا اور پوچھا کہ بھئی یہ کیا ہے۔ نورتنوں میں سے ایک نے دست بستہ عرض کی کہ حضور بیگن کا سالن ہے۔ شہنشاہ نے کہا یہ کیا سبزی ہے۔ نورتن یہ سمجھے کہ شاید سبزی شاہ سلامت کی طبع نازک پہ گر اں گزری ہے۔ اور بیگن کا ذائقہ انہیں پسند نہیں آیا۔ فوری طور پر بولے، تف ہے اس خانسامے پر ۔ اگر حکم ہو تو اس ناہنجا ر کو کولہو میں پلوا دوں۔بھلا یہ سالن شہنشاہ عالی مرتبت کے شایان شان کیسے ہو سکتا ہے، جسے ڈھور ڈھنگر، چمار اور کمہار کھاتے ہیں۔ بادشاہ سلامت نے کہا، نہیں نہیں ایسی بات نہیں، مجھے تو بینگن بہت پسند آئے ہیں۔ ذائقے دار سبزی ہے، سبحان اللہ۔

 

نورتن صاحب پھر کھڑے ہوئے۔ آداب شاہی کے مطابق تین مرتبہ کورنش بجالائے اور دست بدستہ عرض کی۔ شہنشاہ ہندوستان اللہ تعالیٰ آپ کا اقبال بلند کرے ۔ خادم نے تو یونہی از راہ تفنن بینگن کے بار ے میں نازیبا الفا ظ استعمال کئے تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بینگن سبزیوں کا بادشاہ ہے۔ یہ سبزی بادشاہوں کے کھانے کے لئے بنائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی سلطنت کو دوام بخشے۔ اگر آپ بینگن کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ واحد سبزی ہے جس کے سر پر تاج بنا ہو تا ہے۔ جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اسے شاہی دستر خوان کا حصہ ہونا چاہیے۔

 

اکثر لوگ ہٹلر کے زمانے میں گوئبلز کی مثالیں دیتے ہیں۔ جس نے جھوٹ کو سائنس کا درجہ دے دیا لیکن تار یخ پر اچٹتی سی نظر بھی ڈالیں تو ہمیں یہ معلو م ہو گا کہ اکبر کے نورتن پر دور میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔ اور وقت کے ساتھ یہ ایسے رنگ بدلتے ہیں کہ گرگٹ تو بیچارہ یونہی بدنام ہے۔

 

اس تمہید کا مقصد وطن عزیز میں پانامہ لیکس کے حوالے سے ہڑبونگ کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ آج کل حکومتی حواری ٹیلی ویژن پر ایسی ایسی درفتنیاں چھوڑ رہے ہیں کہ جنہیں سن کر دل ہو تا ہے سیپارہ۔

 

حیرت اور تعجب ان خواتین اور حضر ات پر ہوتا ہے جو چند سال پہلے موجودہ حاکموں کی نجی زندگیوں سے سیاسی زندگیوں تک کے بارے میں ایسے ایسے انکشافات کرتے تھے کہ سننے والے انگشت بدنداں بلکہ دست بدنداں رہ جاتے تھے۔ ایسے ایسے عیوب گنائے جاتے تھے، جو شاید نمرود ، شداد، ہلاکو اور چنگیز خان کے نصیب میں بھی نہیں تھے۔

 

اب یہی حضرات انہی شدادوں کے بارے میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے ثابت کر رہے ہیں کہ یہ حضرات کوثر و نسیم میں نہائے ہوئے ہیں۔ یہ معصو م اور برگزیدہ ہستیاں ہیں جن کی بیعت کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ بے ایمانی، رشوت ستانی ، اقربا پروری، لوٹ کھسوٹ سے ان معصوموں کا کیا تعلق۔ یہ صوم و صلوٰتہ کے پابند ، تقوٰی اور پرہیزگاری کے پیکر ، جود وسخا اور اعلیٰ انسانی اقدار کے علمبردار، شرافت ونجابت میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ان شریف النفس، بے ریا، بے غرض اور بے نیاز ہستیوںکو کمیشن اور کک بیکس سے کیا تعلق۔ ٹیکس ، مالیا نہ اور آبیانہ ، عشر و زکوٰتہ کو ہڑپ کر جانے جیسے الزامات لگانا، تاریخ کے ساتھ ساتھ جغرافیے کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ جن غربا ءکے پاس رہنے کو اپنا مکان نہ ہو، والدہ کے در د غربت پر پڑے ہوں۔ جن کی آمدنی اتنی ہو کہ دو وقت مشکل سے مسور کی دال نصیب ہو، فقر و فاقہ اور بوریا نشینی جن کا اوڑھنا بچھونا ہو، ان پر ایسے ایسے بہتان کہ جنہیں سن کر چرخ نیلی فام بھی ہچکولے کھانے لگے۔

