افتخار نسیم مرحوم کے لئے ایک نظم


yashaab tammanaاُسی مٹّی ، اُنہی ہا تھو ں سے

کو زہ گر نے

اُس کو بھی بنا یا تھا

کہ جس مٹّی کے

   اُس نے اور بھی شہ کار

اِس دنیا میں بھیجے ہیں

اُسے بھی

چاک پر رکھّا گیا تھا

اُسے بھی احسن تقویم کی

تصدیق بخشی تھی

پھر اُس میں روح  عالم ہی نے

اپنی روح پھونکی تھی

اُسے بھی عا لمِ ارواح میں

پوچھا گیا تھا

ifti nasimمشیّت اور فطرت پر

عمل آ رائی کا

وعدہ لیا تھا

تو پھر اُس میں کجی

اُس کے کسی

ہم صنف کی جانب

کسی میلان کا

کو ئی سبب ہو گا !

                ۔۔۔۔۔        ۔۔۔

یہ میری آ زما ئش ہے

کہ اُس کی آزمائش

مجھے ڈر ہے

قیامت میں جو ہونا ہے

عجب ہو گا !


Comments

FB Login Required - comments