دایاں بازو کامیاب کیوں ہوتا ہے؟


shadab murtazaعزیز بھائی مجاہد مرزا صاحب نے اپنے تازہ کالم میں تجویز دی ہے کہ بائیں بازو کو سیاسی مخالفین (دائیں بازو) کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ بایاں بازو “انجذاب” کی صلاحیت کی وجہ سے کامیاب ہو سکے! ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ “ادھر برازیل اور ارجنٹائن میں دیکھ لیں مادورا کا کیا حال ہے اور ارجنٹائن کی سابق صدر کے ساتھ کیا ہو رہا ہے”! وینزویلا کے رہنما مادورا کو انہوں نے برازیل کا صدر بنا دیا ہے۔ ارجنٹائن کی سابق صدر کرسٹینا فرنانڈز تو دسمبر میں الیکشن ہار کر حکومت چھوڑ چکی ہیں البتہ برازیل کی معطل صدر ڈلما روسیف کے ساتھ کافی کچھ ہو رہا ہے۔ اس صورتِ احوال سے قارئین مجاہد صاحب کی گزارشات کے بارے میں کیا دور رس نتائج اخذ کرتے ہیں یہ انہی پر چھوڑ کر آگے چلتے ہیں۔

دایاں بازو کیا ہوتا ہے یہ سیاست سے واقف لوگ بخوبی جانتے ہیں۔ دائیں بازو کے ساتھ مل کر چلنے سے کیا کیا مفہوم برآمد ہوتے ہیں اور وہ کس قدر تشویش ناک ہیں یہ جاننے کے لیے یہ پوچھنا ہی کافی ہے کہ پاکستان کا دایاں بازو کن سیاسی قوتوں پر مشتمل ہے اور ان کے ساتھ پاکستان کے بائیں بازو کا اتحاد سیکیولرازم، امن و انصاف، اقلیتوں کی مساوات اور خواتین کے حقوق سمیت کن کن نکات پر ممکن ہے؟ امید ہے وہ اگلے کالم میں اس پر کچھ روشنی ڈالیں گے۔ ساتھ ہی یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ دائیں اور بائیں بازو کے اتحاد میں اگر بایاں بازو کامیاب ہو گا تو اس کا اتحادی دایاں بازو بھی کامیاب ہو گا یا نہیں؟ اگر دایاں بازو کامیاب ہوا تو کیا “مثبت” نتائج برآمد ہوں گے؟ امید ہے وہ اس نکتے پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

انہوں نے خصوصیت کے ساتھ دائیں اور بائیں بازو کے اتحاد کی خواہش کا اظہار اشتراکیت اور سرمایہ داری کے اتحاد کے ضمن میں کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ “دونوں طرح کے نظام ہائے معیشت کے بہتر پہلووں کو باہم یا مدغم کیا جا سکتا ہے”۔ کلیہ یہ ہے کہ بائیں بازو کی جماعتیں عوامی بہتری کی خواہش میں دائیں بازو کو, یعنی سرمایہ دار طبقے کو نظر انداز کرتی ہیں تو معیشت کا خانہ خراب ہوجاتا ہے کیونکہ معیشت کا انحصار سرمایہ دار طبقے پر ہے۔ معیشت بگڑتی ہے تو عوام معاشی حالات سے تنگ آکر بائیں بازو کی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں! اس لیے بایاں بازو ناکام ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے یونان, فرانس, برازیل اور ارجنٹائن کی مثالیں دی ہیں جہاں ان کے بقول اشتراکی یا بائیں بازو کی جماعتیں برسرِ اقتدار ہیں اور دائیں بازو, یعنی سرمایہ دار طبقے کو, نظر انداز کرنے کی وجہ سے ان ملکوں کی معیشت تنزلی کا شکار ہوگئی ہے جس کی وجہ سے عوام حکومت کے خلاف صف آراء ہوگئے ہیں۔