 

ویسے یہ بات ہماری ناقص سمجھ میں نہیں آتی کہ آ ف شور کمپنیوں پر اتنا شور کیوں؟

 

شور برپا ہے خانہءدل میں

تہمت آ ف شور کی لگی ہے ابھی

 

دیکھئے ناں ، بڑی سیدھی سی بات یہ کہ میرا پیسہ ہے، کہا ں سے آیا، آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے۔ کہاں گیا میرا مسئلہ ہے۔ میں چاہوں تو پانامہ بھیجوں یا فیصل آباد کے ہنو کے چھجے یا چیچوں کی ملیاں، یہ آپ کا درد سر کہاں سے ہوا۔     

 

اگر آپ بودے بلکہ عوامی اندازمیں بونگے ہیں اور روپیہ پیسہ کمانے کا ڈھنگ نہیں جانتے، تو جائیں جہنم میں، آپ بے صلاحیت ہیں۔ ہم نے تو پیسہ کمانے کے لئے شیطان کی مد د بھی نہیں طلب کی کیونکہ شیطان نے عالم بالا میں اپنی متعدد

پریس کانفرنسوں میں برملا ہماری ولولہ انگیز قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کی ہے کہ جناب ابلیس کی بدنامی اور کردارکشی کا سلسلہ بند ہونا چاہئے کیونکہ پاکستانی حکام بالا کے ذہن رسا میں جو خیالات ابھرتے ہیں، اور جس طرح وہ اسے عملی جامہ پہناتے ہیں، وہ میرے یعنی ابلیس کے افکار شیطانیہ سے کہیں بلند و بالا ہوتے ہیں۔ بڑے بھولے ہیں، وہ خواتین و حضرات جو بے وقت کی راگنی الاپتے ہیں کہ یہ ملک ہم سب کا ہے، سب کا اس پر حق ہے، وغیرہ وغیرہ۔ او بھائی آپ کے دماغ میں بھوسا بھرا ہو ہے۔ یہ عقل و خر د سے عاری ۔ آپ یہ ملک حکمرانوں اور صرف حکمرانوں کے لئے بنا تھا۔ رعایا کو اپنی اوقات میں رہنا چاہئیے۔ورنہ لوہا پگھلانے والی بھٹیوں میں پھینک دینے کی روایت کوئی ایسی پرانی نہیں۔

 

بعض ناعاقبت اندیش ٹیلی ویژن چینلوں پر گلے پھاڑ پھاڑ کر بیرونی ملک بھیجے گئے روپے پیسے واپس لانے ، قرض معاف کروانے والوں کو پکڑنے، ضمیر فروشوں کو جھنجھوڑنے اور دولت و اختیارات کی منصفانہ تقسیم کا راگ الاپتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ وقت کا زیاں ہے۔ سیدھی سی بات ہے، وطن عزیز سے پیسہ ۔باہر بھجوانے کے سو راستے ہیں۔ ہنڈی سے لے جائیں۔ لانچوں میں بھر کر لے جائیں۔ چارٹر جہاز میں لے جائیں۔ کسٹم والوں کی خدمت کریں اور بوریاں بھر کر بذات خود بلکہ بقول شخصے بقلم خود لے جائیں۔ خیر ہی خیر ہے۔ لیکن بھولے بادشاہوں کو یہ معلوم نہیں کہ پیسے واپس لانے کے لئے کوئی قائدہ قانون نہیں۔ کسی ملک سے کوئی معاہدہ نہیں۔ جو گیا سو گیا۔ کوئی دیوانہ ہے کہ بتائے گا ، کتنا گیا کیسے گیا کیوں گیا کہاں گیا۔ اب آپ کمیشن بنائیں جلسے کریں جلوس نکالیں دھرنے دیں۔ آہ وبکا کریں ۔ نتیجہ ڈھاک کے تین بات نکلے گا۔

 

