صحافی ہو تو کامران خان جیسا


usman ghazi

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں کسی خاص شخصیت کے خلاف میگا کرپشن کی پہلی باقاعدہ شائع ہونے والی اسٹوری کون سی تھی؟

عجب کرپشن کی یہ غضب کہانی 27برس پہلے شام کے ایک انگریزی اخبار میں شائع ہوئی اور اس اسٹوری کی طاقت یہ تھی کہ حکومت وقت کا تخت الٹ گیا

یہ نیوزاسٹوری تحقیقاتی صحافت کرنے والوں کے لیےبھی ایک دلچسپ کہانی ہے

معاملہ کچھ یوں ہوا کہ 1989میں لندن سے مرتضیٰ بخاری نام کا ایک تاجر پاکستان آیا، وہ پاکستان میں آنکھوں کا اسپتال بنانا چاہتا تھا، آصف زرداری کو پتہ لگ گیا، اس نے مرتضیٰ بخاری کی ٹانگ میں غلام حسین انڑ کے ذریعے بم بندھوایااور ڈیڑھ ارب روپے لوٹ لیے

اس نیوز اسٹوری کے سامنے آتے ہی پیپلزپارٹی کی حکومت جو ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کے نو سال بعد قائم ہوئی تھی، فقط 20ماہ میں ختم ہوگئی

یہ نیوز اسٹوری آج کے معروف تجزیہ کار کامران خان صاحب کی تحقیقاتی رپورٹنگ کا نتیجہ تھی، کامران خان صاحب کو اسی اسٹوری سے عروج ملااور یہ اسٹوری پاکستان میں کرپشن کے تمام میگا اسکینڈلز کی امی جان ہے ، سارےکھٹے چٹھے اسی اسٹوری کے بچے ہیں

اس نیوز اسٹوری کے بعد آصف زرداری جیل چلے گئے، یہیں سے ان کا نام مسٹرٹین پرسنٹ مشہور ہوا

اس نیوز اسٹوری کے بعد کراچی میں بلاول ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس ہوئی،صحافت میں آج کےاکثر بڑے نام کل کی اس نیوزکانفرنس میں بطور رپورٹر موجود تھے، نیوز کانفرنس بے نظیر بھٹو کررہی تھیں،نیوز کانفرنس شروع ہونے کے تھوڑی دیر بعد کامران خان صاحب بھی اس میں تشریف لے آئے

بے نظیر بھٹو نے ان کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ کو یہ اسٹوری فلاں (عہدے کے ساتھ مکمل نام لیا تھا) نے لکھوائی تھی، نیوزکانفرنس میں موجود دیگر صحافیوں کے بقول کامران خان صاحب گڑبڑاگئے اور کہا کہ یہ غلط بات ہے، یہ اسٹوری فلاں نے لکھوائی تھی

بہرحال جب پیپلزپارٹی 1993میں دوسری بار حکومت میں آئی تواس وقت تک آصف زرداری عدالتوں میں تمام الزامات سے بری ہوچکے تھے اور جس صدر نے ان کی kamran khanحکومت کو کرپشن کے الزامات میں برطرف کیا تھا، انہی غلام اسحاق خان نے آصف زرداری سے وزارت کا حلف بھی لیا

یہ 27برس پہلے کی کہانی شاید بہت سے لوگوں کے لیے دلچسپ نہ ہو مگر 27برس بعد اسی کہانی میں ایک نیا موڑ آیا ہے

وہ کامران خان صاحب جن کی ایک نیوز اسٹوری کی وجہ سے پیپلزپارٹی کی حکومت گرگئی، پیپلزپارٹی کے تیسرے دورحکومت میں وہ عجب کرپشن کی غضب کہانی کے عنوان سے جیونیوز میں اپنا پروگرام بھی کرتے رہے، جن کی وجہ سے آصف زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے شہرت ملی

آج انہی کامران خان صاحب نےدنیا نیوز میں اپنے پروگرام میں آصف زرداری کو سرخروقرار دے کر پیپلزپارٹی کو سیاست کا بے تاج بادشاہ کہاہے

یہی نہیں بلکہ کامران خان صاحب نے خاص طور پر 1993کا حوالہ دیا ہے کہ آصف زرداری اس وقت بھی سرخرو ہوئے تھے

کامران خان صاحب کا یہ عمل دراصل اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پروفیشنل صحافی کسی شخصیت یا جماعت کی نہ تو حمایت میں ہوتا ہے اور نہ ہی وہ اس کا مخالف ہوتا ہے ، صحافی کا کام بس خبر دینا ہے

پیپلزپارٹی کی بدترین کرپشن کی خبریں بے نقاب کرنے سے لے کر آج تک کامران خان صاحب کی صحافت ایک قابل تقلید مثال ہے


Comments

FB Login Required - comments