آئیے اس “تھیوری” کا جائزہ لیں۔ سرمایہ داری اور اشتراکی مقاصد میں توازن پیدا کرنے کی سیاست کرنے والی سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی نوعیت اور معاشی پروگرام کے اعتبار سے “سوشل ڈیموکریٹ” جماعتیں کہلاتی ہیں۔ اپنے سیاسی مقاصد، معاشی پروگرام اور قول و عمل میں یہ جماعتیں اشتراکی جماعتوں سے قطعی مختلف ہوتی ہیں۔ اشتراکی جماعتیں دائیں اور بائیں بازو کے اتحاد کی, سرمایہ داری اور اشتراکیت کے اتحاد کی, یعنی سوشل ڈیموکریسی کی مخالف ہوتی ہیں۔ اشتراکی جماعتیں یقین رکھتی ہیں کہ اس قسم کا “اتحاد” (طبقاتی مفاہمت و مصالحت) محنت کش عوام کے لیے محض ایک سراب ہے۔ اس کا نتیجہ سرمایہ دار طبقے کے اقتدار کے مزید استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔ طبقوِں کے درمیان مصالحت ناممکن ہے کیونکہ ایک طبقہ مالک اور دوسرا ملازم ہے۔ ایک ظالم اور دوسرا ظلم کا شکار ہے۔ مالک اور ملازم، ظالم اور مظلوم کے درمیان “برابری” نہیں ہو سکتی۔

مجاہد مرزا صاحب نے یونان میں برسرِاقتدار جماعت کا نام سوشلسٹ پارٹی بتایا ہے لیکن وہ اپنا نام “سائیریزا” بتاتی ہے اور سوشل ڈیموکریٹ جماعت ہے۔ یونان میں اشتراکی جماعت کا نام کمیونسٹ پارٹی آف یونان ہے جو حکومت اور اس کی پالیسیوں کی سخت ناقد ہے۔ یونان میں عوام دائیں اور بائیں بازو کے اتحاد والی اس حکومتی جماعت کی عوام دشمن اور سرمایہ دارانہ پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہیں, اشتراکی جماعت کے خلاف نہیں۔ یونان کے عوام اس لیے سڑکوں پر نکلے ہیں کہ سوشل ڈیموکریٹ حکومت ایک جانب مزدور مخالف لیبر اصلاحات نافذ کر رہی ہے، عوامی سہولیات، سماجی تحفظ کی اسکیموں اور پینشن میں کٹوتیاں کر رہی ہے، مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ کر رہی ہے اور دوسری جانب اس طرح پیسہ اکھٹا کر کے سرمایہ داروں کو نواز رہی ہے۔

فرانس میں حکومتی جماعت کا نام واقعی سوشلسٹ پارٹی ہے لیکن یہ بھی اپنی نوعیت میں سوشل ڈیموکریٹ ہے۔ فرانس میں مزدور، طالبعلم اور نوجوان نئے مجوزہ لیبر بل کے خلاف سڑکوں پر ہیں جس کے زریعے ہفتے میں 35 گھنٹے کام کے اوقات کے قانون کو تبدیل کر کے نجی کمپنیوں کو فی ہفتہ اوقاتِ کار بڑھا کر 48 سے 60 گھنٹے تک کرنے کی اجازت دینے کی کوشش کی جا رہی اور یہ عمل فرانس میں موجود بیروزگاری کو ختم کرنے کے نام پر کیا جا رہا ہے! اس کا سارا فائدہ سرمایہ دار طبقے کو ہے۔ “سوشلسٹ” نام رکھنے سے کوئی جماعت اشتراکی نہیں ہو جاتی۔ مزدور طبقے کے مفادات کے خلاف اور سرمایہ دار طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی “سوشلسٹ” جماعت کے اشتراکی ہونے پر کوئی ایسا شخص ہی یقین کر سکتا ہے جو لفظ کو ہی وہ شے سمجھتا ہو جس کی شناخت کے لیے لفظ استعمال ہوتا ہے۔ محنت کش عوام کو الجھانے اور دھوکہ دینے کے لیے ایسے نام اختیار کرنا کوئی نئی بات نہیں۔

برازیل میں معطل کی جانے والی صدر ڈلما روسیف کا تعلق ورکرز پارٹی سے ہے، برازیل کی اشتراکی پارٹی، کمیونسٹ پارٹی سے نہیں۔ ان کے مواخذے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے غریب ترین خاندانوں اور کاشتکاروں کے گھرانوں کی مالی امداد کی اسکیموں کے تحت انہیں نجی بینکوں سے رقم دلوائی اور بینکوں کو قومی خزانے سے رقم کی ادائیگی میں تاخیر کی جو برازیل کے مالیاتی قوانین کے تحت ایک عام عمل ہے۔ جس پارلیمینٹ نے انہیں معطل کیا ہے اس کے 60 فیصد اراکین کے خلاف مالیاتی کرپشن کی تحقیقات چل رہی ہیں لیکن ڈلما روسیف کے ہاتھ بالکل صاف ہیں۔ نگران صدر مائیکل ٹیمر بھی کرپشن کے کیسوں میں شامل تفتیش ہیں۔ برازیل میں ڈلما روسیف کے حامی بھی نئی حکومت کی اس دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔ وکی لیکس کے مطابق مائیکل ٹیمر برازیل کے سیاسی حالات کی اندرونی معلومات امریکی حکام کو پہنچاتے رہے ہیں اور ان سے مشورے بھی لیتے رہے ہیں۔ یہاں بھی کرپٹ، امریکہ نواز، پیٹرو سرمایہ دار طبقے کو نوازنے کا عمل جاری ہے۔

