پڑھے لکھوں کی اخلاقیات


1-yasir-pirzadaکبھی ایک تجربہ کرکے دیکھیں۔ لاہور، کراچی یا اسلام آباد جیسے ’’پڑھے لکھے ‘ ‘ شہروں میں کسی بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور یا پلازہ  کے خارجی دروازے(exit) کے قریب کھڑے ہو جائیں اور نوٹ کریں کہ کتنے لوگ انٹری  کی بجائے ایگزٹ سے اندر داخل ہوتے ہیں ، شاید آپ حیران ہوں کہ زیادہ تر لوگ انٹری یا ایگزٹ کا نشان دیکھے بغیر ہی خارجی دروازے سے  اندر داخل ہونے کی کوشش کریں گے اور پھر جب موقع پر موجود کوئی گارڈ ان کی توجہ  رہنمائی کے  نشان کی جانب مبذول کروائے گا تو وہ شرمندہ ہونے کی بجائے برا سا منہ بناتے ہوئے انٹری گیٹ کی جانب مڑجائیں گے۔ اسی طرح ایک اور تجربہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہی شہروں میں کسی ایسے یو ٹرن پر کھڑے ہو جائیں جو شارٹ کٹ تو ہو مگر قانونا ًوہاں سے  یوٹرن لینا منع ہو، آپ نوٹ کریں گے کہ ہر تیسری گاڑی وہاں سے یو ٹرن لینے کی کوشش کرے گی اور موقع پر موجود ٹریفک کا اہلکار ا س کا چالان کرنے کی کوشش کرے گا مگر گاڑی کا پڑھا لکھا مالک اس  ٹریفک وارڈن سے الجھنے  کی کوشش کرے گا۔ اس قسم کے مزید تجربات بھی کئے جا سکتے ہیں مثلا ً یہ نوٹ کرکے دیکھیں کہ لفٹ میں داخل ہوتے وقت کیا ہم لوگ پہلے سے موجود لوگوں کو  داخل ہونے کا موقع دیتے ہیں یا پہلے خود گھسنے کی کوشش کرتے ہیں ؟کسی دکان پر بل ادا کرتے وقت کیا ہم دکاندار کے آگے اپنی چیزیں ڈھیر کرکے اسے بل بنانے کا کہتے ہیں یا پہلے سے موجود گاہکوں کے پیچھے کھڑے رہ کر  اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں؟ واضح رہے کہ یہ تجربات صرف ان جگہوں اور عوام سے متعلق ہیں جو مہذب اور پڑھے لکھے درجے میں شمار کی جاتی ہیں  وگرنہ تو چپے چپے پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں کی جاتی  ہیں، ہر جگہ لوگ دھکم پیل کرتے ہیں اور قطار بنانے کا رواج کہیں بھی نہیں۔ اسی لئے میں نے نسبتا ً پڑھے لکھے شہروں کے مہذب عوام پر یہ تجربات کرنے کی دعوت دی ہے، بتانا یہ مقصود ہے کہ ان پڑھ اور جاہلوں کی بات تو بعد میں، جو لوگ مہذب اور پڑھے لکھے ہونے کا دعوی کرتے ہیں ان کا طرز عمل کیسا ہے !

یہ تمام تجربات بظاہر معمولی ہیں اور ہم میں سے بہت سوں کے نزدیک  ان کے نتائج بھلے کچھ بھی ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ جس ملک میں جرگے کے حکم پر  معصوم لڑکی کو  جلا کر مار ڈالا جائے اس ملک میں اگر کوئی لفٹ میں پہلے گھس آئے تو کیا اس پر ماتم کیا جانا چاہیے!اسی طرح کسی پلازے کے خارجی دروازے میں داخل ہونے سے کسی کا استحقاق مجروح نہیں ہوتا، یو ٹرن کی خلاف ورزی سے کوئی قیامت نہیں آ جاتی  اور دکاندار کو پہلے بل بنانے کا کہنے سے آسمان نہیں ٹوٹ پڑتا۔ مگر یہ معاملات اتنے سادہ نہیں ہیں، یہ رویے نہ صرف ہماری قوم کی ذہنی عکاسی کرتے ہیں بلکہ ان سے کم از کم تین ایسی باتیں ثابت ہوتی ہیں جو ہمارے مسائل کی بنیادی جڑ ہیں۔ پہلی بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ اس ملک کے تعلیمی نظام میں بنیادی خامی ہے، کیا آج کل  سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں  میں ہمارے بچوں کو اس قسم کی باتوں کی تربیت دی جاتی ہے، اگر نہیں تو کیا ہم نے کبھی اپنے بچوں کو یہ باتیں سکھانے کی کوشش کی ہے، کیا ہم نے کبھی خود سوچا ہے کہ ان باتو ں کی زندگی میں کیا اہمیت ہے ؟ان تمام سوالوں کے نفی میں جواب کی وجہ یہ ہے کہ پورے تعلیمی نظام کا ڈھانچہ اخلاقیات سے زیادہ گریڈز لینے کے گرد گھومتا ہے، ہمیں یہ فکر تو ہے کہ ہمارے بچے کے کیمسٹری میں نوّے فیصد نمبر کیوں نہیں آئے مگر یہ پرواہ کم ہے کہ اخلاقیات میں اس کے گریڈز کیا ہیں! شہریت نام کا ایک مضمون ہمارے نصاب میں کبھی ہوا کرتا تھا جو کب کا ہمارے نصاب اور ذہن دونوں  سے محو ہو چکا، اس میں طلبا کو  مہذب شہری بننے کی بنیادی تربیت دی جاتی تھی ۔ مہذب ممالک میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو بس سٹاپ پر لے جا کر سکھایا جاتا ہے کہ کیسے قطار بنا کر بس میں سوار ہونا ہے جبکہ اپنے ہاں اڑھائی برس کا بچہ سکول میں داخل ہوتا ہے، سولہ برس بعد یونیورسٹی سے نکلتا ہے، اعلی نوکری کرتا ہے، ٹریفک کی خلاف ورزیاں کرتا ہے، جاہلوں کی طر ح دھکم پیل بھی کرتا ہے اور پھر  جونہی اسے موقع ملتا ہے وہ اس نظام کے خلاف گالیاں بکنا شروع کردیتا ہے! اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو مدرسوں میں پڑھایا جا رہا ہے وہ درست ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو کوئی ابن الہیشم، بو علی سینا، ال فارابی ان مدرسوں سے بھی  پیدا ہو تا مگر افسوس کہ ہمارے مدرسے بھی اپنے طلبا کی اخلاقی تربیت کرنے میں ناکام ہیں، وہ تمام قانونی خلاف ورزیاں ہیں جو ہم آئے روز ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں انہیں کرنے میں پڑھے لکھے، جاہل، باریش اور کلین شیو سب شامل ہیں، ان میں سے شاید ہی کوئی شخص یہ سمجھتا ہوکہ قانون کی خلاف ورزی کسی قسم کا گناہ بھی ہو سکتا ہے، یہ بنیادی تصور ہمیں مدرسوں یا سکولوں میں سکھایا ہی نہیں گیا، اسی لئے ہم بلڈنگ رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پلازا بنانے کو جرم تو شاید سمجھتے ہوں پر گناہ نہیں سمجھتے۔