ہاں یاد آیا، پیسہ باہر سے آتا ہے۔ وہ محنت کش مسکین جو مشرق وسطیٰ کے صحراﺅں میں سڑکیں تعمیر کرتے ہیں، جو چلچلاتی گرمی میں سو سو منزلہ عمارتوں پر رنگ و روغن کرتے ہیں ، جو یہود و ہنود کے غسل خانوں میں بول و براز صاف کرتے ہیں، جو شدید برفباری میں گھروں کی کھڑکیوں سے برف صاف کرتے ہیں۔ جو اپنے پیاروں کے کل کے لئے اپنا آج قربان کرتے ہیں۔ یہ کم فہموں، کم عقلوں کی وہ فوج ہے جو ملک چلانے میں کوشاں ہے۔ دوسری طرف وہ ذہین و فطین اعلیٰ اقدار کے امین خاندانی رئیس جو نسلوں سے اپنے کاروبار کے ذریعے الحمد للہ ، اللہ کے فضل و کرم چابکدستی سے ملکی وسائل کوٹھکانے لگاتے ہیں، جس کی رسید نہیں ملتی۔ یہ اپنے جائز وسائل سے ادارے خرید سکتے ہیں۔ یہ باربار حکمران بن سکتے ہیں۔ یہ آ پ کی بولتی بند کر سکتے ہیں۔ آپ مجبور ہیں کیونکہ آپ نے غلامی کا طوق ذلت خوشدلی سے گلے میں ڈال دیا ہے۔ آ پ کو یقین ہے کہ ان کے پاس جو دولت کے انبار ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کا دبا ہوا ہے۔ آپ گناہ گار ہیں، سیا ہ کار ہیں، جب ہی تو روٹی روٹی کو محتاج ہیں۔

ہم آج بھی کہتے ہیں بقول عمران خان میرے پاکستانیو! بندے کے پتر بن جاﺅ۔ خبردار کلمہءحق کہنے کی کوشش کی۔ تھوڑے کو بہت جانو۔ کچھ خوشامد سیکھو ،چاپلوسی اختیار کرو، بے ضمیری کے خمیرے کھاﺅ، بدچلنی کو شعار بناﺅ۔ جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا کہو۔ کاسہ لیسی میں جو فوائد پوشیدہ ہیں، وہ حق و صداقت میں کہاں۔ بقول نواب زادہ نصر اللہ خان،ظلمت کو ضیاء، کرگس کو ہما کا ورد جاری رکھو۔ تم مردود حرم ہو، تمہیں کوئی مسند پر نہیں بٹھائے گا۔ تم پسنے کے لئے ہو، پستے رہو گے ، آ ف شور کے چور کبھی پکڑے نہیں جائےں گے۔ یہ دھرتی بانجھ ہو چکی ہے، یہاں کوئی مسیحا پیدا نہیں ہو گا۔ بعض لوگ حکمرانوں کے قلوب میں تیر اندازی کے شوق میں ڈاکٹر مہاتیر محمد جیسی مثالوں کے راگ الاپتے ہیں، لیکن وہ نہیں جانتے کہ نقار خانے میں طوطی کی آواز کو کون سنتا ہے۔

 

جو قوم گدھے کا گوشت فروخت کر سکتی ہے، بچوں کو زہر آلود دودھ پلوا سکتی ہے، مٹھائیوں میں زہریلا کیمیکل ملا کر لوگوں کی زندگیوں سے کھیل سکتی ہے، زبا ن نسل علاقے اور مسلکوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کا گلا کاٹ سکتی ہے،جہاں غیرت کے نام پر بے غیرتی ہو سکتی ہے، جہاں تیز اب پھینک کر چاند چہرہ ستارہ آنکھیں بھسم کی جاسکتی ہیں۔ جہاں غیر سرکاری تنظیمیں معذوروں اور اپاہجوں کے نام سے دنیا بھر سے خیرات اکٹھی کرکے جیبیں بھر سکتی ہیں۔ جہاں زلزلہ زدگان کی مسخ شدہ لاشوں سے زیور اور گھڑیا ں اور نقدی چرائی جا سکتی ہے، جہاں بے بس بچیوں کو سنہرے خواب دکھا کر عصمت فروشی پر لگایا جا سکتا ہے، جہاں انسانیت کی تذلیل توہین اور تضحیک کے نئے نئے فارمولے ایجاد ہو سکتے ہیں۔ وہ قوم واقعی ناقابل علاج ہے۔ اسے جگانے کے لئے اہلیت اور صلاحیت کی حامل قیادت کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا دامن پا ک ہو۔

 

اہل اللہ کا دعوٰ ی ہے کہ جب برائی انتہاﺅں کو پہنج جائے تو اللہ کا قہر نازل ہوتا ہے۔ پھر اللہ اپنے خاص بندوں فرائض سونپتا ہے، جو دھرتی کو امن و آشتی، معاشی ترقی اور بھائی چارے کا خزینہ بنا دیتے ہیں ۔

  

ہارون الرشید عباسی ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر نیوز ہیں اور حالاتِ حاضرہ پر اپنے مخصوص انداز میں تبصرہ کرتے ہیں ۔

 


Comments

FB Login Required - comments