ارجنٹائن کی نہ سابق حکومت اشتراکی تھی نہ موجودہ حکومت ایسی ہے۔ صدر ماریسیو ماکری کی جماعت کا نام ریپبلکن پروپوزل ہے اور ان کی جانب سے روزگار مخالف روزگار بل کے خلاف ٹریڈ یونینیں سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ اس بل کے ذریعے کسی بھی شخص کو وجہ بتائے بغیر ملازمت سے فارغ کرنے کے عمل کو قانونی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حزبِ اختلاف نے بل کی شدید مخالفت کی ہے اور بلا وجہ برطرفی پر دوہرا ہرجانہ ادا کرنے کی شق کو بل میں شام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ارجنٹائن کی اشتراکی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف ارجنٹائن ہے۔ گزشتہ حکومت اور موجودہ حکومت نے یہاں بھی سرمایہ دار مالکوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کوششیں کی ہیں۔

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں!

دائیں اور بائیں بازو کے اتحاد اور مصالحت کی اپنی اس “تھیوری” کو ایجاد کرنے کے لیے انہوں نے تمام تر حقائق کو الٹ دیا تاکہ وہ اشتراکی سیاست و معیشت کو ناکام ثابت کر سکیں, جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ “دنیا میں عام معیشت منڈی کی معیشت ہے۔۔۔آج باقی دنیا سے ہٹ کر کوئی بھی دوسرا نظامِ معیشت نافذ نہیں کیا جا سکتا”، حالانکہ حقائق ثابت کرتے ہیں کہ جن ملکوں کی مثال انہوں نے دی ہے وہاں معیشت کا خانہ خراب دائیں اور بائیں بازو میں اتحاد پیدا کرنے والی سوشل ڈیموکریٹ جماعتوں کی اسی سیاست کی وجہ سے ہوا ہے جس کی تجویز مجاہد مرزا صاحب بائیں بازو کی کامیابی کے لیے دیتے ہیں۔

ان ملکوں میں سوشل ڈیموکریٹ جماعتیں سرمایہ داروں کو نوازنے کے لیے جو پالیسیاں اختیار کر رہی ہیں یا کر چکی ہیں عوام ان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں جبکہ مجاہد مرزا صاحب ہمیں یقین دلانا چاہتے ہیں کہ یہ احتجاج سرمایہ داروں کو نظر انداز کرنے اور عوام کو نوازنے کی پالیسی کی وجہ سے جنم لے رہے ہیں۔ بہت خوب! وہ حقیقت کو سر کے بل کھڑا کر کے ہمیں یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ وہ دراصل اپنے پیروں پر ہی کھڑی ہے! وہ ان ملکوں میں منڈی کی معیشت کی اس تباہ کن حالت کے باوجود اسے ناکام تسلیم کرنے کے بجائے کامیاب تسلیم کروانے پر مصر ہیں۔اگر یہ کامیاب معیشت ہے جس میں عوام بنیادی سماجی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر آگئے ہیں تو ناکام معیشت کیسی ہوتی ہے؟ ریڈی میڈ جواب حاضر ہے۔ اشتراکی معیشت! حوالہ سوویت یونین اور جوزف اسٹالن۔ اللہ اللہ خیر سلا۔

کالم میں انہوں نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ سوویت یونین میں عوامی سہولیات میں سبسڈی دیے جانے کی وجہ سے معیشت تباہ ہو گئی۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ یونان، فرانس، برازیل اور ارجنٹائن میں معیشت کیوں تباہی سے دوچار ہے اور عوام سبسڈی میں کٹوتیوں، سماجی تحفظ، روزگار کے تحفظ اور کم اوقاتِ کار کے مسائل پر سڑکوں پر کیوں نکلے ہیں حالانکہ معیشت تو، ان کے بقول، سبسڈی دینے سے خراب ہوتی ہے! ان میں سے تو کسی ملک میں اشتراکی نظام نہیں۔ اگر معیشت کا انحصار سرمایہ دار کے سرمائے پر ہوتا ہے ورنہ معیشت تباہ ہو جاتی ہے تو اس انحصار کے نتائج اور عوام کے لیے اس معیشت کی “ترقی” کے نمونہ جات ہم ان ملکوں میں اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن وہ کمال ہوشیاری سے سرمایہ داری نظام سے پیدا ہونے والی اس تباہی کو چھپانے کے لیے اس کا الزام بھی اشتراکیت پر اس طرح ڈالتے ہیں کہ یہ بائیں بازو کی ناکامی ہے! دائیں بازو کا, سرمایہ دار طبقے کا, منڈی کی معیشت کا اس میں کوئی قصور نہیں!