قانون کی چھوٹی موٹی خلاف ورزی کرنے کا دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بڑے جرائم کرنے کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے، جب ایک چودہ برس کا بچہ موٹر سائیکل لے کر گھومتا ہے اور کوئی اسے نہیں روکتا تو اس کے دماغ میں یہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ قانون کی جو باتیں اس نے کہیں سن رکھیں تھیں ان کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں، یہی سوچ ذہن میں پروان چڑھتی ہو اور پھر قانون کی خلاف ورزی کرنے کا حوصلہ بڑھتا جاتا ہے حتی کہ ایک دن وہ کسی ڈکیتی میں مارا جاتا ہے۔ تیسری اور آخری بات یہ کہ جس ملک میں ہر یو ٹرن پر ایک ٹریفک وارڈن کھڑا کرنا پڑے، جلسے میں خواتین کی حفاظت کے لئے آہنی دیوار بنانی پڑے اورپلازے میں گارڈ کی ڈیوٹی لگانی پڑے تا کہ وہ لوگوں کو انٹری پوائنٹ سے داخل کروائے ، اس ملک میں ایسا نظام وضع کرنا ممکن نہیں جہاں قانون کی ہر خلاف ورزی پر قانون خود بخود حرکت میں آ جائے ، کیونکہ دنیا کا کوئی بھی نظام زیادہ سے زیادہ دس پندرہ فیصد ڈیفالٹرز کو قابو کرنے کے لئے بنایا جا سکتا ہے، جس ملک میں ہر شخص گھر سے باہر کوڑے کا ڈھیر لگانے پر تلا ہو اس ملک میں صفائی کا کوئی سسٹم کامیاب نہیں ہو سکتا۔ دبئی، سنگاپور اور اس قسم کے دیگر ممالک ایک جدید فلاحی ریاست کے اچھے ماڈل ہیں جہاں قانون کی مکمل عملداری ہے مگر دبئی کی آبادی پچیس لاکھ، سنگاپور کی ترپّن لاکھ ہے اور اپنی بیس کروڑ ہے اور جب تک آپ یہ کالم ختم کریں گے دو چار بچے مزید پیدا ہو چکے ہوں گے۔ آبادی کا یہ اژدہا اور اس پر متزاد ہماری غیر اخلاقی تربیت اس قوم کی  راہ میں حائل ایسی دو بڑی رکاوٹیں ہیں جن کی وجہ سے ہم بد انتظامی کا رول ماڈل بن چکے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب ایسا کوئی بھی مسئلہ کسی دانشور سے پوچھا جاتا تو وہ اس کا ایک ہی رٹا رٹایا جواب دیتا کہ ہمارے تمام مسائل کا حل تعلیم میں ہے۔ میں چونکہ دانشور نہیں اس لئے میرا یہ جواب نہیں، خاکسار کی رائے میں ہمارے مسائل کے ذمہ دار یہ نام نہاد پڑھے لکھے لوگ ہیں جنہیں اس ملک میں داماد کی طرح ٹریٹمنٹ ملتی ہے مگر اس کے باوجود یہ اپنی کوئی  اخلاقی ذمہ داری پوری کرتے ہیں اور نہ قانونی، ان میں اور جاہلوں میں کوئی فرق نہیں !

 


Comments

FB Login Required - comments