اپنے کالم کے آغاز میں وہ یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ چونکہ وہ روس میں کافی عرصے سے مقیم ہیں لہذا وہ سوویت یونین اور اشتراکی معیشت کے بارے میں جو جانتے ہیں یا کہتے ہیں وہ مستند ہے! پچھلے سال ستمبر میں بی بی سی نے خبر دی تھی کہ سابق مسلم سوویت ریاست قزاقستان کے ایک گاؤں میں لوگوں نے چندہ جمع کر کے جوزف اسٹالن کی یادگار کو دوبارہ تعمیر کیا ہے۔ اور یہ ایک نہیں ایسے بہت سارے واقعات ہیں (برلن, جارجیا وغیرہ) حالانکہ یورپ میں اس وقت اور خصوصا سابقہ اشتراکی ریاستوں میں سوویت دور کی یادگاروں کو منہدم کرنے کی مہم زوروں پر ہے۔ یوکرین اور پولینڈ میں تو کمیونزم کا لفظ استعمال کرنے اور اشتراکی سیاست پر قانونی پابندی عائد کر کے اسے “جرم” قرار دے دیا گیا ہے! کینیڈا میں “کمیونزم کے جرائم” کی یادگار بھی تیار ہو رہی ہے! خاکسار پریشان ہے کہ کس پر یقین کرے! اس پریشانی کو وہ اس طفل تسلی سے دور کر لیتا ہے کہ اشتراکیت کی حمایت میں خبریں تو پیسے دے کر لکھوائی جاتی ہیں جیسا کہ مجاہد مرزا صاحب نے اپنے گزشتہ کالم میں دعوی کیا تھا! سرمایہ دارانہ نظام کی بوسیدہ, ازکاررفتہ, عوام دشمن منڈی کی معیشت کی کامیابی کی خبروں کے پیچھے کس کا پیسہ ہوتا ہے, خاکسار اس کا صرف قیاس ہی کرسکتا ہے۔

منڈی کی معیشت کی ترقی کا تو یہ عالم ہے کہ سابقہ سوویت ریاست, ازبکستان, کی سرمایہ نواز حکومت اساتذہ کو تنخواہ میں پیسے کے بجائے مرغی کے “چوزے” دیتے ہوئے کہتی کہ اس کے پاس تنخواہ ادا کرنے کے پیسے نہیں! یہ سلطنتِ روس کی وہی پسماندہ ترین مسلم اکثریتی ریاست تھی جہاں اشتراکیت کے دور میں خواندگی کی شرح سو فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

اس بندہِ ناچیز کے لیے یہ سمجھنا بھی بڑا دردِ سر ہے کہ 80 یا 90 کی دہائی میں یا سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس جانے والے یا اس کے بارے میں جاننے والے کس سائنسی ترکیب سے سوویت یونین میں 1917 سے 1955 کے دور کے حالات پر سکہ بند ماہر کی طرح گفتگو کرتے ہوئےاپنے “ذاتی تجربے” کو حقانیت کی بنیاد بنا لیتے ہیں! مثلا مجاہد مرزا صاحب نے سوویت یونین میں مزدوروں کے سست اور کاہل ہونے کی مثال اپنے ساتھ 1991 میں پیش آنے والے ایک واقعے سے دی ہے! اگر یہ معیار ہے تو سب سے زیادہ معتبر ان کی بات کو سمجھا جائے گا جو اس وقت سوویت یونین میں وہ سب کام انجام دے رہے تھے اور ان “ذاتی تجربات” سے گزر رہے تھے جن پر ہم صرف بحث کر سکتے ہیں۔ لیکن ان کی بات کی جائے تو “جانبداری” کا اعتراض اٹھایا جا سکتا ہے!

پچھلے کالم میں مجاہد مرزا صاحب نے کہا تھا کہ سوویت یونین میں ریڈیو اور کاریں سب ایک جیسی ہوتی تھیں۔ لوگ یکسانیت سے اکتا گئے تھے۔ ہم نے جوابی کالم میں مشورہ دیا تھا کہ گوگل سرچ کر لی جائے۔ اب انہوں نے یہ راز افشا کیا ہے کہ وہاں کے ٹوتھ پیسٹ اتنے گھٹیا ہوتے تھے کہ دانت کالے پڑ جاتے تھے! ایک زمانے میں ہم لقمانی منجن نام کا ایک دانت صفا پاؤڈر استعمال کرتے تھے جو خود سیاہ ہوتا تھا لیکن دانت سفید کردیتا تھا۔ ممکن ہے سوویت یونین کے لوگوں کو کالے دانت پسند ہوں! ویسے مجاہد صاحب سوویت یونین کے بہت سے “ذاتی” تجربوں سے گزرے ہیں۔ ٹوتھ پیسٹ کا تجربہ بھی کر لیا ہوتا!

مرزا صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ امریکہ میں سب کے پاس گھر ہیں خواہ وہ گھر انہوں نے گروی ہی کیوں نہ لیے ہوں۔ سوویت گھروں کے بہت چھوٹے ہونے کا انہوں نے شکوہ بھی کیا۔ اخبار نیویارک ٹائمز نے اس سال فروری میں خبر دی تھی کہ اگلے سال کے بجٹ میں صدر اوباما نے امریکہ کے بے گھر افراد کی فلاح و بہبود کے لیے اگلے دس سال تک 11 ارب ڈالر کی رقم تجویز کی ہے! خدا جانے مرزا صاحب درست ہیں یا نیویارک ٹائمز غلط!

امریکہ کے ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق تو امریکہ میں 64 ہزار خاندان بے گھر ہیں جن میں ایک لاکھ تیئس ہزار بچے ہیں۔ 2008 میں رئیل اسٹیٹ کے بحران کے بعد اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں مورٹگج ہاؤسنگ اسکیموں سے مستفید ہونے والے ہزاروں لوگ بے گھر ہو کر پارکوں, سڑک کے کنارے بینچوں اور کاروں میں گزربسر کرنے پر مجبور تھے۔ صرف لاس اینجلس میں بے گھر افراد کی تعداد 73 ہزار تھی۔ جب ان لوگوں پر گلیوں اور رہائشی علاقوں کے پارکوں میں سونے پر پچاس سے سو ڈالر جرمانا عائد کیا گیا تو امریکی معیشت کی فقید المثال “ترقی” کے مارے ان بیچارے بے گھر لوگوں میں سے بہت سے لوگ پلوں کے نیچے رہنے لگے۔ کیا عجب کہ یہ خبر بھی اشتراکیت کے حامیوں نے پیسے دے کر لکھوائی ہو! سوویت یونین میں چھوٹا سہی لیکن گھر تو ہوتا تھا جو مفت ملتا تھا۔ اس کے لیے اپنا سب کچھ گروی رکھ کر بعد میں دربدر تو نہیں ہونا پڑتا تھا!

مائیکل پرینٹی نے اپنے ایک مقالے میں کمیونزم کے مخالف بائیں بازو کے طریقہ کار کا زکر کرتے ہوئے خوب لکھا ہے کہ اس حلقے کی تنقید بھی عجیب ہے۔ سوویت یونین میں اگر مزدور احتجاج کرتے تو یہ کہتے کہ حکومت مزدوروں پر ظلم کر رہی ہے۔ نہ کرتے تو کہتے کہ حکومت طاقت استعمال کر کے مزدوروں کی آواز دبا رہی ہے۔ لوگ عبادت گاہوں میں نہ جاتے تو یہ کہتے کہ مذہبی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں اور اگر لوگ جاتے تو یہ کہتے کہ وہ ریاست کی “الحادی” پالیسی کے خلاف ہیں!

مجاہد مرزا صاحب کا تجربہ ہے کہ بایاں بازو (اشتراکیت پسند) دائیں بازو (سرمایہ دار طبقے) کے ساتھ مل کر نہ چل سکنے کی وجہ سے ناکام ہوتا ہے۔ ہمارا تجربہ ہے کہ دایاں بازو (سرمایہ دار طبقہ) بائیں دائیں بازو (اشتراکیت کا مخالف بایاں بازو) کی مدد ملنے کی وجہ سے کامیاب ہوتا ہے! تاریخی تجربے کی روشنی میں دائیں اور بائیں بازو کے اتحاد سے دائیں بازو کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔ مجاہد صاحب کی نظر میں مستقبل بھلے ہی بائیں بازو کا روشن ہو۔


Comments

FB Login Required - comments